صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
مسلمان کو قتل کرنے سے بچنا اور ملک کی وجہ سے لڑنے کا ناپسندیدہ ہونا
حضرت اَوس بن اَوس ثقفی ؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ مدینہ منوّرہ میں مسجدِ نبوی کے اندر ایک خیمہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایک مرتبہ حضورﷺ ہمارے پاس تشریف لائے۔ اتنے میں ایک آدمی آکر حضورﷺ سے چپکے چپکے بات کرنے لگ گیا۔ ہمیں پتا نہ چلا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ آپ نے فرمایا: جاؤ اور ان سے کہہ دو کہ وہ اسے قتل کر دیں۔ پھر حضورﷺ نے اسے بلا کر فرمایا: شاید وہ کلمۂ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إلَّا اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھتا ہے؟ اس آدمی نے کہا:جی ہاں! (وہ پڑھتا ہے)۔ حضورﷺ نے فرمایا: جاؤ اور ان سے کہہ دو کہ اسے چھوڑ دیں، کیوںکہ مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دے دیں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں اﷲ کا رسول ہوں۔ جب وہ یہ کلمۂ شہادت پڑھ لیں تو پھر ان کا خون اور مال لینا میرے لیے حرام ہو جاتا ہے۔ ہاں! ان میں کوئی شرعی حق بنتا ہے تو اس کا لینا جائز ہے اور ان کا حساب اﷲخود لیں گے۔1
حضرت عبد اﷲ بن عدی انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے کہ اتنے میں ایک آدمی ایک منافق کو قتل کرنے کے بارے میں چپکے سے بات کرنے کی حضورﷺ سے اجازت مانگنے لگا۔
حضورﷺ نے اسے اونچی آواز سے فرمایا: کیا وہ لاَ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُکی گواہی نہیں دیتا؟ اس آدمی نے کہا: گواہی دیتا ہے، لیکن اس کی گواہی کا اعتبار نہیں ہے۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: کیاوہ میرے رسول اﷲ ہونے کی گواہی نہیں دیتا؟ اس نے کہا: دیتا ہے، لیکن اس کی گواہی کا اعتبار نہیں ہے۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: کیا وہ نماز نہیں پڑھتا ہے؟ اس نے کہا: پڑھتا ہے، لیکن اس کی نماز کا اعتبار نہیں ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: ان ہی لوگوں (کو قتل کرنے) سے مجھے روکا گیا ہے۔2
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں حضورﷺ نے فرمایا: میرے پاس میرے کسی صحابی کو بلاؤ۔ میں نے کہا: حضرت ابو بکر کو؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: حضرت عمر کو؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: آپ کے چچازاد بھائی حضرت علی کو؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: حضرت عثمان کو؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ جب وہ آگئے تو آپ نے مجھ سے فرمایا: ذرا ایک طرف کو ہٹ جاؤ۔ پھر آپ نے حضرت عثمان سے کان میں بات کرنی شروع کر دی اور حضرت عثمان کا رنگ بدل رہا تھا۔ جب یوم الدار آیا (جس دن حضرت عثمان ؓ کے گھر کا محاصرہ کیا گیا) اور حضرت عثمان گھر میں محصور ہوگئے تو ہم نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ (باغیوں سے) جنگ نہیں کریں گے؟ حضرت عثمان نے فرمایا: نہیں۔ حضورﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا، میں اس عہد پر پکا رہوں گا جما رہوں گا۔1
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ جس وقت محصور تھے اس وقت انھوں نے جھانک کر ان باغیوںسے پوچھا: آپ لوگ مجھے کیوں قتل کرتے ہو؟ کیوںکہ میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی آدمی کا خون بہانا صرف تین باتوں کی وجہ سے حلال ہوتا ہے: یا تو وہ شادی کے بعد زنا کرے اس صورت میں اسے رجم کیا جائے گا، یعنی پتھر پر پتھر مار مار کر مار دیا جائے گا، یا وہ کسی کو عمداً جان بوجھ کر قتل کر دے اس صورت میں اسے بھی بدلہ میں قتل کر دیا جائے گا، یا اسلام لانے کے بعد نَعُوْذُ بِاﷲ مِنْ ذٰلِکَ مرتد ہو جائے (اگر سمجھا نے سے اسلام میں واپس نہ آیا تو) اسے ارتداد کی سزا میں قتل کیا جائے گا۔ اﷲ کی قسم! میں نے نہ تو زمانۂ جاہلیت میں کبھی زنا کیا اور نہ اسلام لانے کے بعد، اور نہ میں نے کسی کو قتل کیا ہے کہ جس کے بدلہ میں مجھے قتل کیا جائے، اور نہ اسلام لانے کے بعد میں مرتد ہوا ہوں (میں تو اب بھی مسلمان ہوں) أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔2
حضرت ابو اُمامہ ؓ فرماتے ہیں: جب حضرت عثمانؓ گھر میں محصور تھے، میں بھی آپ کے ساتھ گھر میں تھا۔ گھر میں ایک جگہ ایسی تھی کہ جب ہم اس میں داخل ہوتے تو وہاں سے بلاط مقام پر بیٹھے ہوئے لوگوں کی تمام باتیں سن لیتے۔ ایک دن حضرت عثمان کسی ضرورت سے اس میں گئے جب وہاں سے باہر آئے تو ان کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ انھوں نے فرمایا: وہ لوگ تو اب مجھے قتل کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ہم نے کہا: اے امیر المؤمنین! اﷲ تعالیٰ ان سے آپ کی کفایت فرمائیں گے۔ پھر انھوں نے فرمایا: یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ کیوںکہ میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان کا خون بہانا صرف تین باتوں کی وجہ سے حلال ہوتا ہے: یا تو آدمی مسلمان ہونے کے بعد کافر ہو جائے، یا شادی کے بعد زنا کرے، یاناحق کسی انسان کو قتل کر دے (میں نے تینوں میں سے کوئی کام نہیں کیا ہے)۔ اﷲ کی قسم! نہ میں نے زمانۂ جاہلیت میں کبھی زنا کیا ہے اور نہ اسلام لانے کے بعد۔ اور جب سے اﷲ نے مجھے دینِ اسلام کی ہدایت دی ہے کبھی بھی میرے دل میں اس دین کو چھوڑ کر کسی اور دین کو اختیار کرنے کی تمنا پیدا نہیں ہوئی ہے، اور نہ میں نے ناحق کسی کو قتل کیا ہے۔ تو اب یہ لوگ مجھے کس وجہ سے قتل کرنا چاہتے ہیں؟1
حضرت ابو لیلیٰ کندی ؓکہتے ہیں: جن دنوں حضرت عثمان ؓ اپنے گھر میں محصور تھے، میں بھی ان دنوں وہاں ہی تھا۔ ایک دن حضرت عثمان نے دریچے سے باہر جھانک کر (باغیوں سے) فرمایا:
