نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کا دنیا سے بے رغبتی اختیا ر کرنا
جو دنیا سے بے رغبتی اختیار نہ کرے اور اس کی لذتوں میں مشغول ہوجائے اس پر نکیر کرنا اور دنیا سے بچنے کی تاکید کرنا
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: ایک مرتبہ حضورﷺ نے مجھے دیکھا کہ میں نے ایک دن میں دو مرتبہ کھانا کھایا ہے تو مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! کیا تم یہ چاہتی ہو کہ صرف پیٹ بھرنا ہی تمہارا مشغلہ ہو؟ ایک دن میں دو مرتبہ کھانا اِسراف ہے اور اِسراف والوں کو اللہ پسند نہیں فرماتے ہیں۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تمھیں اس دنیا میں بس پیٹ بھرنے ہی کی فکر ہے اور کسی چیز کی فکر نہیں ہے؟ ایک دن میں ایک مرتبہ سے زیادہ کھانااِسراف ہے اوراِسراف والوں کو اللہ پسند نہیں فرماتے۔1
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: میں حضورﷺ کے پاس بیٹھی ہوئی رو رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو؟ اگر تم مجھ سے (جنت میں) ملنا چاہتی ہو تو تمھیں دنیا کا اتنا سامان کافی ہونا چاہیے جتنا سوار کا زادِ سفر ہوتا ہے، اور مال داروں سے میل جول نہ رکھنا۔2
ترمذی، حاکم اور بیہقی کی روایت میںمزید الفاظ یہ ہیں: اور جب تک کپڑے پر پیوند نہ لگا لو اسے پرانا نہ سمجھنا۔ رزین کی روایت میں مزید یہ مضمون ہے کہ حضرت عروہ ؓ نے کہا کہ جب تک حضرت عائشہ ؓ اپنے کپڑے پر پیوند نہ لگا لیتیں اور اسے الٹ نہ لیتیں اس وقت تک نیا کپڑا نہ پہنتیں۔ ایک دن ان کے پاس اَسّی ہزار حضرت معاویہ ؓ کی طرف سے آئے تو شام تک ان کے پاس اَسّی ہزار میں سے ایک درہم بھی نہ بچا۔ ان کی باندی نے کہا: آپ نے ہمارے لیے ایک درہم کا گوشت کیوں نہیں خرید لیا؟ تو فرمایا: اگر تو مجھے پہلے یاد کرادیتی تو میں خرید لیتی (مجھے تو گوشت خریدنا یاد ہی نہ رہا)۔3
حضرت ابو جُحیفہؓ فرماتے ہیں: میں نے ایک دن چربی والے گوشت کا ثرید کھایا، پھر میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مجھے ڈکار آرہے تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے ابوجحیفہ! ہما رے سامنے ڈکار نہ لو، کیوںکہ جو دنیا میں زیادہ پیٹ بھر کر کھائیں گے انھیں قیامت کے دن زیادہ بھوک برداشت کرنی پڑے گی۔ چناںچہ اس کے بعد حضرت ابو جحیفہ نے آخری دم تک کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہ کھایا۔ جب دوپہر کو کھانا کھا لیتے تھے تو رات کو نہ کھاتے اور جب رات کو کھا لیتے تو دن کو نہ کھاتے۔1
حضرت جعدہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے ایک بڑے پیٹ والا آدمی دیکھا تو آپ نے اس کے پیٹ میں انگلی مار کر فرمایا: اگر یہ کھانا اس پیٹ کے علاوہ کسی اور (فقیر یا ضرورت مند) کے پیٹ میں ہوتا تو تمہارے لیے بہتر تھا۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ ایک آدمی نے حضور ﷺ کے بارے میں خواب دیکھا۔ حضورﷺ نے آدمی بھیج کر اسے بلایا۔ چناںچہ اس نے حاضرِ خدمت ہو کر حضورﷺ کو وہ سارا خواب سنایا۔ اس آدمی کا پیٹ بڑا تھا۔ حضورﷺ نے اس کے پیٹ میں انگلی مار کر فرمایا: اگر یہ کھانا اس پیٹ کے علاوہ کسی اور کے پیٹ میں ہوتا تو تمہارے لیے زیادہ بہتر تھا ۔2
