حضورﷺ کی عزّت اور تعظیم کرنا
ارشادِ نبوی کے خلاف سر زد ہو جانے پر صحابۂ کرامؓ کا خوف وہراس
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے جنگِ بدر کے دن اپنے صحابہ سے فرمایا: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ بنو ہاشم اور بعض دوسرے قبیلوں کے لوگوں کو یہاں زبر دستی لایا گیا ہے وہ ہم سے لڑنا نہیں چاہتے، لہٰذا تم میں سے جس کے سامنے بنو ہاشم کا کوئی آدمی آجائے تو وہ اسے قتل نہ کرے۔ اور جس کے سامنے ابو ا لبَختَرِی بن ہشام بن حارث بن اسد آجائے وہ اسے قتل نہ کرے۔ اور جس کے سامنے عباس بن عبد المطلب حضورﷺ کے چچا آجائیں وہ انھیں قتل نہ کرے، کیوںکہ وہ بھی مجبوراً آئے ہیں۔ اس پر حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ ؓ نے کہا: ہم تو اپنے باپ، بیٹوں اور بھائیوں کو قتل کریں اور عباس کو چھوڑ دیں؟ اللہ کی قسم! اگر عباس میرے سامنے آگئے تو میں تو تلوار سے ان کے ٹکڑے کر دوں گا۔ حضورﷺ کو جب یہ بات پہنچی تو آپ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا: اے ابو حفص! حضرت عمر کہتے ہیں: اللہ کی قسم! یہ پہلا دن تھا جس دن حضورﷺ نے میری کنیت ابو حفص رکھی۔ (کنیت سے پکارنے کے بعد آپ نے فرمایا:) کیا رسول اللہ ﷺ کے چچا کے چہرے پر تلوار کا وار کیا جائے گا؟ حضرت عمر نے کہا: یارسول اللہ! مجھے اجازت دیں میں تلوار سے ابو حذیفہ کی گردن اُڑا دوں۔ اللہ کی قسم! وہ تو منافق ہوگیا ہے۔ (اس وقت جوش میں حضرت ابو حذیفہ یہ بات کہہ بیٹھے، لیکن بعد میں) حضرت ابوحذیفہ نے کہا: میں اس دن جو (غلط) بات کہہ بیٹھا تھا میں اب تک اپنے کو (عذابِ خداوندی کے) خطرے میں محسوس کر رہا ہوں اور مجھ پر خوف طاری ہے، اور میرے اس گناہ کا کفارہ صرف اللہ کے راستے کی شہادت ہی ہو سکتی ہے۔ چناںچہ وہ جنگِ یمامہ میں شہید ہوگئے۔1
حضرت معبد بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے بنو قریظہ (کے یہودیوں) کا پچیس دن تک محاصرہ فرمایا، یہاں تک کہ اس محاصرے سے وہ سخت پریشان ہوگئے او ر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا تو ان کے سردار کعب بن اسد نے بنو قریظہ پر تین باتیں پیش کیں: یا تو ایمان لے آؤ، یا اپنی عورتوں اور بچوں کو قتل کر کے اپنی موت کی تلاش میں قلعہ سے باہر نکل کر مسلمانوں سے میدانِ جنگ میں لڑو، یا ہفتہ کی رات میں مسلمانوں پر شب خون مارو۔ بنو قریظہ نے (سردار کی تینوں باتوں سے انکار کرتے ہوئے) کہا: ہم ایمان بھی نہیں لاسکتے اور (چوںکہ ہفتہ کی رات میں دشمن پر حملہ کرنا ہماری شریعت میں حرام ہے اس لیے) ہم ہفتہ کی رات میں لڑائی کو حلال قرار نہیں دے سکتے، اور اپنے بچوں اور عورتوں کو خود قتل کر دینے کے بعد ہماری کیا زندگی ہوگی۔ یہ یہودی (زمانۂ جاہلیت میں) حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر ؓ کے حلیف تھے، اس لیے انھوں نے ان کے پاس آدمی بھیج کر ان سے حضورﷺ کے فیصلے پر اُترنے کے بارے میں مشورہ مانگا۔ انھوں نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ حضور ﷺ تمہارے ذبح کیے جانے کا فیصلہ کریں گے۔ (اس وقت تو وہ حضورﷺ کی بات بتا گئے، لیکن) بعد میں ان کو ندامت ہوئی جس پر وہ حضورﷺ کی مسجدِ نبوی میں گئے۔ اپنے آپ کو مسجد (کے ستون) سے باندھ دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی۔1
ایک روایت میں یہ ہے کہ بنو قریظہ نے کہا: اے ابو لبابہ! آپ کی کیا رائے ہے؟ ہم کیا کریں؟ کیوںکہ (حضور ﷺ سے) جنگ کرنے کی تو ہم میں طا قت نہیں ہے۔ تو حضرت ابو لبابہ نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا اور حلق پر انگلیاں پھیر کر انھیں بتا دیا کہ مسلمان انھیں قتل کرنا چاہتے ہیں۔ (اس وقت تو وہ حضورﷺ کا راز بتا گئے، لیکن) جب حضرت ابو لبابہ وہاں سے واپس ہوئے تو انھیں بہت ندامت ہوئی اور وہ سمجھ گئے کہ وہ بڑی آزمایش میں آگئے۔ اس لیے انھوں نے کہا: میں اس وقت تک حضورﷺ کے چہرۂ انور کی زیارت نہیں کروں گا جب تک میں اللہ تعالیٰ کے سامنے ایسی سچی توبہ نہ کر لوں کہ اللہ تعالیٰ بھی فرما دیں کہ واقعی یہ دل سے توبہ کر رہا ہے۔ اور مدینہ واپس جا کر اپنے آپ کو مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ لوگ بتلاتے ہیں کہ وہ تقریباً بیس دن بندھے رہے۔ جب حضرت ابو لبابہ حضورﷺ کو کچھ عرصہ نظر نہ آئے تو حضورﷺ نے فرمایا: کیا ابو لبابہ ابھی تک اپنے حلیفوں (کے مشورے) سے فارغ نہیں ہوئے؟ اس پر لوگوں نے بتایا کہ انھوں نے تو سزا کے طور پر خود کو مسجد کے ستون سے باندھ رکھا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ تو میرے بعد آزمایش میں آگئے۔ اگریہ (غلطی سرزد ہو جانے کے بعد) میرے پاس آجاتے تو میں ان کے لیے (اللہ سے) استغفار کرتا، لیکن جب وہ خود کو سزا کے طور پر ستون سے باندھ چکے ہیں تو اب میں بھی انھیں نہیں کھول سکتا، اللہ ہی ان کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔1