اے لوگو! مجھے قتل نہ کرو (اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے تو) مجھ سے توبہ کرالو۔ اﷲ کی قسم! اگر تم مجھے قتل کرو گے تو پھر کبھی بھی تم اکٹھے نہ نماز پڑھ سکو گے، اور نہ دشمن سے جہاد کر سکو گے، اور تم لوگوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔ اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے فرمایا: تمہارا حال بھی ایسا ہو جائے گا۔ پھریہ آیت پڑھی:
{وَیٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شِقَاقِیْ اَنْ یُّصِیْبَکُمْ مِّثْلُ مَا اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ ہُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ ط وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْکُمْ بِبَعِیْدٍ o}2
اے میری قوم! میری ضد تمہارے لیے اس کا باعث نہ ہو جائے کہ تم پر بھی اسی طرح کی مصیبتیں آپڑیں جیسی قومِ نوح یا قومِ ہود یا قومِ صالح پر پڑی تھیں، اور قومِ لوط تو (ابھی) تم سے (بہت) دور (زمانہ میں) نہیں ہوئی۔
حضرت عثمان نے حضرت عبد ا ﷲ بن سلام ؓ کے پاس آدمی بھیج کر پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے؟ انھوں نے جواب دیا: آپ اپنا ہاتھ (ان باغیوں سے) روک کر رکھیں، اس سے آپ کی دلیل زیادہ مضبوط ہوگی (قیامت کے دن)۔3
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ فرماتے ہیں: جن دنوں حضرت عثمان ؓ گھر میں محصور تھے، میں ان کی خدمت میں گیا اور میں نے ان سے کہا: آپ تمام لوگوں کے امام ہیں اور یہ مصیبت جو آپ پر آئی ہے وہ آپ دیکھ رہے ہیں۔ میں آپ کے سامنے تین تجویزیں پیش کرتا ہوں ان میں سے آپ جونسی چاہیں اختیار فرمالیں: یا تو آپ گھر سے باہر آکر باغیوں سے جنگ کریں، کیوںکہ آپ کے ساتھ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد اور بہت زیادہ قوت ہے اور پھر آپ حق پر ہیں اور یہ باغی لوگ باطل پر ہیں۔ یا آپ اپنے اس گھر سے باہر نکلنے کے لیے پیچھے کی طرف ایک نیا دروازہ کھول لیں، کیوںکہ پرانے دروازے پر تو یہ باغی لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور اس نئے دروازے سے (چپکے سے) باہر نکل کر اپنی سواری پر بیٹھ کر مکہ چلے جائیں کیوںکہ یہ باغی لوگ مکہ میں آپ کا خون بہانا حلال نہ سمجھیں گے۔ یا پھرآپ ملکِ شام چلے جائیں وہاں شام والے بھی ہیں اور حضرت معاویہؓ بھی ہیں۔ حضرت عثمان نے (ایک بھی تجویز قبول نہ فرمائی اور) فرمایا: میں گھر سے باہر نکل کر ان باغیوں سے جنگ کروں یہ نہیں ہو سکتا۔ میں نہیں چاہتا کہ حضورﷺ کے بعد آپ کی اُمت میں سب سے پہلے (مسلمانوں کا) خون بہانے والا میں بنوں۔ باقی رہی یہ تجویز کہ میں مکہ چلا جاؤں وہاں یہ باغی میرا خون بہانا حلال نہیں سمجھیں گے تو میں اسے بھی اختیار نہیں کر سکتا، کیوںکہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قریش کا ایک آدمی مکہ میں بے دینی کے پھیلنے کا ذریعہ بنے گا اس لیے اس پر ساری دنیا کا آدھا عذاب ہوگا، میں نہیں چاہتا کہ میں وہ آدمی بنوں۔ اور تیسری تجویز کہ میں ملکِ شام چلا جاؤں وہاں شام والے بھی ہیں اور حضرت معاویہ بھی ہیں، سو میں اپنے دارِ ہجرت اور حضورﷺ کے پڑوس کو ہرگز نہیں چھوڑ سکتا۔1
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: جب حضرت عثمان ؓ گھر میں محصور تھے، میں ان کی خدمت میں گیا اور عرض کیا: اے امیر المؤمنین! اب تو آپ کے لیے ان باغیوں سے جنگ کرنا بالکل حلال ہو چکا ہے (لہٰذا آپ ان سے جنگ کریں اور انھیں بھگا دیں)۔ حضرت عثمان نے فرمایا: کیا تمھیں اس بات سے خوشی ہو سکتی ہے کہ تم تمام لوگوں کو قتل کر دو اور مجھے بھی؟ میں نے کہا: نہیں۔ فرمایا: اگر تم ایک آدمی کو قتل کرو گے تو گویا کہ تم نے تمام لوگوں کو قتل کردیا۔ (جیسا کہ سورۂ مائدہ آیت ۳۲ میں اس کا تذکرہ ہے) یہ سن کر میں واپس آگیا اور جنگ کا ارادہ چھوڑ دیا۔1
حضرت عبد اﷲ بن زبیرؓ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عثمانؓ کی خدمت میں عرض کیا: اے امیر المؤمنین! آپ کے ساتھ اس گھر میں ایسی جماعت ہے جو (اپنی صفات کے اعتبار سے) اﷲ کی مدد کی ہر طرح حق دار ہے ان سے کم تعداد پر اﷲ تعالیٰ مدد فرما دیا کرتے ہیں۔ آپ مجھے اجازت دے دیں تاکہ میں ان سے جنگ کروں۔ حضرت عثمان نے فرمایا: میں اﷲ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کوئی آدمی میری وجہ سے نہ اپنا خون بہائے اور نہ کسی اور کا۔2
ابنِ سعد کی ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت عبد اﷲ بن زبیرؓ فرماتے ہیں: جس وقت حضرت عثمان ؓ اپنے گھر میں محصور تھے اس وقت میں نے ان سے کہا: آپ ان باغیوں سے جنگ کریں۔ اﷲ کی قسم! اﷲ تعالیٰ نے ان سے جنگ کرنا آپ کے لیے حلال کردیا ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! نہیں۔ میں ان سے کبھی جنگ نہیں کروں گا۔ آگے اور حدیث ذکر کی ہے۔
حضرت عبد اﷲ بن عامرؓ فرماتے ہیں: محاصرہ کے زمانے میں حضرت عثمان نے فرمایا: تم میں سے میرے سب سے زیادہ کام آنے والا وہ آدمی ہے جو اپنے ہاتھ اور ہتھیار کو روک لے (اور باغیوں پر ہاتھ نہ اُٹھائے)۔3
حضرت ابنِ سیرین ؓ کہتے ہیں: حضرت زید بن ثابتؓ نے حضرت عثمان غنی ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یہ انصار دروازے پر حاضر ہیں اور کہہ رہے ہیں اگر آپ فرما دیں تو ہم دو مرتبہ اﷲ کے انصار بن کر دکھا دیں۔ (ایک مرتبہ تو جب حضورﷺ نے مدینہ ہجرت فرمائی تھی، دوسری مرتبہ آج ان باغیوں سے جنگ کر کے) حضرت عثمان نے فرمایا: لڑنا تو بالکل نہیں ہے۔4
حضرت ابنِ سیرین ؓ کہتے ہیں: محاصرہ کے زمانہ میں حضرت عثمان ؓ کے ساتھ ان کے گھر میں ایسے سات سو حضرات تھے کہ اگر حضرت عثمان ان کو اجازت دے دیتے تو وہ حضرات مار مار کر باغیوںکو مدینہ سے باہر نکال دیتے۔ ان حضرات میں حضرت ابنِ عمر، حضرت حسن بن علی اور حضرت عبد اﷲ بن زبیرؓ بھی تھے۔1