حضرت یحییٰ بن سعید ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ راستہ میں حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے ملے۔ ان کے ساتھ ایک آدمی نے گوشت اٹھایا ہوا تھا۔ (یعنی گوشت خرید کر اپنے گھر لے جا رہے تھے) حضرت عمر نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی آدمی بھی یہ نہیں چاہتا کہ اپنے پڑوسی اور چچا زاد بھائی کی وجہ سے اپنے آپ کو بھوکا رکھے؟ (یعنی خود کچھ نہ کھائے اور سارا دوسروں کو کھلا دے) یہ آیت { اَذْھَبْتُمْ طَیِّبٰـتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِھَا}3 تم لوگوں سے کہاںچلی گئی ہے؟4
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں: میں ایک درہم کا گوشت خرید کر جا رہا تھا۔ راستہ میں مجھے حضرت عمر بن خطّاب ؓ ملے۔ انھوں نے پوچھا: اے جابر! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میرے گھر والوں کا گوشت کھانے کو بہت دل چاہ رہا تھاـ اس لیے میں نے ان کے لیے ایک درہم کا گوشت خریدا ہے۔ حضرت عمر میرا یہ جملہ بار بار دہراتے رہے: میرے گھر والوں کا گوشت کھانے کو بہت دل چاہ رہا تھا۔ اتنی دفعہ دہرایا کہ مجھے یہ تمنا ہونے لگی کہ کاش! یہ درہم میرے پاس سے کہیں گر جاتا اور حضرت عمر سے میری ملاقات نہ ہوتی۔1
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر ؓ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کے ہاتھ میں ایک درہم دیکھا تو ان سے پوچھا: یہ درہم کیا ہے؟ حضرت جابر نے کہا: میں اس کا اپنے گھر والوں کے لیے گوشت خریدنا چاہتا ہوں، ان کا گوشت کو بہت دل چاہ رہا تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا جس چیز کو تم لوگوں کا دل چاہے گا اسے تم ضرور خرید لو گے؟ { اَذْھَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ} والی آیت تم لوگوں سے کہاں چلی گئی۔2
حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں: حضرت عمر اپنے بیٹے حضرت عبداللہ ؓ کے ہاں گئے۔ اس وقت حضرت عبد اللہ کے سامنے گوشت رکھا تھا۔ حضرت عمر نے پوچھا: یہ گوشت کیسا ہے؟ حضرت عبد اللہ نے کہا: میرا گوشت کھانے کو دل چاہا تھا۔ تو حضرت عمر نے فرمایا: تمہارا جس چیز کو دل چاہے گا کیا تم اسے ضرور کھاؤ گے؟ آدمی کے فضول خرچ ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کا جس چیز کو دل چاہے وہ اسے ضرور کھائے۔3
