صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
حضور ﷺ کا اس مال کو قبول نہ کرنا جو آپ کو پیش کیا گیا
حضرت ابنِ عباس ؓ فر ماتے ہیں: ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے ایک فر شتہ اپنے نبی ﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ اس فر شتے کے ساتھ حضرت جبر ائیل ؑ بھی تھے۔ اس فر شتے نے حضورﷺ کی خدمت میںعر ض کیا: اللہ تعالیٰ آپ کو دو باتوں میں اختیار دے رہے ہیں چاہے آپ بندگی والی نبوّت اختیار فر مائیں، چاہے بادشاہت والی۔ حضورﷺ حضرت جبرائیل ؑ کی طرف اس طرح متوجہ ہوئے گویا کہ آپ ان سے مشورہ لے رہے ہیں، تو انھوں نے تواضع اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔
اس پر حضورﷺ نے فرمایا: میں تو بندگی والی نبوّت چاہتا ہوں۔ حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: اس کے بعد حضورﷺ نے وفات تک کبھی ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھایا۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ فر ماتے ہیں: ایک دن حضورﷺ اور حضرت جبرائیل ؑ صفا پہاڑی پر تھے۔ آپ نے فرمایا: اے جبرائیل! اس ذات کی قسم جس نے تمھیں حق دے کر بھیجا ہے! شام کو محمد (ﷺ) کے اہل وعیال کے پاس نہ ایک پھنکی آٹا تھا اور نہ ایک مٹھی ستّو۔ آپ کی بات ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ آپ نے آسمان سے دھماکہ کی ایسی زور دار آواز سنی جس سے آپ گھبر ا گئے۔ آپ نے حضرت جبرائیل سے پوچھا: کیا اللہ نے قیامت قائم ہونے کا حکم دے دیا ہے؟ حضرت جبرائیل ؑ نے عر ض کیا: نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی بات سنتے ہی اسرافیل ؑ کو حکم دیا اور وہ اُتر کر آپ کے پاس آئے ہیں۔ چناںچہ حضرت اسرافیل نے خدمت میں حاضر ہو کر عر ض کیا: آپ نے جو بات حضرت جبرائیل سے کہی وہ اللہ تعالیٰ نے سنی، اور اللہ نے مجھے زمین کے خزانوںکی چابیاں دے کر آپ کے پاس بھیجا ہے اور مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں آپ کی خدمت میں یہ پیش کروں کہ اگر آپ کہیں تو میں تہامہ کے پہاڑوں کو زمرد، یاقوت، سونے اور چاندی کا بنا دوں، اور یہ پہاڑ آپ کے ساتھ چلا کریں۔ اب آپ فرمائیں آپ بادشاہت والی نبوّت چاہتے ہیںیا بندگی والی؟ حضرت جبرائیل نے آپ کو تواضع اختیار کرنے کا اشارہ کیاتو آپ نے تین مر تبہ فرمایا: نہیں، میں بندگی والی نبوّت چاہتا ہوں۔1
حضرت ابو اُمامہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ پر یہ بات پیش فرمائی کہ میرے لیے مکہ کے پتھر یلے میدان کو سونے کا بنا دیا جائے۔ میں نے عر ض کیا: نہیں۔ اے میرے ربّ! میں تو یہ چاہتا ہوں کہ ایک دن پیٹ بھر کر کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں۔ آپ نے دو تین مر تبہ یہی کلمات ارشاد فر مائے۔ تاکہ جب بھوک لگے تو میں آپ کے سامنے عاجزی کروں اور آپ کو یاد کروں، اور جب پیٹ بھر کر کھاؤ ں تو آپ کا شکر ادا کروں اور آپ کی تعریف کروں۔2
