صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
دودھ پیتے بچوں کے لیے وظیفہ مقرر کرنا
حضرت ابنِ عمر ؓ فر ماتے ہیں: ایک تجارتی قافلہ مدینہ منوّرہ آیا اور انھوں نے عید گاہ میں قیام کیا۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ سے فرمایا: کیا تم اس بات کے لیے تیار ہو کہ ہم دونوں اس قافلہ کا چوروں سے پہرہ دیں؟ (انھوں نے کہا: ٹھیک ہے) چناںچہ یہ دونوں حضرات رات بھر قافلہ کا پہر ہ بھی دیتے رہے اور باری باری نماز بھی پڑھتے رہے۔ حضرت عمر نے ایک بچے کے رونے کی آواز سنی تو انھوں نے جاکر اس کی ماں سے کہا: اللہ سے ڈر اور اپنے بچے کا خیال کر۔ اور پھر حضرت عمر اپنی جگہ واپس آگئے۔ پھر بچے کے رونے کی آواز سنی تو حضرت عمر نے جا کر دوبارہ اس کی ماں کو وہی بات کہی اور اپنی جگہ واپس آگئے۔ جب آخر رات ہوئی تو پھر انھوں نے اس بچے کے رونے کی آواز سنی تو جا کر اس کی ماں سے کہا: تیرا بھلا ہو! میرا خیال ہے کہ تو بچے کے حق میں بری ماں ہے۔ کیا بات ہے کہ تیرا بیٹا آج ساری رات آرام نہ کر سکا؟ اس عور ت نے کہا: اے اللہ کے بندے! آج رات تو (بار بار آکر) تم نے مجھے تنگ کر دیا۔ میں بہلا پھسلا کر ا س کا دودھ چھڑا نا چاہتی ہوں لیکن یہ مانتا نہیں۔
حضرت عمر نے پوچھا: تم اس کا دودھ کیوں چھڑانا چاہتی ہو؟ اس عورت نے کہا: کیوںکہ حضرت عمر صرف اس بچے کا وظیفہ مقرر کر تے ہیں جو دودھ چھوڑ چکا ہو۔ حضرت عمر نے پوچھا: اس بچے کی عمر کیا ہے؟ اس عورت نے کہا: اتنے مہینے کا ہے۔ حضرت عمر نے کہا: تیرابھلا ہو! اس کا دودھ چھڑانے میں جلدی نہ کر۔ (پھر آ پ وہاں سے واپس آئے) اور فجر کی نماز پڑھائی اور نماز میں بہت روئے۔ زیادہ رونے کی وجہ سے ان کا قرآن لوگوں کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ سلام پھیرنے کے بعد آپ نے لوگوں سے کہا: عمر کے لیے ہلاکت ہو! اس نے مسلمانوں کے کتنے بچے مار ڈالے (کہ عمر نے اصول یہ بنا یا کہ دودھ چھڑانے کے بعد بچے کو وظیفہ ملے گا اس وجہ سے نہ معلوم کتنے بچوں کا دودھ قبل از وقت چھڑایا گیا ہوگا اور بچوں کو تکلیف ہوئی ہوگی) پھر اپنے منادی کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کر ے کہ خبردار! تم اپنے بچوں کا جلدی دودھ نہ چھڑاؤ، کیوںکہ ہم ہر دودھ پیتے مسلمان بچے کا بھی وظیفہ مقرر کر یں گے۔ اور تمام علاقوں میں بھی (اپنے گورنر وں کو) یہ لکھو ا بھیجاکہ ہم ہر دودھ پیتے مسلمان بچے کا بھی وظیفہ مقرر کریں گے ۔1