نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا
حضور ﷺ کا موسمِ حج میں قبائلِ عرب پر دعوت کو پیش فرمانا
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نبوت کے بعد تین سال تک چھپ کر دعوت کا کام کرتے رہے۔ پھر چوتھے سال آپ نے علی الاعلان دعوت کا کام شروع کردیا جو وہاں دس سال تک چلتا رہا۔ اس عرصہ میں آپ موسمِ حج میں بھی دعوت کا کام کیا کرتے تھے، اور عُکاظ اور مَجَنَّہ اور ذِی المجاز بازاروں میں حاجیوں کے پاس اُن کی قیام گاہوں میں جایا کرتے تھے اور انھیں اس بات کی دعوت دیا کرتے کہ وہ آپ کی مدد کریں اور آپ کی حفاظت کریں تاکہ آپ اپنے ربّ عزّوجل کا پیغام پہنچاسکیں، اور اُن کو اس کے بدلہ میں جنت ملے گی، لیکن آپ اپنی مدد کے لیے کسی کو بھی تیار نہ پاتے۔ حتّٰی کہ آپ ایک ایک قبیلہ کے بارے میں اور اس کی قیام گاہ کے بارے میں پوچھتے اور ہر قبیلہ کے پاس جاتے ۔اور اسی طرح چلتے چلتے آپ بنی عامر بن صَعْصَعَہ کے پاس پہنچے، آپ کو کبھی کسی طرح سے اتنی اَذیت نہیں پہنچی جتنی اُن کی طرف سے پہنچی، یہاں تک کہ جب آپ اُن کے پاس سے واپس چلے توو ہ آپ کو پیچھے سے پتھر ماررہے تھے ۔
پھر آپ بنو مُحارب بن خَصْفہ کے پاس تشریف لے گئے، اُن میں آپ کو ایک بوڑھا ملا جس کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔
آپ نے اس سے گفتگو فرمائی اور اس کو اِسلام کی دعوت دی اور اس بات کی دعوت دی کہ وہ آپ کی مدد اور حفاظت کرے تاکہ آپ اپنے ربّ کا پیغام پہنچاسکیں۔ تو اس بڈھے نے جواب دیا: او آدمی! تیری قوم تیرے حالات کو (ہم سے) زیادہ جانتی ہے۔ اللہ کی قسم! جو بھی تجھے اپنے ساتھ اپنے علاقہ میں لے کر جائے گا وہ حاجیوں میں سے سب سے زیادہ بری چیز کو لے کر جائے گا، (نعوذ باللہ!) اپنے آپ کو ہم سے دور رکھو، یہاں سے چلے جاؤ ۔
اور ابولہب وہاں کھڑا ہوا اس مُحاربی بڈھے کی باتیں سن رہا تھا ،تو وہ اس محاربی بڈھے کے پاس کھڑے ہوکر کہنے لگا: اگرسارے حاجی تیری طرح (سخت جواب دینے والے) ہوتے تو یہ آدمی اپنے دین کو چھوڑ دیتا ۔ یہ ایک بے دین اور جھوٹا آدمی ہے (نعوذ باللہ!)۔ اس محاربی بڈھے نے جواب دیا: تم اس کو زیادہ جانتے ہو یہ تمہارا بھتیجا اور رشتہ دار ہے۔ اے ابوعتبہ ! شاید اسے جنون ہے ،ہمارے ساتھ قبیلہ کا ایک آدمی ہے جو اس کا علاج جانتا ہے ۔ ابولہب نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا، لیکن وہ جب بھی آپ کو عرب کے کسی قبیلہ کے پاس کھڑا ہوا دیکھتا تو دور ہی سے چِلّا کر کہتا: یہ بے دین اور جھوٹا آدمی ہے۔ 1
حضرت وَابِصہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ مِنٰی میں جمرۂ اُولیٰ جو مسجد ِخیف کے قریب ہے، اس کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے۔ حضورﷺ ہمارے پاس ہماری قیام گاہ میں تشریف لائے اور آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے حضرت زید بن حارثہؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے ہمیںدعوت دی جسے ہم نے اللہ کی قسم!قبول نہیں کیا اور یہ ہم نے اچھا نہیںکیا۔ اور ہم نے اسی موسمِ حج میں آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں سن رکھا تھا۔ آپ نے ہمارے پاس کھڑے ہو کر دعوت دی جسے ہم نے قبول نہیں کیا۔ ہمارے ساتھ حضرت مَیسرہ بن مسروق عبسی بھی تھے وہ کہنے لگے: میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر ہم اس آدمی کو سچا مان لیں اور اسے اپنے ساتھ اپنے علاقہ میںلے جاکر اپنے بیچ ٹھہرالیں تو یہ بہت اچھی رائے ہوگی۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس آدمی کی بات غالب ہوکر رہے گی حتیٰ کہ دنیا میں ہر جگہ پہنچ جائے گی۔ قوم نے مَیْسَر ہ سے کہا: ان باتوں کو چھوڑو، ایسی بات ہم پر کیوں پیش کرتے ہو جس کے برداشت کی ہم میں طاقت نہیں۔
