نبی کریم ﷺ کا ملکوں کے بادشاہوں کو دعوت دینا
حضور ﷺکا شاہِ روم قیصر کے نام مکتوب گرامی
حضرت دِحیہ کلبیؓ فرماتے ہیں کہ مجھے حضورﷺ نے خط دے کر قیصر کے پاس بھیجا۔ میں نے قیصر کے پاس پہنچ کر اسے حضورﷺ کا خط دیا، اس کے پاس اس کا بھتیجا بیٹھا ہوا تھا جس کا رنگ سرخ اور آنکھیں نیلی اور بال بالکل سیدھے تھے۔ جب اُس نے حضورﷺ کا خط پڑھا تو اس میں یہ مضمون تھا:
محمد رسول اللہ کی جانب سے روم والے ہِرَ قْل کے نام۔
حضرت دِحیہ فرماتے ہیں: اتنا پڑھ کر اس کا بھتیجا زور سے غرّایا اور گرج کر کہا کہ یہ خط آج ہرگز نہیں پڑھا جائے گا۔ قیصر نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا :اس وجہ سے کہ ایک تو اس نے خط اپنے نام سے شروع کیا ہے اور دوسرے یہ کہ آپ کو روم والا لکھا ہے شاہِ روم نہیں لکھا ۔ قیصر نے کہا: نہیں، تمہیں یہ خط ضرور پڑھنا پڑے گا۔ جب اس نے سارا خط پڑھ کر سنادیا اور تمام درباری قیصر کے پاس سے چلے گئے تو قیصر نے مجھے اپنے پاس بلایا جو پادری مدارالمہام اور خاص مشیر تھا اسے پیغام بھیج کر بلایا۔ لوگوں نے بھی اس پادری کو ساری باتیں بتائیں اور قیصر نے بھی بتائیں اور اسے حضورﷺ کا خط پڑھنے کے لیے دیا۔ تو اس پادری نے قیصر سے کہا :یہ تو وہی شخص ہیں جن کا ہم انتظار کررہے تھے اور جن کی ہم کو حضرت عیسیٰ ؑ نے بشارت دی تھی۔ قیصر نے پادری سے کہا: میرے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟ پادری نے جواب دیا: میں تو ان کی تصدیق کروں گااور ان کا اتباع کروں گا۔ قیصر نے اس سے کہا کہ اگر میں ایسا کروںتو میری بادشاہت چلی جائے گی۔ اس کے بعد ہم قیصر کے پاس سے باہر نکل آئے۔
حضرت ابوسفیان ؓ ان دنوں (تجارت کے لیے) وہاں آئے ہوئے تھے۔ اُن کو بلا کر قیصر نے اُن سے یہ پوچھا کہ جو آدمی تمہارے ہاں ظاہر ہوا ہے وہ کیسا ہے؟ ابوسفیان نے کہا: وہ جوان آدمی ہے۔ قیصر نے پوچھا: اُن کا خاندان تم لوگوں میں کیسا ہے؟ ابو سفیان نے جواب دیا: اُن کا خاندان ایسا اونچا ہے کہ کوئی خاندان اس سے بڑھا ہوا نہیںہے۔ قیصر نے کہا: یہ نبوت کی نشانی ہے۔ پھر اس نے پوچھا کہ اس کی سچائی کس درجہ کی ہے؟ ابوسفیان نے جواب دیا کہ انھوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ تو قیصر نے کہا: یہ بھی نبوت کی نشانی ہے۔ پھر قیصر نے پوچھا: ذرا یہ تو بتاؤ کہ تمہارے ساتھیوں میں سے جو اُن سے جا ملتا ہے کیا وہ تمہاری طرف واپس آتا ہے؟ ابو سفیان نے کہا: نہیں۔ قیصر نے کہا :یہ بھی نبوت کی ایک علامت ہے۔ پھر قیصر نے پوچھا کہ جب وہ اپنے ساتھیوں کو لے کر جنگ کرتے ہیں تو کیا کبھی وہ پسپا بھی ہوجاتے ہیں؟ ابو سفیان نے کہا: ہاں، اُن کی قوم نے ان سے کئی مرتبہ جنگ کی ہے کبھی وہ شکست دے دیتے ہیں کبھی اُن کو شکست ہوجاتی ہے۔ قیصر نے کہا: یہ بھی نبوت کی نشانی ہے۔حضرت دِحیہؓ فرماتے ہیں: پھر قیصر نے مجھے بلایا اور کہا: اپنے ساتھی کو میرا یہ پیغام پہنچادینا کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ نبی ہیں، لیکن میں اپنی بادشاہت نہیں چھوڑ سکتا ہوں۔
