نبی کریم ﷺ کا ملکوں کے بادشاہوں کو دعوت دینا
حضور ﷺکا شاہِ حبشہ حضرت نجاشی کے نام مکتوب گرامی
حضرت مِسْور بن مَخْرمہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے اپنے صحابہ ؓ کے پاس تشریف لا کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام انسانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔ اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے! تم میری طرف سے (میرا دین تمام انسانوں تک) پہنچاؤ ۔اور جیسے حضرت ِعیسیٰ ؑ کے حواریوں نے عیسیٰ ؑ کے سامنے اختلاف کیا، تم میرے سامنے ایسا اختلاف نہ کرنا۔ کیوں کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنے حواریوں کو اسی چیز کی دعوت دی تھی جس کی میں تم کو دعوت دینے لگا ہوں۔ (یعنی ان کو دعوت دینے کے لیے دُور اور نزدیک بھیجنا چاہتا تھے) چناں چہ ان میں سے جس کی تشکیل دُور کی ہوئی اس نے اس کو ناگوار سمجھا (اور جن کی تشکیل نزدیک کی ہوئی وہ تیار ہوگئے)۔ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نے اللہ عزّوجل سے اس کی شکایت کی، چناں چہ اگلے دن ان میں سے ہر آدمی اس قوم کی زبان میں بات کررہاتھا جس قوم کی طرف اس کی تشکیل ہوئی تھی۔ اس پر عیسیٰ ؑ نے ان حواریوں سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لیے یہ کام ضروری قرار دے دیا ہے اس لیے اب تم اسے ضرور کرو۔
حضورﷺ کے صحابہ ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ہم آپ کی طرف سے (آپ کا دین تمام انسانوں تک) پہنچائیں گے۔ آپ ہمیں جہاں چاہیں بھیج دیں۔ چناں چہ حضورﷺ نے حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ کو کسریٰ کے پاس بھیجا، اور سَلِیط بن عمرو ؓ کو یمامہ کے نواب ہَو ْزَہ بن علی کے پاس بھیجا، اور علاء بن حضرمی ؓ کو ہَجَر کے راجہ منذر بن ساویٰ کے پاس بھیجا، اور عمرو بن العاص ؓ کو عمان کے دو بادشاہوں جَیْفر اور عَبّاد کے پاس بھیجا جو جُلَندیٰ کے بیٹے تھے، اور دِحیہ کلبی ؓ کو قیصر کے پاس بھیجا، اور شجاع بن وہب اسدی ؓ کو منذر بن حارث بن ابی شمر غسّانی کے پاس بھیجا ،اور عمرو بن اُمیہ ضمری ؓ کو نجاشی کے پاس بھیجا ۔ علاء بن حضرمی کے علاوہ باقی تمام حضرات حضورﷺ کے انتقال سے پہلے واپس آگئے، علاء بن حضرمی حضورﷺ کے انتقال کے وقت بحرین میں تھے ۔1
حافظ ابنِ حجر فرماتے ہیں کہ اصحاب سیرنے یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ حضورﷺ نے مہاجر بن ابی اُمیَّہؓ کو حارث بن عبدِ کُلال کے پاس بھیجا، اور جریر ؓ کو ذی الکلاع کے پاس بھیجا، اور سائب ؓ کو مسیلمہ کے پاس بھیجا، اور حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کو مقوقس کے پاس بھیجا ۔2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے اپنے انتقال سے پہلے کسریٰ اور قیصر اور نجاشی اور ہرسرکش متکبر بادشاہ کو خطوط بھیجے جن میں ان کو اللہ عزّوجل کی طرف دعوت دی، اور یہ وہ نجاشی نہیں جن کی آپ نے نمازِ جنازہ پڑھی تھی ۔3
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے اپنے انتقال سے پہلے کسریٰ اور قیصر اور ہر ظالم اور سرکش بادشاہ کو (دعوت کے) خطوط بھیجے تھے۔ 4
حضورﷺ کا شاہِ حبشہ حضرت نجاشی کے نام مکتوبِ گرامی