مَیسرہ کی باتیں سن کر حضورﷺ کو مَیسر ہ کے ایمان لانے کی کچھ اُمید ہوگئی اور آپ نے مَیسر ہ سے مزید بات کی۔ مَیسر ہ نے کہا: آپ کا کلام بہت ہی خوب صورت اور بہت نورانی ہے، لیکن میری قوم میری مخالفت کررہی ہے اور آدمی تو اپنی قوم کے ساتھ ہی چلا کرتا ہے۔ جب آدمی کی قوم ہی آدمی کی مدد نہ کرے تو دشمن تو اور زیادہ دور ہیں۔ یہ سن کر حضورﷺ واپس تشریف لے گئے۔ اور وہ قوم اپنے علاقہ کو واپس جانے لگی تو اُن سے حضرت مَیسر ہ نے کہا: آؤ فَدَک چلتے ہیں کیوں کہ وہاں یہودی رہتے ہیں، اُن سے ہم اس آدمی کے بارے میں پوچھیں گے۔ چناں چہ وہ لوگ یہودیوں کے پاس گئے (اور اُن سے حضورﷺ کے بارے میں پوچھا) وہ اپنی ایک کتاب نکال کر لائے اور سامنے رکھ کر اس میں سے حضورﷺ کاذکر مبارک پڑھنے لگے ۔ اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ آپ اَن پڑھ اور عربی نبی ہیں، اونٹ پر سوار ہوا کریں گے،معمولی چیز پر یا ٹکڑے پر گزارہ کرلیںگے، اُن کا قد نہ زیادہ لمبا ہوگا اور نہ چھوٹا، اور اُن کے بال نہ بالکل گھنگریالے ہوں گے نہ بالکل سیدھے، اُن کی آنکھوں میں سرخ ڈورا ہوگااور اُن کا رنگ سفید سرخی مائل ہوگا ۔
اتنا پڑھنے کے بعد یہودیوں نے یہ کہا: جس آدمی نے تمہیں دعوت دی ہے اگر وہ ایسا ہی ہے تو تم اس کی دعوت قبول کرلو اور اس کے دین میں داخل ہوجاؤ، کیوں کہ ہم حسد کی وجہ سے اُن کا اِتباع نہیں کریں گے اور ہمارے اُن سے زبردست معرکے ہو ں گے ۔ عرب کا رہنے والا ہر آدمی یا تو آپ کا اِتباع کرے گا یا آپ سے لڑے گا۔ لہٰذا تم اُن کا اِتباع کرنے والوں میں سے بن جاؤ۔ حضرت مَیسر ہ نے کہا: اے میری قوم! اب تو بات بالکل واضح ہوگئی ۔ قوم نے کہا: اگلے سال حج پر جاکر اُن سے ملیں گے۔ چناں چہ وہ سب اپنے علاقہ کو واپس چلے گئے۔ ان کے سرداروں نے ان کو اس سے روک دیا اور ان میں سے کوئی بھی حضورﷺ کااِتباع نہ کرسکا۔ جب حضورﷺ ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے آئے اور حجۃ الوداع میں تشریف لے گئے تو وہاں حضرت مَیسر ہ سے ملاقات ہوئی اور حضورﷺ نے اُن کو پہچان لیا تو حضرت مَیسر ہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! جس دن آپ ہمارے ہاں اونٹنی پر سوار ہوکر تشریف لائے تھے اسی دن سے میرے دل میں آپ کے اتباع کی بڑی آرزو ہے، لیکن جو ہونا تھا وہ ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کو میرا اتنی دیر سے مسلمان ہونا ہی منظور تھا۔ اس موقع پر جتنے لوگ میرے ساتھ تھے ان میں سے اکثر مرگئے ہیں۔ اے اللہ کے نبی !اب وہ کہاں ہوں گے ؟ حضورﷺ نے فرمایا: جو بھی اِسلام کے علاوہ کسی اور دین پر مرا ہے وہ اب دوزخ میں ہے۔ حضرت مَیسر ہ نے کہا: الحمدللہ! تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے بچالیا ۔اور حضرت مَیسر ہ ؓ مسلمان ہوگئے اور اچھے مسلمان بن کر زندگی گزاردی اور حضرت ابوبکرؓ کے ہاں اُن کا بڑا درجہ تھا ۔ 1
حضرت ابنِ رُومان اور حضرت عبداللہ بن ابی بکر وغیرہ حضرات ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ بازارِ عکاظ میں قبیلہ کندہ کے پاس اُن کی قیام گاہ میں تشریف لے گئے۔ آپ اُن سے زیادہ نرم مزاج قبیلہ کے پاس کبھی نہیں گئے تھے ۔ جب آپ نے دیکھا کہ یہ لوگ نرم ہیں اور بہت محبت کررہے ہیں، توآپ نے اُن سے دعوت کی بات شروع کردی کہ میں تمہیں ایک اللہ کی دعوت دیتا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ جس طرح تم اپنی جانوں کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح تم میری بھی حفاظت کرو، پھر اگر میں غالب آگیا تو تمہیں پورا اختیار ہوگا۔ اکثر قبیلہ والوں نے کہا :یہ تو بہت اچھی بات ہے، لیکن ہم اُن ہی خداؤں کی عبادت کریں گے جن کی عبادت ہمارے آباء واَجداد کیا کرتے تھے ۔قوم میں سے ایک چھوٹی عمر والے نے کہا : اے میری قوم! دوسروں کے ماننے اور ساتھ لے جانے سے پہلے تم ان کی بات مان کر ان کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔ اللہ کی قسم! اہلِ کتاب بیان کیا کرتے ہیں کہ ایک نبی حرم سے ظاہر ہوگا جس کا زمانہ قریب آچکا ہے۔
