اسلام کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے جاہلیت کے تعلقات کو بالکل ختم کر دینا
حضراتِ صحابۂ کرام ؓ کے دلوں میں حضور ﷺ کی محبت
حضرت عبد اللہ بن ابی بکر ؓ فرماتے ہیں: حضرت سعد بن معاذ ؓ نے عرض کیا: یا نبی اللہ! کیا ہم آپ کے لیے ایک چھپّر نہ بنا دیں جس میں آپ رہیں، اور آپ کی سواریاں تیار کر کے آپ کے پاس کھڑی کر دیں، پھر ہم دشمن سے لڑنے چلے جائیں؟ اگر اللہ نے ہمیں عزت دی اور ہمیں دشمن پر غالب کر دیا تو پھر تو یہ وہ بات ہوگی جو ہمیں پسند ہے، اور اگر خدانخواستہ دوسری صورت پیش آئی (یعنی ہم ہار جائیں) تو آپ سواریوں پربیٹھ کر ہماری قوم کے ان لوگوں کے پاس چلے جائیں جو مدینہ منوّرہ پیچھے رہ گئے ہیں، کیوںکہ مدینہ منوّرہ میں ایسے بہت سے لوگ رہ گئے ہیں کہ ہمیں ان سے زیادہ آپ سے محبت نہیں ہے (بلکہ ہمارے برابر ہی ہے)۔ اگر انھیں ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ آپ کو لڑائی لڑنی پڑے گی تو وہ ہرگز مدینہ میں پیچھے نہ رہتے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ آپ کی حفاظت فرمائیں گے، وہ آپ کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کریں گے اور آپ کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کریں گے۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے حضرت سعد ؓ کی بڑی تعریف فرمائی اور ان کے لیے دعائے خیر فرمائی۔ اور پھر حضور ﷺ کے لیے ایک چھپّر بنایا گیا جس میں آپ رہے۔1
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: ایک آدمی نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے آپ سے اپنی جان سے اور اپنی اولاد سے بھی زیادہ محبت ہے۔ میں بعض دفعہ گھر میں ہوتا ہوں آپ مجھے یاد آجاتے ہیں، تو پھر جب تک حاضرِ خدمت ہو کر آپ کی زیارت نہ کر لوں مجھے چین نہیں آتا۔ اب مجھے یہ خیال آیا ہے کہ میرا بھی انتقال ہو جائے گا آپ بھی دنیا سے تشریف لے جائیں گے۔ اور آپ تو نبیوں کے ساتھ سب سے اوپر کی جنت میں چلے جائیں گے اور میں نیچے کی جنت میں رہ جاؤں گا، تو مجھے ڈر ہے کہ میں وہاں آپ کی زیارت نہ کر سکوں گا (تو پھر میرا جنت میں کیسے دل لگے گا)۔ ابھی حضورﷺ نے اس کا کچھ جواب نہیں دیا تھا کہ اتنے میں حضرت جبرائیل ؑ یہ آیت لے کر آئے:
{وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰئِٓکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآئِ وَالصّٰلِحِیْنَ}2
اور جو شخص اللہ ورسول کا کہنا مان لے گا تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیا اور صدیقین اور شہدا اور صلحا ۔3
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے آپ سے اتنی زیادہ محبت ہے کہ جب آپ مجھے یاد آجاتے ہیں تو اگر میں آکر آپ کی زیارت نہ کر لوں تو مجھے ایسے لگتا ہے کہ جیسے میری جان نکل جائے گی۔ اب مجھے یہ خیال آیا کہ اگر میں جنت میں گیا بھی تو مجھے آپ سے نیچے کی جنت ملے گی (اور میں وہاں آپ کی زیارت نہ کر سکوں گا) تو مجھے جنت میںبڑی مشقت اٹھانی پڑے گی، اس لیے میں چاہتا ہوں جنت کے درجہ میں میں آپ کے ساتھ ہو جاؤں (تا کہ جب دل چاہے گا آپ کی زیارت کر لیا کروں گا)۔ حضورﷺ نے کچھ جواب نہ دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آ یت نا زل فرمائی:
{وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰئِٓکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیِّیْنَ}
پھر حضورﷺ نے اس آدمی کو بلایا اور یہ آیت پڑھ کر سنائی۔1
