صحابہ کرام ؓ کا مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
مسلمانوں کے مال اور جان کا احترام کرنا
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کے زمانے میںایک آدمی قتل ہوگیا اور اس کے قاتل کا پتا نہ چلا۔ (یہ خبر سن کر) حضورﷺ اپنے منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! یہ کیا بات ہے؟ میں تم لوگوں میں موجود ہوں اور ایک آدمی قتل ہوگیا اور اس کے قاتل کا پتا نہیں چل رہا ہے۔ اگر تمام آسمان والے اور زمین والے مل کر ایک مسلمان کو قتل کر دیں تو بھی اﷲ تعالیٰ انھیں بے حد وحساب عذاب دے گا۔1
حضرت ابو سعید ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کے زمانے میںایک آدمی قتل ہوگیا۔ حضور ﷺ بیان کے لیے منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ نے تین مرتبہ پوچھا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ تم سب کی موجودگی میں کس نے اسے قتل کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میںمحمد کی جان ہے! اگر تمام آسمانوں والے اور تمام زمین والے مل کر ایک مؤمن کو قتل کر دیں تو بھی اﷲ تعالیٰ ان سب کو جہنم میں داخل کرے گا، اور ہم سے یعنی ہمارے گھر والوں سے جو بھی بغض رکھے گا اسے اﷲ تعالیٰ اوندھے منہ آگ میں داخل کرے گا۔2
حضرت اُسامہ بن زید ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے ہمیں قبیلہ جُہَیْنہ کی شاخ بنو حُرَقہ کی طرف بھیجا۔ ہم نے ان پر صبح صبح حملہ کیا۔ ان میں ایک آدمی ایسا تھا کہ جب وہ لوگ ہماری طرف بڑھتے تو وہ سب سے زیاد ہ سخت حملہ کرتا اور جب وہ پیچھے ہٹتے تو یہ ان کی حفاظت کرتا۔ میں نے اور ایک اور انصاری نے اسے گھیر لیا۔ جب وہ ہمارے قابو میں آگیا تو اس نے کہا: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ یہ سن کر انصاری تو رک گیا لیکن میں نے اسے قتل کر دیا۔ جب حضورﷺ کو اس واقعہ کی خبر ملی توآپ نے فرمایا: اے اُسامہ! کیا تم نے اسے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہنے کے بعد قتل کر دیا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! اس نے تو قتل سے بچنے کے لیے کہا تھا (مسلمان ہونے کے لیے نہیں کہا تھا)۔ لیکن حضورﷺ اپنے جملے کو بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ مجھے اس بات کی تمنا ہونے لگی کہ میں آج ہی مسلمان ہوتا ( اور مجھ سے یہ گناہ نہ ہی ہوتا)۔1
ابنِ اسحاق کی روایت میں یہ ہے کہ جب ہم لوگ حضورﷺ کی خدمت میں واپس پہنچے تو ہم نے آپ کو یہ بات بتائی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے اسامہ! جب تم سے اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کے بارے میں پوچھا جائے گا تو اس وقت کون تمہارا مددگار ہوگا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! اس نے تو یہ کلمہ صرف قتل سے بچنے کے لیے کہا تھا۔ آپ نے فرمایا: جب تم سے اس لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کے بارے میں پوچھا جائے گا تو اس وقت کون تمہارا مددگار ہوگا؟ اس ذات کی قسم جس نے حضورﷺ کو حق دے کر بھیجا! حضورﷺ نے اس جملے کو اتنی دفعہ دہرایا کہ میں تمنا کرنے لگا کہ میں آج سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا بلکہ میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا یا میں اسے قتل نہ کرتا۔ میں نے عرض کیا: میں اﷲ تعالیٰ سے عہد کرتا ہوں کہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُکہنے والے کسی انسان کو قتل نہیں کروں گا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے اُسامہ! میرے بعد بھی؟ میں نے عرض کیا: آپ کے بعدبھی۔2