قوم میں ایک کا نا آدمی تھااس نے کہا :چپ کرو، میری بھی سنو! اس کو تو اس کے خاندان نے نکال دیا ہے اور تم اس کو پناہ دے کر پورے عرب کی لڑائی مول لینا چاہتے ہو؟ نہیں نہیں، ایسا ہرگز نہ کرو۔ یہ سن کر آپ وہاں سے بڑے غمگین ہوکر واپس تشریف لے آئے اور وہ لوگ اپنی قوم میں واپس گئے اور اُن کو اپنے سارے حالات سنائے تو ایک یہودی نے اُن سے کہا: تم نے بڑا سنہرا موقع ضائع کردیا۔ اگر تم دوسروں سے پہلے اس آدمی کی مان لیتے تو تمام عرب کے سردار بن جاتے ۔ ان کی صفات اور حلیہ کا بیان ہماری کتاب میں موجود ہے۔ وہ یہودی کتاب میں سے حضورﷺ کی صفات اور حلیہ پڑھ کر سناتا جاتا اور جو حضورﷺ کو دیکھ کر آئے تھے وہ اس سارے کی تصدیق کرتے جاتے ۔ اس یہودی نے کہا :ہماری کتاب میں یہ بھی ہے کہ اُن کا ظہور مکہ میں ہوگا اور وہ ہجرت کرکے یثرب (مدینہ ) جائیں گے۔ یہ سن کر ساری قوم نے طے کیا کہ اگلے سال موسمِ حج میں جاکر حضورﷺ سے ضرور ملیں گے، لیکن اُن کے ایک سردار نے ان کو اگلے سال حج پر جانے سے روک دیا ، چناں چہ ان میں سے کوئی بھی آپ سے نہ مل سکا۔ اور اس یہودی کا انتقال ہوگیا اور لوگوں نے سنا کہ مرتے وقت وہ حضورﷺ کی تصدیق کررہا تھا اور ایمان کا اِظہار کررہا تھا۔ 1
حضرت عبدالرحمن عامری اپنی قوم کے چند بزرگوں سے نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ بازارِ عکاظ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہاں ہمارے پاس حضورﷺ تشریف لائے اور آپ نے فرمایا: تم کون سے قبیلے کے لوگ ہو؟ہم نے کہا: بنو عامر بن صَعْصَعَہ کے۔ آپ نے فرمایا: بنو عامر کے کون سے خاندان کے ہو؟ ہم نے کہا: بنو کعب بن ربیعہ کے ۔ آپ نے فرمایا: تمہارا دبدبہ اور رعب کیساہے؟ ہم نے کہا: کسی کی مجال نہیں ہے کہ کوئی ہمارے علاقہ میں آکر کسی چیز کو ہاتھ لگاسکے یا ہماری آگ پر ہاتھ تاپ سکے یعنی ہم بڑے بہادر ہیں ہمارا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ حضورﷺ نے اُن سے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں، اگر میں تمہارے پاس آجاؤں تو تم لوگ میری حفاظت کروگے تاکہ میں اپنے ربّ کا پیغام پہنچا سکوں؟ اور میں تم میں سے کسی کو کسی بات پر مجبور نہیں کرتا ہوں۔ تو اس قبیلہ والوں نے کہا: آپ قریش کے کون سے خاندان سے ہیں؟ آپ نے فرمایا: بنو عبدالمطّلب کے خاندان سے ہوں۔ تو انھوں نے کہا: بنو عبدِ مناف نے آپ کے ساتھ کیا برتاؤ کیا؟ آپ نے فرمایا: انھوں نے تو سب سے پہلے مجھے جھٹلایا اور دھتکارا۔ انھوں نے کہا: ہم آپ کو نہ دھتکارتے ہیں اور نہ آپ پر ایمان لاتے ہیں۔البتہ (آپ کو اپنے علاقہ میں لے جائیں گے اور ) آپ کی ہر طرح حفاظت کریں گے تاکہ آپ اپنے ربّ کا پیغام پہنچاسکیں۔
چناں چہ آپ (اُن کے ساتھ جانے کے ارادے سے) سواری سے اُتر کر ان کے پاس بیٹھ گئے۔ وہ لوگ بازار میں خرید و فروخت کرنے لگے، اتنے میں اُن کے پاس بَیحرہ بن فِراس قُشَیری آیا اور اس نے پوچھا : یہ مجھے تمہارے پاس کون نظر آرہا ہے جسے میں پہچانتا نہیں ہوں؟ انھوں نے کہا: یہ محمد بن عبداللہ قریشی ہیں۔ اس نے کہا: تمہارا ان سے کیا تعلق ؟ وہ کہنے لگے: انھوں نے ہمارے پاس آکر یہ کہا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور ہم سے اس بات کا مطالبہ کیا کہ ہم اُن کو اپنے علاقہ میں لے جائیں اور اُن کی ہر طرح حفاظت کریں تاکہ وہ اپنے ربّ کا پیغام پہنچا سکیں۔ اس نے پوچھا :تم نے ان کو کیا جواب دیا ؟ انھوں نے کہا: ہم نے ان کو خوش آمدید کہا اور یہ کہا کہ ہم آپ کو اپنے علاقہ میں لے جائیں گے اور اپنی جانوں کی طرح آپ کی بھی حفاظت کریں گے۔