’’بخاری‘‘ اور ’’مسلم‘‘ میں یہ حدیث ہے کہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے آکر حضورِ اقدس ﷺ سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی؟ حضورﷺ نے فرمایا: تم نے اس کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا: اور تو کچھ نہیں، بس یہ ہے کہ مجھے اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت ہے۔ آپ نے فرمایا: تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تمھیں یہاں محبت ہوگی۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے جو یہ فرمایا ہے کہ تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تمھیں محبت ہوگی، اس سے ہمیں جتنی خوشی ہوئی اتنی خوشی اور کسی چیز سے نہیں ہوئی۔ اور مجھے نبی کریم ﷺ اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ سے محبت ہے۔ اور چوںکہ مجھے ان حضرات سے محبت ہے اس وجہ سے مجھے پوری اُمید ہے کہ میں ان ہی حضرات کے ساتھ ہوں گا۔
’’بخاری‘‘کی ایک روایت میں یہ ہے کہ ایک دیہاتی آدمی حضورِ اقدسﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: یا رسو ل اللہ! قیامت کب قائم ہوگی؟ حضورﷺ نے فرمایا: تیرا بھلا ہو! تم نے اس کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا: اور توکچھ نہیں تیار کر رکھا ہے، بس اتنی بات ضرور ہے کہ مجھے اللہ اور اس کے رسو ل ﷺ سے محبت ہے۔ آپ نے فرمایا: تمھیں جس سے محبت ہوگی تم اسی کے ساتھ ہو گے۔ حضرت انس نے پوچھا: یہ بشارت ہمارے لیے بھی ہے؟ (یا صرف اسی دیہاتی کے لیے ہے؟) حضورﷺ نے فرمایا: ہاں، تمہارے لیے بھی ہے۔ اس پر اس دن ہمیں بہت زیادہ خوشی ہوئی۔
’’ترمذی‘‘ کی روایت میں اس کے بعد یہ ہے کہ حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ میں نے حضورﷺ کے صحابہؓکو اس سے زیادہ کسی اور چیز سے خوش ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ایک آدمی نے پوچھا: یا رسو ل اللہ! ایک آدمی دوسرے سے اس وجہ سے محبت کرتا ہے کہ وہ نیک عمل کرتا ہے، لیکن یہ خود وہ نیک عمل نہیں کرتا (تو کیا یہ بھی محبت کی وجہ سے اس کے ساتھ ہوگا؟) حضورﷺ نے فرمایا: آدمی جس سے محبت کرے گا اسی کے ساتھ ہوگا۔
حضرت ابو ذرؓ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسو ل اللہ! ایک آدمی ایک قوم سے محبت کرتا ہے، لیکن ان جیسے عمل نہیں کر سکتا (کیا یہ بھی ان کے ساتھ ہوگا؟) حضورﷺ نے فرمایا: اے ابو ذر! تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت کرو گے۔ میں نے کہا: مجھے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم جس سے محبت کرو گے اسی کے ساتھ ہوگے۔ میں نے اپنا جملہ پھر دہرایا تو حضورﷺ نے پھر یہی ارشاد فرمایا۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کو سخت فاقہ کی نوبت آگئی جس کی حضرت علیؓ کو کسی طرح خبر ہوگئی۔ وہ کسی کام کی تلاش میں نکلے تا کہ کھانے کی کسی چیز کا انتظام ہو جائے اور وہ اسے حضورﷺ کی خدمت میں پیش کر سکیں۔ چناںچہ وہ ایک یہودی کے باغ میں گئے اور پانی کے سترہ ڈول نکالے۔ ہر ڈول کے بدلے ایک کھجور طے ہوئی تھی۔ یہودی نے اپنی تمام قسم کی کھجوریں حضرت علی ؓ کے سامنے رکھ دیں کہ جس میں سے چاہیں لے لیں۔ چناںچہ حضرت علی نے سترہ عجوہ کھجوریں لے لیں اور جا کر حضورﷺ کی خدمت میں پیش کر دیں۔ حضورﷺ نے پوچھا: اے ابو الحسن! تمھیں یہ کھجوریں کہاں سے مل گئیں؟ حضرت علی نے کہا: یا نبی اللہ! مجھے آپ کے سخت فاقہ کی خبر ملی تو میں کسی کام کی تلاش میں گیا تا کہ آپ کے لیے کھانے کی کوئی چیز حاصل کر سکوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم نے ایسا اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی محبت کی وجہ سے کیا ہے؟ حضرت علی نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ! حضورﷺ نے فرمایا: جو بندہ بھی اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) سے محبت کرتا ہے فقر وفاقہ اس کی طرف اس سے بھی زیادہ تیزی سے آتا ہے جتنی تیزی سے پانی کا سیلاب نچان کی طرف جاتا ہے۔ لہٰذا جو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) سے محبت کرے اسے چاہیے کہ وہ بلا اور آزمایش کے لیے ڈھال (یعنی صبر، زہد وقناعت) تیار کرلے۔2
حضرت کعب بن عجرہؓ فرماتے ہیں: میں حضورِ اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے دیکھا کہ آپ کا رنگ بدلا ہوا ہے۔ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! کیا بات ہے مجھے آپ کا رنگ بدلا ہوا نظر آرہا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: تین دن سے میرے پیٹ میں ایسی کوئی چیز نہیں گئی جو کسی جان دار کے پیٹ میں جا سکتی ہے۔ یہ سنتے ہی میں وہاں سے چلا گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک یہودی (کنوئیں سے پانی نکال کر) اپنے اونٹوں کو پلانا چاہتا ہے۔ میں نے ایک ڈول کے بدلہ میں ایک کھجور مزدوری پر اس کے اونٹوں کو پانی پلانا شروع کیا، بالآخر کچھ کھجوریں جمع ہوگئیں جو میں نے حضورﷺ کی خدمت میں جاکر پیش کر دیں۔ آپ نے پوچھا: اے کعب! تمھیں یہ کھجوریں کہاں سے مل گئیں؟ میں نے آپ کو ساری بات بتا دی۔ آپ نے فرمایا: اے کعب! کیا تمھیں مجھ سے محبت ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ میرا باپ آپ پر قربان ہو! آپ نے فرمایا: جو مجھ سے محبت کرتا ہے اس کی طرف فقر ا س سے بھی زیادہ تیزی سے آتا ہے جتنی تیزی سے سیلاب نچان کی طرف جاتا ہے۔ اب تم پر اللہ کی طرف سے آزمایش آئے گی اس کے لیے ڈھال تیار کرلو۔
(اس کے بعد میں بیمار ہوگیا اور حضورﷺ کی خدمت میں نہ جا سکا تو) جب حضورﷺ نے مجھے چند دن نہ دیکھا توصحا بہؓ سے پوچھا: کعب کو کیا ہوا (نظر نہیں آرہا؟) صحابہ نے بتایا کہ وہ بیمار ہیں۔ یہ سن کر آپ پیدل چل کر میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا: اے کعب! تمھیں خوش خبری ہو! میری والدہ نے کہا: اے کعب! تمھیں جنت میں جانا مبارک ہو۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ اللہ پر قسم کھانے والی عورت کون ہے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میری والدہ ہے۔ حضورﷺ نے (میری والدہ کو) فرمایا: اے اُمّ کعب! تمھیں کیا معلوم؟ شاید کعب نے کوئی بے فائدہ بات کہی ہو اور (مانگنے والے ضرورت مند کو) ایسی چیز نہ دی ہو جس کی خود کعب کو ضرورت نہ ہو۔1
حضرت حُصَین بن وَحْوَح ؓ فرماتے ہیں: جب حضرت طلحہ بن براء ؓ حضورﷺ کی خدمت میں ملنے گئے تو وہ حضورﷺ سے چمٹنے لگے اور آپ کے پاؤں مبارک کا بو سہ دینے لگے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں، میں آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضرت طلحہ نو عمر لڑکے تھے اس لیے ان کی اس بات پر حضورﷺ کو بڑا تعجب ہوا۔ اس پر آ پ نے ان سے فرمایا: جاؤ اور جا کر اپنے باپ کو قتل کر دو۔ وہ اپنے باپ کو قتل کرنے کے ارادے سے چل پڑے تو حضورﷺ نے انھیں بلایا اور فرمایا: اِدھر آجاؤ، مجھے رشتے توڑنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ اس کے بعد حضرت طلحہ بیمار ہوگئے۔ حضورﷺ ان کی عیادت کے لیے ان کے گھر گئے۔ سردی کا زمانہ تھا خوب سردی پڑ رہی تھی اور بادل بھی تھے۔ جب آپ واپس آنے لگے توحضرت طلحہ کے گھر والوں سے آپ نے کہا: مجھے تو طلحہ پر موت کے آثار نظر آرہے ہیں۔ جب ان کا انتقال ہو تو مجھے خبر کر دینا تا کہ میں ان کی نمازِ جنازہ پڑھ سکوں اور ان کی تجہیز وتکفین میں جلدی کرنا۔
