اسلام کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے جاہلیت کے تعلقات کو بالکل ختم کر دینا

اسلام کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے جاہلیت کے تعلقات کو بالکل ختم کر دینا

حضرت ابنِ شوذب ؓکہتے ہیں: جنگِ بدر کے دن حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کے والد اُن کے سامنے آتے یہ ان کے سامنے سے ہٹ جاتے، لیکن جب ان کے والد بار بار ان کے سامنے آئے تو انھوں نے بھی ان کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا اور آخر انھیں قتل کر ہی دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: { لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ کَانُوْا اٰبَآئَ ہُمْ اَوْ اَبْنَآئَ ہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیْرَتَہُمْط اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِیْمَانَ}1 جولوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں، آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ وہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے بر خلاف ہیں، گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبہ ہی کیوںنہ ہوں، ان لوگوں کے دلوںمیں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کر دیا ہے۔2 حضرت مالک بن عمیر ؓ نے زمانۂ جاہلیت بھی دیکھا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضورِ اقدسﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا: میں نے دشمن کے لشکر کا مقابلہ کیا، اس لشکر میںمیرا باپ بھی تھا۔ میں نے اس سے آپ کے بارے میں بڑی سخت بات سنی، مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا۔ یہ سن کر حضورﷺ خاموش رہے۔ پھر ایک اور آدمی نے آکر عرض کیا کہ لڑائی میں میراباپ میرے سامنے آگیا تھا، لیکن میں نے اسے چھوڑ دیا۔ میں یہ چاہتا تھا کہ کوئی اور اسے قتل کرے۔ یہ سن کر بھی حضورﷺ خاموش رہے۔1 حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: عبداللہ بن اُبی منافق ایک قلعہ کے سائے میں بیٹھا ہوا تھا۔ حضورﷺ اس کے پاس سے گزرے تو اس نے کہا: ابنِ ابی کبشہ (ابو کبشہ یا تو حضور ﷺ کے نانا کی کنیت ہے، یا حضرت حلیمہ سعدیہ کے خاوند کی کنیت ہے، اس لیے ابنِ ابی کبشہ سے حضورﷺ مراد ہیں) نے ہمارے اوپر گرد وغبار ڈال دیا ہے۔ اس پر اس کے بیٹے حضرت عبداللہ ؓ نے کہا: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بزرگی عطا فرمائی ہے! اگر آپ چاہیں تو میں اس کا سر آپ کی خدمت میں لے آؤں؟ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اپنے باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کرو اور اس کے ساتھ اچھی طرح پیش آؤ۔2 حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ ؓ نے حضورِ اکرم ﷺ سے اپنے باپ کو قتل کرنے کی اجازت مانگی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اپنے باپ کو مت قتل کرو۔3 حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ ؓکہتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ بن اُ بی بن سلولؓ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ کو میرے باپ کی طرف سے جو نازیبا باتیں پہنچی ہیں ان کی وجہ سے آپ چاہتے ہیں کہ میراباپ عبد اللہ بن اُبی قتل کر دیا جائے۔ اگر آپ ایسا چاہتے ہیں تو آپ اس کا مجھے حکم فرمائیں، میں اس کا سر کاٹ کر آپ کے پاس لے آؤں گا۔ اللہ کی قسم! تمام قبیلہ خزرج کو خوب معلوم ہے کہ اس قبیلہ میں کوئی آدمی مجھ سے زیادہ اپنے باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والا نہیں تھا۔ اس لیے اب مجھے یہ ڈر ہے کہ آپ کسی اور کو میرے باپ کے قتل کرنے کا حکم دیں گے اور وہ میرے باپ کو قتل کرے گا، پھر وہ مجھے لوگوں میں چلتا ہوا نظر آئے گا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ میرا نفس زور میں آجائے اور میں اسے قتل کر ڈالو ں۔ اس طرح میں کافر کے بدلے مسلمان کو قتل کر بیٹھوں اور یوں دوزخ کی آگ میں داخل ہوجاؤ ں۔ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، ہم تو اس کے ساتھ نرمی برتیں گے اور وہ جب تک ہمارے ساتھ رہے گا ہم اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے۔1 حضرت اُسامہ بن زید ؓ فرماتے ہیں: جب حضورِ اقدس ﷺ غزوۂ بنی مصطلق سے واپس تشریف لائے تو حضرت ابنِ عبد اللہ بن اُبیؓ اپنے باپ (ان کا باپ منافقوں کا سردار تھا) پر تلوار سونت کر کھڑے ہوگئے اور اس سے کہا: میں اللہ کے لیے اپنے پر یہ لازم کرتا ہوں کہ یہ تلوار اس وقت نیام میں ڈالوں گا جب تم کہو گے کہ محمد ( ؑ) زیادہ عزّت والے ہیںاور میں زیادہ ذلّت والا ہوں۔ آخر ان کے باپ نے زبان سے کہا: تیرا ناس ہو! محمد ( ؑ) زیادہ عزّت والے ہیں اور میں زیادہ ذلت والا ہوں۔ جب حضورﷺ کو اس واقعہ کی خبر پہنچی توآپ کو یہ بہت پسند آیااور آپ نے ان کی تحسین فرمائی۔2 حضرت عروہ ؓ فرماتے ہیں: حضرت حنظلہ بن ابی عامر اور حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ بن اُبی بن سلول ؓ نے اپنے اپنے والد کو قتل کرنے کی حضورﷺ سے اجازت مانگی، لیکن حضورﷺ نے منع فرما دیا۔3 حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر ؓ نے (بعد میں اپنے والد) حضرت ابو بکر سے کہا: میں نے جنگِ اُحد کے دن آپ کو دیکھ لیا تھا، لیکن میں نے آپ سے اپنا منہ پھیر لیا تھا۔ (باپ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا) حضرت ابو بکر نے فرمایا: لیکن اگر میں تمھیں دیکھ لیتا تو میں تم سے منہ نہ پھیرتا (بلکہ اللہ کا دشمن سمجھ کر قتل کر دیتا، اس وقت تک حضرت عبد الرحمن مسلمان نہ ہوئے تھے)۔4 حضرت واقدی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمنؓ نے جنگِ بدر کے دن مقابلہ کے لیے للکارا (اس دن یہ کافروں کے ساتھ تھے) تو ان کے مقابلہ کے لیے ان کے والد حضرت ابوبکر ؓکھڑے ہوئے۔ تو حضورﷺ نے حضرت ابو بکر سے فرمایا: (تم مقابلہ کے لیے نہ جاؤ) ہم نے ابھی تم سے بہت سے کام لینے ہیں۔1 حضرت ابو عبیدہ اور غزوات کے خوب جاننے والے دیگر حضرات بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّابؓ حضرت سعید بن عاص ؓ کے پاس سے گزرے تو ان سے حضرت عمر نے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے دل میں کچھ ہے۔ میرے خیال میں تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے تمہارے باپ (عاص) کو قتل کیا ہے۔ اگر میں نے اسے قتل کیا ہوتا تو میں اس پر تمہارے سامنے کوئی معذرت پیش نہ کرتا۔ میں نے تو اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیا تھا۔ میں تمہارے والد کے پاس سے گزرا تھا وہ (زخمی ہو کر زمین پر پڑا ہوا تھا اور) زمین پر ایسے سر مار رہا تھا جیسے (غصہ میں آکر) بیل زمین پر سینگ مارتا ہے۔ بہرحال میں اس سے کترا کر آگے چلا گیا اور اسے اس کے چچا زاد بھائی حضرت علیؓ نے قتل کیا ہے۔2 اور ’’اِستیعاب‘‘ اور’’اِصابہ‘‘ میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ حضرت سعید بن عاص ؓ نے حضرت عمر ؓ سے کہا: اگر آپ اسے قتل کر دیتے تو (ٹھیک تھا، کیوںکہ) آپ حق پر تھے اور وہ با طل پر تھا۔ حضرت عمر ؓ کو اُن کی یہ بات بہت اچھی لگی۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: جنگِ بدر کے دن قتل ہونے والے کافروں کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ ان کو گھسیٹ کر کنوئیں میں ڈال دیا جائے۔ چناںچہ انھیں اس کنوئیں میں پھینک دیا گیا۔ پھر حضورﷺ نے (اس کنوئیں کے کنارے پر) کھڑے ہو کر فرمایا: اے کنوئیں والو! کیا تم نے اپنے ربّ کے وعدے کو سچا پایا؟ مجھ سے تو میرے ربّ نے جو وعدہ کیا تھا میں نے تو اسے سچا پایا۔ صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مردہ لوگوں سے بات کر رہے ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: اب ان کو معلوم ہوگیا ہے کہ ان کے ربّ نے ان سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا۔ جب حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ ؓ نے دیکھا کہ ان کے والد کو گھسیٹ کر کنوئیں میں ڈالا جا رہا ہے تو حضورﷺ نے ان کے چہرے میں ناگواری کے اثرات محسوس کیے اور فرمایا: اے ابو حذیفہ! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے اپنے والد کے متعلق جو منظر دیکھا ہے اس سے تمھیں ناگواری ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرا باپ سردار تھا، مجھے اُمید تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے ضرور اسلام کی ہدایت دیں گے، لیکن جب اس کا انجام یہ ہوا (کہ کفر پر ذلت کے ساتھ مارا گیا) تو مجھے اس کا رنج ہو رہا ہے۔ حضورﷺ نے حضرت ابو حذیفہ ؓ کے لیے دعائے خیر فرمائی۔1 حضرت ابو الزناد ؓکہتے ہیں: حضرت ابو حذیفہ ؓ جنگِ بدر میں شریک ہوئے تھے اور انھوں نے اپنے والد عتبہ کو مقابلہ میں لڑنے کی دعوت دی تھی ۔ آگے ان اشعا ر کا تذکرہ کیا ہے جو اُن کی بہن حضرت ہند بنتِ عتبہؓ نے اس بارے میں کہے تھے۔2 بنو عبد الدار قبیلہ کے حضرت نُبیَہ بن وہب ؓ فرماتے ہیں: جب حضورِ اَقدس ﷺ بدر کے قیدیوں کو لے کر آئے اور انھیں اپنے صحابہؓ میں تقسیم کر دیا تو فرمایا: میں تمھیں پُر زور تاکید کرتا ہوں کہ ان قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ کے سگے بھائی ابو عزیز بن عمیر بن ہا شم بھی قیدیوں میں تھے۔ حضرت ابو عزیز ہی بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی مجھے قید کر رہے تھے کہ اتنے میں میرے بھائی مصعب بن عمیر میرے پاس سے گزرے تو اس انصاری سے کہنے لگے: دونوں ہاتھوں سے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھنا، کیوںکہ اس کی ماں بہت مال دار ہے وہ تمھیں اس کے فدیہ میں خوب دے گی۔ حضرت ابو عزیز کہتے ہیں: صحابہ جب مجھے بدر سے لے کر چلے تو میں اَنصار کی ایک جماعت میں تھا۔ جب بھی وہ دن کو یا رات کو کھانا اپنے سامنے رکھتے تو روٹی مجھے کھلا دیتے اور خود کھجو ر کھا لیتے، کیوںکہ حضورﷺ نے انھیں ہمارے بارے میں تاکید فرما رکھی تھی۔ ان میں سے جسے بھی روٹی کا ٹکڑا ملتا وہ مجھے دے دیتا۔ مجھے شرم آجاتی اور وہ ٹکڑا واپس کر دیتا، لیکن وہ انصاری اسے ہاتھ لگائے بغیر پھر مجھے واپس کر دیتا۔ حضرت ابو الیسر ؓ نے حضرت ابو عزیز کو قید کیا تھا۔ جب ان سے حضرت مصعب نے وہ با ت کہی تھی (کہ اسے مضبوط پکڑو اس کی ماں بہت مال دار ہے) تو حضرت مصعب سے حضرت ابو عزیز نے کہا تھا: آپ (بھائی ہو کر) میرے بارے میں یہ تاکیدکر رہے ہیں؟ تو حضرت مصعب ؓ نے ان کو کہا: یہ (انصاری حضرت ابو الیسر) میرے بھائی ہیں، تم نہیں ہو۔ حضرت ابو عزیز کی والدہ نے پوچھا کہ ان قریشی قیدیوں کا فدیہ سب سے زیادہ کیا دیا گیا ہے؟ تو اسے بتایا گیا کہ چار ہزار درہم۔ چناںچہ اس نے حضرت ابو عزیز کے فدیہ میں چار ہزار درہم بھیجے۔1 حضر ت ایوب بن نعمان ؓکہتے ہیں: حضرت مصعب بن عمیرؓ کے سگے بھائی حضرت ابو عزیز بن عمیر جنگِ بدر کے دن قید ہوئے تھے، اور یہ حضرت محرز بن نضلہؓ کے ہاتھ آئے تھے۔ تو حضرت مصعب نے حضرت محرز سے کہا: اسے دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے پکڑے رکھنا کیوںکہ اس کی ماں مکہ میں رہتی ہے اور وہ بہت مال دار ہے۔ اس پر حضرت ابو عزیز نے حضرت مصعب سے کہا: اے میرے بھائی! تم میرے بارے میں یہ تاکید کر رہے ہو؟ حضرت مصعب نے کہا: محرز میرا بھائی ہے، تم نہیں ہو۔ چناںچہ ان کی والدہ نے ان کے فدیہ میں چار ہزار بھیجے۔2 حضرت زہری ؓ کہتے ہیں: حضورﷺ (قریش کی بد عہدی کی وجہ سے) مکہ پر چڑھائی کرنا چاہتے تھے۔ ان دنوں حضرت ابو سفیان بن حرب ؓ مدینہ منوّرہ آئے اور حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضورﷺ سے صلحِ حدیبیہ کی مدت بڑھانے کی بات کی۔ حضور ﷺ نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔ حضرت ابو سفیان وہاں سے کھڑے ہو کر اپنی بیٹی حضرت اُمّ حبیبہؓ کے گھر گئے۔ اور جب حضور ﷺ کے بستر پر بیٹھنے لگے تو حضرت اُمّ حبیبہ نے اسے لپیٹ دیا۔ اس پر انھوں نے کہا: اے بِٹیا! کیا تم مجھے اس بستر کے قابل نہیں سمجھتی ہو، یا اس بستر کو میرے قابل نہیں سمجھتی ہو؟ انھوں نے کہا: یہ حضورﷺ کا بستر ہے اور آپ ناپاک مشرک انسان ہیں (آپ اس بستر کے قابل نہیں ہیں)۔ حضرت ابو سفیان نے کہا: اے بِٹیا! میرے بعد تمہارے اخلا ق بگڑ گئے ہیں۔1 اس کے بعد ابنِ اسحا ق نے یہ ذکر کیا ہے کہ حضرت اُمّ حبیبہؓ نے کہا: میں نہیں چاہتی کہ آپ حضورﷺ کے بستر پر بیٹھیں۔ حضرت ابو الاحوص ؓ کہتے ہیں: ہم لوگ حضرت ابنِ مسعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کے پاس دینار جیسے خوب صورت تین بیٹے بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم ان تینوں کو دیکھنے لگے تو وہ سمجھ گئے اور فرمایا: شاید تم ان بیٹوں کی وجہ سے مجھ پر رشک کر رہے ہو (کہ تمہارے بھی ایسے بیٹے ہوں)۔ہم نے عرض کیا: ایسے بیٹے ہی تو آدمی کے لیے قابلِ رشک ہوا کرتے ہیں۔ اس پرانھوں نے اپنے کمرے کی چھت کی طرف سر اُٹھایا جو بہت نیچی تھی جس میں خطاف (ابابیل جیسے پرندے) نے گھونسلا بنا رکھا تھا۔ تو فرمایا: میں اپنے ان بیٹوں کو دفن کرکے ان کی قبروں کی مٹی سے اپنے ہاتھوں کو جھاڑوں، یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ اس پرندے کا انڈا گر کر ٹوٹ جائے۔ حضرت ابو عثمان ؓ کہتے ہیں: میں کوفہ میںحضرت ابنِ مسعود ؓ کی مجلس میں بیٹھا کرتا تھا۔ ایک دن وہ اپنے چبوترے پر بیٹھے ہوئے تھے اور فلاں فلاں عورتیں ان کی بیویاں تھیں جو بڑے حسب ونسب اور جمال والی تھیں، اور ان کی ان دونوں سے بڑی خوب صورت اولاد تھی کہ اتنے میں ان کے سر کے اوپر ایک چڑیا بولنے لگی اور اس نے ان کے سر پر بِیٹ کر دی۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے بِیٹ پھینک دی اور فرمایا: عبداللہ کے سارے بچے مرجائیں اور ان کے بعد میں بھی مر جاؤں، یہ مجھے اس چڑیا کے مرنے سے زیادہ پسند ہے۔2 (صحابۂ کرام ؓ کے دلوں میںخلقِ خدا پر اتنی شفقت تھی کہ انھیں جانور بھی اپنے بچوں سے زیادہ پیارے لگتے تھے) حضراتِ اہل الرائے سے مشورہ کے عنوان کے ذیل میں حضرت عمر ؓ کا یہ فرمان گزرچکا ہے کہ اللہ کی قسم! (بدر کے قیدیوں کے بارے میں) جو حضرت ابو بکر ؓ کی رائے ہے وہ میری نہیں ہے۔ بلکہ میری رائے تو یہ ہے کہ فلاں آدمی جو میرا قریبی رشتہ دار ہے وہ میرے حوالہ کر دیں میں اس کی گردن اُڑا دوں، اور عقیل کو حضرت علی ؓ کے حوالہ کر دیں وہ عقیل کی گردن اُڑا دیں، اور فلاں آدمی جو حضرت حمزہ ؓ کے بھائی ہیں یعنی حضرت عباسؓ وہ حضرت حمزہ کے حوالہ کر دیں حضرت حمزہ ان کی گردن اُڑا دیں تاکہ اللہ تعالیٰ کو پتہ چل جائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکوں کے بارے میں کسی قسم کی نرمی نہیں ہے۔ حضراتِ انصار کے ایسے ہی قصے ( جلدِ اوّل میں) انصار کے (اسلام کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے) جاہلیت کے تعلقات کو قربان کرنے کے باب میں گزر چکے ہیں۔