بیحرہ بولا: جہاں تک میرا خیال ہے اس بازار والوں میں سے تم سب سے زیادہ بری چیز لے کر جارہے ہو۔ تم ایسا کام کرنے لگے ہو جس کی وجہ سے تمام لوگ تمہارے دشمن بن کر تمہارا بائیکاٹ کردیں گے اور سارے عرب مل کر تم سے لڑیں گے۔ اس کی قوم اس کو اچھی طرح جانتی ہے۔ اگر اُن لوگوں کو ان میں کوئی بھلائی نظر آتی تو ان کا ساتھ دینے میں اپنی بڑی سعادت سمجھتے، یہ اپنی قوم کا ایک کم عقل آدمی ہے (نعوذ باللہ!)، اور اسے اس کی قوم نے دُھتکار دیا ہے اور جھٹلایا ہے، اور تم اسے ٹھکانا دینا چاہتے ہو اور اس کی مدد کرنا چاہتے ہو؟ تم نے بالکل غلط فیصلہ کیا ہے ۔
پھر اس نے حضورﷺ کی طرف مڑ کر کہا کہ اٹھو اور اپنی قوم کے پاس چلے جاؤ۔ اللہ کی قسم! اگر تم میری قوم کے پاس نہ ہوتے تو میں تمہاری گردن اُڑادیتا۔ چناں چہ حضورﷺ اٹھے اور اپنی اونٹنی پر سوار ہوگئے۔ خبیث بیَحْرہ نے حضورﷺ کی اونٹنی کی کوکھ میں لکڑی سے زور سے چوکادیا جس سے آپ کی اونٹنی بِدَک گئی اور آپ اونٹنی سے نیچے گر گئے۔ اور اس دن حضرت ضُبَاعہ بنتِ عامر بن قُرْط ؓ اپنے چچا زاد بھائیوں سے ملنے کے لیے اس قبیلہ بنو عامر میں آئی ہوئی تھیں اور وہ اُن عورتوں میں سے تھیں جو مسلمان ہوکر مکہ میں حضورﷺ کا ساتھ دیا کرتی تھیں۔ وہ یہ منظر دیکھ کر بیتاب ہوکر بول اٹھیں: اے عامر کی اولاد ! آج تم میں سے کوئی بھی عامر کی طرح میری مدد کرنے والا نہیں رہا یا آج سے میرا قبیلہ عامر سے کوئی تعلق نہیں۔ کیا تمہارے سامنے اللہ کے رسول کے ساتھ یہ برا سلوک کیا جارہا ہے اور تم میں سے کوئی بھی اُن کی مدد کے لیے کھڑا نہیں ہوتا۔
چناں چہ ان کے تین چچا زاد بھائی بیحرہ کی طرف لپکے اور دو آدمی بیحرہ کی مدد کے لیے اٹھے۔ ان تینوں بھائیوں میں سے ہر ایک نے ایک ایک کو پکڑ کر زمین پر گرالیا اور اُن کے سینوں پر بیٹھ کر ان کے چہروں پر خوب تھپڑ مارے۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا: اے اللہ! ان(تینوں بھائیوں) پر برکت نازل فرما اوران تینوں پر لعنت کر۔ راوی کہتے ہیں کہ حضورﷺ کی مدد کرنے والے تینوں بھائی مسلمان ہوئے اور انھوں نے شہادت کا مرتبہ پایا اور باقی تینوں ذلت کی موت مرے۔ اور جن دو آدمیوں نے بیحرہ بن فراس کی مدد کی اُن میں سے ایک کا نام حزن بن عبداللہ اور دوسرے کا نام معاویہ بن عبادہ ہے، اور جن تین بھائیوں نے حضورﷺ کی مدد کی وہ غِطْریف بن سہل اور غَطَفان بن سہل اور عروہ بن عبداللہ ہیں ۔1
حضرت زہری بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ بنو عامر بن صَعْصَعَہ کے پاس تشریف لے گئے اور اُن کو اللہ کی دعوت دی اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا (کہ وہ آپ کی مدد کریں )۔ ان میں سے بیحرہ بن فراس نامی آدمی نے کہا کہ اگر میں قریش کے اس نوجوان کا دامن پکڑ لوں تو میںاس کے ذریعہ سارے عرب کو ختم کرسکتا ہوں۔ پھر اس نے حضورﷺ سے کہا: آپ یہ بتائیں کہ اگر آپ کے کام میں ہم آپ کا ساتھ دیں اورپھر اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے مخالفوں پر غالب کردے تو آپ کے بعد کیا حکومت ہمیں مل جائے گی؟ حضورﷺ نے فرمایا: اس کا اختیار تو اللہ کو ہے وہ جسے چاہے دے۔ اس نے کہا :واہ! واہ! آپ کو بچانے کے لیے عربوں کے سامنے ہم اپنے سینے کردیں اور جب اللہ آپ کو غالب کردے تو حکومت دوسروں کومل جائے، ہمیں آپ کے کام کی کوئی ضرورت نہیں ۔اور یہ کہہ کر ان سب نے حضوﷺ کا انکار کردیا ۔
جب حاجی لوگ واپس جانے لگے تو بنو عامر بھی اپنے علاقہ کو واپس گئے۔ وہاں ایک بڑے میاں تھے جن کی عمر بہت زیادہ تھی جو اُن کے ساتھ حج کا سفر نہیں کرسکتے تھے، اور جب اُن کے قبیلے والے حج کرکے واپس آتے تو ان کو اس حج کی ساری کار گزاری سنایا کرتے۔ چناں چہ اس سال جب قبیلہ کے لوگ حج کر کے واپس ہوئے تو انھوں نے اس حج کے سارے حالات ان سے پوچھے۔ انھوں نے یہ بتایا کہ ایک قریشی نوجوان جو بنو عبدالمطّلب میں سے تھے وہ ہمارے پاس آئے تھے،جو یہ کہہ رہے تھے کہ وہ نبی ہیں۔ اور ہمیں اس بات کی دعوت دے رہے تھے کہ ہم اُن کی حفاظت کریں اور ان کا ساتھ دیں اور ان کو اپنے علاقہ میں لے آئیں۔ یہ سن کر اس بڑے میاں نے اپنا سر پکڑ لیا اور کہا: اے بنی عامر! کیا اس غلطی کی کوئی تلافی ہوسکتی ہے؟ کیا اس پرندے کی دُم ہاتھ میں آسکتی ہے؟ یعنی تم نے ایک سنہرا موقع کھودیا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں فلاں کی جان ہے! آج تک کبھی کسی اسماعیلی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ نہیں کیا۔ ان کا دعوائے نبوت بالکل حق ہے تمہاری عقل کہاں چلی گئی تھی؟ 1