حضرت سعید بن جبیر ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت یزید بن ابی سفیان ؓ مختلف قسم کے کھانے کھاتے ہیں۔ تو حضرت عمر نے اپنے غلام یرفا سے فرمایا: جب تمھیں پتہ چل جائے کہ ان کا رات کا کھانا تیار ہوگیا ہے تو مجھے خبر کر دینا۔ چناںچہ جب حضرت یزید کا رات کا کھانا تیار ہوگیا تو حضرت یرفا نے حضرت عمر کو خبر کی۔ حضرت عمر تشریف لے گئے اور حضرت یزید کے ہاں پہنچ کر انھیں سلام کیا اور ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی، انھوں نے اجازت دی۔ حضرت عمر اندر تشریف لے گئے تو حضرت یزید کا رات کا کھانا لایا گیا اور وہ ثرید اور گوشت لے کر آئے۔ حضرت عمر نے ان کے ساتھ کھانا کھایا۔ پھربھنا ہوا گوشت دسترخوان پر لایا گیا۔ حضرت یزید نے تو اس گوشت کی طرف ہاتھ بڑھایا، لیکن حضرت عمر نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا: اے یزید بن ابی سفیان! ہائے اللہ۔ کیا ایک کھانے کے بعد دوسرا کھانا؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میںمیری جان ہے! اگر تم حضورﷺ اور اُن کے صحابہ ؓ کے طریقۂ زندگی سے ہٹ جاؤ گے تو تمھیں بھی ان کے راستہ سے ہٹا دیا جائے گا (جو کہ جنت کے اعلیٰ درجات کو جاتا ہے)۔1
حضرت حسن ؓ کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ ایک کوڑی کے پاس سے گزرے تو اس کے پاس رک گئے۔ جب آپ نے محسوس کیا کہ آپ کے ساتھیوں کو اس کی گندگی سے ناگواری ہو رہی ہے تو فرمایا: یہ ہے تمہاری وہ دنیا جس کا تم لالچ کرتے ہو، یا فرمایا: جس پر تم بھروسہ کرتے ہو۔2
حضرت سلمہ بن کلثوم ؓ کہتے ہیں: حضرت ابو الدرداء ؓ نے دمشق میں ایک اونچی عمارت بنائی۔ حضرت عمر بن خطّاب ؓکو مدینہ منوّرہ میں اس کی اطلاع ملی تو حضرت ابو الدرداء کو یہ خط لکھا:
اے عویمر بن اُمّ عویمر! کیا تمھیں روم وفارس کی عمارتیں کافی نہیں ہیں کہ تم اور نئی عمارتیں بنانے لگ گئے ہو؟ اور اے حضرت محمدﷺ کے صحابہ! (ہر کام سوچ سمجھ کر کیا کرو، کیوںکہ) تم دوسروں کے لیے نمونہ ہو (لوگ تمھیں جیسا کرتے ہوئے دیکھیں گے ویسا ہی کرنے لگ جائیں گے)۔3
حضرت راشد بن سعد ؓکہتے ہیں: حضرت عمر ؓ کو خبر ملی کہ حضرت ابو الدرداء ؓ نے حمص میں دروازے پر ایک چھجہ بنایا ہے۔ توحضرت عمر نے انھیں یہ خط لکھا:
اے عویمر! روم والوں نے جو تعمیرات کی ہیں کیا وہ دنیا کی زیب وزینت کے لیے تمھیں کافی نہیں تھیں؟ حالاںکہ اللہ تعالیٰ نے تو دنیا کو اُجاڑنے یعنی سادگی کا حکم دے رکھا ہے۔1
ابو نعیم کی روایت میں مزید یہ ہے کہ
روم والوں نے جو تعمیرات کی ہیں کیا وہ دنیا کی زیب وزینت اور نئی عمارتیں بنانے کے لیے کافی نہیں تھیں؟ حالاںکہ اللہ تعالیٰ نے تو دنیا کے ویران ہونے کا بتایا ہے۔ جب تمھیں میرا یہ خط ملے تو فوراً حمص سے دمشق چلے جانا۔
حضرت سفیان راوی کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ نے یہ حکم ان کو بطورِ سزا کے دیا تھا۔2
حضرت یزید بن ابی حبیب ؓ کہتے ہیں: مصر میں سب سے پہلے حضرت خارجہ بن حذافہؓ نے بالاخانہ بنایا تھا۔ حضرت عمر بن خطّاب ؓکو جب اس کی اطلاع ملی تو انھوں نے حضرت عمرو بن عاص ؓکو یہ خط لکھا: سلام ہو۔ اَما بعد! مجھے یہ خبر ملی ہے کہ حضرت خارجہ بن حذافہ نے بالاخانہ بنایا ہے۔ حضرت خارجہ اپنے پڑوسیوں کے پردے کی چیزوں پر جھانکنا چاہتے ہیں، لہٰذا جوں ہی تمھیں میرا یہ خط ملے اس بالاخانے کو گرادو۔ فقط والسلام۔3