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے حضرت ثابت بن قیسؓ کو چند دن نہ دیکھا تو ان کے بارے میں دریافت فرمایا (کہ وہ کہاں ہیں؟) تو ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ابھی اس کا پتا کر کے آتا ہوں۔ چناںچہ وہ صحابی حضرت ثابت کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ اپنے گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے پوچھا: کیا بات ہے؟ انھوں نے کہا: بڑا برا حال ہے، کیوںکہ مجھے اونچی آواز سے بولنے کی عادت ہے اور میری آواز حضورﷺ کی آواز سے اونچی ہو جاتی تھی۔ (اور اب اس بارے میں قرآن کی آیات نازل ہو چکی ہیں جن کے مطابق) میرے پہلے تمام اعمال برباد ہو چکے ہیں اور میں دوزخ والوں میں سے ہوگیا ہوں۔ ان صحابی نے حاضرِ خدمت ہو کر حضورﷺ کو بتایا کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ بن انس راوی کہتے ہیں: حضورﷺ نے ان صحابی سے فرمایا: جاکر حضرت ثابت سے کہہ دو کہ تم جہنم والوں میں سے نہیں ہو بلکہ جنت والوں میں سے ہو۔ چناںچہ انھوں نے جا کر حضرت ثابت کو یہ زبردست بشارت سنائی۔2
حضرت بنتِ ثابت بن قیس بن شماس ؓ فرماتی ہیں: میں نے اپنے والد (حضرت ثابت) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب حضورﷺ پر یہ آیت نازل ہو ئی:
{ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ}3
بے شک اللہ تعالیٰ کسی تکبر کرنے والے، فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتے۔
تو اس آیت کے مضمون کی وجہ سے وہ سخت پریشان ہوگئے اور دروازہ بند کر کے رونے لگے۔ جب حضورﷺ کو اس کا پتا چلا تو حضورﷺ نے ان کے پاس آدمی بھیج کر اس کا سبب پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ تکبر کرنے والے اور فخر کرنے والے کو اللہ پسند نہیں فرماتے (اور یہ خرابیاں مجھ میں ہیں، کیوںکہ) مجھے خوب صورتی اورجمال پسند ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ میںاپنی قوم کا سردار بنوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو (جن کو اللہ پسند نہیں کرتے) بلکہ تمہاری زندگی بھی اچھی ہوگی، اور تمھیں موت بھی اچھی حالت پر آئے گی، اور تمھیں اللہ جنت میں داخل کرے گا۔
اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر یہ آیت نازل فرمائی:
{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْھَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ}1
اے ایمان والو! تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے بلند مت کیا کرو اورنہ ان سے ایسے کھل کر بولا کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے کھل کر بولا کرتے ہو، کبھی تمہارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔
تو پھر یہ پہلے کی طرح بہت پریشان ہوئے اور دروازہ بند کر کے رونے لگ گئے۔ جب حضورﷺ کو اس کا پتا چلا تو حضورﷺ نے ان کے پاس آدمی بھیج کر اس کا سبب پوچھا، تو انھوں نے بتایا کہ ان کی آواز اونچی ہے اور انھیں اس آیت کی وجہ سے ڈر ہے کہ کہیں ان کے اعمال برباد نہ ہوگئے ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، تمہاری زندگی قابلِ تعریف ہوگی اور تمھیں شہادت کا مرتبہ ملے گا، اور اللہ تعالیٰ تمھیں جنت میں داخل کرے گا۔2
حضرت محمد بن ثابت انصاری ؓ فرماتے ہیں: حضرت ثابت بن قیس ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ڈر ہے کہ میں کہیں ہلاک نہ ہوگیا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیوں؟ انھوں نے کہا: اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے روکا ہے کہ جو کام ہم نے نہیں کیے ہیں ان پر تعریف کیے جانے کو ہم پسند کریں، اور میرا حال یہ ہے کہ میں اپنی تعریف کو بہت پسند کرتا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں تکبّر اور عُجب سے منع فرمایا ہے، اور میرا حال یہ ہے کہ مجھے خوب صورتی بہت پسند ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ کی آواز سے اپنی آواز کو اونچا کرنے سے روکا ہے اور میری آواز بہت اونچی ہے (جو آپ کی آواز سے اونچی ہو جاتی ہے)۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے ثابت! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ قابلِ تعریف زندگی گزارو اور تمھیں شہادت کا مرتبہ ملے اور اللہ تمھیں جنت میں داخل کرے؟ انھوں نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! حضرت محمد بن ثابت کہتے ہیں: حضورﷺ کا فرمان پورا ہوا اور حضرت ثابت نے واقعی قابلِ تعریف زندگی گزاری اور مُسَیلمہ کذّاب سے جنگ میں شہادت کا مرتبہ پایا۔1