حضورﷺ کی عزّت اور تعظیم کرنا
حضورﷺ کی عزّت اور تعظیم کرنا
ضرت انس ؓ فرماتے ہیں: صحا بۂ کرام مہاجرین اور انصار بیٹھے ہوئے ہوتے تھے اور ان میںحضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ بھی ہوتے۔ حضورﷺ ان کے پاس تشریف لے آتے تو حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے علاوہ اور کوئی بھی حضورﷺ کی طرف (عظمت کی وجہ سے) نگاہ نہ اُٹھاتا۔ یہ دونوں حضرات آپ کی طرف دیکھتے اور آپ ان دونوںکی طرف دیکھتے۔ دونوں حضورﷺ کو دیکھ کر مسکراتے اور حضورﷺ انھیں دیکھ کر مسکراتے (کیوںکہ حضورﷺ کو ان دونوں حضرات سے بہت تعلق اور بہت زیادہ مناسبت تھی)۔3
حضرت اُسامہ بن شریک ؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ہم لوگ حضورﷺ کے پاس ایسے سکون سے بیٹھے ہوئے تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیںیعنی بالکل حرکت نہیں کر رہے تھے، کیوںکہ پرندہ ذرا سی حرکت سے اُڑ جاتا ہے۔ ہم میں سے کوئی آدمی بات نہیں کر رہا تھا کہ اتنے میں کچھ لوگ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے پوچھا: اللہ کے بندوں میں سے کون اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: ان میں سے سب سے اچھے اخلاق والا۔4
حضرت اُسامہ بن شریک ؓ فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے صحابہ آپ کے اردگرد ایسے سکون سے بیٹھے ہوئے تھے کہ جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں۔1
حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں: میں کسی چیز کے بارے میں حضورﷺ سے پوچھنے کا ارادہ کرتا، لیکن حضورﷺ کی ہیبت کی وجہ سے دو سال بغیر پوچھے گزار دیتا ۔2
حضرت زہری ؓکہتے ہیں کہ مجھے ایک قابلِ اعتماد انصاری نے یہ بیان کیا ہے کہ حضورﷺ جب وضو فرماتے یا کھنکارتے تو صحا بہؓ جھپٹ کر وضو کا پانی اور کھنکار لے لیتے، اور اسے اپنے چہرے اور جسم پر مَل لیتے۔ ایک مرتبہ حضورﷺ نے پوچھا: تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ صحا بہؓ نے عرض کیا: ہم اس سے برکت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کا محبوب بننا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ بات سچی کرے، امانت ادا کرے اور اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔3
امام بخا ری ؓ نے حضرت مِسْوربن مخرمہ اور مروان ؓ سے صلحِ حدیبیہ کی جو حدیث بیان کی ہے وہ جلدِ اوّل میں صفحہ ۱۷۸ پرگزرچکی ہے کہ پھر حضرت عروہ حضورﷺ کے صحابہ کو بڑے غور سے دیکھنے لگے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! حضورﷺ جب بھی تھوکتے تو اسے کوئی نہ کوئی صحابی اپنے ہاتھ پر لے لیتا، اور اس کو اپنے چہرے اور جسم پر مَل لیتا، اور حضورﷺ جب انھیں کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے تو صحا بہ اسے فوراً کرتے، اور جب آپ وضو فرماتے تو آپ کے وضو کے پانی کو لینے کے لیے صحابہ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑتے اور لڑنے کے قریب ہوجاتے، اور جب آپ گفتگو فرماتے تو صحا بہؓ آپ کے سامنے اپنی آوازیں پست کر لیتے، اور صحابہ کے دل میں آپ کی اتنی عظمت تھی کہ وہ آپ کو نظر بھر کر نہیں دیکھ سکتے تھے۔ چناںچہ عروہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس گئے اور ان سے کہا کہ میں بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار میں گیا ہوں، قیصر وکسریٰ اور نجاشی کے دربار میں گیا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں نے ایسا کوئی بادشاہ نہیںدیکھا جس کی تعظیم اس کے درباری اتنی کرتے ہوں جتنی محمد کے صحابہ محمد(ﷺ) کی کرتے ہیں۔