حضرت عبد اللہ رومی ؓ کہتے ہیں: میں حضرت اُمّ طلق ؓ کے گھر ان کی خدمت میں گیا تو میں نے دیکھا کہ ان کے گھر کی چھت نیچی ہے۔ میں نے کہا: اے اُمّ طلق! آپ کے گھر کی چھت بہت ہی نیچی ہے۔ انھوں نے کہا: اے میرے بیٹے! حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے اپنے گورنروں کو یہ خط لکھا کہ تم اپنی عمارتیں اونچی نہ بناؤ، کیوںکہ تمہارا سب سے برا دن وہ ہوگا جس دن تم لوگ اونچی عمارتیں بناؤ گے۔4
حضرت سفیان بن عیینہ ؓ کہتے ہیں: حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کوفہ کے گورنر تھے۔ انھوں نے خط لکھ کر حضرت عمر بن خطّاب ؓ سے رہنے کے لیے گھر بنانے کی اجازت مانگی۔ حضرت عمر نے انھیں جواب میں لکھا کہ ایسا گھر بناؤ جس سے تمہاری دھوپ اور بارش سے بچنے کی ضرورت پوری ہوجائے، کیوںکہ دنیا تو گزارا کرنے کی جگہ ہے۔
حضرت عمر و بن عاص ؓ مصر کے گورنر تھے۔ انھیں حضرت عمر نے یہ لکھا کہ تم اپنے ساتھ اپنے امیر کا جیسا رویہ پسند کرتے ہو تم ویساہی رویہ اپنی رعایا کے ساتھ اختیار کرو۔1
حضرت سفیان ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓکو خبر ملی کہ ایک آدمی نے پکی اینٹوں سے مکان بنایا ہے تو فرمایا: میر اخیال نہیں تھا کہ اس امت میں بھی فرعون جیسے لوگ ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ فرعون کے اس جملہ کی طرف اشارہ فرما رہے تھے:
{فَاَوْقِدْ لِیْ یٰـھَامٰـنُ عَلَی الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا}2
تو اے ہامان! تم ہمارے لیے مٹی (کی اینٹیں بنوا کر ان) کو آگ میں (پزاوہ لگا کر) پکواؤ پھر (ان پختہ اینٹوں سے) میرے واسطے ایک بلند عمارت بنواؤ۔3
حضرت سالم بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میرے والد کے زمانہ میں میری شادی ہوئی۔ میرے والد نے لوگوں کو (کھانے کے لیے) بلایا اور ان میں حضرت ابو ایوب ؓکو بھی بلایا تھا۔ گھر والوں نے کمرے کی دیواروں پر سبز پردے لٹکا دیے۔ حضرت ابو ایوب تشریف لائے انھوں نے اپنا سر جھکایا اور (غور سے) دیکھا تو کمرے پر پردے لٹکے ہوئے تھے۔ انھوں نے (میرے والد سے) فرمایا: اے عبد اللہ! تم لوگ دیواروں پر پردے لٹکاتے ہو؟ میرے والد نے شرمندہ ہو کر کہا: اے ابو ایوب! عورتیں ہم پر غالب آگئیں۔ حضرت ابو ایوب نے فرمایا: دوسروں کے بارے میں تو مجھے ڈر تھا کہ ان پر عورتیں غالب آجائیں گی، لیکن تمہارے بارے میں مجھے یہ ڈر بالکل نہیں تھا کہ تم پر بھی غالب آجائیںگی۔ نہ میں تمہارے گھر میں داخل ہوں گا اور نہ تمہارا کھانا کھاؤں گا۔4
حضرت سلمان ؓ فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابو بکر ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: مجھے کچھ نصیحت کر دیں۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: اے سلمان! اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ عنقریب بہت سی فتوحات ہوں گی ان میں سے تمہارا حصہ صرف اتنا ہونا چاہیے کہ بقدرِ ضرورت کھانا اپنے پیٹ میں ڈال لو اوربقدرِ ضرورت لباس اپنی پشت پر ڈال لو۔ (اپنی ضرورت میں کم سے کم لگا کر باقی سارا دوسروں پر خرچ کر دینا) اور تم یہ بھی جان لو کہ جو آدمی پانچ نمازیں پڑھتا ہے وہ صبح وشام ہر وقت اللہ کی ذمہ داری میں ہوتا ہے۔ لہٰذا تم اہل اللہ میں سے کسی کو ہرگز قتل نہ کرنا، کیوںکہ تم اس طرح اللہ کی ذمہ داری کو توڑ دو گے اور پھر اللہ تعالیٰ تم کو اُوندھے منہ (جہنم کی) آگ میں ڈال دیں گے۔1
