اسلام کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے جاہلیت کے تعلقات کو بالکل ختم کر دینا
صحابۂ کرام ؓ کا حضورﷺ کی محبت کو اپنی محبت پر مقدم رکھنا
حضرت انسؓ حضرت ابو قحافہؓ کے اسلام لانے کے قصہ میں بیان کرتے ہیں: جب حضرت ابو قحافہ نے حضورﷺ سے بیعت ہونے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تو حضرت ابوبکرؓ رو پڑے۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیوں روتے ہو؟ حضرت ابو بکر نے عرض کیا: اگر اس وقت میرے والد کے ہاتھ کی جگہ آپ کے چچا کا ہاتھ (بیعت ہونے کے لیے) ہوتا اور وہ مسلمان ہوتے اور اللہ تعالیٰ ان کے اسلام لانے سے آپ کی آنکھ ٹھنڈی کر دیتے، تو یہ میرے لیے میرے والد کے مسلمان ہونے سے زیادہ خوشی کا باعث ہوتا اور مجھے زیادہ پسند ہوتا (کیوںکہ آپ کو چچا کے اسلام لانے سے زیادہ خوشی ہوتی)۔1
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں: حضرت ابو بکر ؓ اپنے والد حضرت ابو قحافہ ؓ کو فتحِ مکہ کے دن ہاتھ پکڑ کر حضورﷺ کی خدمت میں لے کر آئے، کیوںکہ وہ بوڑھے بھی تھے اور نابینا بھی۔ حضورﷺ نے حضرت ابو بکر سے فرمایا: ارے! تم نے ان بڑے میاں کو گھر ہی کیوں نہ رہنے دیا ہم ان کے پاس چلے جاتے؟ حضرت ابو بکر نے کہا: یا رسو ل اللہ! میں نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو (خود چل کر حا ضرِ خدمت ہونے کا) اجر عطا فرمائے۔ مجھے اپنے والد کے اسلام لانے سے جتنی خوشی ہو رہی ہے (آپ کے چچا) ابو طالب کے اسلام لانے سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی، کیوںکہ اس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں، اور آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنا ہی میری زندگی کا مقصود ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم ٹھیک کہہ رہے ہو (تمہارے دل میں یہی بات ہے)۔2
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں: جنگِ بدر کے دن دوسرے قیدیوں کے ساتھ حضرت عباس ؓ بھی قید ہوئے تھے۔ انھیں ایک انصاری نے قید کیا تھا۔ انصار نے انھیں قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔ حضورﷺ کو اس کی خبر پہنچی توآپ نے فرمایا: آج رات میں اپنے چچا عباس کی وجہ سے سو نہیں سکا، کیوںکہ انصار کہہ چکے ہیں کہ وہ عبا س کو قتل کر دیں گے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: کیا میں انصار کے پاس جاؤں (اور ان سے عباس کو لے آؤں؟) حضورﷺ نے فرمایا: ہاں جاؤ۔ چناںچہ حضرت عمر نے جا کر انصار سے کہا: عباس کو چھوڑ دو۔ انصار نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم انھیں نہیں چھوڑیں گے۔ حضرت عمر نے کہا: اگر ان کے چھوڑنے سے اللہ کے رسول ﷺ راضی اور خوش ہوں تو پھر؟ انصار نے کہا: اگر ان کے چھو ڑنے سے اللہ کے رسول ﷺ راضی اور خوش ہیں تو پھر تم ان کو لے لو۔ چناںچہ حضرت عمر نے انصار سے حضرت عباس کو لے لیا۔ جب وہ حضرت عمر کے ہاتھ میں آگئے تو حضرت عمر نے ان سے فرمایا: اے عباس! مسلمان ہوجاؤ۔ اللہ کی قسم! تمہارا مسلمان ہونا مجھے (اپنے باپ) خطاب کے مسلمان ہونے سے زیادہ محبوب ہے۔ اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ حضور ﷺ کو تمہارا مسلما ن ہونا بہت زیادہ پسند ہے۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمرﷺ نے حضرت عباس ؓ سے کہا: اسلام لے آؤ، تمہارا اسلام لانا مجھے (اپنے باپ) خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ محبوب ہے، اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ حضورﷺ یہ چاہتے ہیں کہ تمھیں اسلام لانے میں سبقت حاصل ہو جائے۔2