حضرت ابو قُراد سُلَمِیؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا۔ پھر آپ نے اس میں ہاتھ ڈال کر وضو کرنا شروع کیا۔ ہم حضور ﷺ کے وضو کے پانی کو ہاتھوں میں لے کر پیتے جاتے۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا: تم اس طرح کیوں کر ر ہے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسو ل ﷺ کی محبت کی وجہ سے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول بھی تم سے محبت کرنے لگیں تو جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے اور رکھنے والا مطالبہ کرے تو تم وہ امانت ادا کرو، اور جب تم بات کرو تو سچ بولو، اور جو تمہارا پڑوسی بن جا ئے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔1
حضرت عامر بن عبد اللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ان کے والد (حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ) نے انھیں یہ قصہ سنایا کہ وہ حضورﷺ کی خدمت میں گئے۔ حضورﷺ اس وقت پچھنے لگوا رہے تھے۔ فارغ ہونے کے بعد حضورﷺ نے فرمایا: اے عبد اللہ! یہ خون لے جاؤ اور ایسی جگہ ڈال کر آؤ جہاں تمھیں کوئی نہ دیکھے۔ حضورﷺ کے گھر سے باہر آکر میرے والد نے وہ خون پی لیا۔ جب حضورﷺ کی خدمت میں واپس پہنچے تو حضورﷺ نے ان سے پوچھا: اے عبد اللہ! تم نے خون کا کیا کیا؟ انھوں نے کہا: ایسی چھپی ہوئی جگہ میں ڈال کر آیا ہوں کہ مجھے یقین ہے کہ لوگوں میں سے کسی کو پتہ نہ چل سکے گا۔ حضورﷺ نے فرمایا: شاید تم نے اسے پی لیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہا ں۔ حضو رﷺ نے فرمایا: تم نے خون کیوں پیا؟ لوگوں کو تم سے ہلاکت ہو اور تمھیں لوگوں سے۔ (مروان اور عبد الملک کی طرف سے جو فتنہ پیش آیا اس کی طرف اشارہ ہے) حضرت ابو موسیٰ کہتے ہیں: حضرت ابو عاصم نے فرمایا کہ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر میں جو اتنی زیادہ طاقت تھی وہ اس خون کی برکت سے تھی۔2
ایک روایت میں یہ ہے: لوگوں کا یہ خیال ہے کہ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ میں جو بہت زیادہ طاقت تھی وہ حضورﷺ کے خون کی قوت کی وجہ سے تھی۔ (حضورﷺ کے فضلات اور خون سب پاک تھے)
حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کے غلام حضرت کیسان ؓ کہتے ہیں: حضرت سلمان ؓ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر کے پاس ایک تسلا ہے جس میں سے کچھ پی رہے ہیں۔ اسے پی کر حضرت عبد اللہ حضورﷺ کی خدمت میں آئے۔ حضورﷺ نے فرمایا: کام سے فارغ ہوگئے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ حضرت سلمان نے کہا: یا رسول اللہ! کیا کام تھا؟ حضورﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے پچھنے کا دھووَن اسے گرانے کے لیے دیا تھا۔ حضرت سلمان نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! انھوں نے تو اسے پی لیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم نے اسے پی لیا ہے؟ حضرت عبد اللہ نے کہا: جی ہاں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیوں؟ حضرت عبد اللہ نے کہا: میں نے چاہا کہ حضور ﷺ کا خون مبارک میرے پیٹ میں چلا جائے۔ حضورﷺ نے حضرت(عبد اللہ) بن زبیر کے سر پر ہاتھ پھیر کر ارشاد فرمایا: تمھیں لوگوں سے ہلاکت ہو اور لوگوں کو تم سے۔ تمھیں آگ نہیں چھوئے گی، صرف اللہ تعالیٰ کی قسم پوری کرنے کے لیے پلِ صراط پر سے گزرنا پڑے گا۔1