حضرت حسن ؓکہتے ہیں: حضرت سلمان فارسی ؓ حضرت ابو بکر ؓ کے پاس ان کے مرض الوفات میں گئے اور عرض کیا: اے خلیفۂ رسول اللہ! مجھے کچھ وصیت کر دیں۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم لوگوں کے لیے ساری دنیا کو فتح کر دیں گے، (اورخوب مالِ غنیمت آئے گا) تم میں سے ہر آدمی ان فتوحات میں سے صرف گزارے کے بقدر ہی لے۔2
حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ فرماتے ہیں: میں حضرت ابو بکر ؓ کے پاس ان کے مرض الوفات میں گیا اور انھیں سلام کیا۔ انھوں نے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ دنیا سامنے سے آرہی ہے اگرچہ ابھی تک آئی نہیں ہے، لیکن وہ بس آنے ہی والی ہے۔ اور آپ لوگ ریشم کے پردے اور دیباج کے تکیے بناؤگے، اور آذربائیجان کے بنے ہوئے اُونی بستروں (جوکہ عمدہ شمار ہوتے ہیں) پر ایسے تکلیف محسوس کرو گے جیسے گویا کہ تم سعدان (بوٹی) کے کانٹوں پر ہو۔ اللہ کی قسم! تم میں سے کسی ایک کو آگے کر کے بغیر جرم کے اس کی گردن کو اُڑا دیا جائے یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ دنیا کی گہرائیوں میں تیرتا رہے۔3
حضرت علی بن رباح ؓ کہتے ہیں: میں نے حضرت عمرو بن عاص ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم لوگ اس چیز میں رغبت کرنے لگے ہو جس سے حضور اکرم ﷺ بے رغبتی کیا کرتے تھے۔ تم دنیا میں رغبت کرنے لگ گئے ہو اور حضورﷺ اس سے بے رغبتی کیا کرتے تھے۔ اللہ کی قسم! ان کی زندگی کی جو رات بھی ان پر آتی تھی اس میں ان پر قرضہ ان کے مال سے ہمیشہ زیادہ ہوا کرتا تھا۔ یہ سن کر حضور ﷺ کے بعض صحابہ نے کہا: ہم نے حضور ﷺ کو قرض لیتے ہوئے دیکھا ہے۔1
امام احمد ؓ نے حضرت عمرو ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ انھوں نے فرمایا: تمہارا طریقہ تمہارے نبی ﷺ کے طریقے سے کتنا دور ہوگیا ہے۔ حضورﷺ تو لوگوں میں دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبتی والے تھے اور تمام لوگوں میں تم لوگ دنیا کی سب سے زیادہ رغبت رکھنے والے ہو۔2
حضرت میمون ؓکہتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے ایک نوجوان بیٹے نے آپ سے لنگی مانگی اور کہا: میری لنگی پھٹ گئی ہے۔ حضرت عبد اللہ نے کہا: لنگی جہاں سے پھٹی ہے وہاں سے کاٹ دو اور باقی کو سی کر پہن لو۔ اس نوجوان کو یہ بات اچھی نہ لگی توحضرت عبد اللہ بن عمر نے اس سے کہا: تیرا بھلا ہو! اللہ سے ڈرو اور ان لوگوں میں سے ہر گز نہ بنو جو اللہ تعالیٰ کے رزق کو اپنے پیٹوں میں اور اپنی پشتوں پر ڈال دیتے ہیں یعنی اپنا سارا مال کھانے اور لباس پر خرچ کر دیتے ہیں۔3