حضرت دِحیہ ؓ فرماتے ہیں کہ پادری کا یہ ہوا کہ لوگ ہر اِتوار کو اس کے پاس جمع ہوتے تھے اور وہ باہر ان کے پاس آکر ان کو وعظ و نصیحت کیا کرتا تھا۔ اب جب اِتوار کا دن آیا تو وہ باہر نہ نکلا اور اگلے اِتوار تک وہ اندر ہی بیٹھارہا اور اس دوران میں اس کے پاس آتا جاتا رہا۔ وہ مجھ سے باتیں کیا کرتا اور مختلف سوالات کرتا رہتا۔ جب اگلا اِتوار آیا تو ان لوگوں نے اس کے باہر آنے کا بڑا انتظار کیا، لیکن وہ باہر نہ آیا بلکہ بیماری کا عذر کردیا اور اس نے ایسا کئی مرتبہ کیا۔پھر تو لوگوں نے اس کے پاس یہ پیغام بھیجا یا تو تم ہمارے پاس باہر آؤ، نہیں تو ہم زبردستی اندر آکر تم کو قتل کردیں گے۔ ہم لوگ تو تجھے اسی دن سے بدلا ہوا پاتے ہیں جب سے یہ عربی آدمی آیا ہے۔ تو پادری نے (مجھ سے) کہا: میرا یہ خط لے لو اور اپنے نبی کو جاکر یہ خط دے دینا اور اُن کو میرا سلام کہنا اور اُن کو یہ بتادینا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اور یہ بھی بتادینا کہ میں ان پر ایمان لاچکا ہوں اور ان کو سچا مان چکا ہوں اور میں ان کا اتباع کرچکا ہوں۔ اور یہ بھی بتادینا کہ یہاں والوں کو میرا ایمان لانا برا لگا ہے اور جو کچھ تم دیکھ رہے ہو وہ بھی ان کو پہنچا دینا ۔ اس کے بعد وہ پادری باہر نکلا تو لوگوں نے اسے شہید کردیا ۔ 1
بعض اہلِ علم کہتے ہیں کہ ہِرَ قْل نے حضرت دِحیہؓ سے کہا : تمہارا بھلا ہو، اللہ کی قسم! مجھے پورا یقین ہے کہ تمہارے حضرت اللہ کے بھیجے ہوئے نبی ہیں اور یہ وہی ہیں جن کا ہم انتظار کررہے تھے اور اُن کا تذکرہ ہم اپنی کتاب میں پاتے تھے، لیکن مجھے رومیوں سے اپنی جان کا خطرہ ہے۔ اگر یہ خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کا ضرور اتباع کرلیتا۔ تم ضَغَا طِر پادری کے پاس جاؤ اور اپنے حضرت کی بات اُن کے سامنے رکھو ، کیوں کہ ملکِ روم میں وہ مجھ سے بڑا ہے اور اس کی بات زیادہ چلتی ہے۔ چناں چہ حضرت دِحیہ ؓ نے اسے جاکر ساری بات بتائی تو اس نے حضرت دِحیہ سے کہا کہ اللہ کی قسم ! تمہارے حضرت واقعی اللہ کے بھیجے ہوئے نبی ہیں، ہم ان کو ان کی صفات اور ان کے نام سے جانتے ہیں۔ پھر وہ اندر گیا اور اس نے اپنے کپڑے اتارے اور سفید کپڑے پہنے اور باہر اہلِ روم کے پاس آیا اور کلمۂ شہادت پڑھا، وہ سب اس پر پِل پڑے اور اسے شہید کر ڈالا۔ 2
حضرت سعید بن ابی راشد فرماتے ہیں کہ قبیلہ تنّوخ کے جس آدمی کو ہِرَ قْل نے اپنا قاصد بناکر حضورﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا، میں نے اس آدمی کو حمص میں دیکھا۔ وہ میرا پڑوسی تھا، بہت بوڑھا مرنے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ ہِرَ قْل نے حضور ﷺ کو جو پیغام بھیجا تھا اور پھر حضور ﷺ نے ہِرَ قْل کو جو جواب بھجوایا تھا، کیا آپ مجھے اس کے بارے میں نہیں بتاتے؟ اس نے کہا: ضرور۔ حضور ﷺ تبوک تشریف لائے ہوئے تھے اور آ پ نے دِحیہ کلبیؓ کو ہِرَ قْل کے پاس بھیجا۔ جب حضورﷺ کا خط ہِرَ قْل کو ملا تو اس نے ر وم کے چھوٹے بڑے تمام پادریوں کو بلایا اور ان کو اپنے دربار میں جمع کرکے سب دروازے بند کروادیے اور اس نے کہا کہ یہ آدمی (یعنی حضورﷺ ) وہاں آ پہنچا ہے جہاں تم دیکھ رہے ہو (یعنی تبوک میں )اور اس نے مجھے خط بھیجا ہے جس میں اس نے مجھے تین باتوں کی دعوت دی ہے :یا تو میں اس کے دین کا اتباع کرلوں، یا ہم اسے جزیہ ادا کریں اور یہ ملک اور زمین ہمارے پاس رہے، یا ہم اس سے جنگ کے لیے تیار ہوجائیں۔ اللہ کی قسم ! تم آسمانی کتابوں کو پڑھ کر معلوم کرچکے ہو کہ یہ آدمی میرے قدمو ںکے نیچے کی زمین پر ضرور قبضہ کرے گا، اس لیے آؤ یا تو ہم اس کے دین کا اتباع کرلیں یا ہم اپنا ملک اور زمین بچا کر اس کو جزیہ دینے لگ جائیں۔ یہ سن کر وہ سب بہ یک آواز غرّائے اور اپنے آپے سے باہر ہوکر اپنی ٹوپیاں اتار پھینکیں اور کہنے لگے کہ ہمیں اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ ہم نصرانیت کو چھوڑ دیں، یا ہم اس اَعرابی کے غلام بن جائیں جو حجاز سے آیا ہے؟ جب ہِرَ قْل نے یہ محسوس کیا کہ یہ لوگ اگر (اسی حال میں ) باہر چلے گئے تو یہ اپنے ساتھیوں کو بغاوت پر آمادہ کرلیں گے اور ملک کا نظام درہم برہم کردیں گے، تو اس نے ان سے کہا: میں نے تم سے یہ بات صرف اس لیے کہی تھی تاکہ مجھے پتہ چل جائے کہ تم اپنے دین پر کتنے پکے ہو۔
اس کے بعد اس نے عرب کے تُجِیب قبیلہ کے اس آدمی کو بلایا جو عرب نصاریٰ کا حاکم تھا اور اس سے کہا کہ ایک آدمی میرے پاس لے کر آؤ جو بات یاد رکھ سکتا ہو اور عربی زبان جانتا ہو۔ اسے میں اس آدمی (یعنی حضورﷺ ) کے پا س خط کا جواب دے کر بھیجوں گا۔ چناں چہ وہ حاکم میرے پاس آیا (میں ہِرَ قْل کے پاس گیا ) ہِرَ قْل نے مجھے (حضورﷺ کے نام) خط دیا اور کہا کہ میرا خط اس آدمی کے پاس لے جاؤ اور اس کی باتوں کو غور سے سننا اور تین چیزوں کو خاص طور سے یاد رکھنا: ایک تو اس کا خیال رکھنا کہ جو خط انھوں نے مجھے لکھا ہے اس کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں؟ دوسرے اس کا خیال رکھنا کہ وہ میرا خط پڑھ کر رات کا ذکر کرتے ہیں یا نہیں؟ تیسرے اُن کی پشت کی طرف غور سے دیکھنا کہ کیا اُن کی پشت پر کوئی ایسی خاص چیز ہے جس سے تمہیں شک پڑے ؟ چناں چہ میں ہِرَ قْل کا خط لے کر تبوک پہنچا تو حضورﷺ ایک چشمہ کے کنارے اپنے صحابہؓکے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ تو میں نے پوچھا: آپ لوگوں کے حضرت کہاں ہیں؟ مجھے بتایا گیا کہ یہی تو ہیں۔ تو میں چلتے چلتے آپ کے سامنے جاکر بیٹھ گیا اور میں نے اپنا خط آپ کو دیا۔
آپ نے وہ خط اپنی گود میں رکھ لیا اور فرمایا: تم کون سے قبیلہ کے ہو؟ میں نے کہا: قبیلہ تنّوخ کا ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم اپنے باپ حضرت ابراہیم ؑ کے دین میں داخل ہونا چاہتے ہو جو ہر غلط اور اور باطل سے پاک ہے؟ میں نے کہا: میں ایک قوم کی طرف سے قاصد بن کر آیا ہوں اور اسی قوم کے دین پر ہوں۔ جب تک اس قوم کے پاس واپس نہ چلا جاؤں اُن کے دین کو نہیں چھوڑ سکتا ہوں۔ اس پر آپﷺ نے یہ آیت پڑھی:
{اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُج وَہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ O}1
تو راہ پر نہیں لاتا جس کو تو چاہے ، پر اللہ راہ پر لائے جس کو چاہے، اور وہی خوب جانتا ہے جو راہ پر آئیں گے۔
اس کے بعد فرمایا: اے تنوخی بھائی! میں نے ایک خط نجاشی کو بھیجا تھا اس نے میرا خط پھاڑ دیا، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے ملک کو پھاڑ دیں گے (بظاہر یہ نجاشی اور ہے، اور جو نجاشی حضورﷺ کا خط پڑھ کر مسلمان ہوگئے تھے اور جن کی حضورﷺ نے غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی تھی وہ اور ہیں) ۔اور میں نے تمہارے بادشاہ (قیصر) کو بھی خط لکھا تھا اس نے میرے خط کو سنبھال کر رکھا (اسے پھاڑا نہیں) اس لیے جب تک اس کی زندگی میں خیر مقدر ہے اس وقت تک لوگوں کے دلوں میں اس کا رعب رہے گا۔
میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہِرَ قْل نے مجھے جن تین باتوں کے خیال رکھنے کا کہا تھا یہ ان میںسے ایک تو ہوگئی۔ اور میں نے اپنے ترکش میں سے تیر نکال کر فوراً اپنی تلوار کے نیام کی کھال پر تیرسے لکھ لیا۔ پھر حضورﷺ نے وہ خط اپنی بائیں طرف والے ایک آدمی کو دیا ۔ میں نے پوچھا کہ یہ خط پڑھنے والے صاحب کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت معاویہؓ ہیں۔ (حضرت معاویہؓ خط پڑھنے لگے) ہِرَ قْل کے اس خط میں یہ مضمون تھا کہ آ پ مجھے ایسی جنت کی دعوت دے رہے ہیں جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے اور جو متقیوں کے لیے تیار کی گئی ہے، (جب آسمانوں اور زمین کے برابر جنت ہوگئی تو) دوزخ کہاں ہوگی؟ تو آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! جب دن آتا ہے تو رات کہاں چلی جاتی ہے؟ میں نے اپنے ترکش میں سے تیر نکال کر اپنی تلوار کے نیام پر اس بات کو بھی لکھ لیا۔
جب آپ میرے خط کو سن چکے تو آپ نے مجھ سے فرمایا: تم میرے پاس قاصد بن کر آئے ہو، تمہارا ہم پر حق ہے۔ اگر ہمارے پاس تحفہ کے طور پر دینے کے لیے کوئی چیز ہوئی تو ہم تمہیں ضرور دیں گے، کیوں کہ اس وقت ہم سفر میں ہیں اور زادِ راہ بالکل ختم ہوچکا ہے۔ لوگوںمیں سے ایک آدمی نے بلند آواز سے کہا: میں اس کو تحفہ دیتا ہوں۔ چناں چہ اس نے اپنا سامان کھولا اور ایک صفوریہ (اُردن کے شہر صفورہ کا بنا ہوا) جوڑا لاکر انھوں نے میری گود میں رکھ دیا۔ میں نے پوچھا: یہ جوڑا دینے والے صاحب کون ہیں؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ حضرت عثمان ؓ ہیں۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: اس قاصد کو کون اپنا مہمان بنائے گا ؟ ایک نوجوان انصاری نے کہا: میں بناؤں گا۔ وہ انصاری کھڑے ہوئے تو میں بھی اُن کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ جب میں آپ کی مجلس سے باہر چلاگیا تو آپ نے مجھے آواز دی: اے تنوخی بھائی! تو میں واپس آیا اور آپ کے سامنے جہاں پہلے بیٹھا ہوا تھا وہاں آکر کھڑا ہوگیا۔ آپ نے اپنی پشت مبارک سے چادر اُتار دی اور فرمایا: جو کام تم کو کہا گیا تھا وہ کام تم ادھر آکر کرلو (یعنی مہرِ نبوت دیکھ لو)۔ میں گھوم کر حضورﷺ کی پشت کی طرف گیا، مجھے کندھے کی نرم ہڈی پر مہرِ نبوت نظر آئی جو کبوتر کے انڈے کے برابر تھی۔ 1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سفیانؓ نے اُن سے یہ بیان کیا کہ جس زمانے میں حضورﷺ نے ابو سفیان اور کفارِ قریش سے صلح کررکھی تھی۔ اس زمانے میں حضرت ابو سفیان قریش کے ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ ملکِ شام گئے ہوئے تھے اور وہاں وہ لوگ اِیلیا شہر میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ہِرَ قْل نے قاصد بھیج کر اُن کو اپنے پاس بلایا۔ چناں چہ یہ لوگ ہِرَ قْل کے پاس گئے۔ اس نے ان سب کو اپنے دربار میں بٹھایا اور وہاں روم کے بڑے بڑے سردار بھی تھے ان کو بھی جمع کیا اور ایک ترجمان کو بلا کر کہا کہ جس آدمی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تم میں سے کون نسب میں اس کے سب سے زیادہ قریب ہے؟ حضرت ابو سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: میں نسب میں ان کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔ تو ہِرَ قْل نے کہا: اس آدمی کو میرے قریب کردو اور اس کے ساتھیوں کو اس کے پیچھے قریب ہی بٹھادو۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ان سے یہ کہو کہ میں نبوت کا دعویٰ کرنے والے آدمی کے بارے میں ان سے (یعنی ابو سفیان سے) پوچھوں گا اگر یہ مجھ سے غلط بیانی کرے تو تم فوراً ٹوک دینا۔ (حضرت ابو سفیان فرماتے ہیں کہ) اللہ کی قسم! اگر مجھے یہ خطرہ نہ ہوتا کہ میرے ساتھی مجھے جھوٹا مشہور کردیں گے تو میں حضورﷺ کے بارے میں اس دن ضرور غلط بیانی سے کام لے لیتا۔
پھر ہِرَ قْل نے مجھ سے سب سے پہلے یہ سوال کیا کہ اس آدمی کا تمہارے میں نسب کیسا ہے؟ میں نے کہا: وہ ہمارے میں بڑے نسب والا ہے۔ پھر اس نے پوچھا: کیا اس سے پہلے تم میں سے کسی اور نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے؟ میں نے کہا :نہیں ۔پھر اس نے پوچھا: کیا اس کے آباء واَجداد میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا بڑے اور طاقت ور لوگوں نے اس کا اتباع کیا ہے یا چھوٹے اور کمزور لوگوں نے؟ میں نے کہا: چھوٹے اور کمزور لوگوں نے۔ پھر اس نے پوچھا: ان کے ماننے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے یا گھٹ رہی ہے؟ میں نے کہا: بڑھ رہی ہے۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا ان کے ماننے والوں میں سے کوئی ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد ان کے دین کو برا سمجھ کر مرتد ہوا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا اس دعویٰ کرنے سے پہلے تم لوگوں نے کبھی اُن پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا تھا ؟ میں نے کہا: نہیں۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا کبھی وہ معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، لیکن آج کل ہمارا ان سے ایک معاہدہ چل رہا ہے ، ہمیں پتہ نہیں ہے کہ وہ اس معاہدے کے بارے میں کیا کریں گے۔ حضرت ابوسفیان فرماتے ہیں کہ میں ساری گفتگو میں حضورﷺ کے خلاف اس جملہ کے علاوہ اور کوئی جملہ نہیں بڑھا سکا ۔