حضرت اُسامہ بن زید ؓ فرماتے ہیں: میں نے اور ایک انصاری آدمی نے مِرْداس بن نَہِیْک پر قابو پالیا۔ جب ہم نے اس پر تلوار سونت لی تو اس نے کہا: أَشْھَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ یہ سن کر ہم رکے نہیں بلکہ اسے قتل کر دیا ۔ آگے ابنِ اسحاق جیسی روایت ذکر کی ہے۔3
ایک روایت میں یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس نے لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُکہا اور تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے کہا: یا رسول اﷲ! اس نے تو کلمہ صرف ہتھیار کے ڈر سے پڑھا تھا۔ آپ نے فرمایا: تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھ لیا جس سے تمھیں پتہ چل جاتا کہ اس نے ہتھیار کے ڈر سے کلمہ پڑھا تھا یا نہیں۔ قیامت کے دن جب لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُکے بارے میں پوچھا جائے گا تو اس وقت تمہارا مددگار کون ہوگا؟ حضورﷺ اپنے جملے کو بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ تمنا ہونے لگی کہ میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا۔1
حضرت بکر بن حارثہؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے ایک جماعت بھیجی، میں بھی اس میں گیا۔ ہماری اور مشرکوں کی جنگ ہوئی۔ میں نے ایک مشرک پر حملہ کیا تو اس نے اسلام کا اظہار کر کے جان بچانی چاہی، میں نے اسے پھر بھی قتل کر دیا۔ جب حضورﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ ناراض ہوئے اور مجھے اپنے سے دور کر دیا۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت وحی میں بھیجی:
{وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَأً }2
اور کسی مؤمن کی شان نہیں کہ وہ کسی مؤمن کو قتل کرے لیکن غلطی سے۔
(چوںکہ میں نے اسے غلطی سے قتل کیا تھا اس وجہ سے) حضورﷺ مجھ سے راضی ہوگئے اور مجھے اپنے قریب کر لیا۔3
حضرت عقبہ بن خالد لَیثیؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے ایک جماعت بھیجی جس نے ایک کافر قوم پر چھاپہ مارا۔ ایک کافر آدمی نے زور سے حملہ کیا تو ایک مسلمان آدمی سونتی ہوئی تلوار لے کر اس کے پیچھے لگ گیا۔ جب وہ مسلمان اس کافر کو مارنے لگا تو اس کافر نے کہا: میں مسلمان ہوں، میں مسلمان ہوں۔ اس مسلمان نے اس کی بات میں کچھ غور نہ کیا بلکہ تلوار مار کر اسے قتل کر دیا۔ ہوتے ہوتے یہ بات حضورﷺ تک پہنچ گئی۔ حضورﷺ نے اس قاتل مسلمان کے بارے میں سخت بات فرمائی جو اس قاتل تک پہنچ گئی۔ ایک دن حضورﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ اتنے میں اس قاتل مسلمان نے کہا: یا رسول اﷲ! اﷲ کی قسم! اس نے تو صرف قتل سے بچنے کے لیے کہا تھا کہ میں مسلمان ہوں۔ حضورﷺ نے اس مسلمان سے اور اس طرف کے تمام لوگوں سے منہ پھیر لیا اور خطبہ دیتے رہے۔ اس مسلمان نے دوبارہ کہا: یا رسول اﷲ! اس نے تو صرف قتل سے بچنے کے لیے کہا تھا کہ میں مسلمان ہوں۔ حضورﷺ نے اس مسلمان سے اور اس طرف کے تمام لوگوں سے منہ پھیر لیا اور خطبہ دیتے رہے، لیکن اس مسلمان سے صبر نہ ہوسکا اور اس نے تیسری مرتبہ وہی بات کہی۔ تو اس دفعہ حضورﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ کے چہرے پر ناگواری صاف محسوس ہو رہی تھی۔ آپ نے تین مرتبہ فرمایا: اﷲ تعالیٰ نے مجھے کسی مؤمن کے قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔1
حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے ایک جماعت بھیجی جس میں حضرت مقداد بن اسود ؓ بھی تھے۔ جب یہ لوگ کافروں تک پہنچے تو دیکھا کہ وہ سب اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے ہیں، البتہ ایک آدمی وہیں بیٹھا ہوا ہے وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا اور اس کے پاس بہت سا مال تھا۔ (مسلمانوں کو دیکھ کر) وہ کہنے لگا: أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ حضرت مقداد نے آگے بڑھ کر اسے قتل کر دیا۔ ان سے ان کے ایک ساتھی نے کہا: کیا آپ نے ایسے آدمی کو قتل کر دیا جو کلمۂ شہادت أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ پڑھ رہا تھا؟ میں یہ بات حضورﷺ کو ضرور بتاؤں گا۔ جب یہ لوگ حضورﷺ کی خدمت میں واپس پہنچے تو انھوں نے کہا: یا رسول اﷲ! ایک آدمی نے کلمۂ شہادت أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ پڑھا، لیکن اسے حضرت مقداد نے قتل کر دیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: مقداد کو بلا کر میرے پاس لائو۔ (جب حضرت مقداد آئے تو) حضورﷺ نے فرمایا: اے مقداد! کیا تم نے ایسے آدمی کو قتل کر دیا جو لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُکہہ رہا تھا؟ تو کل کولَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کے مطالبہ کے وقت کیا کرو گے؟ اس پر اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰی اِلَیْْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًاج تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاز فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ ط کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ}2
اے ایمان والو! جب تم اﷲ کی راہ میں سفر کیا کرو تو ہر کام کو تحقیق کر کے کیا کرو، اور ایسے شخص کو جو کہ تمہارے سامنے اِطاعت ظاہر کرے دنیاوی زندگی کے سامان کی خواہش میں یوں مت کہہ دیا کرو کہ تو مسلمان نہیں ہے، کیوںکہ خدا کے پاس بہت غنیمت کے مال ہیں۔ پہلے تم بھی ایسے ہی تھے، پھر اﷲ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا، سو غور کرو۔ بے شک اﷲ تعالیٰ تمہارے اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں۔
پھر حضورﷺ نے حضرت مقداد سے فرمایا: وہ ایک مؤمن آدمی تھا جس نے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا، لیکن وہ کافروں کے ساتھ رہتا تھا۔ اس نے تمہارے سامنے اپنا ایمان ظاہر کیا تم نے اسے قتل کر دیا اور تم بھی تو پہلے مکہ میں اپنا ایمان چھپا کر رکھا کرتے تھے۔1
حضرت عبد اﷲ بن ابی حَدردؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے ہمیں مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ اِضَم مقام کی طرف بھیجا۔ اس جماعت میں حضرت ابو قتادہ حارث بن رِبعی، اور محلّم بن جثّامہ ؓ بھی تھے۔ چناںچہ ہم لوگ مدینہ منوّرہ سے چلے اور اِضَم مقام کے اندرونی حصے میں پہنچ گئے۔ وہاں ہمارے پاس سے عامر بن اَضبط اشجعی گزرے وہ اپنے اونٹ پر سوار تھے۔ ان کے ساتھ تھوڑا سا سامان اور دودھ کا مشکیزہ بھی تھا۔ انھوں نے ہمیں اسلام والا سلام کیا۔ ہم تو سلام سن کر ان پر حملہ کرنے سے رک گئے، لیکن حضرت محلّم بن جثّامہ نے ان پر حملہ کر کے اس عداوت کی وجہ سے اسے قتل کر دیا جو اُن دونوں کے درمیان پہلے سے تھی۔ جب ہم حضورﷺ کی خدمت میں واپس پہنچے تو ہم نے حضورﷺ کو ساری کارگزاری سنائی۔ اس پر ہمارے بارے میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی:
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰی اِلَیْْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًاج تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ز فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ ط کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْْکُمْ فَتَبَیَّنُوْا ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا o}2