حضرت عبد اﷲ بن ساعدہؓ فرماتے ہیں: حضرت سعید بن عاصؓ نے حضرت عثمانؓ کی خدمت میں آکر عرض کیا: اے امیر المؤمنین! آپ کب تک ہمارے ہاتھوں کو روکے رکھیں گے؟ ہمیں تو یہ باغی لوگ کھا گئے۔ کوئی ہم پر تیر چلاتا ہے، کوئی ہمیں پتھر مارتا ہے، کسی نے تلوار سونتی ہوئی ہے، لہٰذا آپ ہمیں (ان سے لڑنے کا) حکم دیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا: اﷲ کی قسم! میرا تو ان سے لڑنے کا بالکل ارادہ نہیں۔ اگر میں ان سے جنگ کروں تو میں یقینا ان سے محفوظ ہو جاؤں گا، لیکن میں انھیں بھی اور انھیں میرے خلاف جمع کر کے لانے والوں کو بھی اﷲ کے حوالے کرتا ہوں، کیوںکہ ہم سب کو اپنے ربّ کے پاس جمع ہونا ہے۔ تمھیں ان سے جنگ کرنے کا حکم میں کسی صورت میں نہیں دے سکتا۔ حضرت سعید نے کہا: اﷲ کی قسم! آپ کے بارے میں کبھی کسی سے نہیں پوچھوں گا (یعنی باغیوں سے جنگ کر کے میں شہید ہو جاؤں گا اور زندہ نہیں رہوں گا)۔ چناںچہ حضرت سعید نے باہر جا کر ان سے جنگ کی یہاں تک کہ ان کا سر زخمی ہوگیا۔2
حضرت عمر بن سعد ؓکہتے ہیں: حضرت سعد ؓ کے صاحب زادے حضرت عامر نے آکر حضرت سعد کی خدمت میں عرض کیا: اے ابا جان! لوگ تو دنیا پر لڑ رہے ہیں اور آپ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضرت سعد نے فرمایا: کیا تم مجھے یہ کہہ رہے ہو کہ میںاس فتنہ میں سردار بن جاؤں؟ نہیں، اﷲکی قسم! نہیں۔ میں اس جنگ میں شریک نہیں ہو سکتا، البتہ جنگ میں شریک ہونے کی صرف ایک صورت ہے کہ مجھے ایک ایسی تلوار مل جائے کہ میں اگروہ تلوار کسی مؤمن کو ماروں تو اس سے اُچٹ جائے اور اسے زخمی نہ کرے، اور اگر کسی کافر کو ماروں تو اسے قتل کر دے۔ (ایسی تلوار چوںکہ میرے پاس ہے نہیں، اس لیے میں چھپ کر بیٹھا ہوا ہوں کیوںکہ) میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس مال دار کو پسند فرماتے ہیں جو کہ چھپا ہوا ہو اور تقویٰ والا ہو۔1
حضرت ابنِ سیرین ؓ کہتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے کہا: آپ اہلِ شورٰی میں سے ہیں اور اس امرِ (خلافت) کے دوسروں سے زیادہ حق دار ہیں، تو آ پ کیوںنہیں جنگ کرتے ہیں؟ انھوں نے فرمایا: میں صرف اس صورت میں جنگ کر سکتا ہوں جب کہ لوگ مجھے ایسی تلوار لا کر دیں جس کی دو آنکھیں، ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں، اور وہ تلوار مؤمن اور کافر کو پہچانتی ہو (اور کافر کو تو مارتی ہو لیکن مؤمن پر اثر نہ کرتی ہو)۔ میں نے خوب جہاد کیا (جب کہ کافروں کے خلاف تھا اور بالکل صحیح طریقہ پر تھا، آج تو مسلمانوں سے لڑا جا رہا ہے اور وہ بھی طلبِ دنیا کے لیے) اور میں خوب اچھی طرح جہاد کو جانتا ہوں۔2
حضرت اُسامہ بن زید ؓ نے جن کا پیٹ بڑھ گیا تھا فرمایا: میں اس آدمی سے کبھی جنگ نہیں کروں گا جو لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہتا ہو۔ حضرت سعد بن مالک ؓ نے فرمایا: میں بھی اﷲ کی قسم! اس آدمی سے کبھی جنگ نہیں کروں گا جو لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہتا ہو۔ اس پر ایک آدمی نے کہا: کیا اﷲ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا:
{وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ}3
اور تم ان کفارِ (عرب) سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فسادِعقیدہ (یعنی شرک) نہ رہے اور دین (خالص) اﷲہی کا ہو جائے۔
ان دونوں حضرات نے فرمایا: (ہم اس آیت پر عمل کر چکے ہیں) ہم نے جنگ کی تھی یہاں تک کہ فسادِ عقیدۂ شرک اور فتنہ کچھ باقی نہ رہا تھا، اور دین (خالص) اﷲ ہی کا ہوگیا تھا (ادیانِ باطلہ سارے ختم ہوگئے تھے، آج کی جنگ فتنہ ختم کرنے اور اللہ کے دین کے لیے نہیں ہے)۔1
حضرت نافع ؓ کہتے ہیں: حضرت ابنِ زبیرؓ کے محاصرہ کے زمانہ میں دو آدمیوں نے حضرت ابنِ عمرؓ کی خدمت میں آکر کہا: لوگ ضایع ہو رہے ہیں اور آپ حضرت عمر ؓ کے بیٹے اور حضورﷺ کے صحابی ہیں، آپ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں! آپ کو باہر نکل کر اس جنگ میں شرکت سے کون سی چیز مانع ہے؟ حضرت ابنِ عمر نے فرمایا: یہ بات مانع ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے میرے مسلمان بھائی کا خون حرام قرار دیا ہے۔ ان دونوں آدمیوں نے کہا: کیا اﷲ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: {وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ}؟ (ترجمہ گزر چکا ہے) حضرت ابنِ عمر نے فرمایا: ہم نے جنگ کی تھی یہاںتک کہ فتنہ وغیرہ کچھ باقی نہیں رہا تھا اور دین صرف اﷲ ہی کا ہو گیا تھا، اور تم لوگ اس لیے لڑ نا چاہتے ہو تاکہ فتنہ برپا ہو اور اﷲ کے علاوہ دوسروں کا دین چل پڑے۔2
حضرت نافع ؓ کہتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت ابنِ عمرؓ کی خدمت میں آکرکہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا بات ہے؟ آپ ایک سال حج کرتے ہیں اور ایک سال عمرہ، آپ نے جہاد فی سبیل اللہ چھوڑ دیا ہے حالاںکہ آپ جانتے ہیںکہ اﷲ تعالیٰ نے جہاد کی کتنی ترغیب دی ہے؟ حضرت ابنِ عمر نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہیں: اﷲ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانا، پانچ نمازیں پڑھنا، رمضان کے روزے رکھنا، زکوٰۃ ادا کرنا اور بیت اﷲ کا حج کرنا (اور میں یہ سارے کام کر رہا ہوں، میرا دین اسلام پورا قائم ہے)۔ اس آدمی نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا آپ نے اﷲ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں سنا جو قرآن میں ہے:
{وَإِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا … اِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ}3
