حضورﷺ کی عزّت اور تعظیم کرنا
حضور ﷺ کے حکم کے خلاف کرنے والے پر صحابۂ کرام ؓ کی سختی
حضرت ابو سَلَمہ بن عبد الرحمن ؓ کہتے ہیں: (میرے والد) حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے حضورﷺ کی خدمت میں جا کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے جوئیں بہت پڑجاتی ہیں، اس لیے کیا آپ مجھے ریشم کا کُرتا پہننے کی اجازت دیتے ہیں؟
حضورﷺ نے انھیں اجازت دے دی۔ جب حضورﷺ اور حضرت ابو بکر ؓ کا انتقال ہوگیا اور حضرت عمر ؓ خلیفہ بن گئے تو حضرت عبد الرحمن اپنے بیٹے ابو سَلَمہ کو لے کر سامنے سے آئے، ان کے بیٹے نے ریشم کا کُرتا پہنا ہوا تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ اور اپنا ہاتھ کُرتے کے گریبان میں ڈال کر اسے نیچے تک پھاڑ دیا۔ حضرت عبد الرحمن نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ حضورﷺ نے مجھے ریشم کی اجازت دے دی تھی؟ حضرت عمر نے فرمایا: حضورﷺ نے تمھیں اس لیے اجازت دی تھی کہ تم نے حضورﷺ سے جوؤں کی شکایت کی تھی۔ اب یہ اجازت صرف تمہارے لیے ہے تمہارے علاوہ اور کسی کے لیے نہیں ہے۔2
حضرت ابوسَلَمہ ؓ کہتے ہیں: حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ حضرت عمرؓ کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ ان کا بیٹا محمد بھی تھا جس نے ریشم کا کُرتا پہن رکھا تھا۔ حضرت عمر نے کھڑے ہو کر اس کُرتے کے گریبان کو پکڑا اور اسے پھاڑ ڈالا۔ حضرت عبد الرحمن نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے! آپ نے تو بچے کو ڈرا دیا اور اس کا دل اُڑا دیا۔ حضرت عمر نے فرمایا: آپ بچوں کو ریشم پہناتے ہیں؟ حضرت عبد الرحمن نے کہا: اس لیے کہ میں خود ریشم پہنتا ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا یہ بچے آپ کی طرح (جوؤں کی کثرت کا شکار) ہیں؟1
ابنِ عساکر اور ابنِ سیرین ؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت خالد بن ولیدؓ حضرت عمر ؓ کے پاس گئے۔ حضرت خالد نے ریشم کا کُرتا پہنا ہوا تھا۔ حضرت عمر نے ان سے فرمایا: اے خالد! یہ کیا پہن رکھا ہے؟ حضرت خالد نے کہا: اے امیر المؤمنین! اس میں کیا حرج ہے؟ کیا ابنِ عوف ریشم نہیں پہنتے ہیں؟ حضرت عمر نے فرمایا: کیا تم ابنِ عوف کی طرح (جوؤں کی کثرت میں مبتلا) ہو اور تمھیں بھی وہ فضائل حاصل ہیں جو ابنِ عوف کو حاصل ہیں؟ اس وقت اس گھر میں جتنے آدمی ہیں ان سب کو قسم دے کر کہتا ہوں کہ جس کے سامنے اس کُرتے کا جونسا بھی حصہ ہے وہ اسے پکڑ کر پھاڑ ڈالے۔ چناںچہ سب نے اس کُرتے کو اس طرح پھاڑ ڈالا کہ حضرت خالد کے جسم پر اس کا ایک ٹکڑا بھی نہ بچا۔2
حضراتِ صحابۂ کرام ؓ کا امرِ خلافت میںحضرت ابو بکر ؓ کو مقدم سمجھنا عنوان کے ذیل میں حضرت صخرؓ کی حدیث گزر چکی ہے۔ جس میں یہ ہے کہ حضورﷺ کے انتقال کے ایک ماہ بعد حضرت خالد بن سعید ؓ (مدینہ منوّرہ) آئے۔ انھوں نے دیباج کا ریشمی جبہ پہن رکھا تھا۔ ان کی حضرت عمر اور حضرت علیؓ سے ملاقات ہوئی۔ حضرت عمر نے آس پاس کے لوگوں کو بلند آواز سے کہا: اس کے جبّہ کو پھاڑ دو۔ کیا یہ ریشم پہن رہا ہے حالاںکہ زما نۂ امن میں ہمارے مردوں کے لیے اس کا استعمال درست نہیں ہے؟ چناںچہ لوگوں نے ان کا جبّہ پھاڑ دیا۔