حضورﷺ ابھی قبیلہ بنو سالم بن عوف تک نہیں پہنچے تھے کہ حضرت طلحہ ؓ کا انتقال ہوگیا اور رات کا وقت ہوگیا تھا۔ حضرت طلحہ نے انتقال سے پہلے جو باتیں کیں ان میں یہ وصیت بھی تھی کہ مجھے جلدی سے دفن کر کے مجھے میرے ربّ کے پاس پہنچا دینا، اور حضورﷺ کو نہ بلانا کیوںکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حضورﷺ میری وجہ سے رات کو ہی تشریف لائیں اور راستہ میں یہودی حضورﷺ کو کوئی تکلیف پہنچا دیں۔ چناںچہ (رات کو حضورﷺ کو اطلاع دیے بغیر نمازِ جنازہ پڑھ کر ان کے گھر والوں نے ان کو دفنا دیا اور) صبح کو جب حضور ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ حضرت طلحہ کی قبر پر تشریف لے گئے اور آپ ان کی قبر پر کھڑے ہوگئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ صف بنا کر کھڑے ہوگئے۔ اور آپ نے دونوں ہاتھ اٹھا کریہ دعا مانگی: اے اللہ! تیری ملاقات طلحہ سے اس حال میں ہو کہ تو اسے دیکھ کر ہنس رہا ہو اور وہ تجھے دیکھ کر ہنس رہا ہو۔1
حضرت طلحہ بن براء ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کیا: آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں تا کہ میں آپ سے بیعت ہو جاؤں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اگر میں تمھیں اپنے والدین سے تعلق توڑنے کو کہوں تو بھی تم بیعت ہونے کو تیار ہو؟ میں نے کہا: نہیں۔ میں نے دوبارہ حاضر ہو کر عرض کیا: آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں تا کہ میں آپ سے بیعت ہو جاؤں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کس بات پر بیعت ہونا چاہتے ہیں؟ میںنے کہا: اسلام پر۔ آپ نے فرمایا: اور اگر میں تمھیں والدین سے تعلق توڑنے کو کہوں تو پھر؟ میں نے کہا: نہیں۔ میں نے پھر تیسری مرتبہ حاضر ہو کر بیعت کی درخواست کی۔ میری والدہ حیات تھیں اور میں ان کے ساتھ اوروں سے زیادہ حسنِ سلوک کرتا تھا۔ حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے طلحہ! ہمارے دین میں رشتہ توڑنا نہیں ہے، لیکن میں نے چاہا کہ تمہارے دین میں کسی طرح کا شک نہ رہے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت طلحہؓ مسلمان ہوگئے اور بڑے اچھے مسلمان بنے۔ اس کے بعد یہ بیمار ہوگئے۔ حضورﷺ ان کی عیادت کے لیے ان کے گھر تشریف لائے۔
جب حضورﷺ تشریف لائے تو یہ بے ہوش تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا: مجھے تو یہی نظر آرہا ہے کہ آج رات ہی ان کا انتقال ہوجائے گا، لیکن اگر انھیں افاقہ ہو تو مجھے پیغام بھجوادینا۔ آدھی رات کو کہیں وہ ہوش میں آئے تو پوچھا: کیا حضور نبی کریم ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف نہیں لائے؟ گھر والوں نے کہا: آئے تھے اور یہ فرما گئے تھے کہ جب تمھیں ہوش آئے تو ہم انھیں پیغام بھیج دیں۔ حضرت طلحہ نے کہا: اب انھیں پیغام نہ بھیجو، کیوںکہ رات کا وقت ہے کوئی جانور انھیں کاٹ لے گا یا انھیں کوئی اور تکلیف پہنچ جائے گی۔ جب میں مر جاؤں تو حضورﷺ کو میرا سلام کہہ دینا اور ان سے عرض کر دینا کہ وہ میرے لیے استغفار فرما دیں۔ حضورﷺ جب صبح کی نماز سے فارغ ہوئے تو ا ن کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے بتایا کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے اور انتقال سے پہلے انھوں نے کہا تھا کہ آپ کو نہ بتایا جائے۔ حضورﷺ نے اسی وقت ہاتھ اٹھا کر یہ دعا مانگی: اے اللہ! اس سے تیری ملاقات اس حال میں ہو کہ تو اسے دیکھ کر ہنس رہا ہو اور وہ تجھے دیکھ کر ہنس رہا ہو۔1