اور اگر مسلمانوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان اصلاح کر دو، پھر اگر ان میں کا ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع ہو جائے۔
{وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ}1
تم ان کفارِ (عرب) سے اس حد تک لڑو کہ اس میں فسادِ عقیدہ (یعنی شرک) نہ رہے۔
آپ نے فرمایا: ہم نے حضورﷺ کے زمانہ میں اس آیت پر عمل کیا تھا۔ اسلام والے تھوڑے تھے اور ہر مسلمان کو دین کی وجہ سے بہت زیادہ مصیبتیں اٹھانی پڑتی تھی۔ کافر یا اسے قتل کر دیتے یا اسے طرح طرح کا عذاب دیتے۔ ہم لوگ جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ اسلام والے زیادہ ہوگئے اور فتنہ وفسا د یعنی شرک وکفر بالکل ختم ہوگیا۔ اس آدمی نے کہا: آپ حضرت عثمان، حضرت علیؓ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ (بظاہر یہ آ دمی خارجی تھا) انھوں نے فرمایا: حضرت عثمان (سے غزوۂ اُحد کے دن دیگر صحابہ کے ساتھ کچھ خطا ہوئی تھی، لیکن ان) کو اﷲ نے معاف فرما دیا جیسے کہ اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَلَـقَدْ عَـفَا عَنْـکُمْ}2 اور اﷲ نے ان کو جو معاف فرمایاہے تم اس کو برا سمجھتے ہو۔
حضرت علی تو حضورﷺ کے چچازاد بھائی اور ان کے داماد ہیں اور پھر ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا: اور یہ دیکھو! حضورﷺ کے گھروں کے بیچ میں حضرت علی کا گھر ہے (یعنی حضرت علی رشتے میں بھی حضورﷺ سے قریب تھے اور ان کا گھر بھی حضورﷺ کے گھر سے قریب تھا)۔3
حضرت نافع ؓکہتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت ابنِ عمر ؓ کی خدمت میں آکر کہا: اے ابو عبد الرحمن! اﷲ تعالیٰ نے قرآن میں جو فرمایا ہے وہ آپ نے نہیں سنا: {وَاِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا} تو جیسے اﷲفرما رہے ہیں آپ جنگ کیوں نہیں کرتے ہیں؟ حضرت ابنِ عمر نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں (مسلمانوں سے) جنگ نہ کروں اور یہ گزشتہ آیت سنا کر مجھے قرآن پر عمل نہ کرنے کی عار دلا ئی جائے، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں مسلمانوں سے جنگ کرکے انھیں قتل کروں اور مجھے دوسری آیت پر عمل نہ کرنے کی عار دلائی جائے۔ اور وہ دوسری آیت یہ ہے:
{وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا} 1 آخر آیت تک ۔
اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کر ڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ کو اس میں رہے گا اور اس پر اﷲ تعالیٰ غضبناک ہوں گے اور اس کو اپنی رحمت سے دور کریں گے اور اس کے لیے بڑی سزا کا سامان کریں گے۔
اس آدمی نے کہا: اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ}۔حضرت ابنِ عمر نے فرمایا: ہم اس آیت پر عمل کر چکے ہیں۔ اور پھر آگے پچھلی حدیث جیسی حدیث ذکر کی۔2
حضرت سعید بن جبیر ؓ کہتے ہیں: پھر حضرت ابنِ عمرؓ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ فتنہ کسے کہتے ہیں؟ حضورﷺ مشرکوں سے جنگ کرتے تھے اور ان مشرکوں سے لڑنے جانا بڑی سخت آزمایش کی چیز تھی اور وہ لڑائی تمہاری اس لڑائی کی طرح ملک حاصل کرنے کے لیے نہیں تھی۔3
حضرت ابو العالیہ براء ؓ کہتے ہیں: حضرت عبد اﷲ بن زبیر اور حضرت عبد اﷲ بن صفوان ؓ ایک دن حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضرت ابنِ عمرؓ بیت اﷲ کا طواف کرتے ہوئے ان دونوں حضرات کے پاس سے گزرے۔ ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: آپ کا کیا خیال ہے کیا روئے زمین پر ان سے زیادہ بہتر آدمی باقی رہ گیا ہے؟ پھر انھوں نے ایک آدمی سے کہا: جب یہ اپنا طواف ختم کر لیں تو انھیں ہمارے پاس بلا لاؤ۔ جب ان کا طواف پورا ہو گیا اور انھوں نے (طواف کے) دو رکعت نفل پڑھ لیے تو ان حضرات کے قاصد نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ حضرت عبد اﷲ بن زبیر اور حضرت عبد اﷲ بن صفوا ن آپ کو بلا رہے ہیں۔ وہ ان دونوں حضرات کے پاس آئے تو حضرت عبد اﷲ بن صفوان نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! امیر المؤمنین حضرت ابنِ زبیر سے بیعت ہونے سے آپ کو کون سی چیز روک رہی ہے؟ کیوںکہ مکہ، مدینہ، یمن اور عراق والے سب اور اکثر اہلِ شام ان سے بیعت ہو چکے ہیں۔ حضرت ابنِ عمر نے فرمایا: اللہ کی قسم! جب تک تم لوگوں نے تلواریں اپنے کندھوں پر رکھی ہوئی ہیں اور تمہارے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اس وقت تک میں تم سے بیعت نہیں ہوسکتا۔1
حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں: جب لوگ فتنہ میں پریشان ہو گئے تو انھوں نے حضرت عبد اﷲ بن عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: آپ لوگوں کے سردار ہیں اور سردار کے بیٹے ہیں اور تمام لوگ آپ پر راضی ہیں، آپ باہر تشریف لائیں ہم آپ سے بیعت ہونا چاہتے ہیں۔ حضرت ابنِ عمر نے فرمایا: ہرگز نہیں۔ اﷲ کی قسم! جب تک میری جان میں جان ہے، اس وقت تک میں اپنی وجہ سے ایک سینگی بھر خون نہیں بہنے دوں گا۔ پھر کچھ لوگوں نے آکر حضرت ابنِ عمر کو ڈرایا اور یوں کہا: یا تو آپ باہر تشریف لے چلیں ورنہ اسی بستر پر آپ کو قتل کر دیا جائے گا۔ تو انھوں نے اس کا کچھ اثر نہ لیا اور وہی پہلا جواب دیا اور باہر آنے سے انکار کر دیا۔ حضرت حسن کہتے ہیں: اﷲ کی قسم! لوگ ان کی وفات تک انھیں بیعت کرنے پر بالکل آمادہ نہ کر سکے۔2
حضرت خالد بن سُمَیر ؓکہتے ہیں: لوگوں نے ابنِ عمرؓ سے کہا: کیا ہی اچھا ہو اگر آپ لوگوں کے امرِخلافت کو سنبھال لیں، کیوںکہ تمام لوگ آپ (کے خلیفہ بننے) پر راضی ہیں۔ حضرت ابنِ عمر نے فرمایا: ذرا یہ بتائیں کہ مشرق میں کسی ایک آدمی نے میرے خلیفہ بننے کی مخالفت کی تو؟ انھوں نے کہا: اگر ایک آدمی نے مخالفت کی تو اسے قتل کر دیا جائے گا اور اُمت کے معاملے کو سدھارنے کے لیے ایک آدمی کو قتل کرنا پڑے تو یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے۔ انھوں نے فرمایا: میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ حضرت محمدﷺ کی اُمت نیزے کا دستہ پکڑے اور میں اس نیزے کا بھالا پکڑوں اور پھر ایک مسلمان کو قتل کیا جائے اور اس کے بدلے مجھے دنیا ومافیہا مل جائے۔3
حضرت قطن ؓ کہتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت ابنِ عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: حضرت محمدﷺ کی اُمت کے لیے آپ سے زیادہ کوئی برا نہیں ہے۔ انھوں نے فرمایا: کیوں؟ اﷲ کی قسم! میں نے نہ تو ان کا خون بہایا ہے اور نہ ان میں پھوٹ ڈالی ہے اور نہ ان کی جماعت سے علیحدگی اختیار کی ہے۔ اس آدمی نے کہا: اگر آپ (خلیفہ بننا) چاہیں تو آپ کے بارے میں دو آدمی بھی اختلاف نہ کریں گے۔ انھوں نے فرمایا: مجھے تو یہ بھی پسند نہیں ہے کہ مجھے خلافت خود بخود ملے اور ایک آدمی کہے نہیں اور دوسرا کہے ہاں (یعنی اگر ایک آدمی بھی اختلاف کرے تو مجھے منظور نہیں ہے)۔1
حضرت قاسم بن عبد الرحمن ؓ کہتے ہیں: لوگوں نے پہلے فتنہ (جو کہ حضرت علی اور حضرت معاویہؓ کے درمیان واقع ہوا تھا) کے زمانے میں حضرت ابنِ عمرؓ سے کہا: کیا آپ باہر آکر جنگ میں حصہ نہیںلیتے؟ فرمایا: میں نے اس وقت جنگ کی تھی جب کہ بت حجرِ اسود اور بیت اﷲکے دروازے کے درمیان رکھے ہوئے تھے، یہاںتک کہ اﷲ تعالیٰ نے بتوں کو سرزمینِ عرب سے نکال دیا۔ اب میں اس بات کو بہت برا سمجھتا ہوں کہ میں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہنے والوں سے جنگ کروں۔ ان لوگوں نے کہا: اﷲ کی قسم! آپ کے دل میں یہ رائے نہیں ہے (صرف کہنے کو ہے) بلکہ آپ یہ چاہتے ہیں کہ حضورﷺ کے صحابہ ایک دوسرے کو ختم کر دیں، پھر آپ کے علاوہ جب اور کوئی بچے گا نہیں تو لوگ خود ہی کہنے لگیں گے: امیر المؤمنین بنانے کے لیے عبد اﷲ بن عمر سے بیعت ہو جاؤ۔ انھوں نے فرمایا: اﷲ کی قسم! یہ بات بالکل میرے دل میں نہیں ہے، بلکہ میرے دل میں یہ ہے کہ جب تم لوگ کہو گے آؤ نماز کی طرف تو میں تمہاری بات مانوں گا، اور جب تم کہو گے آؤ کامیابی کی طرف تو میں تمہاری مانوں گا، اور جب تم الگ الگ ہو جاؤ گے تو میں تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا، اور جب تم اکٹھے ہو جاؤ گے تو میں تم سے الگ نہیں ہوں گا۔2
حضرت نافع ؓ کہتے ہیں: جن دنوں حضرت ابنِ زبیرؓ کی طرف سے خلافت کے لیے کوشش چل رہی تھی اور خوارج اور (شیعوں کے) فرقہ خشَبِیّہ کا زور تھا، ان دنوں کسی نے حضرت ابنِ عمرؓ سے کہا: آپ ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیتے ہیں اور ان کے ساتھ بھی، حالاںکہ یہ تو ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ انھوں نے فرمایا: جو کہے گا: آؤ نماز کی طرف میں اس کی بات مان لوں گا، اور جو کہے گا: آؤ کامیابی کی طرف میں اس کی بات مان لوں گا، اور جو کہے گا: آؤ اپنے مسلمان بھائی کو قتل کر کے اس کا مال لینے کی طرف میں کہہ دوں گا میں نہیںآتا۔1
حضرت ابو الغریف ؓ کہتے ہیں: ہم لوگ حضرت حسن بن علیؓ کے مقدّمۃ الجیش میں بارہ ہزار آدمی تھے۔ اہلِ شام سے جنگ کرنے کا اتنا زیادہ جذبہ تھا کہ لگتا تھا کہ ہماری تلواروں سے خون ٹپکنے لگ جائے گا (یا غصہ کی وجہ سے ہماری تلواریں گر جائیں گی)۔ ہمارے لشکر کے امیر ابو ا لعمر طٰہٰ تھے۔ جب ہمیں خبر ملی کہ حضرت حسن اور حضرت معاویہؓ میں صلح ہوگئی ہے تو غصہ کے مارے ہماری کمر ٹوٹ گئی۔ جب حضرت حسن بن علی کوفہ آئے تو ابو عامر سفیان بن لیل نامی آدمی نے کھڑے ہو کر ان سے کہا: السلام علیک اے مسلمانوں کو ذلیل کرنے والے! حضرت حسن نے فرمایا: اے ابو عامر! یہ نہ کہو، میںنے مسلمانوں کو ذلیل نہیں کیا، بلکہ میں طلبِ ملک کی وجہ سے مسلمانوں کو قتل کرنا پسند نہیں کرتا۔2
حضرت شعبی ؓ کہتے ہیں: جب حضرت حسن بن علی اور حضرت معاویہ ؓ میں صلح ہوگئی تو حضرت معاویہ نے حضرت حسن سے کہا: آپ کھڑے ہو کر لوگوں میں بیان کریں اور اپنا موقف انھیں بتائیں۔ چناںچہ حضرت حسن نے کھڑے ہو کر بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا:
تمام تعریفیں اس اﷲ کے لیے ہیں جس نے ہمارے (بڑوں کے) ذریعہ سے تمہارے پہلے لوگوں کو ہدایت نصیب فرمائی اور ہمارے ذریعہ سے تمہارے بعد والوں کے خون کی حفاظت فرمائی۔ غور سے سنو! سب سے زیادہ عقل مند وہ ہے جو تقویٰ اختیار کرے، اور سب سے زیادہ عاجز وہ ہے جو فسق وفجور میں مبتلا رہے۔ امرِ خلافت میں میرا اور حضرت معاویہ کا اختلاف ہوا تھا، اب یا تو حضرت معاویہ خلافت کے مجھ سے زیادہ حق دار تھے یا واقعی میرا حق بنتا تھا۔ بہرحال جو بھی صورت تھی ہم نے اپنا حق اﷲ کے لیے چھوڑ دیا ہے تاکہ حضرت محمدﷺ کی اُمت کا کام ٹھیک رہے اور ان کے خون محفوظ رہیں۔
پھر حضرت حسن ؓ نے حضرت معاویہ ؓ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
{وَاِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّہٗ فِتْنَۃٌ لَّـکُمْ وَمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ o}1
اور میں (بالتعیین) نہیں جانتا (کہ کیا مصلحت ہے ؟) شاید وہ (تاخیرِ عذاب) تمہارے لیے (صورتاً) امتحان ہو اور ایک وقت (یعنی موت) تک (زندگی سے) فائدہ پہنچانا ہو۔
(قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی) پھر آپ نیچے اُتر آئے تو حضرت عمرو ؓ نے حضرت معاویہ سے کہا: تم یہی چاہتے تھے (کہ حضرت حسن دست برداری کا اعلان کر دیں اور وہ انھوں نے کر دیا)۔2