حضرت سفینہؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضورﷺ نے پچھنے لگوائے اور فرمایا: یہ خون لے جاؤ اور اسے ایسی جگہ دفن کر دو جہاں جانوروں، پرندوں اور انسانوں سے محفوظ رہے۔ میں خون لے گیا اور چھپ کر اسے پی لیا، پھر آکر میں نے حضورﷺ کو بتایا تو آپ ہنس پڑے۔2
حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں: جب جنگِ اُحد کے دن حضورﷺ کا چہرۂ مبارک زخمی ہوگیا تو میرے والد حضرت مالک بن سِنَان ؓ نے حضورﷺ کے خون کو چوس کر نگل لیا۔ لوگوں نے ان سے کہا: ارے میاں! کیا تم خون پی رہے ہو؟ انھوں نے کہا: ہاں، میں حضور ﷺ کا خون مبارک پی رہا ہوں۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا: ان کے خون کے ساتھ میرا خون مل گیا ہے، لہٰذا انھیں جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔1
حضرت حکیمہ بنتِ اُمیمہ ؓ اپنی والدہ سے نقل کرتی ہیں کہ حضورﷺ کا ایک لکڑی کاپیالہ تھا جسے آپ اپنے تخت کے نیچے رکھتے تھے اور کبھی (رات کو) اس میں پیشاب کر لیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ نے کھڑے ہو کر اسے تلاش کیا وہ پیالہ نہ ملا۔ آپ نے پوچھا کہ پیالہ کہاں ہے؟ گھر والوں نے بتایا کہ حضرت اُمّ سلمہؓ کی خادمہ حضرت سُرّہ ؓ جو اُن کے ساتھ حبشہ سے آئی ہے اس نے (اس پیالہ کا پیشاب) پی لیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اس نے جہنم کی آگ سے بڑی مضبوط آڑ بنالی ہے۔2
حضرت ابو ایوبؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ جب مدینہ منوّرہ تشریف لائے تو حضور ﷺ نے میرے ہاں قیام فرمایا۔ حضورﷺ نیچے ٹھہرے تھے اور میں (بمع اہل وعیال) اوپر کی منزل میں۔ جب رات ہوگئی تو مجھے خیال آیا کہ میں اس کمرے کی چھت پر ہوں جس میں نیچے حضورﷺ ہیں اور میں حضورﷺ کے اور وحی کے درمیان حائل ہو رہا ہوں، اس لیے ساری رات مجھے نیند نہ آئی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سونے کی حالت میں اوپر ہم کچھ ہلیں جلیں اور اس سے غبار حضورﷺ پر گرے جس سے حضورﷺ کو تکلیف ہو۔ صبح کو میں نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! آج ساری رات نہ مجھے نیند آئی اور نہ میری بیوی اُمّ ایوب کو۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے ابو ایوب! کیوں؟ میں نے عرض کیا: مجھے یہ خیال آگیا کہ میں اس کمرے کی چھت پر ہوں جس میں آپ مجھ سے نیچے ہیں، میں کچھ ہلوں گا تو اس سے غبار آپ پر گرے گا جس سے آپ کو تکلیف ہوگی۔ اور دوسری بات یہ کہ میں آپ کے اور وحی کے درمیان حائل ہو رہا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے ابو ایوب! ایسا نہ کرو۔ کیا میں تمھیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ جب تم انھیں صبح اور شام دس دس مرتبہ کہو گے تو تمھیں دس نیکیاں ملیں گی اور تمہارے دس گناہ مٹا دیے جائیں گے اور ان کی وجہ سے تمہارے دس درجے بلند کردیے جائیں گے اور قیامت کے دن تمھیں دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔ اور وہ کلمات یہ ہیں: لَا إلٰہَ إلَّا اللّٰہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ لَا شَرِیْکَ لَہٗ۔1
