صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا

بیت المال میں سے اپنے اوپر اور اپنے رشتہ داروں پر خرچ کر نے میں احتیاط برتنا

حضرت عمر ؓ نے فرمایا: میں اللہ کے مال کو (یعنی مسلمانوں کے اجتماعی مال کو جو بیت المال میں ہوتا ہے) اپنے لیے یتیم کے مال کی طرح سمجھتا ہوں۔ اگر مجھے ضرورت نہ ہو تو میں اس کے استعما ل سے بچتا ہوں، اور اگر مجھے ضرورت ہو تو ضرورت کے مطابق مناسب مقدار میں اس سے لیتا ہوں۔ دوسری روایت میںیہ ہے کہ میں اللہ کے مال کو اپنے لیے یتیم کے مال کی طرح سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے یتیم کے مال کے بارے میں قرآن مجید میں فرمایا ہے: {وَمَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ ج وَمَنْ کَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْکُلْ بِالْمَعْرُوْفِ}2 اور جو شخص مال دار ہو سو وہ تو اپنے کو بالکل بچائے، اور جو شخص حاجت مند ہو تو وہ مناسب مقدار سے کھالے۔3 حضرت عروہ ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے فر ما یا: اس اجتما عی ما ل میں سے مجھے صرف اتنا لینا جا ئز ہے جتنا میں اپنی ذاتی کما ئی میں سے خرچ کرتا (یہ نہیں کہ بیت المال میں بے احتیا طی اور فضول خرچی کروں)۔1 حضرت عمران ؓ کہتے ہیں: جب حضرت عمر ؓ کو ضرورت پیش آتی تو بیت المال کے نگران کے پاس آتے اور اس سے ادھار لے لیتے۔ بعض دفعہ آ پ تنگ دست ہوتے (اور قرض واپس کرنے کا وقت آجاتا) تو بیت الما ل کا نگران آکر ان سے قرض ادا کر نے کا تقاضا کرتا اور ان کے پیچھے پڑجاتا۔ آخر حضرت عمر قرض کی ادائیگی کی کہیں سے کوئی صورت بناتے۔ بعض دفعہ ایسا ہو تا کہ آپ کو وظیفہ ملتا تو اس سے قرض ادا کر تے۔2 حضرت ابراہیم ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ زمانۂ خلافت میں بھی تجارت کیا کر تے تھے۔ چناںچہ ایک مرتبہ آپ نے ایک تجارتی قافلہ ملکِ شام بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ نے چار ہزار قرض لینے کے لیے حضر ت عبد الرحمن بن عوف ؓ کے پاس آدمی بھیجا۔ حضرت عبد الرحمن نے اس قاصد سے کہا: جا کر امیر المؤ منین سے کہہ دو کہ وہ اب بیت المال سے چار ہزار اُدھار لے لیں، بعد میں بیت المال میں واپس کر دیں۔ جب قاصد نے واپس آکر حضرت عمر کو اُن کا جواب بتایا تو حضرت عمرکو اس سے بڑی گرانی ہوئی۔ پھر جب حضرت عمر کی حضرت عبدالرحمن بن عوف سے ملاقات ہوئی تو ان سے کہا: تم نے ہی کہا تھا کہ عمر چار ہزار بیت المال سے ادھار لے لے؟ اگر (میں بیت المال سے ادھار لے کر تجارتی قافلہ کے ساتھ بھیج دوں اور پھر) تجارتی قافلہ کی واپسی سے پہلے میں مر جاؤ ں تو تم لوگ کہو گے کہ امیر المؤمنین نے چارہزار لیے تھے، اب ان کا انتقال ہوگیا ہے اس لیے یہ ان کے چار ہزار چھوڑ دو۔ (تم لوگ تو چھوڑ دو گے) اور میں ان کے بدلے قیامت کے دن پکڑا جاؤں گا ۔ نہیں، میں بیت المال سے بالکل نہیں لوں گا، بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تم جیسے لالچی اور کنجوس آدمی سے اُدھار لوں تاکہ اگر میں مر جاؤں تو وہ میرے مال میں سے اپنا اُدھار وصول کر لے۔3 حضرت براء بن معرور ؓ کے ایک بیٹے کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ ایک مر تبہ بیمار ہوئے۔ ان کے لیے علاج میں شہد تجویز کیا گیا اور اس وقت بیت المال میں شہد کی ایک کُپّی موجود تھی۔ (انھوں نے خود اس شہد کو نہ لیا بلکہ) مسجد میں جا کر منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا: مجھے علاج کے لیے شہد کی ضرورت ہے اور شہد بیت المال میں موجود ہے۔ اگر آپ لوگ اجازت دیں تو میں اسے لے لوں ورنہ وہ میرے لیے حرام ہے۔ چناںچہ لوگوں نے خوشی سے ان کو اجازت دے دی۔1 حضرت حسن ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ کے پاس ایک مر تبہ کہیں سے مال آیا تو ان کی صاحب زادی اُمّ المؤمنین حضرت حفصہ ؓ کو اس کی اطلاع پہنچی۔ انھوں نے آکر حضرت عمرسے کہا: اے امیر المؤمنین! اللہ تعالیٰ نے رشتہ دار وں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، اس لیے اس مال میں آپ کے رشتہ داروں کا بھی حق ہے۔ حضرت عمر نے ان سے فرمایا: اے میری بِٹیا! میرے رشتہ داروں کا حق میرے مال میں ہے اور یہ مسلمانوں کا مالِ غنیمت ہے۔ تم اپنے باپ کو دھوکہ دینا چاہتی ہو؟ جاؤ تشریف لے جاؤ! چناںچہ حضرت حفصہ ؓ کھڑی ہوئیں اور چادر کا دامن گھسیٹتی ہوئی واپس چلی گئیں۔2 حضرت اسلم ؓکہتے ہیں: میں نے حضرت عبد اللہ بن اَرقمؓکو دیکھا کہ وہ حضرت عمر ؓ کے پاس آئے اور عر ض کیا: اے امیر المؤمنین! ہمارے پاس جَلُوْلَاء شہر کے (مالِ غنیمت کے) کچھ زیورات اور کچھ چاندی کے بر تن ہیں آپ دیکھ لیں۔ جس دن آپ فارغ ہوں اس دن آپ ان زیورات اور بر تنوں کو دیکھ لیں، اور پھر ان کے بارے میں آپ جو ارشاد فرمائیں ہم ویسے کریں گے۔ حضرت عمر نے فرمایا: جس دن تم مجھے فارغ دیکھو، یاد کرادینا۔ چناںچہ ایک دن حضرت عبد اللہ بن اَرقم نے آکر عر ض کیا: آج آپ فارغ نظر آرہے ہیں؟ حضرت عمر نے فرمایا: ہاں! میرے سامنے چمڑے کا دسترخوان بچھا کر اس پر وہ زیورات اور چاندی کے برتن ڈال دو۔ چناںچہ حضرت عبد اللہ بن اَرقم نے دسترخوان بچھا کر وہ سارا مال اس پر ڈال دیا۔ پھر حضرت عمر اس مال کے پاس آکر کھڑے ہوگئے اور فرمایا:ا ے اللہ! آپ نے اس مال کا تذکر ہ کر تے ہوئے فرمایا ہے اور یہ آیت آخر تک تلاوت فر مائی: {زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّھَوٰتِ}1 خوش نما معلوم ہوتی ہے (اکثر) لوگوں کو محبت مرغوب چیزوں کی (مثلاً) عورتیں ہوئیں، بیٹے ہوئے، لگے ہوئے ڈھیرسونے اور چاندی کے، نمبر (یعنی نشان) لگے ہوئے گھوڑے ہوئے، (یا دوسرے) مویشی ہوئے اور زراعت ہوئی، (لیکن) یہ سب استعمالی چیزیں ہیں دنیوی زندگانی کی اور انجام کار کی خوبی تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور (اے اللہ!) آپ نے یہ بھی فرمایا ہے: {لِکَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَا اٰتٰـکُمْ}2 تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے تم اس پر رنج (اتنا) نہ کرو۔ اور تاکہ جو چیز تم کوعطا فرمائی ہے اس پر اِتراؤ نہیں۔ (اے اللہ!) جن مر غوب چیزوں کی محبت ہمارے دلوں میں بھلی اور خوش نما کر دی گئی ہے ان سے خوش ہونے کو چھوڑنا ہمارے بس میں نہیں ہے۔ اے اللہ! ہمیں ان چیزوں کو حق میں صحیح جگہ خرچ کر نے والا بنا اور میں ان کے شر سے تیری پنا ہ مانگتا ہوں۔ اتنے میں ایک صاحب حضرت عمر کے بیٹے عبد الرحمن بن بُہَیَّہ کو اٹھا لائے۔ (بُہَیَّہ حضرت عمر کی باندی تھیں جن سے عبدالرحمن پیدا ہوئے تھے۔ بعض حضرات اس باندی کا نام لُہَیَّہ بتاتے ہیں) اس بچے نے کہا: ابا جان! مجھے ایک انگوٹھی دے دیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: جا، اپنی ماں کے پاس جا! وہ تجھے ستّو پلائے گی۔ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! حضرت عمر ؓ نے اپنے اس بیٹے کو کچھ نہیں دیا۔3 حضرت اسماعیل بن محمد بن سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں: ایک دفعہ حضرت عمر ؓ کے پاس بحرین سے مشک اور عنبر آیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ مجھے کوئی ایسی عورت مل جائے جو تولنا اچھی طرح جانتی ہو اور وہ مجھے یہ خوش بو تول دے تاکہ میں اسے مسلمانوں میں تقسیم کرسکوں۔ ان کی بیوی حضرت عاتکہ بنتِ زید بن عمرو بن نفیل ؓ نے کہا: میں تولنے میں بڑی ماہر ہوں، لایئے میں تول دیتی ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا: نہیں، تم سے نہیں تلوانا۔ انھوں نے کہا: کیوں؟ حضرت عمر نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ تواسے اپنے ہاتھوں سے ترازو میں رکھے گی (یوں کچھ نہ کچھ خوش بو تیرے ہاتھوں کو لگ جائے گی۔ اور کنپٹی اور گردن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) اور یوں تو اپنی کنپٹی اور گر دن پر اپنے ہاتھ پھیرے گی، اس طرح تجھے مسلمانوں سے کچھ زیادہ خوش بو مل جائے گی۔1 حضرت حسن ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے ایک لڑکی کو دیکھا جو کمزوری کی وجہ سے لڑکھڑا کر چل رہی تھی۔ حضرت عمر نے پوچھا: یہ لڑکی کون ہے؟ تو (ان کے بیٹے) حضرت عبد اللہ نے کہا: یہ آپ کی بیٹی ہے۔ حضرت عمر نے پوچھا: یہ میری کون سی بیٹی ہے؟ حضرت عبد اللہ نے کہا: یہ میری بیٹی ہے۔ حضرت عمر نے پوچھا: یہ اتنی کمزور کیوں ہے؟ حضرت عبد اللہ نے کہا: آپ کی وجہ سے، کیوںکہ آپ اسے کچھ نہیں دیتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: اے آدمی! اللہ کی قسم! میں تمھیں تمہاری اولاد کے بارے میں دھوکہ میں نہیںرکھنا چاہتا۔ (خود کما کر) تم اپنی اولادپر خوب خرچ کرو (میںبیت المال میں سے نہیں دوںگا)۔ 2 حضرت عاصم بن عمر ؓ فرماتے ہیں: جب حضرت عمر ؓ نے میری شادی کی تو ایک مہینہ تک اللہ کے مال میں سے (یعنی بیت المال میں سے) مجھے خرچ دیتے رہے۔ پھر اس کے بعد حضرت عمر نے (اپنے در بان) یرفا کو مجھے بلانے بھیجا۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انھوں نے فرمایا: میں خلیفہ بننے سے پہلے بھی یہی سمجھتا تھا کہ میرے لیے بیت المال سے اپنے حق سے زیادہ لینا جائز نہیں، اور اب خلیفہ بننے کے بعد یہ مال میرے لیے اور زیادہ حرام ہوگیا ہے، کیوںکہ اب یہ میرے پاس بطورِ امانت ہے، اور میں تمھیں اللہ کے مال میں سے ایک مہینہ خرچ دے چکا ہوں، اب تمھیں اس میں سے اور نہیں دے سکتا ہوں۔ ہاں! میں تمہاری مدد اس طرح کر سکتا ہوں کہ غابہ میں میرا جو باغ ہے تم اس کا پھل کاٹ کر بیچ دو۔ پھر (اس کے پیسے لے کر) اپنی قوم کے کسی تاجر کے پاس جاکر کھڑے ہوجاؤ، اور دیکھو جب وہ کوئی چیز خریدنے لگے تو تم اس کے ساتھ شراکت کر لو (اس سے جو نفع ہو اس سے) خرچہ لے کر اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے رہو۔1 حضرت مالک بن اَوس بن حَدَثان ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے پاس روم کے بادشاہ کا قاصد آیا۔ حضرت عمر کی بیوی نے ایک دینا ر اُدھار لے کرعطر خریدا اور شیشیوں میں ڈال کر وہ عطر اس قاصد کے ہاتھ روم کے بادشاہ کی بیوی کو ہدیہ میں بھیج دیا۔ جب یہ قاصد بادشاہ کی بیوی کے پاس پہنچا اور اسے وہ عطر دیا تو اس نے وہ شیشیاں خالی کر کے جواہرات سے بھر دیں اور قاصد سے کہا: جاؤ یہ حضرت عمر بن خطّاب کی بیوی کو دے آؤ۔ جب یہ شیشیا ں حضرت عمر کی بیوی کے پاس پہنچیں تو انھوں نے شیشیوں سے وہ جو اہرات نکال کر ایک بچھونے پر رکھ دیے۔ اتنے میں حضرت عمر بن خطّاب گھر آگئے اور انھوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ان کی بیوی نے ان کو سارا قصہ سنایا۔ حضرت عمر نے وہ تمام جواہرات لے کر بیچ دیے اور ان کی قیمت میں سے صرف ایک دینا ر اپنی بیوی کو دیا اور باقی ساری رقم مسلما نوں کے لیے بیت المال میں جمع کرادی۔2 حضرت ابنِ عمر ؓ فر ماتے ہیں: ایک مر تبہ میں نے کچھ اُونٹ خریدے اور ان کو بیت المال کی چراگاہ میں چھوڑ آیا۔ جب وہ خو ب موٹے ہوگئے تو میں انھیں (بیچنے کے لیے بازار) لے آیا۔ اتنے میں حضرت عمر ؓ بھی بازار تشریف لے آئے اور انھیں موٹے موٹے اُونٹ نظر آئے تو انھوں نے پوچھا: یہ اُونٹ کس کے ہیں؟ لوگوں نے انھیں بتایا کہ یہ حضرت عبد اللہ بن عمر کے ہیں۔ تو فرمانے لگے! اے عبد اللہ بن عمر! واہ واہ ! امیر المؤمنین کے بیٹے کے کیاکہنے! میں دوڑتا ہوا آیا اور میں نے عرض کیا: اے امیرالمؤمنین! کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ اونٹ کیسے ہیں؟ میں نے عرض کیا: میں نے یہ اونٹ خریدے تھے اور بیت المال کی چراگاہ میںچر نے کے لیے بھیجے تھے (اب میں ان کو بازار لے آیا ہوں) تاکہ میں دوسرے مسلمانوں کی طرح انھیں بیچ کر نفع حاصل کروں۔ حضرت عمر نے فرمایا: ہاں، بیت المال کی چراگا ہ میں! لوگ ایک دوسرے کو کہتے ہوں گے: امیر المؤمنین کے بیٹے کے اونٹوں کو چرا ؤ! اور امیر المؤمنین کے بیٹے کے اونٹوں کو پانی پلاؤ! (میرا بیٹا ہونے کی وجہ سے تمہارے اونٹوں کی زیادہ رعایت کی ہوگی۔ اس لیے) اے عبد اللہ بن عمر! ان اونٹوں کو بیچو اور تم نے جتنی رقم میں خریدے تھے وہ تو تم لے لو اور باقی زائد رقم مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کرادو۔1 حضرت محمد بن سیرین ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ کے سسرال والوں میں سے ایک صاحب آئے اور انھوں نے حضرت عمر سے اشارہ کنایہ میں یہ بات کہی کہ حضرت عمر اُن کو بیت المال میں سے کچھ دے دیں۔ تو حضرت عمر نے انھیں ڈانٹ دیا اور فرمایا: تم چاہتے ہو کہ میں اللہ کے سامنے خائن بادشاہ بن کر پیش ہوں؟ اور اس کے بعد انھیں اپنے ذاتی مال میں سے دس ہزار در ہم دیے۔2 حضرت عنترہ ؓ کہتے ہیں: میں (کوفہ کے محلہ) خورنق میں حضرت علی بن ابی طالب ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے ایک پرانی چادر اوڑھ رکھی تھی اور آپ سردی کی وجہ سے کانپ رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! اللہ تعالیٰ نے (بیت المال کے) اس مال میں آپ کا اور آپ کے اہل وعیال کا بھی حصہ رکھا ہے، (پھر بھی آپ کے پاس سردی سے بچنے کا کوئی انتظام نہیں ہے) اور آپ سردی سے کانپ رہے ہیں۔ تو انھوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہارے مال میں سے کچھ نہیں لینا چاہتا ہوں اور یہ پرانی چادر بھی وہ ہے جو میں اپنے گھر مدینہ منوّرہ سے لایا تھا۔3