پھر ہِرَ قْل نے پوچھا: کیا کبھی تمہاری اس سے جنگ ہوئی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: ان سے جنگ کرنے کا کیا نتیجہ نکلا ؟ میں نے کہا: برابر سرابر، کبھی وہ جیت جاتے ہیں اور کبھی ہم جیت جاتے ہیں۔ پھر اس نے پوچھا: وہ تمہیں کن باتوں کا حکم دیتے ہیں؟ میں نے کہا :وہ یہ کہتے ہیں کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور تمہارے آباء واَجداد جو کہتے تھے اسے چھوڑ دو، اور وہ ہمیں نماز پڑھنے، سچ بولنے اور پاک دامنی اور صلح رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ اس نے ترجمان سے کہا کہ ان کو یہ کہو کہ میں نے تم سے ان کے نسب کے بارے میں پوچھا تم نے بتایا کہ وہ تم لوگوں میں بڑے نسب والے ہیں ،اور تمام رسول اسی طرح اپنی قوم کے اعلیٰ نسب میں مبعوث ہوتے ہیں۔ اور میں نے تم سے پوچھا :کیا اس سے پہلے تم میں سے کسی اور نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے؟تم نے بتایا کہ نہیں، تو میںنے دل میں کہا کہ اگر ان سے پہلے کسی اور نے بھی یہ دعویٰ کیا ہوتا تومیں یہ کہتا کہ اس کی دیکھا دیکھی یہ بھی وہی دعویٰ کرنے لگ گیا ہے۔ اور میں نے تم سے پوچھا: کیا اس کے آباء واَجداد میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ تم نے بتایا کہ نہیں، اگر ان کے آباء واَجداد میں کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو میں یہ کہتا کہ یہ آدمی اپنے باپ دادا کی بادشاہت حاصل کرنا چاہتا ہے۔
اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس دعویٰ کرنے سے پہلے تم لوگوں نے ان پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا تھا؟ تم نے کہا: نہیں۔ میں اس سے یہ سمجھا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک آدمی انسانوں کے معاملے میں تو جھوٹ بولنا گوارا نہ کرے اور اللہ کے معاملہ میں جھوٹ بول دے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا بڑے اور طاقت ور لوگوں نے اس کا اتباع کیا ہے یا چھوٹے اور کمزور لوگوں نے؟ تو تم نے یہ بتایا کہ چھوٹے اور کمزور لوگوں نے اس کا اتباع کیا ہے ،اور یہی لوگ (شروع میں ) رسولوں کے ماننے والے ہوتے ہیں۔ اور میںنے تم سے پوچھا کہ ان کے ماننے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے یا گھٹ رہی ہے؟ تم نے بتایا کہ بڑھ رہی ہے، اور ایمان کی شان یہی ہے یہاں تک کہ پورا ہو۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان کے ماننے والوں میں سے کوئی ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد ان کے دین کو برا سمجھ کر مرتد ہوا ہے؟ تو تم نے بتایا کہ نہیں، اور ایمان کی حلاوت جب دلوں میں رَچ جاتی ہے تو ایسے ہی ہوا کرتا ہے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا کبھی وہ معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہیں؟ تو تم نے بتایا کہ نہیں، اور اسی طرح رسول معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں کیا کرتے ۔
اور میں نے تم سے پوچھا کہ وہ تمہیں کن باتوں کا حکم دیتے ہیں ؟ تو تم نے بتایا کہ وہ تمہیں اس بات کاحکم دیتے ہیں کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور وہ تمہیں بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں ،اور تمہیں نماز پڑھنے ،اور سچ بولنے، اور پاک دامنی کا حکم دیتے ہیں۔ یہ ساری باتیں جو تم نے کہی ہیں اگر یہ سچ ہیں تو یاد رکھو کہ وہ اس جگہ کے بھی مالک ہوکر رہیں گے جو میرے دونوں قدموں کے نیچے ہے۔ مجھے یہ معلوم تھا کہ وہ ظاہر ہونے والے ہیں، لیکن میرا یہ خیال نہیں تھا کہ وہ تم لوگوں میں سے ہوں گے۔ اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ میں اُن تک پہنچ سکتا ہوں تو میں اُن کی ملاقات کے لیے سارا زور لگادیتا۔ اور اگر میں آپ کے پاس ہوتا تو آپ کے دونوں پیر دھوتا۔ پھر اس نے حضورﷺ کا وہ خط منگوایا جو حضرت دِحیہؓ لے کر حاکمِ بُصریٰ کے پاس آئے تھے اور حاکمِ بُصریٰ نے وہ خط ہِرَقْل تک پہنچایا تھا۔ اس خط میں یہ مضمون تھا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ کے رسول محمد بن عبداللہ کی طرف سے ہِرَ قْل کے نام جو روم کا بڑا ہے۔
اس پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کو اختیار کیا۔ اما بعد! میں تم کو اِسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ مسلمان ہوجاؤ سلامتی پالوگے اور اللہ تعالیٰ تم کو دُگنا اَجر عطا فرمائیں گے ۔اور اگر تم نے اِسلام سے منہ پھیرا تو تمہاری رعایا کا گناہ بھی تم پر ہوگا۔ اور اے اہلِ کتاب ! آؤ اس کلمہ کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے۔(اور وہ یہ ہے ) کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں، اور ہم اللہ کے لیے ایک دوسرے کو خدا نہ بنائیں۔ اگر اہلِ کتاب اس دعوت سے منہ پھیر لیں تو (اے مسلمانو!) تم کہہ دو کہ ہم تو یقینا مسلمان ہیں۔
حضرت ابوسفیان فرماتے ہیں کہ جب وہ اپنی بات کہہ چکا اور خط سنا چکا تو اس کی مجلس میں ایک شور و شغب برپا ہوگیا اور سب لوگ زور زور سے بولنے لگے، اورا س نے ہمیں مجلس سے باہر بھیج دیا۔ جب ہم باہر آئے تو میںنے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابنِ ابی کبشہ (کفارِ مکہ حضورﷺ کو ابنِ ابی کبشہ کہا کرتے تھے) کا معاملہ اتنا زور دار ہوگیا ہے کہ بنو الاصفر یعنی رُومیوں کا بادشاہ بھی اس سے ڈرنے لگ گیا ہے۔ اس کے بعد مجھے پختہ یقین ہوگیا تھا کہ حضورﷺ غالب ہوکر رہیں گے حتی کہ اللہ نے مجھے اِسلام سے نواز دیا۔