حضرت زُہری بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ قبیلہ کِندہ کے پاس اُن کی قیام گاہ میں تشریف لے گئے اور ان میں مُلَیح نامی ان کا ایک سردار بھی تھا۔ آپ نے ان کو اللہ عزّوجل کی دعوت دی اور اپنے آپ کو اُن پر پیش کیا (کہ مجھے اپنے ساتھ اپنے علاقے میں لے جاؤ تاکہ میں اللہ کا پیغام پہنچا سکوں) لیکن سب نے انکار کردیا ۔2
حضرت محمد بن عبدالرحمن بن حصین بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ قبیلہ کلب کے خاندان بنو عبداللہ کے پاس ان کی قیام گاہ میں تشریف لے گئے، اور ان کو اللہ کی دعوت دی اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا، یہاں تک کہ آپ ان کو (آمادہ کرنے کے لیے) یہ فرمارہے تھے کہ اے بنو عبداللہ ! اللہ نے تمہارے باپ کا نام بہت اچھا رکھا ہے، لیکن انھوں نے آپ کی پیش کردہ دعوت کو قبول نہ کیا۔
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ قبیلہ بنی حنیفہ کے پاس اُن کی قیام گاہ میں تشریف لے گئے ،اور ان کو اللہ کی دعوت دی اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا لیکن عربوں میں سے کسی نے آپ کی دعوت کو اُن سے زیادہ برے طریقے سے نہیں ٹھکرایا۔ 1
حضرت عباسؓ بیان فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے تمہارے پاس اور تمہارے بھائی کے پا س اپنی حفاظت کا سامان نظر نہیں آرہا ہے۔ کیا آپ مجھے کل بازار لے جائیں گے تاکہ ہم مختلف قبائل کی قیام گاہوں میں جاکر اُن کو دعوت دے سکیں؟ اور ان دنوں عرب وہاں اکھٹے تھے۔ حضرت عباس فرماتے ہیں: میں نے حضورﷺ سے عرض کیا کہ یہ قبیلہ کِندہ اوراس کے ہم خیال لوگ ہیں اور یہ یمن سے حج کے لیے آنے والوں میں سے سب سے اچھے لوگ ہیں ۔اور یہ قبیلہ بکر بن وائل کی قیام گاہ ہے، اور یہ قبیلہ بنو عامر بن صَعْصَعَہ کی قیام گاہ ہے۔ آپ ان میں سے کسی کو اپنے لیے پسند فرمالیں۔ چناں چہ آپ نے قبیلہ کِندہ سے دعوت کی ابتدا فرمائی اور ان کے پاس تشریف لے جاکر فرمایا کہ آپ لوگ کہاں کے ہیں؟ انھوں نے کہا: یمن کے۔ آپ نے فرمایا: یمن کے کون سے قبیلہ کے؟ انھوں نے کہا: قبیلہ کِندہ کے۔ آپ نے فرمایا: قبیلہ کِندہ کے کون سے خاندان کے ؟ انھوں نے کہا :بنی عمرو بن معاویہ کے۔
آپ نے فرمایا کہ کیا اپنی بھلائی کو تمہارا دل چاہتا ہے؟ انھوں نے کہا :وہ بھلائی کی بات کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کی گواہی دو اور نماز قائم کرو اور جو کچھ اللہ کے پاس سے آیا ہے اس پر ایمان لاؤ۔2
انھوں نے کہا کہ اگر آپ کامیاب ہوگئے تو اپنے بعد بادشاہت آپ ہمیں دے دیں گے؟ آپ نے فرمایا کہ بادشاہت دینے کا اختیار تو اللہ کو ہے وہ جس کو چاہے دے دے۔ تو انھوں نے کہا: جو دعوت آپ ہمارے پاس لے کر آئے ہیں ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔
کلبی کی روایت میں یہ ہے کہ انھوں نے کہا :کیا آپ اس لیے ہمارے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہمیں ہمارے خداؤں سے روک دیں اور ہم سارے عرب کی مخالفت مول لیں؟ آپ اپنی قوم کے پاس چلے جائیں ہمیں آپ کی ضرورت نہیں ۔
