حضورﷺ کی عزّت اور تعظیم کرنا

حضورﷺ کا حکم بجا لانا

حضرت عروہ بن زبیرؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے حضرت عبد اللہ بن جحش ؓ کو ( بطنِ) نخلہ مقام پر بھیجا اور ان سے فرمایا: تم وہاں جاؤ اور قریش کے بارے میں کچھ خبر لے کر آؤ۔ حضورﷺ نے انھیں لڑنے کا حکم نہیں دیا اور یہ اشہرِ حرم یعنی جن مہینوں میں کافر لوگ آپس میں لڑا نہیں کرتے تھے ان مہینوں کا واقعہ ہے۔ حضورﷺ نے انھیں یہ نہیں بتایا تھا کہ انھوں نے کہاں جانا ہے، بلکہ انھیں ایک خط لکھ کر دیا (جو کہ بند تھا) اور ان سے فرمایا: تم اپنے ساتھیوں کو لے کر جاؤ، اور جب چلتے چلتے دو دن ہو جائیں تو یہ خط کھول کر دیکھ لینا اور اس میں میں نے تمھیں جس چیز کا حکم دیا ہو اس پر عمل کر لینا۔ (خط پڑھنے کے بعد) اپنے کسی ساتھی کو اپنے ساتھ جانے پر مجبور نہ کرنا۔ دو دن سفر کرنے کے بعد انھوں نے وہ خط کھولا اور اسے پڑھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہاں سے چل کر مقام ِ نخلہ پر پہنچو اور قریش کے بارے میں جو خبریں تمھیں پہنچیں تم وہ لے کر ہمارے پاس آؤ۔ خط پڑھ کر حضرت عبد اللہ بن جحش نے اپنے ساتھیوں سے کہا: میں تو اللہ کے رسولﷺ کی بات سنوں گا بھی اور مانوں گا بھی۔ تم میں سے جسے شہادت کا شوق ہو وہ تو میرے ساتھ چلے میں تو وہاں جا رہا ہوں اور حضورﷺ کے حکم کو پورا کروں گا، اور جسے شوق نہ ہو وہ واپس چلا جائے، کیوںکہ حضورﷺ نے مجبور کر کے ساتھ لے جانے سے مجھے منع کیا ہے۔ لیکن وہ تمام صحابہ ان کے ساتھ آگے نخلہ گئے (ان میں سے کوئی واپس نہ گیا)۔ جب یہ حضرات بحران پہنچے تو حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اور حضرت عتبہ بن غزوان ؓ کا اونٹ گم ہوگیا جس پر یہ دونوں حضرات باری باری سوار ہوتے تھے۔ یہ حضرات اونٹ ڈھونڈنے کے لیے پیچھے رہ گئے اور باقی لوگ چل کر مقام ِ نخلہ پہنچ گئے۔ عمرو بن حضرمی، حکم بن کیسان، عثمان بن عبد اللہ اور مغیرہ بن عبد اللہ ان کے پاس سے گذرے۔ یہ لوگ اپنا تجارتی سامان، چمڑا اورکشمش طائف سے لے کر آرہے تھے۔ جب صحابہ نے ان کفارِ مکہ کو دیکھا تو حضرت واقد بن عبداللہؓ کے سر کے بال منڈے ہوئے تھے۔ انھوں نے ان کفار کی طرف جھانکا۔ جب کفار نے دیکھا کہ ان کا سر منڈا ہوا ہے تو انھوں نے کہا: یہ عمرہ کر کے آرہے ہیں، اس لیے تمھیں ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے (یہ لڑنے نہیں آئے)۔ یہ رجب کا آخری دن تھا (اور رجب اشہر حُرم میں داخل ہے، یہ بھی ان چار مہینوں میں سے ہے جن میں کفارِ عرب آپس میں لڑتے نہیں تھے) اس لیے حضورﷺ کے صحابہؓ نے آپس میں ان کفار کے بارے میں مشورہ کیا کہ اگر تم ان کافروں کو آج قتل کروگے تو شہرِ حرام یعنی رجب میں قتل کرو گے (جو کہ تمام عربوں کے دستور کے خلاف ہوگا)، اور اگر انھیں چھوڑ دو گے تو یہ آج حرم میں داخل ہو کر محفوظ ہوجائیں گے (کہ حدودِ حرم کے اندر کسی کو قتل کرنا جائز نہیں ہے)۔ اس لیے حضراتِ صحابہ اس پر متفق ہوگئے کہ انھیں آج ہی قتل کر دیا جائے۔ چناںچہ حضرت واقد بن عبد اللہ نے عمرو بن حضرمی کو تیر مار کر قتل کر دیا اور عثمان بن عبد اللہ اور حکم بن کیسان کو گرفتار کر لیا ۔ مغیرہ بھاگ گیا یہ حضرات اسے پکڑ نہ سکے۔ ان کافروں کے تجارتی قافلہ پر بھی ان حضرات نے قبضہ کر لیا اور دو قیدیوں اور اس تجارتی سامان کو لے کر یہ حضرات حضور ﷺ کی خدمت میں واپس پہنچے۔ حضورﷺ نے ان سے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے تو تمھیں شہرِ حرام میں لڑنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ پھر حضورﷺ نے دونوں قیدیوں اور اس تجارتی سامان کو روک دیا اور اس میں سے کوئی چیز نہ لی۔ حضورﷺ کا یہ فرمان سن کر ان حضرات کو بہت ہی زیادہ ندامت ہوئی اور وہ یوں سمجھے کہ ہم تو اب ہلاک ہوگئے، اور ان کو مسلمان بھائیوں نے سختی سے ڈانٹا۔ اور جب قریش کو اس واقعہ کی خبر ملی تو انھوں نے کہا: محمد ( ؑ) نے شہرِ حرام میں خون بہایا ہے اور اس مہینے میں مال پر قبضہ کیا ہے اور ہمارے آدمیوں کو قید کیا ہے اور شہرِ حرام کی بے حرمتی کی ہے، اور اسے دوسرے مہینوں کی طرح عام مہینہ بنا دیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: {یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِط قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌط وَصَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَکُفْرٌ م بِہٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ق وَاِخْرَاجُ اَہْلِہٖ مِنْہُ اَکْبَرُ عِنْدَ اللّٰہِج وَالْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ}1 لوگ آپ سے شہرِ حرام میں قتال کرنے کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ آپ فرما دیجیے کہ اس میں خاص طور پر (یعنی عمداً) قتال کرنا جرمِ عظیم ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روک ٹوک کرنا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور مسجدِ حرام (کعبہ) کے ساتھ اور جو لوگ مسجدِ حرام کے اہل تھے ان کو اس سے خارج کر دینا جرمِ عظیم ہیںاللہ تعالیٰ کے نزدیک، اور فتنہ پردازی کرنا اس قتلِ خاص سے بدرجہا بڑھ کر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کو نہ ماننا قتل سے بھی بڑا گناہ ہے ‘‘۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضورﷺ نے تجارتی سامان تو لے لیا، لیکن قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ (نخلہ جانے والے) مسلمانوں نے کہا: (یا رسول اللہ!) کیا آپ کو اُمید ہے کہ ہمیں اس غزوہ پر ثواب ملے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرما دی: {اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا} سے لے کر {اُولٰٓـئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰہِ}آخر تک۔2 حقیقتاً جو لوگ ایمان لائے ہوں اور جن لوگوں نے راہِ خدا میں ترکِ وطن کیا ہو اور جہاد کیا ہو ایسے لوگ تو رحمتِ خداوندی کے امیدوار ہوا کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ (اس غلطی) کو معاف کر دیں گے اور تم پر رحمت کریں گے۔ اس غزوہ میں جانے والے آٹھ آدمی تھے اور ان کے امیر حضرت عبد اللہ بن جحشؓ نویں آدمی تھے۔1 حضرت جُندب بن عبد اللہؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے ایک جماعت بھیجی اور ان کا امیر حضرت عبیدہ بن حارثؓکو بنایا۔ جب حضرت عبیدہ چلنے لگے توحضورﷺ کی محبت کے غلبہ میں (جدائی کی وجہ سے) رونے لگے۔ حضورﷺ نے ان کی جگہ دوسرے کو بھیج دیا جن کا نام حضرت عبد اللہ بن جحشؓ تھا اور انھیں ایک خط لکھ کر دیا۔ اور حضورﷺ نے انھیں حکم دیا کہ مدینہ سے فلاں جگہ جائیں اور وہاں جا کر یہ خط کھول کر پڑھیں اور پھر اس میں جہاں جانے کو لکھا ہے وہاں چلے جائیں، اور اس جگہ پہنچنے سے پہلے یہ خط نہ پڑھیں۔ اور یہ بھی فرمایا: اپنے ساتھ کسی کو آگے جانے پر مجبور نہ کرنا۔ چناںچہ جب حضرت عبد اللہ بن جحش اس جگہ پہنچے تو انھوں نے وہ خط پڑھا اور خط پڑھ کر إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَپڑھی اور یہ کہا: میں تو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بات سنوں گا اور مانوں گا۔ ان کے ساتھیوں میں سے دو حضرات واپس چلے گئے اور باقی سب ان کے ساتھ آگے گئے۔ ان حضرات کو ابن الحضرمی ملا تو انھوں نے اسے قتل کر دیا، لیکن یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ واقعہ رجب کا ہے یا جُمادی الثانیہ کا۔ مشرکوں نے کہا: مسلمانوں نے شہرِ حرام یعنی رجب میں قتل کیا ہے۔ اس پر آیت نازل ہوئی:{ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِط قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ} سے لے کر {وَالْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ} تک۔ا س پر بعض مسلمانوں نے کہا: اگرچہ اس جماعت والوں نے کام تو اچھا کیا ہے لیکن انھیں ثواب نہیں ملے گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا وَجَاہَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِلا اُولٰٓـئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ o}۔2 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے غزوۂ خندق کے موقع پر فرمایا: کوئی بھی راستہ میں عصر کی نماز نہ پڑھے بلکہ سب بنو قریظہ پہنچ کر نماز پڑھیں۔ (چناںچہ صحابہ بنو قریظہ کی طرف چل پڑے) بعض صحابہؓ ابھی راستہ میں ہی تھے کہ نماز کا وقت ہوگیا۔ تو بعض لوگوں نے کہا: ہم تو عصر کی نماز وہاں بنو قریظہ پہنچ کر ہی پڑھیں گے، اور بعض لوگوں نے کہا: ہم تو یہاں راستہ میں ہی نماز پڑھ لیں گے، کیوںکہ حضورﷺ کا مقصد (یہ تھا کہ ہم تیز چلیں) یہ نہیں تھا کہ راستہ میں چاہے وقت ہو جائے پھر بھی ہم نماز نہ پڑھیں۔ اس کا حضورﷺ سے تذکرہ کیا گیا۔ حضورﷺ نے ان دونوں قسم کے حضرات میں سے کسی کو بھی کچھ نہ کہا۔1 حضرت کعب بن مالک ؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ غزوہ خندق سے واپس ہوئے تو آپ نے (ہتھیار اتار دیے تھے، پھر) دوبارہ ہتھیار لگا لیے اور طہارت فرمائی۔ دُحیم راوی کی حدیث میں یہ ہے کہ (حضورﷺ نے غزوۂ خندق سے واپس آکر ہتھیار اتار دیے تھے) پھر حضرت جبرائیل ؑ نے آسمان سے حاضرِ خدمت ہو کر کہا: آپ لڑنے والے دشمن (بنو قُریظہ) کے خلاف اپنے مددگار جمع کر لیں۔ کیا بات ہے؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے ہتھیار اتار دیے ہیں، حالاںکہ ہم (فرشتوں نے) ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے۔ یہ سنتے ہی حضور ﷺ گھبرا کر اٹھے اور لوگوں کو بڑی تاکید سے یہ حکم دیا کہ وہ سب بنو قریظہ پہنچ کر ہی عصر کی نماز پڑھیں۔ چناںچہ صحابہ ہتھیار لگا کر چل پڑے اور بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے ہی سورج غروب ہونے لگا۔ اس پر صحابہ کا نمازِ عصر کے بارے میں اختلاف ہوگیا۔ کچھ لوگوں نے کہا: نماز پڑھ لو، حضورﷺ کا یہ مقصد نہیں تھا کہ تم نماز (وقت پر پڑھنا) چھوڑ دو۔ اور کچھ لوگوں نے کہا: حضورﷺ نے ہمیں بہت زور سے یہ تاکید فرمائی تھی کہ ہم بنو قریظہ پہنچ کر ہی نماز پڑھیں اس لیے ہم حضورﷺ کا حکم مان کر نماز نہیں پڑھ رہے ہیں، لہٰذا ہمیں کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ چناںچہ ایک جماعت نے راستہ میں عصر کی نماز ایمان کے ساتھ ثواب کی امید میں پڑھ لی، اور دوسری جماعت نے نہ پڑھی بلکہ بنو قریظہ پہنچ کر سورج غروب ہونے کے بعد ایمان کے ساتھ ثواب کی امید میں پڑھ لی۔ حضورﷺ نے (معلوم ہونے پر) دونوں جماعتوں میں سے کسی کو کچھ نہ کہا۔1 حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ نے جنگِ حنین کے دن دیکھا کہ لوگ میدان چھوڑ کر جا رہے ہیں تو فرمایا: اے عباس! زور سے یہ آواز لگاؤ، اے انصار کی جماعت! اے حدیبیہ میں درخت کے نیچے بیعت ہونے والو! (چناںچہ حضرت عباس ؓ نے زور سے یہ آواز لگائی) جس پر انصار نے فوراً جواب میں کہا: لبیک حاضر ہیں، لبیک حاضر ہیں۔ (اور آواز کی طرف آنے لگے) بعض صحابہ ؓ نے اپنی سواری کو آواز کی طرف موڑنا چاہا، لیکن گھبراہٹ اور پریشانی کی وجہ سے وہ سواری نہ مڑ سکی تو وہ اس سواری سے اُتر گئے اور سواری کو ویسے ہی چھوڑ دیا اور زرہ کو اُتار پھینکا اور تلوار اور ڈھال لے کر اس آواز کی طرف تیزی سے چل پڑے۔ اس طرح حضورﷺ کے پاس ان میں سے سو آدمی جمع ہوگئے۔ تو آپ نے دشمن کے حالات کا اندازہ لگائے بغیر ہی ان سے جنگ شروع کر دی اور بڑے گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ پہلی آواز تو انصار کے لیے لگوائی گئی تھی، آخرمیں خزرج قبیلہ کے لیے لگوائی، کیوںکہ یہ لوگ جم کر لڑنے والے تھے۔ پھر حضورﷺ نے اپنی سواریوں کی طرف جھانکا تو آپ کی نظر اس جگہ پڑی جہاں خوب زورشور سے تلواریں چل رہی تھیں۔ اس پر آپ نے فرمایا: اب تنّور گرم ہوا ہے یعنی خوب گھمسان کا رَن پڑا ہے۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں: (ان سو آدمیوں نے جنگ کی اور اللہ نے فورا ً فتح عطا فرما دی) اللہ کی قسم! بھاگ کر جانے والے لوگ ابھی واپس نہیں آئے تھے کہ کافر قیدی حضورﷺ کے پاس گرفتار ہو کر پہنچ چکے تھے۔ ان قیدیوں کے ہاتھ پیچھے رسیوں سے بندھے ہوئے تھے۔ کافروں میں بہت سے قتل ہوئے اور باقی سب شکست کھا کر بھاگ گئے۔ اور ان کافروں کا سارا مال، سامان، آل اولاد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بطورِ غنیمت کے دے دیا۔2 حضرت عباسؓ اسی حدیث کو اس طرح ذکر کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے (مجھ سے) فرمایا: اے عباس! کیکر (کے درخت کے نیچے بیعت ہونے) والوں کو آواز لگا کربلاؤ۔ (چناںچہ میں نے آواز لگائی) تو وہ میر ی آواز سن کر ایسی تیزی سے مڑے جیسے گائے اپنے بچھڑے کی طرف پلٹتی ہے، اور وہ سب یَا لَبَّیْکَاہْ یَا لَبَّیْکَاہْ کہہ رہے تھے۔