حضرت علی ؓ فرماتے ہیںکہ حضور ﷺ نے فرمایا: میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ کے ربّ آپ کو سلام کہہ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اگر آپ چاہیں تو میں مکہ کے پتھریلے میدان آپ کے لیے سونے کے بنا دوں۔ حضرت علی کہتے ہیں: حضورﷺ نے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر عرض کیا: نہیں، اے میرے ربّ! میں یہ نہیں چاہتا۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ ایک دن سیر ہو کر کھاؤں تاکہ آپ کی تعریف کروں اور ایک دن بھوکا رہوں تاکہ آپ سے مانگوں۔3
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: غزوۂ اَحزاب (یعنی غزوہ ٔ خندق) میںایک مشرک مارا گیا تو مشرکین نے حضورﷺ کو یہ پیغام بھیجا کہ اس کی لاش ہمیں دے دیں ہم آپ کو اس کے بدلے میں بارہ ہزار دیں گے۔ آپ نے فرمایا: نہ اس کی لا ش میں خیر ہے اور نہ اس کی قیمت میں (لہٰذا اس کی لاش کچھ لیے بغیر ہی دے دو)۔ امام احمد نے اس روایت میںیہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: اس کی لاش ان مشرکوں کو ویسے ہی دے دو، اس لیے کہ اس کی لاش بھی ناپاک ہے اور اس کی قیمت بھی ناپاک ہے۔ چناںچہ آپ نے ان سے کچھ نہیں لیا (اور لاش ان کو ویسے ہی دے دی)۔1
حضرت عکرمہ ؓ کہتے ہیں: غزوۂ خندق کے دن نوفل یا ابنِ نوفل اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ وہ گھوڑا گر پڑا جس سے نوفل مرگیا۔ تو (کافروں کے سردار) ابو سفیان نے حضور ﷺ کی خدمت میں اس کی لاش کے بدلے میں سو اُونٹ بھیجے۔ آپ نے انکار فرما دیا اور فرمایا: اس کی لاش لے جائو۔ اس کا بدلہ بھی ناپاک ہے اور وہ خود بھی ناپاک ہے۔2
حضرت عروہ ؓ کہتے ہیں: حکیم بن حزام ؓ یمن گئے اور انھوںنے وہاں (حمیر کے نواب) ذُویَزن کا جوڑا خریدا اور اسے لے کر حضورﷺ کی خدمت میں مدینہ آئے اور حضور ﷺ کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر پیش کیا۔ حضورﷺ نے لینے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ہم کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیںکرتے۔ (اس وقت تک حضرت حکیم مسلمان نہیں ہوئے تھے) چناںچہ حضرت حکیم اسے فروخت کرنے لگے تو حضورﷺ نے اسے خرید لینے کا حکم فرمایا تو وہ جوڑا آپ کے لیے خریدا گیا۔ آپ اسے پہن کر مسجدِ نبوی میں تشریف لائے۔ حضرت حکیم فرماتے ہیں: اس جوڑے میں حضورﷺ بہت خوب صورت نظر آرہے تھے اور میں نے اس جوڑے میںحضورﷺ سے زیادہ خوب صور ت آدمی کبھی نہیں دیکھا۔ آپ ایسے لگ رہے تھے جیسے چودھویں کا چاند! دیکھتے ہی بے اختیار یہ اشعار میری زبان پر آگئے:
مَا تَنْظُرُ الْحُکَّامُ بِالْحُکْمِ بَعْدَ مَا
بَدَا وَاضِحٌ ذُوْ غُرَّۃٍ وَّحُجُوْلٖ
جب ایک روشن اور چمک دار ایسی ہستی (یعنی رسولِ پاک ؑ) ظاہر ہوگئی ہے جس کا چہر ہ، ہاتھ اور پیر سبھی چمک رہے ہیں، تو اب اس کے بعد حکام حکم دینے کے بارے میں سوچ کر کیا کر یں گے؟ (یعنی اب تو حضورﷺ کی مانی جائے گی ان حاکموں کی نہیں)