حضرت عبدہ بن لبابہ ؓ کہتے ہیں: مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطابؓ مسجدِ نبوی میں سے گزر رہے تھے۔ مسجد میں ایک صاحب کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے جنھوں نے سبز رنگ کی ایک چادر پہن رکھی تھی جس کی گھنڈیاں ریشم کی تھیں۔ آپ اس کے پہلو میں کھڑے ہوگئے اور اس سے فرمایا: ارے میاں! جتنی چاہو لمبی نماز پڑھ لو جب تک تمہاری نماز ختم نہیں ہو جائے گی میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ جب اس آدمی نے یہ دیکھا تو نماز سے فارغ ہو کر حضرت عمر کے پاس آیا۔ تو حضرت عمر نے اس سے فرمایا: ذرا اپنا یہ کپڑا مجھے دکھاؤ۔ اور پھروہ کپڑا پکڑ کر اس کی ریشم والی تمام گھنڈیاں کاٹ دیں۔ پھر فرمایا: لو، اپنا کپڑا لے لو۔1
حضرت سعید بن سفیان قاری ؓ کہتے ہیں: میرے بھائی کا انتقال ہوگیا اور اس نے وصیت کی کہ سو دینار اللہ کے راستے میں خرچ کیے جائیں۔ میں حضرت عثمان بن عفانؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان کے پاس ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ایک قبا پہن رکھی تھی جس کے گریبان اور کالر پر ریشم کی کناری سلی ہوئی تھی۔ جوں ہی ان صاحب نے مجھے دیکھا تو پھاڑنے کے لیے مجھ سے قبا کھینچنے لگے۔ جب حضرت عثمان نے یہ منظر دیکھا تو فرمایا: اس آدمی کو چھوڑ دو۔ اس پر انھوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ پھر حضرت عثمان نے فرمایا: تم لوگوں نے (قبا کھینچ کر) جلدی کی (یا تم لوگوں نے دنیا میں ریشم استعمال کر کے جلدی کی)۔ پھر حضرت عثمان سے میں نے عرض کیا: اے امیرالمؤمنین! میرے بھائی کا انتقال ہوگیا اور اس نے وصیت کی کہ اللہ کے راستے میں سو دینار خرچ کیے جائیں۔ آپ ارشاد فرمائیں کہ میں اس کی وصیت کس طرح پوری کروں؟ حضرت عثمان نے فرمایا: کیا تم نے مجھ سے پہلے کسی اور سے یہ بات پوچھی ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو انھوں نے فرمایا: اگر تم مجھ سے پہلے کسی اور سے یہ بات پوچھتے اور وہ یہ جواب نہ دیتا جو میں دینے لگا ہوں تو میں تمہاری گردن اُڑا دیتا (کہ تم نے اس جاہل سے کیوں پوچھا)۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کا حکم دیا تو ہم سب اسلام لے آئے، اور (اللہ کا شکر ہے کہ) ہم سب مسلمان ہیں۔ پھر اللہ نے ہمیں ہجرت کا حکم دیا تو ہم نے ہجرت کی۔ چناںچہ ہم اہلِ مدینہ مہاجر ہیں۔ پھر اللہ نے ہمیں جہاد کا حکم دیا تو (اس زمانے میں) تم نے جہاد کیا تو تم اہلِ شام مجاہد ہو۔ تم یہ سو دینار اپنے اوپر، اپنے گھر والوں پر اور آس پاس کے ضرورت مندوں پر خرچ کرلو۔ کیوںکہ اگر تم ایک درہم لے کر گھر سے نکلو اور پھر اس کا گوشت خرید و اور پھر اسے تم بھی کھالو اور تمہارے گھر والے بھی کھا لیں تو تمہارے لیے سات سو درہم کا ثواب لکھا جائے گا (ضرورت کے وقت گھر والوں پر خرچ کرنے پر صدقہ کا ثواب ملتا ہے، اِسراف پر پکڑ ہوگی)۔