حضرت جُبَیر بن نُفَیر ؓ فرماتے ہیں: میں نے حضرت حسن بن علی ؓ سے کہاکہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ خلیفہ بننا چاہتے ہیں۔ حضرت حسن نے فرمایا: عرب کے بڑے سردار میرے ہاتھ میں تھے، جس سے میں جنگ کرتا تھا وہ اس سے جنگ کرتے تھے اور میں جس سے صلح کرتا تھا وہ اس سے صلح کرتے تھے، لیکن میں نے خلافت کو چھوڑ دیا تاکہ اللہ تعالیٰ خوش ہو جائیں اور حضرت محمدﷺ کی اُمت کے خون کی حفاظت ہوجائے۔ تو کیا میں اہلِ حجاز کے مینڈھوں یا کمزور لوگوں کے ذریعہ خلافت کو زبر دستی چھیننے کا اب ارادہ کر سکتا ہوں؟ (جب میرے ساتھ بڑے اور طاقت ور لوگ تھے اس وقت تو میں خلافت سے دست بردار ہوگیا، اب تو میرے ساتھ کمزور لوگ ہیں اب خلافت لینے کا ارادہ کیسے کر سکتا ہوں)۔3
حضرت عامر شعبی ؓ کہتے ہیں: جب مروان کی ضحّاک بن قیس سے جنگ ہوئی تو مروان نے حضرت ایمن بن خریم اسدیؓ کو آدمی بھیج کر بلایا اور کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ مل کر جنگ کریں۔ حضرت ایمن نے فرمایا: میرے والد اور میرے چچا جنگِ بدر میں شریک ہوئے تھے، دونوں نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ جو آدمی لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی گواہی دے میں اس سے جنگ نہ کروں۔ اگر تم (جنگ کرنے پر) آگ سے چھٹکارے کا پروانہ لادو تو میں تمہارے ساتھ مل کر جنگ کر سکتا ہوں۔ مروان نے کہا: آپ دور ہو جاؤ۔ اور انھیں برا بھلا بھی کہا۔ اس پر حضرت اَیمن نے یہ اَشعار پڑھے:
وَلَسْتُ مُقَاِتلاً رَجُلًا یُصَلِّيْ
عَلٰی سُلْطَانٍ اٰخَرَ مِنْ قُرَیْشٖ
کسی دوسرے قریشی کے حکومت حاصل کرنے کے لیے میں اس آدمی سے جنگ نہیں کر سکتا جو نماز پڑھتا ہو۔
أُقَاتِلُ مُسْلِمًا فِيْ غَیْرِ شَيْئٍ
فَلَیْسَ بِنَافِعِيْ مَا عِشْتُ عَیْشِيْ
میںبغیر کسی بات کے مسلمان سے جنگ کروں اس سے مجھے زندگی بھر کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔
لَہٗ سُلْطَانُہٗ وَعَلَيَّ إِثْمِيْ
مَعَاذَ اللّٰہِ مِنْ جَھْلٍ وَطَیْشٖ
میری جنگ سے اس بادشاہ کی سلطنت مضبوط ہو اور مجھے گناہ ہو، ایسی جہالت اور غصے سے ا للہ کی پناہ!1
حضرت ابنِ حکم بن عمرو غِفاری ؓکہتے ہیں: میرے دادا نے مجھ سے بیان کیا کہ میں حضرت حکم بن عمرو ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ان کے پاس حضرت علی بن ابی طالبؓ کاقاصد آیا اور اس نے کہا: اس امرِ خلافت کے معاملہ میں آپ ہماری مدد کرنے کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔ حضرت حکم نے کہا: میں نے اپنے خاص دوست آپ کے چچازاد بھائی حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب حالات ایسے ہو جائیں (یعنی خلافت پرمسلمان آپس میں لڑ پڑیں) تو اس وقت لکڑی کی تلوار بنا لینا (یعنی لڑائی میں حصہ نہ لینا)۔ چناںچہ میں نے لکڑی کی تلوار بنالی ہے۔2
حضرت ابو الاشعث صنعانی ؓ کہتے ہیں: مجھے یزید بن معاویہ نے حضرت عبد اللہ بن ابی اَوفیٰؓ کے پاس بھیجا۔ ان کے پاس حضورﷺ کے بہت سے صحابہ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا: آپ لو گ اس وقت لوگوں کو کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ حضرت ابنِ ابی اوفیٰ نے فرمایا: حضرت ابو القاسمﷺ نے مجھے یہ وصیت فرمائی تھی کہ اگر میں (مسلمانوں میں آپس میں لڑنے کے) ایسے حالات کچھ بھی پاؤں تو میں اُحد پہاڑ پر جا کر اپنی تلوار توڑ دوں اور اپنے گھر بیٹھ جاؤں۔ میں نے عرض کیا: اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے (تو کہاں جاؤں؟) آپ نے فرمایا: اندر والی کوٹھری میں جا کر بیٹھ جانا۔ اگر وہاں بھی (تمھیں قتل کرنے) کوئی تمہارے پاس آجائے تو پھر اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جانا (قتل ہونے کے لیے تیار ہو جانا) اور اسے کہنا (مجھے قتل کر کے) اپنا گناہ اور میرا گناہ اپنے سر لے لے اور دوزخیوں میں شامل ہوجا اور ظالموں کی یہی سزا ہے، لہٰذا میں اپنی تلوار توڑ چکا ہوں (اور گھر میں بیٹھ چکا ہوں)۔ جب کوئی میرے گھر میں گھس آئے گا تو میں اپنی اندر والی کوٹھڑی میں چلا جاؤں گا، اور جب وہاں بھی کوئی آجائے گا تو میں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر وہی کہہ دوں گا جو حضورﷺ نے بتایا تھا۔1
حضرت محمد بن مسلمہؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: جب تم دیکھو کہ لوگ دنیا پر لڑ رہے ہیں تو تم اپنی تلوار لے کر پتھریلے میدان میں چلے جانا اور وہاں سب سے بڑی چٹان پر اپنی تلوار مار مار کر توڑ دینا، پھر اپنے گھر آکر بیٹھ جانا یہاں تک کہ اب تو (ناحق قتل کرنے والا) خطا کار ہاتھ تمھیں قتل کر دے یا طبعی موت تمہارا فیصلہ کر دے۔ حضورﷺ نے مجھے جس بات کا حکم دیا تھا وہ میں کر چکا ہوں ۔2
حضرت محمد بن مسلمہؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے مجھے ایک تلوار عنایت فرمائی اور ارشاد فرمایا: اے محمد بن مسلمہ! اس تلوار کو لے کر اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے رہو، اور جب تم دیکھو کہ مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑنے لگی ہیں تو یہ تلوار پتھر پر مار کر توڑ دینا، اور پھر اپنی زبان اور ہاتھ کو روکے رکھنا یہاں تک کہ یا تو موت آکر فیصلہ کر دے یا خطاکار ہاتھ تمھیں قتل کر دے ۔ چناںچہ جب حضرت عثمان ؓ شہید کر دیے گئے اور لوگوں میں آپس میں لڑائی شروع ہوگئی تو حضرت محمد بن مسلمہ اپنے گھر کے صحن میں رکھی ہوئی چٹان کے پاس گئے اور اس پر مار کر وہ تلوار توڑ دی۔3
حضرت رِبعی ؓ کہتے ہیں: میں نے حضرت حذیفہؓ کے جنازے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اس چارپائی والے سے (یعنی حضرت حذیفہ ؓ سے سنا ہے کہ فرما رہے تھے کہ میں نے حضورﷺ سے یہ حدیث سنی ہے اور اس سننے میں مجھے کوئی شک یا تردّد نہیں ہے۔ اب اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے گھر کے اندر چلا جاؤں گا، پھر اگر میرے گھر کے اندر کوئی میرے پاس آگیا تو میں اس سے کہوں گا: لے (مجھے قتل کرلے اور) میرا اور اپنا گناہ اپنے سر پر رکھ لے۔1