إِذَا قَایَسُوْہُ الْمَجْدَ أَرْبٰی عَلَیْھِمْ
کَمُسْتَفْرِغٍ مَائَ الذِّنَابِ سَجِیْلٖ
جب یہ حکام بزرگی اور شرافت میں ان کا مقابلہ کریں گے تو یہ ان سے بڑھ جا ئیں گے، کیوںکہ ان پر بزرگی اور شر افت ایسے کثرت سے بہائی گئی ہے جیسے کسی پر پانی سے بھرے ہوئے بڑے بڑے ڈول ڈالے گئے ہوں۔
یہ سن کر حضورﷺ مسکرانے لگے۔1
حضرت حکیم بن حزام ؓ فر ماتے ہیں: زمانۂ جاہلیت میں ہی مجھے حضرت نبی کریم ﷺ سے سب سے زیادہ محبت تھی۔ پھر آپ نے جب نبوّت کا دعویٰ کیا اور مدینہ تشریف لے گئے تو میں موسم ِ حج میں یمن گیا۔ وہاں مجھے (حمیر کے نواب) ذِی یَزن کا جوڑا پچاس در ہم میں بکتا ہوا نظر آیا۔ میں نے اسے حضورﷺ کو ہدیہ دینے کی نیت سے خرید لیا اور میں وہ جوڑا لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں (مدینہ منوّرہ) حاضر ہوا۔ اور میں نے بہت کوشش کی کہ آپ اسے لے لیں لیکن آپ نے انکار کر دیا اور آپ نے فرمایا: ہم مشرکوں سے کچھ نہیں لیتے (اور تم مشرک ہو) لیکن اگر تم چاہو تو ہم قیمت دے کر تم سے یہ خرید لیتے ہیں۔ چناںچہ میں نے قیمت لے کر وہ جوڑا حضورﷺ کو دے دیا۔ پھر میں نے ایک دن دیکھا کہ آپ منبر پر تشریف فرما ہیں اور آپ نے وہ جوڑا پہنا ہوا ہے۔ آپ اس جوڑے میں اتنے حسین نظر آرہے تھے کہ میں نے اتنا حسین کبھی کو ئی نہیں دیکھا۔ پھر آپ نے وہ جوڑا حضرت اُسامہ بن زید ؓ کو دے دیا۔ میں نے وہ جوڑا جب اُسامہ کو پہنے ہوئے دیکھا تو میں نے کہا: اے اُسامہ! تم نے ذِی یَزن (نواب) کا جوڑا پہن رکھا ہے۔ انھوں نے کہا: ہاں، میں ذِی یَزن سے بہتر ہوں اور میرا باپ اس کے باپ سے اور میری ماں اس کی ماں سے بہتر ہے۔ پھرمیں مکّہ مکرّمہ آگیا اور انھیں حضرت اُسامہ کی بات سنائی جس سے وہ سب بڑے حیران ہوئے (کہ غلام کا بیٹا ہو کر بھی خود کو اور اپنے ماں باپ کو اسلام کی وجہ سے نوابوں سے زیادہ قیمتی سمجھتا ہے)۔2
حضرت عبد اللہ بن بُرَیدہ ؓکہتے ہیں: میرے چچا عامر بن طفیل عامر ی نے مجھے یہ قصہ سنایا کہ عامر بن مالک نے حضورﷺ کی خدمت میں ایک گھوڑا ہدیہ میں بھیجا اور یہ لکھا کہ میرے پیٹ میں ایک پھوڑا ہے، اپنے پاس سے اس کی دوا بھیج دیں۔ عامر بن طفیل کہتے ہیں: حضورﷺ نے گھوڑا واپس کر دیا، کیوںکہ عامر بن مالک مسلمان نہیں تھے۔ اور ان کو ہدیہ میں شہد کی ایک کپی بھیجی اور فرمایا: اس سے اپنا علاج کرلو۔1
حضرت کعب بن مالک ؓ فر ماتے ہیںکہ مُلاَعِبُ الْأَسِنَّۃِ (نیزوں کا کھلاڑی یہ عامر بن مالک کا لقب ہے) حضورﷺ کی خدمت میں کچھ ہدیہ لے کر آیا۔ حضورﷺ نے اس پر اسلام پیش کیا لیکن اس نے مسلمان ہونے سے انکار کر دیا، تو حضورﷺ نے فرمایا: میں کسی مشرک کا ہدیہ قبو ل نہیں کرسکتا۔2
حضرت عیاض بن حمار مجاشعیؓ فرماتے ہیں کہ انھوں نے اونٹنی یا کوئی اور جانور حضورﷺ کی خدمت میں بطورِ ہدیہ پیش کیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم مسلمان ہوچکے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا ہدیہ لینے سے منع فرمایا ہے۔3