صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا

مسلمان کو راضی کرنا

حضرت ابو الدرداءؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں حضورﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں حضرت ابو بکر ؓ آئے۔ انھوں نے اپنا کپڑا پکڑ رکھا تھا جس سے ان کے گھٹنے ننگے ہو رہے تھے اور اس کا انھیں احساس نہیں تھا۔ انھیں دیکھ کر حضورﷺ نے فرمایا: تمہارے یہ ساتھی جھگڑ کر آرہے ہیں۔ حضرت ابو بکر نے آکرسلام کیا اور عرض کیا: میرے اور ابن الخطّاب کے درمیان کچھ بات ہو گئی تھی، جلدی میں میں ان کو نامناسب بات کر بیٹھا، لیکن پھر مجھے ندامت ہوئی جس پر میں نے ان سے معافی مانگی لیکن انھوں نے معاف کرنے سے انکارکر دیا، تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا ہوں (اب آپ جیسے فرمائیں)۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! اللہ تمھیں معاف فرمائے۔ ادھر کچھ دیر کے بعد حضرت عمرؓ کو ندامت ہوئی تو انھوں نے حضر ت ابو بکر کے گھر آکر پوچھا: یہاں ابو بکر ہیں؟ گھر والوں نے کہا: نہیں۔ تو وہ بھی حضورﷺ کی خدمت میں آگئے۔ انھیں دیکھ کرحضورﷺ کا چہرہ (غصے کی وجہ سے) بدلنے لگا جس سے حضرت ابو بکر ڈر گئے اور انھوں نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دو دفعہ عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! قصور میرا زیادہ ہے۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے تم لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا تو تم سب نے کہاتھا تم غلط کہتے ہو، لیکن اس وقت ابو بکر نے کہا تھا آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ اور انھوں نے اپنے مال اور جان کے ساتھ میرے ساتھ غم خواری کی۔ پھر آپ نے دو دفعہ فرمایا: کیا تم میرے اس ساتھی کومیری وجہ سے چھوڑ دو گے؟ چناںچہ حضورﷺ کے اس فرمان کے بعد کسی نے حضرت ابو بکر کو کوئی تکلیف نہ پہنچائی۔1 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: حضرت ابو بکر ؓ نے حضرت عمر ؓ کو کچھ برا بھلا کہہ دیا۔ پھر حضرت ابو بکر نے کہا: (مجھ سے غلطی ہوگئی اس لیے) اے میرے بھائی! آپ میرے لیے اللہ سے استغفار کریں۔ حضرت عمر کو غصہ آیا ہوا تھا اس لیے وہ خاموش رہے۔ حضرت ابو بکر نے یہ بات کئی مرتبہ کہی، لیکن حضرت عمر کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا۔ لوگ حضورﷺ کی خدمت میں گئے اور وہاں جا کر بیٹھ گئے اور ساری بات حضورﷺ کو بتادی۔ حضورﷺ نے فرمایا: (اے عمر!) تم سے تمہارا بھائی استغفار کا مطالبہ کر رہا ہے اور تم اس کے لیے استغفار نہیں کر رہے، یہ کیا بات ہے؟ حضرت عمر نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر نبی بناکر بھیجا ہے! یہ جتنی دفعہ مجھ سے استغفار کا مطالبہ کرتے رہے میں ہر دفعہ (چپکے سے) ان کے لیے استغفار کرتا تھا، اور آپ کے بعد اللہ کی مخلوق میں مجھے ان سے زیادہ محبوب کوئی نہیں ہے۔ حضرت ابو بکر نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! آپ کے بعد مجھے بھی ان سے زیادہ محبوب کوئی نہیں ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: میرے ساتھی کے بارے میں مجھے تکلیف نہ پہنچایا کرو، کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا تھا تو تم سب نے کہا تھا کہ تم غلط کہتے ہو، اور حضرت ابو بکر نے کہا تھا آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے (قرآن میں) ان کا نام ساتھی نہ رکھا ہوتا تو میں انھیں خلیل (خاص دوست) بنا لیتا۔ بہرحال وہ میرے دینی بھائی تو ہیں ہی اور یہ بھائی چارہ اللہ کی وجہ سے ہے۔ غور سے سنو! (مسجدِ نبوی کی طرف کھلنے والی) ہر کھڑکی بند کر دو، لیکن (ابو بکر) ابنِ ابی قحافہ کی کھڑکی کھلی رہنے دو۔1 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت اُمِّ حبیبہؓ نے مجھے انتقال کے وقت بلایا۔ (میں ان کے پاس گئی تو مجھ سے) کہا: ہمارے درمیان کوئی بات ہو جایا کرتی تھی جیسے سوکنوں میں ہوا کرتی ہے، تو جو کچھ ہوا ہے اللہ تعالیٰ مجھے بھی معاف کرے اور آپ کو بھی۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کی ایسی ساری باتیں معاف فرمائے اور ان سے درگزر فرمائے اور ان باتوں کی سزا سے آپ کو محفوظ فرمائے۔ حضرت اُمّ حبیبہؓ نے کہا: آپ نے مجھے خوش کیا اللہ آپ کو خوش فرمائے۔ پھر حضرت اُمِّ حبیبہ نے پیغام بھیج کر حضرت اُمِّ سلمہؓ کو بلایا اور ان سے بھی یہی کہا۔2 حضرت شعبی ؓکہتے ہیں: جب حضرت فاطمہؓ بیمار ہوگئیں تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ ان کے پاس آئے اور اندرآنے کی اجازت مانگی۔ حضرت علی نے کہا: اے فاطمہ! یہ حضرت ابو بکر آپ سے اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ حضرت فاطمہ نے کہا: آپ اسے پسند کرتے ہیں کہ میں ان کو اجازت دوں؟ حضرت علی نے کہا: ہاں۔ حضرت فاطمہ نے اجازت دی۔ حضرت ابو بکر اندر آکر حضرت فاطمہ کو راضی کرنے لگے اور یوں کہا: اللہ کی قسم! میں نے گھربار، مال ودولت، اہل وعیال اور خاندان صرف اس لیے چھوڑا تھا تاکہ اللہ اور اس کے رسول راضی ہو جائیں، اور (حضورﷺ کے) اہلِ بیت آپ لوگ راضی ہو جائیں۔ بہرحال حضرت ابو بکر انھیں راضی کرتے رہے یہاں تک کہ وہ راضی ہوگئیں۔1 حضرت شعبی ؓکہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّابؓ نے کہا: مجھے فلاں آدمی سے نفرت ہے۔ کسی نے آکر اس آدمی سے کہا: کیا بات ہے حضرت عمر تم سے کیوں نفرت کرتے ہیں؟ جب بہت سے لوگوں نے گھر آکر اس آدمی کو یہ بات کہی تو اس آدمی نے حضرت عمر سے کہا: اے عمر! کیا میں نے (مسلمانوں میں اختلاف پیدا کر کے) اسلام میں کوئی شگاف ڈالا ہے؟ حضرت عمر نے کہا: نہیں۔ پھر اس نے کہا: کیا میں نے کسی انسان پر زیادتی کی ہے؟ حضرت عمر نے کہا: نہیں۔ پھر اس نے کہا: کیا میں نے اسلام میں کوئی نئی چیز چلا دی ہے (جو سنت کے خلاف ہو؟) حضرت عمر نے کہا: نہیں۔ پھراس آدمی نے کہا: تو پھر آپ کس وجہ سے مجھ سے نفرت کرتے ہیں ؟ حالاںکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْْرِ مَا اکْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُہْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا o}2 اور جو لوگ ایمان والے مردوں کو اور ایمان والی عورتوں کو بدون اس کے کہ انھوں نے کچھ کیا ہو ایذا پہنچاتے ہیں، تو وہ لوگ بہتان اور صریح گناہ کا بار لیتے ہیں ۔ اور آپ نے ( یہ جملہ کہہ کر) ایذا پہنچائی ہے اللہ تعالیٰ آپ کو بالکل معاف نہ کرے۔ حضرت عمر نے کہا: یہ آدمی ٹھیک کہہ رہا ہے۔ اللہ کی قسم! اس نے نہ تو شگاف ڈالا ہے اور نہ کچھ اور کیا ہے (واقعی مجھ سے غلطی ہوگئی ہے) اے اللہ! میری یہ غلطی معاف فرما۔ اور حضرت عمر اس سے معافی مانگتے رہے یہاں تک کہ اس نے معاف کر دیا۔