چناں چہ آپ اُن کے پاس سے اٹھ کر قبیلہ بکر بن وائل کے پاس تشریف لے گئے اور آپ نے فرمایا: آپ کا کون سا قبیلہ ہے؟ انھوں نے کہا :بکر بن وائل۔ آپ نے فرمایا :بکر بن وائل کا کون سا خاندان؟ انھوں نے کہا : بنو قیس بن ثعلبہ۔ آپ نے فرمایا: آپ لوگوں کی تعدادکتنی ہے؟ انھوں نے کہا: ریت کے ذرّوں کی طرح بہت ساری۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارا رعب اور دبدبہ کیسا ہے؟ انھوں نے کہا کچھ نہیں۔ اہلِ فارس ہمارے پڑوسی ہیں نہ ہم ان سے حفاظت کرسکتے ہیں اور نہ ہم ان کے مقابلہ میں کسی کو پناہ دے سکتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ۳۳ مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ اور ۳۳ مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور ۳۴ مرتبہ اَللّٰہُ أَکْبَرُ ، اللہ کی رضا کے لیے پڑھنا اپنے ذمہ کرلو تو اگر اللہ نے تمہیں باقی رکھا تو تم اہلِ فارس کے گھروں پر قبضہ کرلوگے اور اُن کی عورتوں سے نکاح کرلوگے اور اُن کے بیٹوں کو اپنا غلام بنالوگے۔ انھوں نے کہا: آپ کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا :میں اللہ کا رسول ہوں ۔ پھر آپ وہاں سے آگے چل دیے ۔
کلبی کی روایت میں یہ ہے کہ آپ کا چچا ابولہب آپ کے پیچھے چل رہا تھا اور لوگوں سے کہہ رہا تھا کہ ان کی بات نہ مانو۔ چناں چہ جب حضورﷺ ان کے پاس سے چلے گئے تو ابولہب ان کے پاس سے گزرا۔ انھوں نے ابولہب سے کہا :تم اس آدمی کو جانتے ہو؟ ا س نے کہا: ہاں، یہ ہمارے قبیلہ میں چوٹی کا آدمی ہے۔تم ان کی کس چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟ حضور ﷺ نے ان کو جس بات کی دعوت دی تھی وہ ساری بات انھوں نے ابولہب کو بتائی اور یہ کہا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ ابولہب نے کہا :خبردار !اس کی بات کو کوئی اہمیت نہ دو، کیوں کہ وہ دیوانہ ہے (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ!) پاگل پن میں اُلٹی سیدھی باتیں کہتا رہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے فارس والوں کے بارے میں جو کچھ کہا اس سے بھی ہمیں یہی اندازہ ہوا ۔ 1
حضرت ربیعہ بن عبادؓ فرماتے ہیں کہ میں نوجوان لڑکا اپنے والد کے ساتھ منیٰ میں تھااور حضورﷺ عرب کے قبائل کی قیام گاہوں میں تشریف لے جاتے تھے اور ان سے فرماتے تھے: اے بنی فلاں! مجھے اللہ نے تمہارے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ میں تمہیں اس بات کا حکم دیتا ہوں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور اللہ کے علاوہ جن کو اللہ کا شریک ٹھہرا کر عبادت کررہے ہو اُن کو چھوڑ دو، اور مجھ پر ایمان لاؤ اور میری تصدیق کرو اور میری حفاظت کرو تاکہ جو پیغام دے کر مجھے اللہ نے بھیجا ہے وہ میں اس کی طرف سے واضح طور پر پہنچا سکوں۔ حضرت ربیعہ فرماتے ہیں کہ آپ کے پیچھے ایک بھینگا اور خوب صورت آدمی تھا جس کی دو زلفیں تھیں، عدنی جوڑا پہنے ہوئے تھے۔ جب حضورﷺ اپنی گفتگو اور اپنی دعوت سے فارغ ہوگئے تو اس آدمی نے کہا: اے بنی فلاں ! یہ آدمی تمہیں اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ تم لات اور عزّٰی کو اور بنی مالک بن اُقَیش کے حلیف جنوں کو اپنی گردن سے اتار پھینکو، اور جس بدعت اور گمراہی کو یہ لایا ہے اسے اختیار کرلو۔ اس کی بات ہرگز نہ مانو اور نہ اس کی بات سنو۔ حضرت ربیعہ ؓ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد سے کہا: اے اباجان ! یہ آدمی کون ہے جو اُن کے پیچھے لگا ہوا ہے اور جو وہ کہتے ہیں اس کی تردید کرتا ہے؟ میرے والد نے کہا:یہ اُن کا چچا عبدالعزّٰی بن عبدالمطّلب ابو لہب ہے۔ 1
’’مدرک‘‘ سے یہ روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد کے ساتھ حج کیا۔ جب ہم منیٰ میں ٹھہرے ہوئے تھے تو ہم لوگوں نے ایک جگہ مجمع دیکھا، میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ مجمع کیسا ہے؟ انھوں نے کہا کہ یہ ایک بے دین آدمی ہے (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ!) جس کی وجہ سے لوگ جمع ہیں۔ میں نے وہاں دیکھا تو حضورﷺ لوگوں سے یہ فرمارہے تھے کہ اے لوگو! لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ پڑھ لو، کامیاب ہوجاؤگے۔ 2