پھر میں نے حضرت عثمان کے پاس سے باہر آکر لوگوں سے پوچھا کہ وہ آدمی جو میرا جبہ کھینچ رہا تھا وہ کون تھا؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ حضرت علی بن ابی طالبؓ تھے۔ میں ان کے گھر اُن کی خدمت میں گیا اور میں نے عرض کیا: آپ نے مجھ میں کیا دیکھا تھا؟ انھوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میری اُمت عورتوں کی شرمگاہوں کو (یعنی زنا کو) اور ریشم کو حلال سمجھنے لگ جائے گی۔ اور یہ پہلا ریشم ہے جو میں نے کسی مسلمان پر دیکھا ہے۔ پھر میں نے ان کے پاس سے باہر آکر اس قبا کو بیچ دیا۔1
حضرت عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّابؓ نے حضرت قدامہ بن مظعون ؓ کو بحرین کا گورنر بنایا۔ یہ حضرت عمر کی صاحب زادی حضرت حفصہؓ اور ان کے بیٹے حضرت عبد اللہؓ کے ماموں تھے۔ بحرین سے قبیلہ عبد القیس کے سر دار حضرت جارود ؓ حضرت عمر کی خدمت میں آئے اور کہا: اے امیر المؤمنین! حضرت قدامہ نے کچھ پی لیا جس سے انھیں نشہ ہوگیا۔ میںنے ایساکام دیکھا ہے جس پر اللہ کی حد لازمی آتی ہے، اسے آپ تک پہنچانا میں اپنے ذمہ سمجھتا ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا: تمہارے ساتھ اور کون گواہ ہے؟ انھوں نے کہا: حضرت ابو ہریرہ ؓ۔ حضرت عمر نے حضرت ابو ہریرہ کو بلایا اور ان سے فرمایا: تم کیا گواہی دیتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے ان کو پیتے ہوئے تو نہیں دیکھا، البتہ نشہ میں دیکھا کہ قے کر رہے تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا: آپ نے گواہی دینے میں بہت باریکی سے کام لیا ہے۔ پھر حضرت عمر نے خط لکھ کرحضرت قدامہ کو بحرین سے مدینہ بلایا۔
چناںچہ وہ مدینہ آگئے تو حضرت جارود نے حضرت عمر سے کہا: ان پر کتاب اللہ کا حکم جاری کریں۔ حضرت عمر نے فرمایا: آپ مدعی ہیں یا گواہ؟ حضرت جارود نے کہا: گواہ ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا: تو آپ گواہی دے چکے ہیں (اس لیے سزا دینے کا مطالبہ آپ نہیں کرسکتے ہیں)۔ اس پر حضرت جارود خامو ش ہوگئے، لیکن اگلے دن صبح کو حضرت عمر کے پاس آکر پھر ان سے کہا: ان پر اللہ کی حد جاری کریں۔ حضرت عمر نے فرمایا: (آپ بار بار سزا کا تقاضا کر رہے ہیں اس لیے) میرے خیال میں آپ خود مدعی ہیں (گواہ نہیں ہیں) اور آپ کے ساتھ صرف ایک ہی گواہ ہے یعنی حضرت ابو ہریرہ (اور ایک گواہ سے آپ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوسکتا)۔ حضرت جارود نے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں (کہ ان پر حد قائم کریں)۔ حضرت عمر نے فرمایا: آپ اپنی زبان روک کر رکھیں، نہیں تو (مار مار کر) آپ کا برا حال کر دوں گا۔ حضرت جارود نے کہا: اے عمر! یہ تو ٹھیک نہیں ہے کہ شراب تو آپ کا چچازاد بھائی پیے اور آپ سزا مجھے دیں۔
اس پر حضرت ابو ہریرہ نے کہا: اے امیرالمؤمنین! اگر آپ کو ہماری گواہی میں شک ہے تو آپ حضرت قدامہ کی بیوی حضرت بنتُ الولیدؓ کے پاس آدمی بھیج کر ان سے پوچھ لیں۔ چناںچہ حضرت عمر نے حضرت ہند بنت الولید کے پاس آدمی بھیجا اور قسم دے کر انھیں کہا کہ وہ ٹھیک ٹھیک بتائیں۔ چناںچہ انھوں نے اپنے خاوند کے خلاف گواہی دی۔ حضرت عمر نے حضرت قدامہ سے کہا: اب تو میں آپ پر حد ضرور جاری کروں گا۔ حضرت قدامہ نے کہا: اگر میں نے پی بھی ہے توبھی آپ لوگ مجھ پر حد جاری نہیں کر سکتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیوں؟ حضرت قدامہ نے کہا: کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:
{لَیْْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْا}1
ایسے لوگوں پر جو ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کو وہ کھاتے پیتے ہوں جب کہ وہ لوگ پرہیز رکھتے ہوں اور ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں پھر پر ہیز کرنے لگتے ہوں اور ایمان رکھتے ہوں پھر پرہیز کرنے لگتے ہوں اور خوب نیک عمل کرتے ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے نیکو کاروں سے محبت رکھتے ہیں۔
حضرت عمر نے فرمایا: آپ اس آیت کا مطلب غلط سمجھے ہیں۔ (اس آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ شراب حرام ہونے سے پہلے مسلمانوںنے جو شراب پی ہے اس میںگناہ نہیں ہے، کیوںکہ اس زمانہ میں شراب حلال تھی لیکن اب تو شراب حرام ہو چکی ہے، اس لیے) اگر آپ اللہ سے ڈرتے تو اس کی حرام کردہ چیز یعنی شراب سے بچتے۔ پھر حضرت عمر نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: قدامہ کو کوڑے لگانے کے بارے میں آپ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ لوگوں نے کہا: ہماری رائے یہ ہے کہ جب تک یہ بیمار ہیں انھیں کو ڑے نہ لگائے جائیں۔ اس پر حضرت عمر نے چند دن سکوت فرمایا۔ پھر ایک دن حضرت عمر نے ان کو کوڑے لگانے کا پختہ ارادہ کر لیا تو پھر لوگوں سے پوچھا کہ اب قدامہ کو کوڑے لگانے کے بارے میں آپ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ لوگوں نے کہا: ہماری رائے اب بھی یہی ہے کہ جب تک یہ بیمار ہیں انھیں کوڑے نہ لگائے جائیں۔
حضرت عمر نے فرمایا: ان کوڑوں کے لگنے سے اگر یہ مر جائیں تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ مجھے اس حال میں موت آئے کہ یہ حد میری گردن میں پڑی ہو۔ میرے پاس پورا اور مضبوط کوڑا لاؤ۔ (چناںچہ کوڑا لایا گیا) اور حضرت عمر کے فرمان کے مطابق حضرت قدامہ کو کوڑے مارے گئے۔ اس پر حضرت قدامہ حضرت عمر سے ناراض ہوگئے اور ان سے بات چیت چھوڑ دی۔ پھر حضرت عمر ؓ حج کو گئے اور حضرت قدامہ بھی اس حج میں تھے اور وہ حضرت عمر سے ناراض ہی تھے۔ یہ دونوں حضرات جب حج سے واپس ہوئے اور حضرت عمر سُقْیا منزل پر اترے تو وہاں انھوں نے آرام فرمایا۔ جب نیند سے اٹھے تو فرمایا: قدامہ کو جلدی سے میرے پاس لاؤ۔ اللہ کی قسم! میں نے خواب میں ایک آدمی کو دیکھا جو مجھ سے کہہ رہا ہے قدامہ سے صلح کر لو، کیوںکہ وہ آپ کے بھا ئی ہیں۔ اس لیے انھیں جلدی سے میرے پاس لاؤ۔ جب لوگ انھیں بلانے گئے تو انھوں نے آنے سے انکارکر دیا۔ اس پرحضرت عمر نے فرمایا: وہ جیسے بھی آتے ہیں انھیں لے کر آؤ۔ (چناںچہ وہ آئے تو) حضرت عمرنے ان سے گفتگو فرمائی (انھیں راضی کیا) اور ان کے لیے استغفار کیا۔1
حضرت یزید بن عبید اللہ ؓ اپنے بعض ساتھیوں سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ جنازہ کے ساتھ جا بھی رہا ہے اور ہنس بھی رہا ہے۔ تو فرمایا کہ تم جنازے کے ساتھ چلتے ہوئے بھی ہنس رہے ہو؟ اللہ کی قسم! میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔2