نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا

فرائضِ اسلام کی دعوت دینا

حضرت جریر بن عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے آدمی بھیج کر مجھے بلوایا اور جب میں حاضرِ خدمت ہوگیا تو آپ نے فرمایا: اے جریر! تم کس وجہ سے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا: آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہونے کے لیے آیا ہوں۔ پھر آپ نے مجھ پر ایک چادر ڈال دی اور اپنے صحابہ ؓ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ جب تمہارے پاس کسی قوم کا عمدہ اَخلاق والا بہترین آدمی آجائے تو تم اس کا اِکرام کرو (جیسے میں نے جریر کا کیا)۔ پھر آپ نے فرمایا : اے جریر! میں تمہیں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم یہ گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ اور اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور تقدیر پر ایمان لاؤ کہ جو کچھ بھلا یا برا ہے وہ سب اللہ کی طرف سے ہے ۔اور اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم فرض نماز پڑھو اور فرض زکوٰۃ ادا کرو۔ چناں چہ میں نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد جب بھی آپ ﷺ مجھے دیکھتے تو مسکرا دیتے۔ 2 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو یمن بھیجا تو اُن کو یہ ہدایات دیں کہ تم ایسی قوم کے پاس جارہے ہو جو اہلِ کتاب ہیں۔ جب تم اُن کے پاس پہنچ جاؤ تو ان کو اس بات کی دعوت دینا کہ وہ یہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو پھر اُن کو یہ بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو پھر اُن کو یہ بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو اُن کے مال داروں سے لے کر اُن کے فقیروں کو دے دی جائے گی۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو پھر تم اُن کے عمدہ مال لینے سے بچنا اورمظلوم کی بددعا سے بھی بچنا، کیوں کہ اس کی بددعا اور اللہ کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہوتی ۔ 1 حضرت حَوشب ذِی ظُلَیم ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کو غلبہ دے دیا تو میں نے عبدِ شَر کے ساتھ آپ کی خدمت میں چالیس سواروں کی ایک جماعت بھیجی۔ وہ میرا خط لے کر مدینہ حضورﷺ کی خدمت میں گئے، وہاں جاکر عبدِ شَرنے پوچھا: آپ لوگوں میں محمد کون ہے؟ صحابہ نے کہا :یہ ہیں۔ عبدِ شَرنے (حضورﷺ سے) عرض کیا: آپ ہمارے پاس کیا لے کر آئے ہیں ؟ اگر وہ حق ہوگا تو ہم آپ کا اِتباع کرلیں گے۔ آپ نے فرمایا: تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور انسانوں کے خون کی حفاظت کرو اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکرو۔ عبدِ شَر نے کہا: آپ کی یہ تمام باتیں بہت اچھی ہیں آپ ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں (اِسلام لانے کے لیے) آپ سے بیعت ہوجاؤں۔ آپ نے فرمایا: تمہارا کیا نام ہے ؟ انھوں نے کہا :میرا نام عبدِ شَرہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں بلکہ تم عبدِ خیر ہو۔ اور حضورﷺ نے اُن کو اِسلام پر بیعت فرمایا۔ حوشب ذی ظلیم کے خط کا جواب لکھ کر ان کے ہاتھ حوشب کو بھیجا جس پر حضرت حوشب ایمان لے آئے۔2 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قوم عبدالقیس کا وفد حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ نے (اُن کا استقبال کرتے ہوئے) فرمایا: خوش آمدید ہو قوم کو۔ (چوں کہ تم لوگ خوشی سے مسلمان ہوکر آئے ہو اس وجہ سے) نہ دنیا میں تمہارے لیے رسوائی ہے نہ آخرت میں پشیمانی۔اس وفد نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مُضَر کا (مشہور جنگجو) قبیلہ پڑتا ہے، اس وجہ سے ہم آپ کی خدمت میں صرف ان مہینوں میں آسکتے ہیں جن میں لڑنا حرام ہے۔ اس لیے آپ ہمیں دین کی مختصر اور موٹی موٹی باتیں بتادیں جن پر عمل کرکے ہم جنت میں داخل ہوجائیں، اور جو ہمارے قبیلہ کے لوگ پیچھے رہ گئے ہیں اُن کو ان باتوں کی دعوت دیں۔ آپ نے فرمایا: میں تم کو چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں۔ وہ چار باتیں جن کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں کہ اللہ پر ایمان لاؤ اورلاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کی گواہی دو، اور نماز قائم کرو، اورزکوٰۃ ادا کرو، اور رمضان کے روزے رکھو ۔اور پانچویں بات یہ ہے کہ مالِ غنیمت میں سے پانچواں حصہ (اللہ اور رسولﷺ کو) دیا کرو۔ اور جن چار چیزوں سے روکتا ہوں وہ کدّو کے تونبے، اور درخت کی کھوکھلی جڑوں سے بنائے ہوئے برتن، اور روغنی مرتبان، اوررال لگائے ہوئے برتن ہیں۔ (یہ وہ برتن ہیں جن میں شراب اور نبیذ بنائی جاتی تھی) طیالسی نے بھی اسی طرح روایت ذکر کی ہے جس میں کچھ مضامین زیادہ ہیں، اور آخر میں یہ بھی ہے کہ حضورﷺ نے اُن سے فرمایا کہ ان باتوں کو یاد رکھو اور جو تمہارے لوگ پیچھے رہ گئے ہیں اُن کو ان باتوں کی دعوت دو۔1 حضرت علقمہ بن الحارث ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوااور میرے ساتھ میری قوم کے مزید چھ آدمی بھی تھے۔ ہم لوگوںنے حضورﷺکوسلام کیا، حضورﷺنے ہمارے سلام کا جواب دیا۔ پھر ہم نے آپ سے گفتگو کی، آپ کو ہماری گفتگو پسند آئی۔ اور آپ نے پوچھا کہ تم لوگ کون ہو؟ ہم نے کہا: (ہم ) مؤمن ہیں۔ آپ نے فرمایا: ہر بات کی ایک حقیقت (اور نشانی) ہوا کرتی ہے، تمہارے ایمان کی کیا حقیقت ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ پندرہ خصلتیں (ہمارے ایمان کی حقیقت اور نشانی ہیں)۔ پانچ خصلتیںوہ ہیں جن کا آپ نے ہمیں حکم دیا، اور پانچ خصلتیں وہ ہیں جن کا آپ کے قاصدوں نے ہمیں حکم دیا، اورپانچ خصلتیں وہ ہیں جن کو ہم نے زمانۂ جاہلیت میں اختیار کیا تھا اور اب تک ہم ان پر باقی ہیں۔ ہاں! اگر آپ ان سے منع کریں گے تو ہم ان کو چھوڑ دیں گے۔ آپ نے فرمایا: وہ پانچ خصلتیں کون سی ہیں جن کا میں نے تم کو حکم دیا؟ ہم نے کہا: آپ نے ہمیں اس بات کا حکم دیا کہ ہم اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور تقدیر پر ایمان لائیں کہ بھلا یا بُرا جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: وہ پانچ خصلتیں کون سی ہیں جن کا تم کو میرے قاصدوں نے حکم دیا؟ ہم نے کہا: آپ کے قاصدوں نے ہمیں اس بات کا حکم دیا کہ ہم اس بات کی گواہی دیں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور آپ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اور اس بات کا حکم دیا کہ ہم فرض نماز قائم کریں، اور فرض زکوٰۃ ادا کریں، اورماہِ رمضان کے روزے رکھیں، اوراگر ہم سفر کی طاقت رکھیں تو بیت اللہ کا حج کریں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ وہ پانچ خصلتیں کون سی ہیں جن کو تم نے زمانۂ جاہلیت میں اختیار کیا تھا؟ ہم نے کہا: سہولت اور خوشحالی کے وقت اللہ کا شکر کرنا، اور مصیبت اور آزمایش کے وقت صبر کرنا، اور لڑائی کے موقع پر جمنا اور جوہر دکھانا، اور اللہ کی قضا وتقدیر پر راضی رہنا، اور دشمن پر جب مصیبت آئے تو اس سے خوش نہ ہونا۔ حضورﷺ نے (صحابہ ؓکو مخاطب ہوکر) فرمایا:یہ لوگ تو بڑے سمجھ دار اور سلیقہ والے ہیں۔ ان عمدہ اور بہترین خصلتوں کی وجہ سے قریب تھا کہ یہ نبی ہوجاتے (یعنی ان کی تمام خصلتیں نبیوں والی ہیں) اور ہمیں دیکھ کر آپ مسکرائے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں پانچ خصلتوں کی وصیت کرتا ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے اندر خیر کی خصلتیں پوری کردے: جو تم نے کھانا نہیں ہے اسے جمع نہ رکھو (یعنی ضرورت سے زائد بچا ہوا کھانا صدقہ کر دیا کرو)، اور جس مکان میں رہنا نہیں ہے اسے مت بناؤ (یعنی ضرورت کے مطابق مکان بناؤ ضرورت سے زیادہ نہ بناؤ )، اور جس دنیا کو چھوڑ کر تم کل چل دوگے اس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو، اور جس اللہ کے پاس تم نے جانا اور اس کے پاس جمع ہونا ہے اس سے تم ڈرو، اور جس دارِ آخرت کو تم نے جانا ہے اور وہاں ہمیشہ رہنا ہے اس کی فکر کرو۔1 ا سی حدیث کو ابو نعیم1 نے حضرت سُوَید بن الحارثؓ سے اس طرح ذکر کیا ہے کہ حضرت سُوَید فرماتے ہیں کہ میں اپنی قوم کے سات آدمیوں کا وفد لے کر حضورﷺ کی خدمت میں گیا۔ جب ہم آپ کی خدمت میںحاضر ہوئے اور ہم نے آپ سے گفتگو کی توآ پ کو ہمارا اندازِ گفتگو اور اندازِ نشست وبرخاست اور لباس پسند آیا۔ آپ نے فرمایا: تم کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا: مؤمن ہیں۔ اس پر آپ مسکرانے لگے اور فرمایا: ہر بات کی ایک حقیقت اور نشانی ہوا کرتی ہے، تمہارے اس قول اورایمان کی کیا حقیقت اور نشانی ہے؟ حضرت سُوَید فرماتے ہیں کہ ہم نے کہا: پندرہ خصلتیں ہیں۔ ان میں سے پانچ خصلتیں تو وہ ہیں جن کے بارے میں آپ کے قاصدوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان پر ایمان لائیں، اور ان میں سے پانچ خصلتیں وہ ہیں جن کے بارے میں آپ کے قاصدوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان پرعمل کریں، اور ان میں سے پانچ خصلتیں وہ ہیں جن کو ہم نے زمانۂ جاہلیت میں اختیار کیا تھا اور ہم اب تک ان پر قائم ہیں، لیکن اگر ان میں سے کسی کو آپ ناگوار سمجھیں گے تو ہم اسے چھوڑ دیں گے۔پھر آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا، البتہ تقدیر پر ایمان لانے کے بجائے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو ذکر کیا۔ اور دشمن کی مصیبت پر خوش نہ ہونے کے بجائے دشمن کے خوش ہونے کے وقت صبر کرنے کوذکر کیا۔ حضورﷺکا ایسے آدمی کو دعوت دینا جس کانام ذکر نہیں کیا گیا اس باب میں صفحہ ۱۰۵ پر قبیلہ بلعدویہ کے ایک آدمی کی حدیث گذر چکی ہے جس کو وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں۔ اس حدیث میں یہ مضمون ہے کہ ان کے دادا نے کہا: آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں ۔ میں نے کہا: آپ اس دعوت میں کیا کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں محمد اللہ کا رسول ہوں، اور اللہ نے جو کچھ مجھ پر نازل فرمایا ہے اس پر ایمان لاؤ، اور لات و عزّٰی کا اِنکار کرو، اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو۔