حضورﷺ نے حضرت عمرو بن اُمیَّہ ضمری ؓ کے ہاتھ حضرت جعفر بن ابی طالبؓ اور اُن کے ساتھیوں کے بارے میں نجاشی کے نام یہ خط بھیجا: بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد رسول اللہ کی جانب سے نجاشی اصحم شاہِ حبشہ کے نام۔
سلامتی ہو تم پر! میں تمہار ے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جو بادشاہ ہے اور پاک ذات ہے اور امان دینے والا اور پناہ میں لینے والا ہے۔ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کی (پیدا کی ہوئی) رُوح ہیں اور اللہ کا وہ کلمہ ہیںجس کو اللہ تعالیٰ نے مریم بتول پاک صاف اور پاک دامن کی طرف اِلقا فرمایا تھا۔ چناں چہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ کے ساتھ امید سے ہوگئیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنی (خاص ) روح اور اپنی (یعنی اپنے فرشتے کی) پھونک سے پیدا فرمایا جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اپنی خاص قدرت اور پھونک سے پیدا فرما یا۔ اور میں تم کو اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ کی دعوت دیتا ہوں۔ اور اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم پابندی سے اللہ کی اِطاعت کرتے رہو، اورمیری اِتباع کرو، اور مجھ پر اور جو کچھ میرے پاس آیا ہے اس پر ایمان لاؤ کیوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اور میں نے تمہارے پاس اپنے چچا زاد بھائی حضرت جعفر کو مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ بھیجا ہے۔ جب یہ تمہارے پاس پہنچیں تو ان کو اپنا مہمان بنالینا اور تکبر اور غرور چھوڑ دینا، کیوں کہ میں تمہیں اور تمہارے لشکر کو اللہ عزّوجل کی دعوت دیتا ہوں۔ میں تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا چکاہوں اور تمہارے بھلے کی بات کہہ چکا ہوں، تم میری نصیحت مان لو۔ اور اس پر سلامتی ہو جو ہدایت کی اتباع کرے۔
نجاشی نے حضورﷺ کو جواب میں یہ خط لکھا :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بخدمت حضرت محمدرسول اللہ، نجاشی اصحم بن ابجر کی طرف سے۔ اے اللہ کے نبی! اللہ کی طرف سے آپ پر سلامتی ہو اور رحمت ہو اور برکتیں ہوں۔ اس ذات کے علاوہ کوئی معبود نہیں جس نے مجھے اِسلام کی ہدایت عطا فرمائی۔ یا رسول اللہ ! آپ کا گرامی نامہ مجھے ملا، اس میں آپ نے حضرت عیسیٰ ؑ کی کچھ صفات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ آسمان اور زمین کے رب کی قسم ! آپ نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو کچھ ذکر فرمایا ہے عیسیٰ ؑ کا مرتبہ اس سے ذرّہ بھر بھی زیادہ نہیں ہے۔ جو پیغام آپ نے ہمارے پاس بھیجا ہے ہم نے اسے اچھی طرح سمجھ لیا ہے۔ ہم نے آپ کے چچا زاد بھائی اور اُن کے ساتھیوں کی اچھی طرح میزبانی کی ہے۔ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ کی تصدیق کی گئی ہے۔ میں آپ سے بیعت کرتا ہوں اور میں آپ کے چچا زاد بھائی سے بیعت ہوچکا ہوں اور میں اُن کے ہاتھوں مسلمان ہوچکا ہوں اور اللہ ربّ العالمین کا فرماں بردار بن چکا ہوں۔ اے اللہ کے نبی! میں آپ کے پاس (اپنے بیٹے) اَرِیحا بن اصحم بن ابجر کو بھیج رہاہوں ،کیوں کہ مجھے صرف اپنی جان پر ہی پورا اختیار ہے۔ یا رسول اللہ ! اگر آپ فرمادیں تو میں آپ کی خدمت میں خود حاضر ہونے کو بھی تیار ہوں، کیوں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوںکہ آپ جو کچھ فرماتے ہیں وہ بالکل حق ہے۔1