ترجمہ ابھی گزرا ہے۔3
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے حضرت محلّم بن جثّامہؓ کو ایک جماعت میں بھیجا۔ عامر بن اَضْبَط ان لوگوں سے ملے اور انھوں نے ان کو اسلام والا سلام کیا۔ عامر اور حضرت محلّم کے درمیان زمانۂ جاہلیت میں دشمنی تھی۔ حضرت محلّم نے تیر مار کر عامر کو قتل کر دیا۔ یہ خبر حضورﷺ تک پہنچی تو حضرت عیینہ ؓ نے (عامر کی حمایت میں) اور حضرت اَقرع ؓ نے (حضرت محلّم کی حمایت میں) حضورﷺ سے بات کی۔ چناںچہ حضرت اَقرع نے کہا: یا رسول اﷲ! آج تو آپ (حضرت محلّم کو) معاف فرما دیں آیندہ نہ فرما ویں۔ حضرت عیینہ نے کہا: نہیں نہیں۔ اﷲ کی قسم! (بالکل معاف نہ فرمائیں بلکہ حضرت محلّم سے بدلہ لیں) تاکہ میری عورتوں پر (عامر کے قتل ہونے سے) جو رنج وصدمہ آیا ہے وہی حضرت محلّم کی عورتوں پر بھی آئے۔ اتنے میں حضرت محلّم دو چادروں میں لپٹے ہوئے آئے اور حضورﷺ کے سامنے بیٹھ گئے تاکہ حضورﷺ ان کے لیے استغفار فرما دیں، لیکن حضورﷺ نے فرمایا: اﷲ تمہاری مغفرت نہ فرمائے۔ (وہ یہ سن کر رونے لگے اور) وہ اپنی چادروں سے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے وہاں سے کھڑے ہوئے اور سات دن نہیں گزرے تھے کہ ان کا انتقال ہوگیا۔ صحابۂ کرام نے ان کو دفن کر دیا لیکن زمین نے انھیں باہر پھینک دیا۔ صحابہ نے حضورﷺ کی خدمت میںآکریہ قصہ سنایا۔ حضورﷺ نے فرمایا: زمین تو ان سے بھی زیادہ برے کو قبول کرلیتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ واقعہ دکھا کر یہ چاہاکہ مسلمان کے احترام کے بارے میں تمھیں پکی نصیحت حاصل ہو۔ پھر صحابہ نے ان کی نعش کو ایک پہاڑ کے دو کناروں کے درمیان رکھ دیا اور (چھپانے کے لیے) ان پر پتھر ڈال دیے اور یہ آیت نازل ہوئی:
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا}۔1
حضرت قَبِیصہ بن ذُؤیب ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کے ایک صحابی نے کافروں کی ایک جماعت پر چھاپہ مارا۔ اس جماعت کو شکست ہوگئی۔ ان صحابی نے شکست کھا کر بھاگتے ہوئے ایک آدمی کا پیچھا کیا اور اس تک جا پہنچے۔ جب اس پر تلوار کا وار کرنا چاہا تو اس آدمی نے کہا: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ،لیکن یہ صحابی نہ رکے اور اسے قتل کر دیا۔ (وہ صحابی تو قتل کر بیٹھے لیکن) بعد میں ان صحابی کو اس کا بڑا صدمہ ہوا۔ انھوں نے اپنی ساری بات جا کر حضورﷺ کو بتا دی اور یہ عرض کیا: اس نے صرف اپنی جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھا؟ کیوںکہ دل کی ترجمانی زبان سے ہی کی جاتی ہے۔ تھوڑے ہی عرصہ بعد ان قتل کرنے والے صاحب کا (غم اور صدمہ کی وجہ سے) انتقال ہوگیا۔ جب انھیں دفن کیا گیا تو صبح کے وقت زمین پر پڑے ہوئے ملے (زمین نے انھیں باہر پھینک دیا)۔ ان کے گھر والوں نے حضورﷺ کی خدمت میں آکر اس کا تذکرہ کیا۔ آپ نے فرمایا: انھیں دوبارہ دفن کر دو۔ دوبارہ دفن کیا گیا تو پھر صبح کے وقت زمین کے اوپر پڑے ہوئے ملے۔ ان کے گھر والوں نے حضورﷺ کو بتایا۔ حضورﷺ نے فرمایا: زمین نے ان کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے لہٰذا انھیں کسی غار میں ڈال دو۔1