حضرت حارث بن حارث غامدیؓ فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ میں نے اپنے والد سے پوچھا : یہ مجمع کیسا ہے؟ انھوںنے کہا :یہ سب ایک بے دین آدمی کی وجہ سے جمع ہیں۔ فرماتے ہیں: میں نے گردن اونچی کرکے دیکھا تو نظر آیا کہ حضورﷺ لوگوں کو اللہ کی وحدانیت کی دعوت دے رہے ہیں اور لوگ آپ کی بات کا انکار کررہے ہیں۔ 1
حضرت حسان بن ثابتؓ فرماتے ہیں کہ میں حج کرنے گیا وہاں حضورﷺ لوگوں کو اِسلام کی دعوت دے رہے تھے اور آپ کے صحابہ کو طرح طرح کی تکلیفیں دی جارہی تھیں۔ چناں چہ میں حضرت عمر کے پاس آکر کھڑا ہوا (اس وقت تک حضرت عمر ؓمسلمان نہیں ہوئے تھے) وہ بنی عمرو بن مؤمَّل کی ایک باندی کو تکلیفیں پہنچارہے تھے۔ پھر حضرت عمر حضرت زِنّیِْرہ کے پاس آکر رُکے اور اُن کو بھی طرح طرح کی تکلیفیں دینے لگے۔ 2
حضرت علی بن ابی طالبؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ عزّوجل نے اپنے نبی کریمﷺ کو اس بات کا حکم دیا کہ آپ اپنے آپ کو قبائلِ عرب پر پیش کریں تو آپ منیٰ تشریف لے گئے۔ میں اور حضرت ابوبکرؓ آپ کے ساتھ تھے۔ ہم عرب کی مجلسوں میں سے ایک مجلس میں پہنچے تو حضرت ابوبکر نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ حضرت ابوبکر ہر دم پیش قدمی کرنے والے تھے اور وہ عرب کے اَنساب سے خوب اچھی طرح واقف تھے۔ تو انھوں نے کہا: تم کس قوم کے لوگ ہو؟ انھوں نے کہا: ربیعہ کے۔ حضرت ابوبکرنے کہا :تم ربیعہ کے کون سے خاندان کے ہو؟ اس کے بعد ابونُعیم نے بہت لمبی حدیث ذکر کی ہے جس میں یہ بھی آتا ہے کہ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ پھر ہم ایک باوقار مجلس میں پہنچے، اس میں بہت سے بلند مرتبہ اور باعزت بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ چناںچہ حضرت ابوبکر نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ حضرت علی نے فرمایا کہ حضرت ابوبکرہردم پیش قدمی کرنے والے تھے، تو ان سے حضرت ابوبکر نے کہا: تم کس قوم کے لوگ ہو؟ انھوں نے کہا: ہم بنو شیبان بن ثعلبہ ہیں۔
حضرت ابوبکر نے حضورﷺ کی طرف متوجہ ہوکر کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! ان کی قوم میں ان سے زیادہ معزّز کوئی نہیں ہے۔ اس وقت اس قوم میں مفروق بن عمرو اور ہانی بن قبیصہ اور مثنّٰی بن حارثہ اور نعمان بن شریک موجود تھے، اور ان میں حضرت ابوبکر کے سب سے زیادہ قریب مفروق بن عمرو تھے۔ اور مفروق بیان اور گفتگومیں اپنی قوم پر چھائے ہوئے تھے، ان کی دو زلفیں تھیں جو اُن کے سینے پر پڑی ہوئی تھیں۔ چوں کہ یہ مجلس میں حضرت ابوبکرسے سب سے زیادہ قریب تھے اس لیے حضرت ابو بکر نے ان سے پوچھا: تمہارے قبیلہ کی تعداد کتنی ہے؟ تو انھوں نے کہا: ہم ہزار سے زیادہ ہیں اور ایک ہزار کم ہونے کی وجہ سے شکست نہیں کھاسکتے۔ حضرت ابوبکر نے پوچھا: تمہارے ہاں حفاظت کی کیا صورت ہے؟ انھوں نے کہا: ہمارا کام تو کوشش کرناہے باقی ہر قوم کی اپنی اپنی قسمت ہے۔ حضرت ابوبکر نے پوچھا: تمہارے اور تمہارے دشمن کے درمیان لڑائی کا کیا حال ہوتا ہے؟ مفروق نے کہا: جب ہم لڑتے ہیں تو ہم بہت زیادہ غصہ میں ہوتے ہیں، اور جب ہمیں غصہ آجاتا ہے تو ہم بہت سخت قسم کی لڑائی لڑتے ہیں، اور ہم عمدہ گھوڑوں کو اولاد پر اور ہتھیاروں کو دودھ دینے والے جانوروں پر ترجیح دیتے ہیں یعنی سامانِ جنگ ہمیں سب سے زیادہ پیارا ہے، اور مدد تو اللہ کی طرف سے آتی ہے کبھی اللہ تعالیٰ ہمیں غالب کردیتے ہیں اور کبھی دوسروں کو۔ شاید آپ قبیلہ قریش کے ہیں ؟
