نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا

حضور ﷺ کا دو سے زیادہ کی جماعت پر اسلام کو پیش کرنا

حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ، ابوسفیان بن حرب اور بنو عبدالدار کے ایک آدمی اور بنو الاسد کے ابوالبَخْتَرِی اوراَسود بن عبدالمطّلب بن اسد اور زَمعہ بن اسود اور ولید بن مغیرہ اور ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی اُمیَّہ اور اُمیَّہ بن خلف اور عاص بن وائل اور نُبَیہ بن حجاج سہمی اور مُنَبَّہ بن حجاج سہمی اور کم و بیش سب کے سب سورج ڈوبنے کے بعد کعبہ کے پیچھے کی جانب جمع ہوئے اور آپس کے مشورہ سے یہ بات طے کی کہ محمد کو آدمی بھیج کر بلاؤ اور اُن سے کھل کر بات کرو اوراُن سے اتنا جھگڑاکرو کہ لوگ سمجھ لیں کہ ہم نے پوری کوشش کی ہے۔ چناں چہ ایک آدمی کو یہ پیغام دے کر حضورﷺ کے پاس بھیجا کہ آپ کی قوم کے سردار آپ سے بات کرنے کے لیے یہاں جمع ہیں۔ آپ جلدی سے اُن کے پاس اس خیال سے تشریف لے آئے کہ شاید اِسلام قبول کرنے کے بارے میں اُن لوگوں کی رائے بن گئی ہے، کیوں کہ آپ اُن کے ایمان لانے کے لیے بے چین رہا کرتے تھے اور دل سے چاہتے تھے کہ اُن کو ہدایت مل جائے اور اُن کا نقصان اور بگاڑ آپ پر بہت گراں تھا۔ آپ اُن کے پاس آکر بیٹھ گئے تو انھوں نے کہا : اے محمد!ہم نے تم کو آدمی بھیج کر اس لیے بلایا ہے تاکہ تم کو سمجھانے میں ہم اپنا سارا زور لگادیں اور لوگ سمجھ جائیں کہ ہم نے سمجھانے کی پوری کوشش کرلی ہے۔ اللہ کی قسم! ہمیں پورے عرب میں کوئی آدمی ایسا نظر نہیںآتا جس نے اپنی قوم کو ان پریشانیوں میںمبتلا کیا ہو جن میں آپ نے اپنی قوم کو مبتلا کیا ہے۔ آپ نے ان کے آباء واَجداد کو برا بھلا کہا اور اُن کے دین میں عیب نکالے اور اُن کو بے وقوف بتایا اور اُن کے خداؤں کو برا بھلا کہا اور اُن کی جماعت میں پھوٹ ڈال دی۔ ہم سے تعلقات بگاڑنے والا ہر برا کام کیا۔اگر آپ کا ان باتوں سے مقصد مال حاصل کرنا ہے تو ہم آپ کے لیے اتنا مال جمع کردیں گے کہ آپ ہم میں سب زیادہ مال دار ہوجائیں گے۔ اور اگر آپ ہمارا سردار بننا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا سردار بنالیں گے۔ اور اگر آپ بادشاہ بننا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنالیں گے۔ اور اگر یہ جو کچھ ہورہا ہے یہ سب کچھ جنات کے اَثر سے ہورہا ہے جس کے سامنے آپ بے بس ہیں تو ہم اس کا علاج کروانے کے لیے اپنی ساری دولت خرچ کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ یا تو آپ ٹھیک ہوجائیں یا آپ کے مزید علاج میں ہم معذور سمجھے جائیں یعنی یہ پتہ چل جائے کہ یہ لا علاج مرض ہے۔ حضورﷺ نے جواب میں فرمایا: جتنی باتیں تم کہہ رہے ہو اُن میں سے کوئی بات بھی میرے دل میں نہیں ہے۔ جس دعوت کو لے کر میں تمہارے پاس آیا ہوں اس سے مقصد نہ تو تمہارے مال حاصل کرنا ہے نہ تمہارا سردار یا بادشاہ بننا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور مجھ پر ایک کتاب نازل فرمائی ہے اور مجھے اس بات کا حکم دیا ہے کہ تم میں سے جو مان جائے اسے خوش خبری سناؤں اور جو نہ مانے اسے اللہ کے عذاب سے ڈراؤں۔ اور میں نے تمہیں اللہ کے پیغام پہنچادیے اور میں تمہارا بھلا چاہتا ہوں۔ جو دعوت لے کر میں تمہارے پاس آیا ہوں اگر تم اسے قبول کروگے تو دنیا اور آخرت میں تمہارا نصیبہ ہے، اور اگر قبول نہیں کروگے تو میں اللہ کے حکم کا انتظار کروںگا یہاں تک کہ وہی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے۔ یہ سن کر قریش کے سرداروں نے کہا: اے محمد! جو باتیں ہم نے آپ کو پیش کی ہیں اگر وہ آپ کو قبول نہیں ہیں، تو آپ کو خوب معلوم ہے کہ دنیا میں کوئی ہم سے زیادہ تنگ شہر والا اور ہم سے زیادہ کم مال والا اور ہم سے زیادہ سخت زندگی والا نہیں ہے۔ تو آپ کے جس ربّ نے آپ کو یہ دعوت دے کر بھیجا ہے، اس سے آپ ہمارے لیے یہ سوال کریں کہ وہ اُن پہاڑوں کو ہم سے دور ہٹادے جن کی وجہ سے ہمارے شہر تنگ پڑگئے ہیں اور ہمارے شہروں کو وسیع بنادے، اور یہاں شام و عراق جیسی نہریں چلادیں، اور جو ہمارے آباء واَجداد مرچکے ہیں اُن کو دوبارہ زندہ کردے ان میں سے خاص طور سے قُصَی بن کلاب کو بھی زندہ کرے کیوں کہ وہ سچے بزرگ تھے، پھر ہم اُن سے پوچھیں گے کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں وہ حق ہے یا غلط ہے۔ جتنی باتوں کا ہم نے آپ سے مطالبہ کیا ہے اگر آپ اُن کو پورا کردیں گے اور ہمارے آباء واَجداد آپ کی تصدیق کردیں گے تو ہم بھی آپ کو سچا مان لیں گے اور اس سے ہمیں پتہ چلے گا کہ اللہ کے ہاں آپ کا بڑا مرتبہ ہے اور جیسے آپ کہہ رہے ہیں کہ واقعی اس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے اُن سے فرمایا: مجھے ان کاموں کے لیے نہیں بھیجا گیا، اور میں تمہارے پاس وہی باتیں لے کر آیا ہوں جن کو دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔ اور جو کچھ دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے وہ سب میں تمہیں پہنچا چکا ہوں، اگر تم انھیں قبول کرلوگے تو تمہیں دنیا اور آخرت میں خوش قسمتی ملے گی، اور اگر تم قبول نہ کروگے تو میں اللہ کے حکم کا انتظار کروں گایہاں تک کہ وہی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے۔ اس پر اُن سرداروں نے کہا: اگر آپ ہمارے لیے یہ باتیں کرنے کو تیار نہیں ہیں تو کم از کم اپنے لیے اتنا تو کرو کہ اپنے ربّ سے کہو کہ وہ ایک فرشتہ بھیج دے جو آپ کی باتوں کی تصدیق کرے اور آپ کی طرف سے ہمیں جواب دیا کرے، اور اپنے ربّ سے کہو کہ وہ آپ کے لیے باغات، خزانے اور سونے چاند ی کے محلات بنادے جس کی وجہ سے آپ کو ان باتوں کی تکلیف نہ اٹھانی پڑے جن کو ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ کو بازاروں میں جاکر ہماری طرح روزی تلاش کرنی پڑتی ہے۔ اگر آپ کا ربّ ایسا کردے گاتو اس سے ہمیں پتہ چلے گا کہ آپ کا اپنے ربّ کے ہاں بڑا درجہ ہے اور جیسے آپ کہہ رہے ہیں واقعی آپ اس کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا: نہ ہی میں یہ کروں گا اورنہ ہی میں اپنے ربّ سے یہ مانگوں گا اور نہ ہی مجھے اس کام کے لیے تمہارے پاس بھیجا گیا ہے۔ اللہ نے تو مجھے خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے ،تو جو باتیں لے کر میں تمہارے پاس آیا ہوں اگر تم ان کو قبول کرلوگے تو دنیا اور آخرت میں تمہارا نصیبہ ہے، اوراگر قبول نہیں کروگے تو میں اللہ کے حکم کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ وہی میرے اورتمہارے درمیان فیصلہ کردے۔ اس پر اُن سرداروں نے کہا: آپ ہم پر آسمان گرادیں جیسے کہ آپ کا کہنا ہے کہ اگر آپ کا ربّ چاہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے، کیوں کہ جب تک آپ ایسا نہیں کریں گے ہم ہرگز آپ کوسچا نہیں مانیں گے۔ اُن سے آپ نے فرمایا: یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے وہ اگر چاہے تو تمہارے ساتھ ایسا کربھی دے۔ اُن سرداروں نے کہا :کیا آپ کے ربّ کو اس کا علم نہیں تھا کہ ہم آپ کے پاس بیٹھیں گے اور ہم آپ سے یہ سوالات اور مطالبے کریں گے؟ تو آپ کو وہ پہلے سے ہی یہ سب کچھ بتادیتا اور ہمارے جوابات آپ کو سکھادیتا اور آپ کو یہ بھی بتادیتا کہ اگر ہم آپ کی لائی ہوئی باتوں کو قبول نہیں کریں گے تو وہ ہمارے ساتھ کیا معاملہ کرے گا۔ ہمیں تو یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ کو یہ سب کچھ یمامہ کاایک آدمی سکھاتا ہے جسے رحمن کہا جاتا ہے۔ اللہ کی قسم !ہم ہرگز رحمن پر ایمان نہیں لائیں گے۔ اور اے محمد! ہم نے آپ کے سامنے اپنے تمام اَعذار رکھ دیے ہیں اور آپ کے لیے کوئی گنجایش نہیں چھوڑی۔ اللہ کی قسم! اب ہم آپ کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے اور جو کچھ آپ نے ہمارے ساتھ کیا ہے ہم اس کا بدلہ لے کر رہیں گے یہاں تک کہ یا تو ہم آپ کو ختم کردیں یا آپ ہمیں ختم کردیں ۔ اُن میں سے ایک بولا کہ ہم فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں جو کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں (نعوذباللہ!)۔ اور دوسرے نے کہا :ہم آپ کو اس وقت سچا مانیں گے جب آپ ہمارے سامنے اللہ اور فرشتوں کو (نعوذ باللہ!) لاکر کھڑا کردیں گے۔ جب وہ یہ باتیں کرنے لگے تو حضورﷺ وہاں سے کھڑے ہوگئے اور آپ کے ساتھ آپ کی پھوپھی عاتکہ بنت عبدالمطّلب کا بیٹا عبداللہ بن ابی اُمیَّہ بن المغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم بھی کھڑا ہوا اور اس نے آپ سے کہا: اے محمد! آپ کی قوم نے آپ کے سامنے مال اور سرداری اور بادشاہت کی پیشکش کی لیکن آپ نے ان سب کو ٹھکرادیا۔ پھر انھوں نے آپ سے اپنے فائدے کے کچھ کام کروانے چاہے تاکہ ان کو ان کاموں کے ذریعہ سے اللہ کے ہاں آپ کے درجے کا پتہ چل جائے، لیکن آپ نے وہ بھی نہ کیا ۔ پھر انھوں نے آپ سے یہ مطالبہ کیا کہ آپ ان کو جس عذاب سے ڈراتے ہیں وہ عذاب جلدی لے آئیں ۔ اللہ کی قسم! میں آپ پر تب ایمان لاؤں گا جب آپ آسمان تک سیڑھی لگاکر اس پر چڑھنے لگ جائیں اور میں آپ کو دیکھتا رہوں یہاں تک کہ آپ آسمان تک پہنچ جائیں اور وہاں سے اپنے ساتھ کھلا ہوا صحیفہ لے کر اُتریں اور آپ کے ساتھ چار فرشتے بھی ہوں جو اس بات کی گواہی دیں کہ آپ ویسے ہی ہیں جیسے کہ آپ کا دعویٰ ہے ۔اور اللہ کی قسم ! آپ اگر اس طرح کربھی دیں توبھی میرا خیال یہی ہے کہ پھر بھی میں آپ کو سچا نہیں مانوں گا ۔یہ کہہ کر وہ حضورﷺ کے پاس سے چلا گیا اور حضورﷺ وہاں سے اپنے گھر تشریف لے آئے اور دو باتوں کی وجہ سے آپ کو بڑا غم اور افسوس تھا: ایک تو یہ کہ آپ اُن کے بلانے پر جس چیز کی امید لگا کر گئے تھے وہ پوری نہ ہوئی، دوسری یہ کہ آپ نے دیکھا کہ وہ آپ سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ 1 حضرت محمود بن لبید قبیلہ بنو عبدالاشہل والے بیان کرتے ہیں کہ جب ابوحَیسرانس بن رافع (مدینہ سے) مکہ آیا، اور اس کے ساتھ بنو عبدالاشہل کے کچھ نوجوان بھی تھے جن میں اِیاس بن معاذؓ بھی تھے ،اور یہ لوگ اپنی قوم قبیلہ خزرج کی طرف سے قریش کے ساتھ دوستی اور مدد کا معاہدہ کرنا چاہتے تھے، تو حضورﷺ نے اُن کے آنے کی خبر سنی۔ آپ ان کے پاس تشریف لائے اور اُن کے پاس بیٹھ کر فرمایا: تم جس کام کے لیے آئے ہو اس سے بہتر بات تم کو نہ بتادوں؟ انھوں نے کہا: وہ کون سی بات ہے؟ آپ نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں، مجھے اللہ نے بندوں کی طرف بھیجا ہے، میں اُن کو اللہ کی دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کریں، اور اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتاب نازل فرمائی۔ پھر آپ نے اِسلام کی خوبیوں کا تذکرہ کیا اور انھیںقرآن پڑھ کر سنایا۔ حضرت اِیاس بن معاذ جو نو عمر لڑکے تھے انھوں نے کہا: اے میری قوم ! اللہ کی قسم ! تم جس کام کے لیے آئے ہو واقعی یہ اس سے بہتر ہے۔ تو ابوحَیسرانس بن رافع نے کنکریوں کی ایک مٹھی لے کر حضرت اِیاس کے چہرے پر ماری اور کہا: اس بات کو چھوڑ و۔میری جان کی قسم ! ہم تو کسی اور کام کے لیے آئے ہیں۔ حضرت اِیاس خاموش ہوگئے اورحضورﷺ وہاں سے کھڑے ہوکر تشریف لے گئے اور یہ لوگ مدینہ واپس چلے گئے۔ پھر اَوس اور خزرج کے درمیان جنگ ِبعاث کا واقعہ پیش آیا جس کے کچھ ہی عرصہ کے بعد حضرت اِیاس کا انتقال ہوگیا۔ محمود بن لبید کہتے ہیں: میری قوم کے جو لوگ حضرت اِیاس کے انتقال کے وقت اُن کے پاس موجود تھے انھوں نے مجھے بتایا کہ و ہ لوگ ان سے لاَ إِلٰـہَ إِلاَّ اللّٰہُ اور اَللّٰہُ أَکْبَرُ اور سُبْحَانَ اللّٰہِ مرتے دم تک سنتے رہے، اور اس بات میں انھیں کوئی شک نہیں ہے کہ ان کا حالتِ اسلام پر انتقال ہوا ہے۔ جس مجلس میں انھوں نے حضورﷺ سے اِسلام کی دعوت کو سنا تھا اسی مجلس میں اِسلام کو قبول کرلیا تھا۔ 1