حضرت ثابت ؓ کہتے ہیں: حضرت ابو ذر ؓ حضرت ابو الدرداء ؓ کے پاس سے گزرے وہ اپنا گھر بنا رہے تھے۔ حضرت ابو ذر نے کہا: تم نے بڑے بڑے پتھر لوگوں کے کندھوں پر لاد دیے ہیں۔ حضرت ابو الدرداء نے کہا: میں تو گھر بنا رہا ہوں۔ حضرت ابو ذر نے پھر وہی پہلا جملہ دہرایا۔ حضرت ابو الدرداء نے کہا: اے میرے بھائی! شاید میرے اس کام کی وجہ سے آپ مجھ سے ناراض ہوگئے ہیں۔ حضرت ابو ذر نے کہا: اگر میں آپ کے پاس سے گزرتا اور آپ اپنے گھر والوں کے پاخانے میں مشغول ہوتے تو یہ مجھے اس کام سے زیادہ محبوب تھا جس میں آپ اب مشغول ہیں ۔1
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: میں نے ایک دفعہ ایک نئی قمیص پہنی۔ میں اسے دیکھ کر خوش ہونے لگی وہ مجھے بہت اچھی لگ رہی تھی۔ حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: کیا دیکھ رہی ہو؟ اس وقت اللہ تمھیں (نظرِ رحمت سے) نہیں دیکھ رہے ہیں۔ میں نے کہا: یہ کیوں؟ حضرت ابو بکر نے فرمایا: کیا تمھیں معلوم نہیں ہے کہ جب دنیا کی زینت کی وجہ سے بندہ میں عجب (خود کو اچھا سمجھنا) پیدا ہوجاتا ہے تو جب تک بندہ وہ زینت چھوڑ نہیں دیتا اس وقت تک اس کا ربّ اس سے ناراض رہتا ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: میں نے وہ قمیص اُتا ر کر اسی وقت صدقہ کردی تو حضرت ابوبکر نے فرمایا: شاید یہ صدقہ تمہارے اس عجب کے گناہ کا کفارہ ہوجائے۔2
حضرت حبیب بن حمزہ ؓ کہتے ہیں: حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے ایک بیٹے کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو وہ جوان کنکھیوں سے ایک تکیہ کی طرف دیکھنے لگا۔ جب اس کا انتقال ہوگیا تو لوگوں نے حضرت ابو بکر سے کہا: آپ کا بیٹا کنکھیوں سے اس کو دیکھ رہا تھا۔ جب لوگوں نے ان کے بیٹے کو اس تکیہ سے اٹھایا تو اس تکیہ کے نیچے پانچ یا چھ دینار ملے۔ حضرت ابو بکر نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارا او ر وہ بار بار إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتے رہے۔ اور فرمایا: میرے خیال میں تو تمہاری کھال ان دیناروں کی سزا برداشت نہیں کرسکتی (کہ تم نے ان کو جمع کر کے رکھا اور خرچ نہ کیا)۔3
حضرت عبد اللہ بن ابی ہذیل ؓکہتے ہیں: جب حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے اپنا گھر بنایا تو حضرت عمار ؓ سے کہا: آؤ جو گھر میں نے بنایا ہے وہ دیکھ لو۔ چناںچہ حضرت عمار ان کے ساتھ گئے اور گھر دیکھ کر کہنے لگے: آپ نے بڑا مضبوط گھر بنایا ہے اور بڑی لمبی اور دور کی امیدیں لگائی ہیں، حالاںکہ آپ جلد ہی دنیا سے چلے جائیں گے۔1
حضرت عطاء ؓ کہتے ہیں: حضرت ابوسعید خدری ؓ کو ایک ولیمہ کی دعوت دی گئی (وہ اس میں تشریف لے گئے ) اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ وہاں انھوں نے رنگ برنگے کھانے دیکھے تو فرمایا: کیا آپ لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ حضورِ اقدس ﷺ جب دوپہر کو کھانا کھالیا کرتے تھے تو رات کو کھانا نہیں کھاتے تھے، اور جب رات کو کھا لیا کرتے تھے تو دوپہر کو نہیں کھاتے تھے۔2