حضرت وائل بن حُجرؓ فرماتے ہیں: ہمیں حضورﷺ کے مدینہ ہجرت فرمانے کی خبر پہنچی تو میں اپنی قوم کا نمایندہ بن کر چلا یہاں تک کہ میں مدینہ پہنچ گیا۔ اور حضورﷺ کی ملاقات سے پہلے آپ کے صحابہ سے میری ملاقات ہوئی اور انھوں نے مجھے بتایا کہ تمہارے آنے سے تین دن پہلے حضورﷺ نے ہمیں تمہاری بشارت دی تھی اور فرمایا تھا کہ تمہارے پاس وائل بن حُجر آرہے ہیں۔ پھر آپ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے مجھے خوش آمدید کہا اور مجھے اپنے قریب جگہ دی اور اپنی چادر بچھا کر مجھے اس پر بٹھایا اورپھر لوگوں کو بلایا۔ چناںچہ سب لوگ جمع ہو گئے پھر حضور ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور مجھے اپنے ساتھ منبر پر لے گئے، میں منبر پر آپ سے نیچے تھا۔ پھر آپ نے اللہ کی حمد وثنا بیان فرمائی اور فرمایا:
اے لوگو! یہ وائل بن حُجر ہیں، اور دور دراز کے علاقہ حَضْرَ مَوْت سے تمہارے پاس آئے ہیں۔ اپنی خوشی سے آئے ہیں کسی نے انھیں مجبو ر نہیں کیا ہے۔ اور وہاں شہزادوں میں سے یہی باقی رہ گئے ہیں۔ اے وائل بن حُجر! اللہ تم میں اور تمہاری اولاد میں برکت نصیب فرمائے۔
پھر حضورﷺ منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور مدینہ سے دور ایک جگہ مجھے ٹھہرایا اور حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ سے فرمایا کہ وہ مجھے ساتھ لے جاکر اس جگہ ٹھہرا دیں۔ چناںچہ میں (مسجد سے) چلا اور حضرت معاویہ بھی میرے ساتھ چلے۔ راستہ میں حضرت معاویہ نے کہا: اے وائل! اس گرم زمین نے میرے پاؤں کے تلوے جلا دیے مجھے اپنے پیچھے بٹھالو۔ میں نے کہا: میں تمھیں اس اونٹنی پر بٹھانے میں بخل نہ کرتا، لیکن تم شہزادے نہیں ہو اس لیے تمھیں ساتھ بٹھانے پر لوگ مجھے طعنہ دیں گے (کہ کیا معمولی آدمی کو ساتھ بٹھا رکھا ہے) اور یہ مجھے پسند نہیں ہے۔ پھر حضرت معاویہ نے کہا: اچھا اپنی جوتی اُتار کر مجھے دے دو، اسے پہن کر ہی میں سورج کی گرمی سے خود کو بچا لوں۔ میں نے کہا: یہ دوچمڑے تمھیں دینے میں میں بخل نہ کرتا، لیکن تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو بادشاہوں کا لباس پہنتے ہوں، اس لیے جوتی دینے پر لوگ مجھے طعنہ دیں گے اور یہ مجھے پسند نہیں ہے۔
آگے اور حدیث ذکر کی ہے اس کے بعد یہ ہے کہ جب حضر ت معاویہ بادشاہ بن گئے تو انھوں نے قریش کے بُسر بن اَرطاۃ ؓکو بھیجا اور ان سے کہا: میں نے اس علاقے والوں کو تو اپنے ساتھ اکٹھا کر لیا ہے (اور یہ سب تو مجھ سے بیعت ہوگئے ہیں) تم اپنا لشکر لے کر چلو۔ جب تم حدودِ شام سے آگے چلے جاؤ تو اپنی تلوا ر سونت لینا اور جو میری بیعت سے انکار کرے اسے قتل کر دینا، اوریوں مدینہ چلے جانا اور مدینہ والوں میں سے جو بھی میری بیعت سے انکار کرے اسے قتل کر دینا، اگر تمھیں حضرت وائل بن حُجر زندہ ملیں تو انھیں میرے پاس لے آنا۔ چناںچہ حضر ت بسر نے ایسے ہی کیا اور وہ جب مجھ تک پہنچ گئے تو مجھے حضرت معاویہ کے پاس لے گئے۔ حضرت معاویہ نے میرے شایانِ شان استقبال کا حکم دیا اور مجھے اپنے دربار میں آنے کی اجازت دی اور مجھے اپنے ساتھ اپنے تخت پر بٹھایا اور مجھ سے کہا: کیا میرا یہ تخت بہتر ہے یا آپ کی اونٹنی کی پشت؟ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں کفر وجاہلیت چھوڑ کر نیا نیا اسلام میں داخل ہوا تھا اور جاہلیت والے طور طریقے ابھی ختم نہیں ہوئے تھے اور میں نے سواری پر بٹھانے سے اور جوتی دینے سے جو انکار کیا تھا یہ سب جاہلیت کا اثر تھا۔ اللہ نے ہمارے پاس کامل اسلام بھیجا ہے۔ اس اسلام نے ان تمام کاموں پر پردہ ڈال دیا ہے جو میں نے کیے ہیں۔ حضرت معاویہ نے کہا: ہماری مدد کرنے سے آپ کو کون سی چیز روکتی ہے حالاںکہ حضرت عثمانؓ نے آپ پر بہت اعتماد کیا تھا اور آپ کو اپنا داماد بنایا تھا؟ میں نے کہا: (میں اس وجہ سے آپ کی مدد نہیں کر رہا ہوں) کیوںکہ آپ نے اس شخصیت سے جنگ کی ہے جو آپ سے زیادہ حضرت عثمان کے حق دار ہیں۔ حضرت معاویہ نے کہا: میں نسب میں حضرت عثمان سے زیادہ قریب ہوں، تو وہ حضرت عثمان کے مجھ سے زیادہ کیسے حق دار ہو سکتے ہیں؟ میں نے کہا: حضورﷺ نے حضرت علی اور حضرت عثمانؓ کے درمیان بھائی چارہ کرایا تھا (اور آپ ان کے چچازاد بھائی ہیں) اور بھائی چچازاد بھائی سے زیادہ حق دار ہوا کرتا ہے۔ اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ میں مہاجرین سے لڑنا نہیں چاہتا۔
حضرت معاویہ نے کہا: کیا ہم مہاجرین نہیں ہیں؟ میں نے کہا: ضرور ہیں، لیکن کیا ہم دونوں جماعتوں سے الگ نہیں ہیں؟ اور ایک دلیل یہ ہے کہ ایک دفعہ حضورﷺ کی خدمت میں میں حاضر تھا اور بہت سے لوگ بھی وہاں تھے۔ حضورﷺ نے مشرق کی طرف سر اٹھا رکھا تھا (اور نگاہ بھی مشرق کی طرف تھی۔ حضور ﷺ نے ہمیں دیکھا) پھر اپنی نگاہ مشرق کی طرف لے گئے اور آپ نے فرمایا: اندھیری سیاہ رات کے ٹکڑوں جیسے فتنے تمہارے اوپر آئیں گے۔ پھر آپ نے بتایا کہ وہ فتنے بہت سخت ہوں گے اور وہ جلدی آنے والے ہیں اور وہ بہت برے ہوں گے۔ ان لوگوں میں سے میں نے حضورﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ فتنے کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: اے وائل! جب مسلمانوں میںدو تلواریں ٹکرانے لگیں (مسلمانوں کی دوجماعتیں آپس میں لڑ پڑیں) تو تم ان دونوں سے الگ رہنا۔ حضرت معاویہ نے کہا: کیا آپ شیعہ ہوگئے ہو؟ (یعنی حضرت علی کی طرف دار اور مددگار ہوگئے ہو؟) میں نے کہا: نہیں، میں تو تمام مسلمانوں کا بھلا چاہتا ہوں۔