زُہری کہتے ہیں کہ ابنِ ناطور اَیلیا کا حاکم اور ہِرَ قْل کا دوست اور شام کے نصاریٰ کا بڑا پادری تھا۔ اس نے بیان کیا کہ ہِرَ قْل جب اَیلیا (یعنی بیت المقدس ) آیا ہوا تھا تو ایک دن صبح کے وقت بڑا پریشان اور کبیدہ خاطر تھا۔ تو اس سے اس کے ایک بڑے پادری نے کہا کہ آپ کی طبیعت ٹھیک معلوم نہیں ہورہی ہے۔ ابنِ ناطور کا بیان ہے کہ ہِرَ قْل نجومی تھااور ستاروں کا حساب جانتا تھا۔ پادری کے پوچھنے پر اس نے یہ بتایا کہ ستاروں میں غور کرنے سے مجھے پتہ چلا ہے کہ ختنہ والے بادشاہ کا دنیا میں ظہور ہوچکا ہے۔تم یہ بتلاؤ کہ لوگوں میں سے کس قوم میں ختنہ کا رواج ہے؟ انھوں نے کہا کہ صرف یہودی ختنہ کرتے ہیں اور یہودیوں کی طرف سے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے ملک کے تمام شہروں میں یہ حکم نامہ بھیج دیںکہ وہاں جتنے یہودی ہیں وہ سب قتل کردیے جائیں۔ ان لوگوں میں ابھی یہ گفتگو ہوہی رہی تھی کہ اتنے میںغسّان کے بادشاہ کا بھیجا ہوا قاصد آپہنچا اور اس نے اُن کو حضورﷺ کے بارے میں خبر دی۔ اس سے ساری خبر معلوم کرکے ان لوگوں سے یہ کہا کہ جاؤ اور پتہ کرو کہ اس قاصد نے ختنہ کرایا ہوا ہے یا نہیں؟ ان لوگوں نے تحقیق کرنے کے بعد ہِرَ قْل کو بتایا کہ اس نے ختنہ کرایا ہوا ہے۔
پھرہِرَ قْل نے اس قاصد سے عربوں کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ عربوں میں ختنہ کا رواج ہے۔ اس پر ہِرَ قْل نے کہا کہ یہ عرب قوم کے بادشاہ ہیں جن کا ظہورہوگیا ہے۔ پھر ہِرَ قْل نے اپنے ایک ساتھی کو (اس بارے میں) خط لکھا جو رُومیہ میں رہتا تھا اور علمِ نجوم میں اسی طرح ماہر تھا اورخود ہِرَ قْل وہاں سے حمص چلاگیا۔ ابھی ہِرَ قْل حمص پہنچا نہیں تھا کہ رُومیہ سے اس کے ساتھی کا جواب آگیا جس میں وہ ہِرَ قْل کی رائے سے پورا اتفاق کررہا تھا کہ واقعی اس نبی کا ظہور ہوگیا ہے جو عرب قوم کا بادشاہ ہے۔ ہِرَ قْل نے حمص میں اپنے محل کے کھلے پارک میں روم کے بڑے سرداروں کو جمع کیا، پھر اس نے دروازے بند کرنے کا حکم دے دیا۔ چناں چہ تمام دروازے بند کردیے گئے۔ پھر اس نے محل کے ایک جھروکے سے ان کے سامنے آکر ان سے یہ کہا: اے روم کے سردارو! کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم کو فلاح و بہود اور ہدایت ملے اور تمہارے پاس تمہارا ملک باقی رہے؟ اگر تم یہ چاہتے ہو تو اس نبی کا اتباع کرلو۔ یہ سنتے ہی و ہ سارے سردار بدک کر وحشی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف دوڑے، لیکن انھوں نے دیکھا کہ دروازے تو سارے بند ہیں۔ ہِرَ قْل نے جب اُن کا ا س طرح بھاگنا دیکھا اور وہ اُن کے ایمان قبول کرنے سے ناامید ہوگیا، تو اس نے حکم دیا کہ ان سب کو میرے پاس واپس لاؤ ۔ (چناں چہ وہ واپس آئے) تو اس نے ان سے کہا کہ میں نے تو یہ بات صرف اس لیے کہی تھی تاکہ مجھے پتہ لگ جائے کہ تم اپنے دین پر کتنے پختہ ہو، اور اب مجھے یقین آگیاہے کہ تم اپنے دین پر پکے ہو۔ اس پر وہ سب ہِرَ قْل کے آگے سجدہ میں گر گئے اور اس سے خوش ہوگئے۔ ہِرَ قْل کے قصہ کا آخری انجام یہی ہوا کہ وہ ایمان نہ لایا۔1