حضرت ابو جعفر محمد بن علیؓ فرماتے ہیں: جب مکہ فتح ہوگیا تو حضورﷺ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو دعوت دینے کے لیے بھیجا اور انھیں جنگ کرنے نہیں بھیجا۔ ان کے ساتھ قبیلہ سُلیم بن منصور، قبیلہ مُدْلج بن مرّہ اور بہت سے دوسرے قبیلے تھے۔ جب یہ حضرات قبیلہ بنو جذیمہ بن عامر بن عبدِ مناۃ بن کنانہ کے پاس پہنچے اور انھوں نے ان حضرات کو دیکھ لیا تو انھوں نے اپنے ہتھیار اٹھا لیے۔ حضرت خالد نے ان سے کہا: آپ لوگ ہتھیار رکھ دیں، کیوں کہ سارے لوگ مسلمان ہو چکے ہیں (آ پ لوگ سارے مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکو گے)۔ جب انھوں نے ہتھیار رکھ دیے تو حضرت خالد کے کہنے پر ان کی مشکیں کس لی گئیں (اور مونڈھوں کے پیچھے ہاتھ باندھ دیے گئے) پھر ان میں سے بہت سوں کو قتل کر دیا۔ جب یہ خبر حضور ﷺ تک پہنچی تو آپ نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا: اے اﷲ! خالد بن ولید نے جو کچھ کیا ہے میں اس سے بری ہوں۔ پھر آپ نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو بلا کر فرمایا: اے علی! ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان کے معاملہ میں غور کرو اور جاہلیت کی باتیں اپنے دونوں قدموں کے نیچے (زمین میں دفن) کر دو۔
حضرت علی اپنے ساتھ بہت سا مال لے کر ا ن لوگوں کے پاس گئے۔ یہ مال حضورﷺ نے ان کو دیا تھا۔ چناںچہ حضرت علی نے ان کے تمام قتل ہونے والے افراد کا خون بہا ادا کر دیا اور ان کا جتنا مال لیا گیا تھا اس کا بدلہ بھی دیا یہاں تک کہ کتے کے پانی پینے کے برتن کا بدلہ بھی دیا حتیٰ کہ اس قبیلہ کی طرف سے نہ خون کا مطالبہ رہا اور نہ کسی قسم کے مال کا۔ حضرت علی کے پاس مال بچ گیا۔ فارغ ہو کر حضرت علی نے ان سے فرمایا: کیا ایسا جانی یا مالی نقصان رہ گیا ہے جس کا بدلہ تم لوگوں کو نہ ملا ہو؟ ان لوگوں نے کہا: نہیں۔ حضرت علی نے کہا: ہو سکتا ہے کہ ایسا مالی یا جانی نقصان ابھی باقی ہو جسے نہ تم جانتے ہو اور نہ اﷲ کے رسول (ﷺ) اس لیے یہ جتنا مال باقی رہ گیا ہے یہ سارا مال میں آپ لوگوں کو احتیاطاً دے دیتا ہوں۔ چناںچہ انھوں نے باقی سارا مال بھی انھیں دے دیا اور واپس پہنچ کر حضورﷺ کو ساری کارگزاری سنائی۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا اور اچھا کیا۔ پھر حضورﷺ کھڑے ہوئے، قبلہ کی طرف منہ کیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اونچا اٹھایا کہ بغلوں کے نیچے کا حصہ نظر آنے لگ گیا اور آپ نے تین دفعہ فرمایا: اے اﷲ! خالد بن ولید نے جو کچھ کیا ہے میں اس سے بری ہوں۔1
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے حضرت خالد بن ولیدؓکو قبیلہ بنو جذیمہ کی طرف بھیجا۔ حضرت خالد نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی (وہ مسلمان تو ہوگئے لیکن) أَسْلَمْنَا( ہم مسلمان ہوگئے) نہ کہا، صَبَأْنَا صَبَأْنَا (ہم نے دین بدل لیا) کہنے لگے۔ حضرت خالد نے سب کو گرفتار کر کے ہم میں سے ہر ایک کو ایک ایک قیدی دے دیا۔ ایک دن جب صبح ہوئی تو حضرت خالد نے حکم دیا کہ ہم میں سے ہر آدمی اپنے قیدی کو قتل کر دے۔ میں نے کہا: اﷲ کی قسم! نہ میں اپنے قیدی کو قتل کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی کرے گا۔ ساتھیوں نے واپس پہنچ کر حضورﷺ سے حضرت خالد کے اس فعل کا تذکرہ کیا۔ حضورﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دو مرتبہ فرمایا: اے اﷲ! جو کچھ خالد نے کیا ہے میں اس سے بری ہوں۔2