حضرت زہری ؓ کہتے ہیں: حضورﷺ کی خدمت میں حضرت عبد اللہ بن حذافہ ؓ کی یہ شکایت بیان کی گئی کہ وہ مذاق بہت کرتے ہیں اور بے کار باتیں کرتے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اسے چھو ڑ دو۔ اس میں ایک چھپی ہوئی خوبی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے۔2
حضرت ادرع ؓ فرماتے ہیں: میں ایک رات آکر حضورﷺ کا پہرہ دینے لگا تو وہاں ایک آدمی اونچی آواز سے قرآن پڑھ رہا تھا۔ حضورﷺ باہر تشریف لے آئے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! یہ (اونچی آواز سے قرآن پڑھنے والا) ریاکار ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: (نہیں) یہ تو عبد اللہ ذو البِجَادین ہے۔ پھر ان کا مدینہ میں انتقال ہوگیا۔ جب صحابہ ان کا جنازہ تیار کر کے انھیں اٹھا کر لے چلے تو حضورﷺ نے فرمایا: ان کے ساتھ نرمی کرو، اللہ نے ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا ہے یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کیا کرتے تھے۔ جب حضورﷺ قبرستان پہنچے تو قبر کھودی جا رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: ان کی قبر خوب کھلی اور کشادہ بناؤ، اللہ نے ان کے ساتھ کشادگی کا معاملہ کیا ہے۔ ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو ان کے مرنے کا بڑا غم ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں، کیوںکہ یہ اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) سے محبت کرتے تھے۔3
حضرت عبد الرحمن بن سعد ؓکہتے ہیں: میں حضرت ابنِ عمر ؓ کے پاس تھا ان کا پاؤں سو گیا۔ میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ کے پاؤں کو کیا ہوا؟ انھوں نے کہا: یہاں سے اس کا پٹھا اکٹھا ہوگیا ہے۔ میں نے کہا: آپ کو جس سے سب سے زیادہ محبت ہے اس کا نام لے کر پکاریں (اِن شاء اللہ پاؤں ٹھیک ہو جائے گا)۔ انھوں نے کہا: اے محمد! اور یہ کہتے ہی ان کا پاؤں ٹھیک ہوگیا اور انھوں نے اسے پھیلا لیا۔1
صحابۂ کرام ؓ کے اللہ کے راستے میں شہید ہونے کے شوق کے باب میں گزر چکا ہے کہ حضرت زید بن دَثِنہؓ کو قتل کرتے وقت ان سے حضرت ابو سفیان (یہ اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے) نے کہا: اے زید! میں تمھیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم کو یہ پسند ہے کہ محمد (ﷺ) اس وقت ہمارے پاس ہوں اور ہم تمہاری جگہ ان کی گردن مار دیں اور تم اپنے اہل وعیال میں رہو؟ توحضرت زید نے جواب میں کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ بھی پسند نہیں کہ محمدﷺ اس وقت جہاں ہیں وہاں ہی ان کو ایک کانٹا چبھے اور اس تکلیف کے بدلے میں میں اپنے اہل وعیال میں بیٹھا ہوا ہوں۔ ابو سفیان نے کہا: میں نے کسی کو کسی سے اتنی محبت کرتے ہوئے نہیں دیکھا جتنی محبت محمد (ﷺ) کے صحابہ کو محمد (ﷺ) سے ہے۔ اور یہ بھی گزر چکا ہے کہ کافر حضرت خُبَیبؓ کو سولی پر چڑھا کر بلند آواز سے قسم دے کر پوچھ رہے تھے: کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ (حضرت) محمد (ﷺ) تمہاری جگہ ہوں (اور ان کو سولی دے دی جائے؟) حضرت خُبَیب نے فرمایا: نہیں، عظیم اللہ کی قسم! مجھے تو یہ بھی پسند نہیں ہے کہ میرے بدلہ میں ان کے پاؤں میں ایک کانٹا بھی چبھے۔