حضرت معاویہ نے کہا: اگر میں نے آپ کی یہ باتیں پہلے سنی ہوتیں اور مجھے معلوم ہوتیں تو میں آپ کو یہاں نہ بلواتا۔ میں نے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ حضرت عثمان ؓ کی شہادت پر حضرت محمد بن مَسْلَمہ نے کیا کیا تھا؟ انھوں نے چٹان پرمار مار کر اپنی تلوار توڑ دی تھی۔ حضرت معاویہ نے کہا: یہ انصار تو ہیں ہی ایسے لوگ کہ ان کی ایسی باتیں برداشت کرلی جائیں گی۔ میں نے کہا: حضورﷺ کے اس فرمان کا ہم کیا کریں کہ جس نے انصار سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی، اور جس نے انصار سے بغض رکھا اس نے میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا۔ پھر حضرت معاویہ نے کہا: آپ جونسا شہر چاہو اپنے لیے پسند کرلیں، کیوںکہ اب آپ حضرموت واپس نہیں جا سکتے ہیں۔ میں نے کہا: میرا قبیلہ ملکِ شام میں ہے اور میرے گھر والے کوفہ میںہیں۔ حضرت معاویہ نے کہا: آپ کے گھر والوں میں سے ایک آدمی قبیلہ کے دس آدمیوں سے بہتر ہوگا (اس لیے آپ کوفہ چلے جائیں)۔ میں نے کہا: میں حضر موت واپس گیا تھا لیکن وہاں واپس جانے سے مجھے کوئی خوشی نہیںتھی، کیوںکہ انسان جہاں سے ہجرت کر کے چلا جائے اسے وہاں شدید مجبوری کے بغیر واپس نہیں جانا چاہیے۔
حضرت معاویہ نے کہا: آپ کو کیا مجبوری تھی؟ میں نے کہا: حضورﷺ نے فتنوں کے بارے میں جو فرمایا تھا جسے میں ابھی ذکر کر چکا ہوں اس کی وجہ سے حضر موت چلا گیا تھا۔ لہٰذا جب آپ لوگوں میں اختلا ف پیدا ہو جائے گا تو ہم آپ لوگوں سے علیحدگی اختیار کر لیں گے اور جب آپ لوگ اکٹھے ہو جائیں گے تو ہم آپ لوگوں کے پاس آجائیں گے۔ حضرت معاویہ نے کہا: میں نے آپ کو کوفہ کا گورنر بنا دیا آپ وہاں چلے جائیں۔ میں نے کہا: نبی کریمﷺ کے بعد کسی کی طرف سے ولایت قبول نہیں کر سکتا۔ کیا آپ نے دیکھا نہیںکہ حضرت ابو بکر نے مجھے گورنر بنانا چاہا تھا لیکن میں نے انکار کر دیا تھا، پھر حضرت عمر نے بنانا چاہا تھا لیکن میں نے انکار کر دیا تھا، پھر حضرت عثمان نے بنانا چاہا تھا لیکن میں نے انکار کر دیا تھا اور ان حضرات کی بیعت بھی میں نے نہیں چھوڑی تھی۔ جب ہمارے علاقے کے لوگ مرتد ہو گئے تھے تو حضرت ابو بکر کا میرے پاس خط آیا تھا جس کی وجہ سے میں محنت کرنے کھڑا ہوگیا تھا اور سارے علاقہ میں زور لگا یا اور گورنری کے بغیر ہی اﷲ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے تمام علاقہ والوں کو اسلام میں واپس فرما دیا تھا۔
پھر حضرت معاویہ نے حضرت عبد الرحمن بن اُمّ حکمؓ کو بلا کر کہا: تم کوفہ چلے جاؤ میں نے تمہیں وہاں کا گورنر بنا دیا ہے۔ اور حضرت وائل کو ساتھ لے جاؤ، ان کا اکرام کرنا اور ان کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنا۔ اس پر حضرت عبد الرحمن نے کہا: آپ نے میرے ساتھ بدگمانی سے کام لیا۔ آپ مجھے اس انسان کے اکرام کا حکم دے رہے ہیں جس کا اکرام کرتے ہوئے میں نے حضورﷺ، حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور خود آپ کو دیکھا ہے (لہٰذا آپ نہ بھی تاکید کریں تو بھی میں ان کا اکرام کروں گا)۔ ان کی اس بات سے حضرت معاویہ بہت خوش ہوئے۔ میں ان کے ساتھ کوفہ آیا۔ راوی کہتے ہیں: کوفہ آنے کے تھوڑے عرصہ بعد ہی حضرت وائل کا انتقال ہوگیا۔1
حضرت ابو مِنہال ؓ کہتے ہیں: جب ابنِ زیاد کو (بصرہ) سے نکال دیا گیا تو شام میں مروان خلافت کا دعویٰ لے کر کھڑا ہوگیا، اور مکہ مکرّمہ میں حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے خلافت کا دعویٰ کر دیا، اور بصرہ میں ان (خارجی) لوگوں نے خلافت کا دعو یٰ کر دیا جن کو قاری کہا جاتا تھا۔ اس سے میرے والد صاحب کو بہت زیادہ غم ہوا۔ انھوں نے مجھ سے کہا: تیرا باپ نہ رہے! آؤ حضورﷺ کے صحابی ابو برزہ اسلمی ؓ کے پاس چلتے ہیں۔ چناںچہ میں والد صاحب کے ساتھ گیا اور ہم لوگ حضرت ابو برزہ کی خدمت میں ان کے گھر حاضر ہوئے۔ وہ بانس کے بنے ہوئے بالاخانہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس دن سخت گرمی پڑ رہی تھی۔ ہم ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔ میرے والد ان سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے تاکہ وہ بھی اپنے دل کی باتیں کہنے لگیں۔ چناںچہ میرے والد عرض کرتے! اے ابو برزہ: کیا آپ نہیں دیکھ رہے (کہ لوگ یوں کر رہے ہیں؟) کیا آپ نہیں دیکھ رہے (کہ فلاں یہ کر رہا ہے)؟
حضرت ابو برزہ نے سب سے پہلے یہ بات کہی کہ آ ج صبح سے مجھے قریش کے خاندانوں پر غصہ آرہا ہے، اور مجھے اُمید ہے اس غصہ پر اللہ تعالیٰ مجھے ثواب عطا فرمائیں گے۔ اے چھوٹے عربوں کی جماعت! تم جانتے ہی ہو کہ زمانۂ جاہلیت میں تم لوگوں کی کیا حالت تھی۔ تعداد تھوڑی تھی، لوگوں کی نگاہ میں تمہاری کوئی عزّت نہیں تھی۔ اور تم لوگ گمراہ تھے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کے ذریعہ دینِ اسلام دے کر تم لوگوں کو بلند کر دیا اور آج دنیا میں تمہاری بہت عزّت ہے جیسے تم دیکھ رہے ہو، لیکن اب دنیا نے تمھیں بگاڑنا شروع کر دیا ہے۔ اور یہ جو ملکِ شام میں مروان ہے یہ بھی اﷲ کی قسم! صرف دنیا کے لیے لڑ رہا ہے، اور یہ جو مکہ میں ہے یعنی حضرت ابنِ زبیر یہ بھی اﷲ کی قسم! صرف دنیا کے لیے لڑ رہے ہیں، اور یہ لوگ جو تمہارے اردگرد ہیں جنھیں تم قاری کہتے ہو یہ بھی اﷲ کی قسم! صرف دنیا کے لیے لڑ رہے ہیں۔
جب انھوں نے کسی کو نہ چھوڑا تو ان سے میرے والد نے پوچھا: پھر ان حالات میں آپ ہمیں کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ انھوں نے کہا: میرے خیال میں آج لوگوں میں سب سے بہترین وہ جماعت ہے جس نے خود کو زمین سے چمٹا رکھا ہو (گوشۂ گمنامی اختیار کر لیا ہو)۔ یہ فرماتے ہوئے وہ ہاتھ سے زمین کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ ان کے پیٹ لوگوں کے مال سے بالکل خالی ہوں اور کسی کے خون کا ان کی کمر پر بوجھ نہ ہو۔1
حضرت شِمر بن عطیہ ؓ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ ؓ نے ایک آدمی سے کہا: کیا تمھیں اس بات سے خوشی ہوگی کہ تم سب سے بڑے بدکار آدمی کو قتل کر دو؟ اس نے کہا: ہاں ہوگی۔ حضرت حذیفہ نے کہا: (اسے قتل کر کے) تم اس سے زیادہ بڑے بدکار ہو جاؤ گے۔2