3 حضرت رَجاء بن ربیعہ ؓ فرماتے ہیں: میں مدینہ منوّرہ میں حضورﷺ کی مسجد میں ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس حلقہ میں حضرت ابو سعید اور حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بھی تھے کہ اتنے میں اس حلقہ پرحضرت حسن بن علی ؓ کا گذر ہوا۔ انھوں نے سلام کیا سب حلقہ والوں نے جواب دیا، لیکن حضرت عبد اللہ بن عمرو خاموش رہے، بلکہ کچھ دیر کے بعد وہ حضرت حسن کے پیچھے گئے اور جا کر کہا: وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ پھر (حضرت ابو سعید ساتھ تھے ان سے) کہا: یہ وہ انسان ہے جو تمام زمین والوں میں سے آسمان والوں کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ کی قسم! جنگِ صفّین کے بعد سے آج تک میں نے ان سے بات نہیں کی۔ تو حضرت ابو سعید نے کہا: آپ ان کے پاس جا کر اپنا عذر ان سے کیوں نہیں بیان کر دیتے؟ انھوں نے کہا: بہت اچھا (میں تیار ہوں۔ اتنے میں حضرت حسن اپنے گھر میں اندر جا چکے تھے) حضرت عبد اللہ وہاں کھڑے ہوگئے اور حضرت ابو سعید نے اندر آنے کی اجازت مانگی، حضرت حسن نے اجازت دے دی۔ پھر اندر جاکر حضرت ابو سعید نے حضرت عبد اللہ بن عمرو کے لیے اجازت مانگی (ان کو بھی اجازت مل گئی) اور وہ اندر چلے گئے۔ حضرت ابو سعید نے حضرت عبد اللہ بن عمرو سے کہا: حضرت حسن کے گذرنے پر آپ نے جو بات ہم سے کہی تھی وہ ذرا اب پھر کہہ دیں۔ حضرت عبد اللہ نے کہا: بہت اچھا، میں نے یہ کہا تھا کہ یہ تمام زمین والوں میں سے آسمان والوں کو سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ اس پر حضرت حسن نے فرمایا: جب تمھیں معلوم ہے کہ میں تمام زمین والوں میں سے آسمان والوں کو سب سے زیادہ محبوب ہوں، تو پھر تم نے جنگِ صفّین کے دن ہم سے جنگ کیوں کی؟ یا تم نے ہمارے مخالفوں کی تعداد میں اضافہ کیوں کیا؟ حضرت عبد اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! نہ تو میں نے لشکر کی تعداد میں اضافہ کیا اور نہ میں نے ان کے ساتھ ہو کر تلوار چلائی، البتہ میں اپنے والد کے ساتھ گیا تھا۔ حضرت حسن نے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ جس کا م سے اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہو اس کام میں مخلوق کی بات نہیں ماننی چاہیے۔ حضرت عبد اللہ نے کہا: جی معلوم ہے، لیکن میں والد کے ساتھ اس لیے گیا تھا کہ میں حضورﷺ کے زمانہ میں مسلسل روزے رکھا کرتا تھا۔ میرے والد نے حضورﷺ سے اس بارے میں میری شکایت کی اور یوں کہا: یا رسول اللہ! عبد اللہ بن عمرو دن بھر روزے رکھتا ہے اور رات بھر عبادت کرتا ہے۔ حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: کبھی روزہ رکھا کرو کبھی افطار کیا کرو، اور رات کو کبھی نماز پڑھا کرو اور کبھی سویا کرو، کیوںکہ میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں۔ اور حضورﷺ نے مجھ سے یہ بھی فرمایا تھا: اے عبد اللہ! اپنے والد کی بات مانا کرو۔ (چوںکہ حضورﷺ نے والد کی ماننے کی مجھے بہت تاکید کی تھی اس لیے) جب وہ جنگِ صفّین میں شریک ہوئے تو مجھے ان کے ساتھ جانا پڑا۔1 حضرت رَجاء بن ربیعہ ؓکہتے ہیں: میں حضورﷺ کی مسجد میں تھا (وہاں اور لوگ بھی تھے) کہ اتنے میں حضرت حسین بن علی ؓ وہاں سے گذرے۔ انھوں نے سلام کیا لوگوں نے سلام کا جواب دیا، لیکن حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ (بھی وہاں تھے وہ) خاموش رہے۔ جب لوگ خاموش ہوگئے تو پھر حضرت عبد اللہ نے بلند آواز سے کہا: وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ۔ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا: میں تمھیں وہ آدمی نہ بتاؤں جو زمین والوں میں سے آسمان والوں کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ لوگوں نے کہا: ضرور بتائیں۔ انھوں نے کہا: یہی حضرت ہیں جو ابھی یہاں سے گذر کر گئے ہیں۔ اللہ کی قسم! جنگِ صفّین کے بعد سے اب تک نہ میں ان سے بات کر سکا ہوں اور نہ انھوں نے مجھ سے بات کی ہے۔ اور اللہ کی قسم! ان کا مجھ سے راضی ہوجانا مجھے اُحد پہاڑ جتنا مال ملنے سے زیادہ محبوب ہے۔ حضرت ابو سعید نے ان سے کہا: تم ان کے پاس چلے کیوں نہیں جاتے؟ انھوں نے کہا: میں جانے کو تیار ہوں۔ چناںچہ دونوں حضرات نے طے کیا کہ اگلے دن صبح ان کے پاس جائیں گے۔ (وہ دونوں اگلے دن صبح ان کے پاس گئے) میں بھی دونوں حضرات کے ساتھ گیا۔ حضرت ابو سعید نے اندر آنے کی اجازت مانگی، حضرت حسین نے اجازت دے دی۔ میں اور حضرت ابو سعید اندر چلے گئے۔ حضرت ابو سعید نے حضرت ابنِ عمرو کے لیے اجازت مانگی لیکن حضرت حسین نے اجازت نہ دی، لیکن حضرت ابو سعید اجازت مانگتے رہے آخر حضرت حسین نے اجازت دے دی۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ اندر آئے۔ انھیں دیکھ کر حضرت ابو سعید اپنی جگہ سے ہٹنے لگے وہ حضرت حسین کی پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے، تو حضرت حسین نے حضرت ابو سعید کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ حضرت ابنِ عمرو کھڑے رہے، بیٹھے نہیں۔ جب حضرت حسین نے یہ دیکھا تو حضرت ابو سعید کو ذرا پرے کر کے بیٹھنے کی جگہ بنا دی۔ وہاں آکر حضرت عبداللہ دونوں کے بیچ میں بیٹھ گئے۔ پھر حضرت ابو سعید نے سار ا قصہ سنایا تو حضرت حسین نے کہا: اے ابنِ عمرو! کیا ایسی ہی بات ہے؟ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں تما م زمین والوں میں سے آسمان والوں کو سب سے زیادہ محبوب ہوں؟ حضرت عبد اللہ نے کہا: جی ہاں بالکل۔ ربّ ِکعبہ کی قسم! آپ تمام زمین والوں میں سے آسمان والوں کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔ حضرت حسین نے کہا: تو آپ نے جنگِ صفّین کے دن مجھ سے اور میرے والد سے جنگ کیوں کی؟ اللہ کی قسم! میرے والد تو مجھ سے بہتر تھے۔ حضرت عبد اللہ نے کہا: بالکل آپ کے والد آپ سے بھی بہتر ہیں، لیکن بات یہ ہے کہ حضرت عمرو نے حضورﷺ سے میری یہ شکایت کی تھی کہ عبد اللہ دن بھر روزے رکھتا ہے اور رات بھر عبادت کرتا ہے۔ حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: رات کو نماز بھی پڑھا کرو اور سویا بھی کرو، اور دن میں روزے بھی رکھا کرو اور افطار بھی کیا کرو، اور (اپنے والد) عمرو کی بات مانا کرو۔ جنگِ صفّین کے موقع پر انھوں نے مجھے قسم دے کر کہا تھا کہ اس میں شرکت کرو۔ اللہ کی قسم! میں نے نہ تو ان کے لشکرمیںاضافہ کیا اور نہ میں نے تلوار سونتی اور نہ نیزہ کسی کو مارا اور نہ تیر چلایا۔ حضرت حسین نے کہا: کیا تمھیں یہ معلوم نہیں ہے کہ جس کام سے خالق کی نافرمانی ہو رہی ہو اس میں مخلوق کی نہیں ماننی چاہیے؟ حضرت عبد اللہ نے کہا: معلوم ہے۔ حضرت عبد اللہ ؓ اپنا عذر بار بار بیان کرتے رہے جس پر آخر حضرت حسینؓ نے ان کے عذر کو قبو ل کر لیا۔1