حضرت ابو ایوب ؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ میرے مہمان بنے تو میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! مجھے یہ اچھا معلوم نہیں ہوتا کہ میں اوپر ہوں اور آپ نیچے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ہمیں سہولت اسی میں ہے کہ ہم نیچے رہیں، کیوںکہ ہمارے پاس لوگ آتے رہتے ہیں۔ میں نے ایک رات دیکھا کہ ہمارا گھڑا ٹوٹ گیا اور اس کا پانی فرش پر پھیل گیا۔ میں اور اُمّ ایوب دونوں اپنا کمبل لے کر کھڑے ہوگئے اور اس کمبل سے وہ پانی خشک کرنے لگے۔ ہمیں یہ ڈر تھا کہ ہماری طرف سے کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جس سے حضورﷺ کو تکلیف ہو، یعنی چھت سے پانی کہیں حضورﷺ پر نہ ٹپکنے لگ جائے۔ اس کمبل کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور لحاف بھی نہیں تھا (وہ کمبل گیلا ہوگیا اور ہم نے ساری رات جاگ کر گزاری)۔
ہم کھانا تیار کر کے حضورﷺ کی خدمت میں بھیج دیا کرتے۔ جب آپ بچا ہوا کھانا واپس کرتے تو ہم اس جگہ سے خاص طور سے کھانا کھاتے جہاں آپ کی مبارک انگلیاں لگی ہوتیں، یوں ہم حضورﷺ کی برکت حاصل کرنا چاہتے۔ ایک رات آپ نے کھانا واپس کیا ہم نے اس میں لہسن یا پیاز ڈالا تھا۔ ہمیں اس میں حضورﷺ کی انگلیوں کا کوئی نشان نظر نہ آیا۔ میں نے جا کر حضورﷺ سے عرض کیا کہ ہم آپ کی انگلیوں و الی جگہ سے برکت کے لیے کھانا کھایا کرتے تھے، لیکن آج آپ نے کھانا ویسے ہی واپس کر دیا ہے اس میں سے کچھ نہیں کھایا۔ حضورﷺ نے فرمایا: مجھے اس کھانے سے لہسن یا پیاز کی بو محسوس ہوئی اور میں اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتا ہوں اور فرشتوں سے بھی بات کرتا ہوں اس لیے میں نہیں چاہتا کہ میرے منہ سے کسی طرح کی بُو آئے، لیکن آپ لوگ یہ کھانا کھالو۔2
ابو نعیم اور ابنِ عساکر کی روایت میں یہ مضمون یوں ہے: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کسی طرح مناسب نہیں ہے کہ میں آپ کے اوپر رہوں، آپ بالاخا نہ میں تشریف لے چلیں۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا کہ میرا سامان منتقل کر دو۔
چناںچہ آ پ کا سامان اوپر منتقل کر دیا گیا اور آپ کا سامان بہت تھوڑا سا تھا۔1
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں: حضرت عباسؓ کے گھر کا پرنالہ حضرت عمرؓ کے راستہ پر گرتا تھا۔ ایک دفعہ جمعہ کے دن حضرت عمر نے نئے کپڑے پہنے اس دن حضرت عباس کے لیے دو چوزے ذبح کیے گئے تھے۔ جب حضرت عمر پرنالے کے پاس پہنچے تو ان چوزوں کا خون اس پرنالے سے پھینکا گیا جو حضرت عمر پر گرا۔ حضرت عمر نے فرمایا: اس پرنالے کو اُکھیڑ دیا جائے۔ اور گھر واپس جا کر وہ کپڑے اُتار دیے اور دوسرے پہنے، پھر مسجد میں آکر لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اس کے بعد حضرت عباس حضرت عمر کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہی وہ جگہ ہے جہاں حضورﷺ نے یہ پرنالہ لگایا تھا۔ حضرت عمر نے حضرت عباس سے کہا: میں آپ کو قسم دے کر کہتا ہوں کہ آپ میری کمر پر چڑھ کر یہ پرنالہ وہاں ہی لگائیں جہاں حضورﷺ نے لگایا تھا۔ چناںچہ حضرت عباس نے ایسا ہی کیا۔2
ابنِ سعد کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت عباس ؓ کو اپنی گردن پر اٹھایا اور حضرت عباس نے حضرت عمرکے کندھوں پر اپنے دونوں پاؤں رکھ کر پرنالہ جہاں تھا وہاں دوبارہ لگا دیا۔3
حضرت ابراہیم بن عبد الرحمن بن عبد القاری ؓ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ حضرت ابنِ عمر نے اپنا ہاتھ منبر پر اس جگہ رکھا جہاں حضورﷺ بیٹھا کرتے تھے پھر اسے اپنے چہرے پر رکھ لیا۔1
حضرت یزیدبن عبد اللہ بن قُسَیْط ؓ کہتے ہیں: میں نے حضورﷺ کے بہت سے صحابہ کو دیکھا کہ جب مسجد خالی ہو جاتی تو حضورﷺ کی قبرِ اطہر کی جانب منبر کی جو چمک دار اور چکنی مٹھی ہے، اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ کر قبلہ کی طرف منہ کر کے دعا کرتے تھے۔2