نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا
حضور ﷺ کا مجمع کے سامنے دعوت کو پیش فرمانا
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
{وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ O}2
جس کا ترجمہ یہ ہے: اور ڈر سنادے اپنے قریب کے رشتہ داروں کو۔
تو حضورﷺ باہر تشریف لائے اور مروہ پہاڑی پر چڑھ گئے اور آپ نے پکار کر کہا: اے آلِ فہر! تو قریش آپ کے پاس آگئے۔ ابولہب بن عبدالمطّلب نے کہا: یہ فہر قبیلہ آپ کے پاس حاضر ہے، لہٰذا آپ فرمائیں کیا کہنا چاہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اے آلِ غالب ! تو فہر کی اولاد میں سے بنو مُحارب اور بنو حارث واپس چلے گئے ۔ آپ نے فرمایا :اے آلِ لُؤی بن غالب ! تو بنو تیم الادرم بن غالب واپس چلے گئے۔ پھر آپ نے فرمایا :اے آلِ کعب بن لُؤی! تو بنو عامر بن لُؤی واپس چلے گئے۔ پھر آپ نے فرمایا: اے آل ِ مُرَّہ بن کعب! تو بنو عدی بن کعب اور بنو سہم اور بنو جمح بن عمرو بن ہُصَیْص بن کعب بن لُؤی واپس چلے گئے۔ پھر آپ نے فرمایا: اے آلِ کلاب بن مُرّہ! تو بنو مخزوم بن یقظہ بن مُرّہ اور بنو تیم بن مُرّہ واپس چلے گئے۔ پھر آپ نے فرمایا: اے آلِ قُصَی! تو بنو زُہرہ بن کلاب واپس چلے گئے۔ پھر آپ نے فرمایا: اے آلِ عبدمناف ! تو بنو عبد الدارقصی اور بنو اسد بن عبدالعزّٰی بن قصی اور بنو عبد بن قصی واپس چلے گئے۔ ابولہب نے کہا :یہ بنو عبد مناف آپ کے پاس حاضر ہیں، آپ فرمائیں کیا کہتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤں اور آپ لوگ ہی قریش میں سے میرے قریبی رشتہ دار ہو۔ اور میرا اللہ کے سامنے کوئی اختیار نہیں چلتا ہے اور نہ میں آخرت میں تمہارے لیے کچھ کراسکتا ہوں جب تک کہ تم لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کااِقرار نہ کرلو۔ اور جب تم اس کا اقرار کرلوگے تو اس کلمہ کی وجہ سے تمہارے ربّ کے سامنے تمہارے لیے گواہی دے سکوں گا، اور اس کی وجہ سے تمام عرب تمہارے مطیع اور فرماں بردار ہوجائیں گے اور تمام عجم تمہاری مان کر چلیں گے۔ اس پر ابولہب بولا:(نعوذباللہ!) تو برباد ہوجائے کیا اسی لیے ہم لوگوں کو بلایا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے {تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَہَبٍ وَّتَبَّO}1 سورت نازل فرمائی کہ ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے یعنی اس کے ہاتھ برباد ہوگئے۔2
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَO}1 آیت نازل فرمائی تو آپ صفا پہاڑی پر تشریف لے گئے اور اس پر چڑھ کر زور سے پکارا: یَا صَبَاحَاہْ! یعنی اے لوگو! صبح صبح دشمن حملہ کرنے والا ہے، اس لیے یہاں جمع ہوجاؤ۔ چناں چہ سب لوگ آپ کے پاس جمع ہوگئے۔ کوئی خود آیا ، کسی نے اپنا قاصد بھیج دیا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: اے بنو عبدالمطّلب ! اے بنو فہر ! اے بنو کعب ! ذرا یہ تو بتاؤ اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے دامن میں گھوڑے سواروں کا ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے، کیا تم مجھے سچا مان لوگے ؟ سب نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے اس سے ڈرانے والا ہوں۔ ابولہب بولا :تو برباد ہوجائے! ہمیں محض اسی لیے بلایا تھا؟ اور اللہ عزّوجل نے {تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَہَبٍ وَّتَبَّ O} سورت نازل فرمائی ۔ 2