حضرت شعبی ؓکہتے ہیں: حضرت عباس ؓ نے اپنے کسی کام کو کروانے کے لیے حضرت عمرؓ پر بہت زیادہ تقاضا کیا اور ان سے کہا: اے امیر المؤمنین! آ پ ذرا یہ بتائیں کہ اگر آپ کے پاس حضرت موسیٰ ؑ کے چچا مسلمان ہو کر آجاتے تو آپ ان کے ساتھ کیا کرتے؟ حضرت عمر نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتا۔ حضرت عباس نے کہا: میںنبی کریم حضرت محمدﷺ کا چچا ہوں۔ حضرت عمر نے کہا: اے ابو الفضل! (یہ حضرت عباس کی کنیت ہے) آپ کا کیا خیال ہے؟ اللہ کی قسم! آپ کے والد مجھے اپنے والد سے زیادہ محبوب ہیں۔ حضرت عباس نے کہا: واقعی اللہ کی قسم؟ حضرت عمر نے کہا:ہاں، اللہ کی قسم! کیوںکہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کے والد حضورﷺ کو میرے والد سے زیادہ محبوب ہیں اور میں حضورﷺ کی محبت کو اپنی محبت پر ترجیح دیتا ہوں۔3
حضرت ابو جعفر محمد بن علی ؓکہتے ہیں: حضرت عباس ؓ حضرت عمر ؓ کے پاس آئے اور ان سے کہا: نبی کریمﷺ نے مجھے بحرین کا علاقہ بطور جاگیر کے دیا تھا۔ حضرت عمر نے پوچھا: اس بات کا اور کس کو علم ہے؟ حضرت عباس نے کہا: حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کو۔ چناںچہ حضرت عباس حضرت مغیرہ کو لے آئے اور حضرت مغیرہ نے ان کے حق میں گواہی دی، لیکن حضرت عمر نے حضرت عباس کے حق میں فیصلہ نہ کیا گویا کہ انھوں نے حضرت مغیرہ کی گواہی کو قبول نہ کیا۔ اس پرحضرت عباس نے حضرت عمر کو سخت بات کہہ دی۔ حضرت عمر نے (حضرت عباس کے بیٹے حضرت عبد اللہ سے) کہا: اے عبد اللہ! اپنے والد کا ہاتھ پکڑ لو۔ اللہ کی قسم! اے ابو الفضل! اگر میرے والد خطّاب مسلمان ہو جاتے تو ان کے اسلام لانے پر مجھے جتنی خوشی ہوتی مجھے آپ کے اسلام لانے پر اس سے زیادہ خوشی ہوئی تھی، کیوںکہ آپ کا اسلام حضورﷺ کی خوشی کا باعث تھا۔1
حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ مدینہ منوّرہ تشریف لائے تو شروع میں ہما را دستور یہ تھا کہ جب ہم میں سے کسی کا انتقال ہونے لگتا ہم لوگ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر خبر کرتے، حضورﷺ اس کے پاس تشریف لے جاتے اور اس کے لیے استغفار فرماتے، یہاں تک کہ جب اس کا انتقال ہو جاتا تو حضورﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ واپس تشریف لے آتے، اور کبھی اس کے دفنانے تک وہیں تشریف رکھتے، اس طرح آپ کو بعض دفعہ وہاں بڑی دیر لگ جاتی۔ جب ہم لوگوں نے محسوس کیا کہ اس طرح حضورﷺ کو بڑی مشقت ہوتی ہے تو ہم نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ ہم حضورﷺ کو انتقال ہو جانے کے بعد خبر کیا کریں تو اس سے حضورﷺ کو زیادہ ٹھہرنے کی مشقت نہ ہوگی۔ چناںچہ پھر ہم لوگ ایسے ہی کرنے لگ گئے اور حضورﷺ کو ساتھی کے انتقال کے بعد خبر کرتے۔ آپ تشریف لا کر اس کی نمازِ جنازہ پڑھتے، اس کے لیے استغفار کرتے۔ کبھی نمازِ جنازہ سے فارغ ہو کر آپ واپس تشریف لے جاتے اور کبھی دفن تک ٹھہرے رہتے۔ ایک عرصہ تک ہمارا یہی دستور رہا۔
پھرہم نے آپس میں کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم لوگ حضورﷺ کو تشریف لانے کی زحمت نہ دیا کریں، بلکہ ہم جنازہ کو اٹھا کر حضورﷺ کے گھر کے پاس لے جایا کریں، پھر حضورﷺ کو خبر کیا کریں اور حضور ﷺ اپنے گھر کے پاس ہی اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیا کریں تو اس میں حضور ﷺ کو زیادہ سہولت ہوگی۔ چناںچہ ہم نے پھر ایسا کرنا شروع کر دیا۔ حضرت محمد بن عمر کہتے ہیں: اس وجہ سے اس جگہ کو جنازہ گاہ کہا جاتا ہے، کیوںکہ جنازے اٹھا کر وہاںلائے جاتے تھے اور پھر اس کے بعد سے آج تک یہی سلسلہ چلا آرہا ہے کہ لوگ اپنے جنازے وہاں لاتے ہیں اور وہاں ان پر نمازِ جنازہ پڑھی جاتی ہے۔1
حضرت اسلم ؓکہتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ حضورﷺ کی صاحب زادی حضرت فاطمہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: اے فاطمہ! اللہ کی قسم! میں نے ایسا کوئی نہیں دیکھا جس سے حضو رﷺ کو آپ سے زیادہ محبت ہو۔ اللہ کی قسم! آپ کے والد کے بعد آپ سے زیادہ مجھے کسی سے محبت نہیں ہے۔2