1 حضرت عِکْرِمہؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ نے (حدیبیہ میں) مکہ والوں سے صلح کی تو قبیلہ خزاعہ والے زمانۂ جاہلیت سے ہی حضورﷺ کے حلیف چلے آرہے تھے، اورقبیلہ بنو بکر والے قریش کے حلیف تھے۔ اس لیے حضورﷺ کی صلح کے اندر قبیلہ خزاعہ والے بھی آگئے، اور قریش کی صلح میں بنو بکر داخل ہوگئے۔ قبیلہ خزاعہ اور بنو بکر کے درمیان پہلے سے لڑائی چلی آرہی تھی۔ اس صلح کے بعد قریش نے ہتھیار اور غلہ سے بنو بکر کی مدد کی اور بنو بکر نے خزاعہ پر اچانک چڑھائی کر دی اور ان پر غالب آکر ان کے کچھ آدمی قتل کر دیے۔ اس پر قریش کو یہ ڈر ہوا کہ وہ صلح کو توڑ چکے ہیں اس لیے انھوں نے ابو سفیان سے کہا: محمد (ﷺ) کے پاس جاؤ اورپورا زور لگاؤ کہ یہ معاہدہ برقرار رہے اور صلح باقی رہے۔ ابو سفیان مکہ سے چلے اور مدینہ پہنچے۔ حضورﷺ نے فرمایا: ابو سفیان تمہارے پاس آیا ہے اس کا کام بنے گا تو نہیں، لیکن یہ خوش ہو کر واپس جائے گا۔ چناںچہ ابو سفیان حضرت ابو بکر ؓ کے پاس آئے اور ان سے کہا: اے ابو بکر! آپ اس معاہدہ کو برقرار اور صلح کو باقی رکھیں۔ حضرت ابو بکر نے کہا: اس کا اختیار مجھے نہیں بلکہ اس کا اختیار تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ہے۔ پھر وہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے پاس گئے اور ان سے انھوں نے وہی بات کہی جو حضرت ابو بکر سے کہی تھی۔ حضرت عمر نے کہا: تم نے تو خود ہی صلح توڑی ہے اوراب جو صلح نئی ہو اسے خدا پرانا کرے، اور جو صلح سخت اور پرانی ہو اسے خدا توڑ دے۔ اس پر ابو سفیان نے کہا: میں نے تم جیسا اپنے قبیلہ کا دشمن کوئی نہیں دیکھا۔ پھر وہ حضرت فاطمہؓ کے پاس آئے اور ان سے کہا: اے فاطمہ! کیا تم ایسا کام کرنے کو بخوشی تیار ہو جس سے تم اپنی قوم کی عورتوں کی سردار بن جاؤ؟ پھر ان سے وہی بات کہی جو حضرت ابو بکر سے کہی تھی۔ حضرت فاطمہ نے کہا: اس کا اختیار مجھے نہیں ہے بلکہ اس کا اختیار تو اللہ اور اس کے رسولﷺ کو ہے۔ پھر انھوں نے حضرت علی ؓ کے پاس جا کر وہی بات کہی جو حضرت ابوبکر سے کہی تھی۔ حضرت علی نے ان سے کہا: میں نے تم سے زیادہ بھٹکا ہوا آدمی کبھی نہیں دیکھا۔ تم تو خود اپنے قبیلہ کے سردار ہو اس لیے تم اس معاہدہ کو برقرار رکھو اور اس صلح کو باقی رکھو (کسی کو مت توڑنے دو)۔ اس پرابو سفیان نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مار کر کہا: میں نے لوگوں کو ایک دوسرے سے پناہ دی۔ پھر مکہ واپس چلا گیا اور وہاںوالوں کو سارا حال بتایا۔ انھوں نے کہا: آپ جیسا قوم کا نمایندہ آج تک نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! آپ نہ تو لڑائی کی خبر لائے ہیں کہ ہم چوکنے ہو کر اس کی تیاری کرتے، اورنہ صلح کی خبر لائے ہیں کہ ہم جنگ سے مطمئن ہو کر آرام سے بیٹھ جاتے۔ اس کے بعد آگے فتحِ مکہ کا قصہ بیان کیا۔1 حضرت مصعب بن عمیر ؓ کے بھائی حضرت ابو عزیز بن عمیرؓ فرماتے ہیں: میں جنگِ بدر کے دن کافر قیدیوں میں تھا۔ حضورﷺ نے صحابہ کو فرمایا: تم ان قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اس کی میری طرف سے تم کو پوری تاکید ہے۔ میں انصار کی جما عت میں تھا۔ وہ جب بھی دن کو یا رات کو کھانا سامنے رکھتے تو حضورﷺ کی تاکید کی وجہ سے مجھے گندم کی روٹی کھلاتے اور خود کھجور کھاتے۔2 حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰؓ فرماتے ہیں: ایک دن حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضورﷺ منبر پر خطبہ دے رہے تھے۔حضرت عبد اللہ نے سنا کہ حضورﷺ فرما رہے ہیں: بیٹھ جاؤ۔ یہ وہیں مسجد سے باہر اسی جگہ بیٹھ گئے اور خطبہ ختم ہونے تک وہیں بیٹھے رہے۔ جب حضورﷺ کو یہ پتا چلا تو آپ نے ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اِطاعت کا شوق تمھیں اور زیادہ نصیب فرمائے۔3 حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ جمعہ کے دن منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: سب بیٹھ جاؤ۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ نے مسجد کے باہر سے ہی حضورﷺ کا یہ فرما ن سنا کہ سب بیٹھ جاؤ اور وہیں قبیلہ بنو غنم کے محلہ میں ہی بیٹھ گئے۔ کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے آپ کو ’’بیٹھ جاؤ‘‘ فرماتے ہوئے سنا تو وہیں اپنی جگہ بیٹھ گئے۔1 حضرت عطاء ؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ خطبہ دے رہے تھے۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اس وقت مسجد کے دروازے پر پہنچ چکے تھے، یہ سنتے ہی وہیں بیٹھ گئے۔ آپ نے ان سے فرمایا: اے عبد اللہ! اند ر آجاؤ۔2 حضرت جا برؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ جمعہ کے دن حضورﷺ جب منبر پر بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ حضرت ابنِ مسعود ؓ یہ سنتے ہی مسجد کے دروازے کے پاس بیٹھ گئے۔ حضورﷺ نے انھیں دیکھا کہ وہ دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں تو ان سے فرمایا: اے عبد اللہ بن مسعود! اندر آجاؤ۔3 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ ایک دن باہر تشریف لائے ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے ایک اونچا قبّہ دیکھا تو پوچھا: یہ کس کا ہے؟ آپ کے صحابہ نے عرض کیا: فلاں انصاری کا ہے۔ حضورﷺ سن کر خاموش ہو رہے اور آپ نے دل میں یہ بات رکھی۔ کسی دوسرے وقت وہ انصاری حا ضرِ خدمت ہوئے اور لوگوں کی موجودگی میں انھوں نے سلام کیا۔ حضورﷺ نے اِعراض فرمایا (اور سلام کا جواب بھی نہ دیا)۔ چند بار ایسے ہی ہو ا (کہ وہ سلام کرتے حضورﷺ اِعراض فرما لیتے) آخر وہ سمجھ گئے کہ حضورﷺ ناراض ہیں اس لیے اِعراض فرما رہے ہیں۔ انھوں نے صحابہ سے اس کی وجہ پوچھی اور یوں کہا: اللہ کی قسم! میں آج اللہ کے رسول کی نظروں کو پھرا ہوا پاتا ہوں، خیر تو ہے؟ صحابہ نے بتایا کہ حضورﷺ باہر تشریف لائے تھے تو تمہارا قبّہ دیکھا تھا۔ یہ سن کر وہ انصاری فوراً گئے اور قبّہ کو گرا کر بالکل زمین کے برابر کر دیا کہ نام ونشان بھی نہ رہا۔ (پھر آکر حضورﷺ سے عرض بھی نہ کیا) ایک دن حضورﷺ کا اس جگہ گزر ہوا تو آپ کو وہاں وہ قبّہ نظر نہ آیا۔ آپ نے پوچھا: اس قبّہ کا کیا ہوا؟ صحابہ نے عرض کیا: قبّہ والے انصاری نے آپ کے اِعراض کا ہم سے ذکر کیا تھا، ہم نے اسے بتا دیا تھا، انھوں نے آکر اسے بالکل گرا دیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: ہر تعمیر آدمی پر وبال ہے، مگر وہ تعمیرجو سخت ضروری اور مجبوری کی ہو۔ یہ روایت ’’ابو داؤد‘‘ کی ہے اور’’ ابنِ ماجہ‘‘ میں یہ روایت ذرا مختصر ہے اور اس میں یہ ہے کہ اس کے بعد کسی موقع پر حضورﷺ کا وہاں سے گزر ہوا۔ حضورﷺ کو وہ قبّہ وہاں نظر نہ آیا۔ حضورﷺ نے اس کے بارے میں پوچھا تو صحابہ نے بتایا کہ جب ان انصاری کو پتا چلا تو انھوں نے اس قبّہ کو گرا دیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے! اللہ اس پر رحم کرے! حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ فرماتے ہیں: میں حضورﷺ کے ساتھ عَقَبہ اَذَاخر گیا۔ (یہ مکہ اور مدینہ کے در میان ایک جگہ کا نام ہے) میرے اوپر سرخ رنگ کی ایک چادر تھی۔ حضور ﷺ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: یہ کیسا کپڑا ہے؟ میںسمجھ گیا کہ حضورﷺ کو یہ چادر پسند نہیں آئی۔ میں اپنے گھر واپس آیا، گھر والے تنّور میں آگ جلا رہے تھے، میں نے وہ چادر اس میں ڈال دی۔ پھر حضورﷺ کی خدمت میں آیا۔ آپ نے پوچھا: اس چادر کا کیا ہوا؟ میں نے کہا: میں نے اسے تنّور میں ڈال دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اپنے گھر والوں میں سے کسی کو کیوں نہ دے دی؟ (عورتوں کے لیے اس رنگ کے کپڑے پہننے میں حرج نہیں ہے)1 حضرت سہل بن حنظلیّہ عبشمی ؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: خریم اَسدی بہت اچھا آدمی ہے اگر اس میں دو باتیں نہ ہوں۔ ایک تو اس کے سر کے بال بہت بڑے ہیں، دوسرے وہ لنگی ٹخنوں کے نیچے باندھتا ہے۔ حضرت خریم کو حضورﷺ کو یہ ارشاد پہنچا تو فوراً چاقو لے کر بال کانوں کے نیچے سے کاٹ دیے اور لنگی آدھی پنڈلی تک باندھنا شروع کر دی۔2 حضرت جثّامہ بن مساحق بن ربیع بن قیس کنانی ؓ حضرت عمر ؓ کی طرف سے ہِرقل کے پاس قاصد بن کر گئے تھے۔ وہ فرماتے ہیں: میں ہِرقل کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ میں نے خیال نہ کیا کہ میرے نیچے کیا ہے؟ میں کس پر بیٹھ رہا ہوں؟ وہ سونے کی کرسی تھی۔ جب میں نے اسے دیکھا تو میں فوراً اس سے اُٹھ کر نیچے بیٹھ گیا تو ہِرقل ہنس پڑا اور اس نے مجھ سے پوچھا: ہم نے یہ کرسی تمہارے اِکرام کے لیے رکھی تھی تم اس سے کیوں اُٹھ گئے؟ میں نے کہا: میں نے حضورﷺ کو اس جیسی چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔1 حضرت رافع بن خدیج ؓ فرماتے ہیں: ایک دن میرے ماموں جان میرے پاس آئے اور انھوں نے کہا: ہمیں آج حضورﷺ نے ایک کام سے منع فرمایا ہے جو تمہارے نفع کا تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات ماننے میں ہمارا تمہارا زیادہ نفع ہے۔ پھر آگے زمین اُجرت پر دینے کے بارے میں حدیث بیان فرمائی۔2 قبیلہ بنو حارث بن خزرج کے حضرت محمد بن اسلم بن بَجْرہؓ عمر رسید ہ بڑے میاں تھے۔ وہ اپنا قصہ خود بیان کرتے ہیں کہ بعض دفعہ وہ (اپنے گاؤں سے) مدینہ منوّرہ کسی کام سے جاتے اور بازار میں اپنا کام پو را کر کے اپنے گاؤں میں واپس آجاتے۔ جب اپنی چادر اتار کر رکھ دیتے تو انھیں یاد آتا کہ انھوں نے حضورﷺ کی مسجد میں نماز نہیں پڑھی ہے ، تو یوں فرماتے: میں نے حضورﷺ کی مسجد میں دو رکعت نماز نہیں پڑھی ہے حالاںکہ حضورﷺ نے ہم سے فرمایا تھا: (اے قریب کے دیہات والو!) تم میں سے جو اس بستی (یعنی مدینہ منوّرہ) میں آئے وہ جب تک اس مسجدِ (نبوی) میں دو رکعت نماز نہ پڑھ لے اسے اپنے گاؤں واپس نہیں جانا چاہیے۔ چناں چہ یہ اپنی چادر لیتے اور مدینہ واپس جاتے اور حضورﷺ کی مسجد میں دو رکعت نماز پڑھتے۔3 حضرت مغیر ہ بن شعبہؓ فرماتے ہیں: میں نے انصار کی ایک لڑکی سے منگنی کی اور پھر حضور ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اسے دیکھ لو۔ اس سے تم دونوں کے درمیان محبت اور جوڑ بڑھے گا۔ میںنے اس لڑکی کے گھر جا کر اس کے والدین سے اس کا تذکرہ کیا۔ وہ دونوں (حیران ہو کر) ایک دوسرے کو دیکھنے لگے (اور لڑکی دکھانے میں شرم محسوس کرنے لگے) اس لیے میں کھڑا ہو کر گھر سے باہر آگیا۔ اس پر لڑکی نے کہا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ۔ اوروہ خود پردے کے ایک طرف کھڑی ہو گئی، اور اس نے کہا: اگر حضورﷺ نے آپ کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ آپ مجھے دیکھیں تو ضرور دیکھ لیں ورنہ میری طرف سے دیکھنے کی بالکل اجازت نہیں ہے۔ چناںچہ میں نے اسے دیکھا اور پھر میں نے اس سے شادی کی۔ میں نے جتنی عورتوں سے شادی کی ان میں سے سب سے زیادہ مجھے اسی سے محبت تھی اور اس کی قدر میری نگاہ میں تھی، حالاںکہ میں نے ستّر عورتوں سے شادی کی ہے۔ (ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویاں نہیں ہوتی تھیں)1 ’’ابو داؤد‘‘ میں یہ روایت ہے کہ حضرت معرور بن سُوَید ؓکہتے ہیں: میں نے رَبذہ بستی میں حضرت ابو ذرؓ کو دیکھا کہ ان کے جسم پر ایک موٹی چادر تھی اور ان کے غلام کے جسم پر بھی ویسی ہی موٹی چادر تھی۔ لوگوں نے کہا: اے ابو ذر! اگر آپ اپنے غلام والی چادر لے کر اپنی اس چادر کے ساتھ ملا کر خود پہن لیتے تو آپ کا جوڑا پورا ہو جاتا، اور اپنے غلام کو کوئی اور کپڑا پہننے کو دے دیتے۔ تو حضرت ابو ذر نے فرمایا: ایک مرتبہ میں نے ایک آدمی کو گالی دی اور اس کی ماں عجمی تھی۔ میں نے اسے ماں کے نام سے عار دلائی (یہ دوسرے آدمی حضرت بلال ؓ تھے تو ان سے کہہ دیا کہ ہے نا حبشن کا بیٹا) اس نے جا کر حضورﷺ سے میری شکایت کر دی۔ حضورﷺ نے فرمایا! اے ابو ذر! تمہارے اندر ابھی تک جاہلیت والی باتیں ہیں۔ یہ غلام تمہارے بھائی ہیں، اللہ نے تمھیں ان پر فضیلت دی ہے، لہٰذا جس غلام سے تمہاری طبیعت کا جوڑ نہ بیٹھے تم اسے بیچ دو اور اللہ کی مخلوق کو مت ستاؤ۔ ’’بخاری‘‘ ، ’’مسلم‘‘ اور’’ ترمذی‘‘ کی روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: یہ غلام تمہارے بھائی ہیں، اللہ نے انھیں تمہارا ما تحت بنایا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ جس کے بھائی کو اس کا ما تحت بنائیں تو اسے چاہیے کہ جو وہ خود کھاتا ہے اسی میں سے اپنے بھائی کو کھلائے، اور جو وہ خود پہنتا ہے اسی میں سے اپنے بھائی کو پہنائے، اور اسے ایسا کام نہ کہے جو اس کی طاقت سے زیادہ ہو، اور اگر اسے ایسا کام کہہ دے تو پھر اس کی اس کام میں مدد کرے۔1