صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
لوگوں کے ساتھ نرمی برتنا تاکہ ٹوٹ نہ جائیں
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ایک آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اپنے خاندان کا برا آدمی ہے (آپ نے اجازت دے دی)۔ جب وہ حاضرِ خدمت ہوا تو آ پ نے بہت خوشی ومسرّت کا اظہار کیا، پھر وہ آدمی چلا گیا۔ پھر ایک اور آدمی نے اجازت مانگی، حضورﷺ نے فرمایا: یہ اپنے خاند ان کا اچھا آدمی ہے۔
جب وہ اندر آیا تو حضورﷺ نے کوئی خوشی اور مسرّت کا زیادہ اظہار نہیں کیا۔ جب وہ چلا گیا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں نے اجازت مانگی تو آپ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ وہ برا آدمی ہے، لیکن جب وہ اندر آیا تو آپ نے اس کے سامنے بڑی خوشی ومسرّت کا اظہار کیا۔ پھر دوسرے نے اجازت مانگی، آپ نے اس کے بارے میںاچھے کلمات فرمائے، لیکن جب وہ اندر آیا تو آپ کو اس کے ساتھ ویسا سلوک کرتے ہوئے میں نے نہیں دیکھا جیسا آپ نے پہلے کے ساتھ کیاتھا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! لوگوں میں سب سے برا آدمی وہ ہے جس کے شر کی وجہ سے لوگ اس سے بچتے ہوں۔2
حضرت صفوان بن عسّالؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ نبی کریمﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ سامنے سے ایک آدمی آیا۔ جب حضورﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا: یہ اپنے خاند ان کا برا فرد ہے اور برا آدمی ہے۔ جب وہ قریب آگیا تو آپ نے اسے اپنے قریب بٹھایا اور جب وہ اٹھ کر چلا گیا تو صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب آپ نے اسے دیکھا تو آپ نے فرمایا: یہ اپنے خاندان کا برا فرد ہے اور برا آدمی ہے، لیکن جب وہ آیا تو اسے آپ نے اپنے قریب بٹھایا۔ آپ نے فرمایا: یہ منافق ہے۔ میں اس کے نفاق کی وجہ سے اس کے ساتھ نرمی برت رہا تھا، کیوںکہ مجھے خطرہ تھا کہ یہ دوسروں کو میرا مخالف بنا دے گا اور انھیں بگاڑ دے گا۔1
حضرت بُرَیدہ ؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ حضورﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں قریش کا ایک آدمی سامنے سے آیا۔ حضورﷺ نے اسے اپنے قریب بٹھایا۔ جب وہ اُٹھ کر چلا گیا تو آپ نے فرمایا: اے بُرَیدہ! تم اسے جانتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں! یہ قریش کے اونچے خاندان کا آدمی اور ان میں سب سے زیادہ مال دار ہے۔ آ پ نے تین مرتبہ پوچھا، میں نے تینوں مرتبہ یہی جواب دیا۔ آخر میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے اپنی معلومات کے مطابق آپ کو بتایا ہے ویسے آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ ان لوگوں میں سے ہے جن (کے نیک اعمال) کا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کوئی وزن قائم نہیں فرمائیں گے (کیوںکہ ان کے پاس نیک عمل ہیں ہی نہیں )۔2
حضرت ابو الدرداء ؓ فرماتے ہیں: بعض دفعہ ہم لوگ کچھ لوگوں کے سامنے مسکرا رہے ہوتے ہیں، لیکن ہمارے دل انھیں لعنت کر رہے ہوتے ہیں۔3