ابنِ اسحاق کہتے ہیں: جو روایت مجھے پہنچی ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت خالد اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کی آپس میں اس بارے میں تیز گفتگو بھی ہوئی تھی۔ چناںچہ حضرت عبد الرحمن نے حضرت خالد سے کہا: تم اسلام میں جاہلیت والا کام کر رہے ہو۔ حضرت خالد نے کہا: میں نے تو آپ کے باپ (کے قتل) کا بدلہ لیا ہے۔ حضرت عبد الرحمن نے کہا: غلط کہتے ہو۔ اپنے باپ کے قاتل کو تو میں نے خود قتل کیا تھا، تم نے تو اپنے چچا فاکہ بن مغیرہ کا بد لہ لیا ہے۔ اس پر دونوں حضرات میں بات بڑھ گئی۔ جب حضورﷺ کو اس کا پتا چلا تو فرمایا: اے خالد! نرمی سے بات کرو۔ میرے (پرانے) صحابہ کو چھوڑے رکھو۔ اﷲ کی قسم! اگر تمھیں اُحد پہاڑ کے برابر سونا مل جائے اور پھر تم اسے اﷲ کے راستے میں خرچ کر دو تب بھی تم میرے (پرانے) صحابہ میں سے کسی ایک کی ایک صبح یا ایک شام (کے اجر) کو نہیں پہنچ سکتے ہو۔1
حضرت صَخر ا حمسیؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ قبیلہ بنو ثقیف سے غزوہ کے لیے تشریف لے چلے۔ تو جب حضرت صخر نے یہ خبر سنی تو وہ حضورﷺ کی مدد کرنے کے لیے گھوڑے سواروں کی جماعت لے کر چلے۔ جب وہ حضورﷺ کی خدمت میں پہنچے تو حضورﷺ واپس مدینہ تشریف لے جا چکے تھے اور بنو ثقیف کا قلعہ اور محل ابھی تک فتح نہیں ہوا تھا۔ حضرت صخر نے عہد کیا کہ میں اس وقت تک اس قلعہ اور محل کو نہیں چھوڑوں گا جب تک اس قبیلہ والے حضورﷺ کے فیصلہ پر نہیں اُتر آتے۔ چناںچہ وہ وہیں ٹھہر گئے اور انھوں نے اس وقت اس قلعہ اور محل کو چھوڑا جب وہ لوگ حضورﷺ کے فیصلہ پر اُتر آئے اور حضورﷺ کی خدمت میں یہ خط لکھا:
اَما بعد! یا رسول اﷲ! قبیلہ بنو ثقیف نے آپ کے فیصلہ پر اُترنا قبول کر لیا ہے۔ میں انھیں لے کر آرہا ہوں، وہ میرے گھوڑے سواروں کے ساتھ ہیں۔
حضورﷺ نے(جمع کرنے کے لیے) اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ اعلان کرایا (کہ نماز میں سب آجائیں کوئی اہم کام ہے)۔ پھر حضورﷺ نے (حضرت صخر کے قبیلہ) احمس کے لیے دس مرتبہ یہ دعا کی: اے اﷲ! قبیلہ احمس کے سواروں اور پیادہ لوگوں میں برکت فرما دے۔ جب یہ لوگ آگئے تو حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے حضورﷺ سے بات کی اور عرض کیا: یا رسول اﷲ! حضرت صخر نے میری پھوپھی کو گرفتار کر رکھا ہے حالاںکہ وہ بھی اس دین میں داخل ہو چکی ہیں جس میں باقی تمام مسلمان داخل ہیں۔ حضورﷺ نے حضرت صخر کو بلا کر فرمایا: اے صخر! جب کوئی (قوم) مسلمان ہو جاتی ہے (تو اسلام لانے کی وجہ سے) ان کی جان اور مال سب محفوظ ہو جاتا ہے اس لیے تم مغیرہ کو ان کی پھوپھی دے دو۔ انھوں نے حضرت مغیرہ کو ان کی پھوپھی دے دی۔ اور حضرت صخر نے حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ قبیلہ بنو سُلَیم ایک پانی یعنی چشمہ پر رہا کرتے تھے، وہ اسلام نہیں لائے اور وہ پانی چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ یا رسول اﷲ! وہ پانی مجھے اور میری قوم کو دے دیں، ہم لوگ وہاں رہا کریں گے۔ حضورﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ اور وہ پانی حضورﷺ نے انھیں دے دیا۔ پھر قبیلۂ بنو سُلَیم مسلمان ہوگیا، انھوں نے آکر حضرت صخر سے اپنے پانی کا مطالبہ کیا۔ حضرت صخر نے انھیں پانی دینے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا: یا رسول اﷲ! ہم مسلمان ہوگئے تھے، پھر ہم حضرت صخر کے پاس گئے تھے تاکہ وہ ہمیں ہمارا پانی دے دیں لیکن انھوں نے انکار کر دیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے صخر! جب کوئی قوم مسلمان ہو جاتی ہے تو ان کا مال اور جان سب کچھ محفوظ ہو جاتا ہے، لہٰذا ان کا پانی انھیں واپس کر دو۔ حضرت صخر نے کہا: بہت اچھا اے اﷲ کے نبی! حضرت صخر فرماتے ہیں: پہلے حضورﷺ نے مجھ سے حضرت مغیرہ کو ان کی پھوپھی واپس دلوائی اور اب بنو سُلَیم کو ان کا پانی واپس دلوا رہے تھے، تو اس وجہ سے حضورﷺ کو بہت شرم آرہی تھی تو میںنے دیکھا کہ شرم کی وجہ سے حضورﷺ کا چہرہ سرخی میں بدل رہا تھا۔1