حضرت ابوبکر نے کہا :اگر تمہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ قریش میں اللہ کے ایک رسول ہیں تو وہ یہ ہیں۔ مفروق نے کہا:ہاں! ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ قریش کے ایک آدمی کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر مفروق نے حضورﷺ کی طرف متوجہ ہوکر کہا: آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں اے قریشی بھائی! حضورﷺ آگے بڑھ کر بیٹھ گئے اور حضرت ابوبکر کھڑے ہوکر حضورﷺ پر اپنے کپڑے سے سایہ کرنے لگے۔ حضورﷺ نے فرمایا: میں تمہیں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور اس کی دعوت دیتا ہوں کہ مجھے اپنے ہاں رہنے کی جگہ دے دو اور میری ہر طرح سے حفاظت کرواور میری مدد کرو تاکہ میں اللہ کے حکم کو پہنچا سکوں، کیوں کہ قبیلہ قریش اللہ کے دین کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کررہے ہیں اور اللہ کے رسول کو جھٹلارہے ہیں اور باطل میں لگ کر انھوں نے حق کو بالکل چھوڑ دیا ہے اور اللہ سے بے نیاز ہوگئے ہیں، حالاں کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر حال میں ساری مخلوق سے بے نیاز اور قابلِ تعریف ہے۔
مفروق نے حضورﷺ سے کہا: اے قریشی بھائی! آپ اور کس چیز کی دعوت دیتے ہیں ؟ آپ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں :
{قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْْکُمْ اَلاَّ تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْْئًا وَّبِالْوَالِدَیْْنِ اِحْسٰنًاج} سے لے کر { فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖط ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ O} تک۔1
جن کا ترجمہ یہ ہے: تو کہہ! تم آؤ میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمہارے رب نے کہ شریک نہ کرو اس کے ساتھ کسی چیز کو، اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو، اور مار نہ ڈالو اپنی اولاد کو مفلسی سے، ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور اُن کو، اور پاس نہ جاؤ بے حیائی کے کام کے جو ظاہر ہو اس میں سے اور جو پوشیدہ ہو، اورمار نہ ڈالو اس جان کو جس کو حرام کیا ہے اللہ نے مگر حق پر، تم کو یہ حکم کیا ہے تاکہ تم سمجھو۔ اور پاس نہ جاؤ یتیم کے مال کے مگر اس طرح سے کہ بہتر ہو یہاں تک کہ پہنچ جائے اپنی جوانی کو، اور پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف سے، ہم کسی کے ذمہ وہی چیز لازم کرتے ہیں جس کی اس کو طاقت ہو، اور جب بات کہو تو حق کی کہو اگرچہ وہ اپنا قریب ہی ہو اور اللہ کا عہد پورا کرو ،تم کو یہ حکم کردیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو ۔اور حکم کیا ہے کہ یہ راہ ہے میری سیدھی سو اس پر چلو، اور مت چلو اور رستوں پر کہ وہ تم کو جدا کردیں گے اللہ کے راستہ سے، یہ حکم کردیا ہے تم کو تاکہ تم بچتے رہو۔
مفروق نے حضورﷺ سے کہا: اے قریشی بھائی !آپ اور کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ اللہ کی قسم !یہ زمین والوں کا کلام نہیں ہے، اور اگر یہ زمین والوں کا کلام ہوتا تو ہم اسے ضرور پہچان لیتے۔ پھر حضورﷺ نے {اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ} سے لے کر {لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ O}2 تک تلاوت فرمائی۔
جس کا ترجمہ یہ ہے: اللہ حکم کرتا ہے انصاف کرنے کا اور بھلائی کرنے کا اور قرابت والوں کے دینے کا ،اور منع کرتا ہے بے حیائی سے اور نامعقول کام سے اور سرکشی سے۔ تم کو سمجھاتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔
مفروق نے کہا :اے قریشی !اللہ کی قسم! تم نے بڑے عمدہ اخلاق اور اچھے اعمال کی دعوت دی ہے ۔اور جس قوم نے آپ کو جھٹلایا ہے اور آپ کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کی ہے انھوں نے جھوٹ بولا ہے۔
مفروق نے یہ مناسب سمجھا کہ اس گفتگومیں ہانی بن قبیصہ بھی ان کے شریک ہوجائیں۔ اس وجہ سے انھوں نے کہا کہ یہ ہانی بن قبیصہ ہیں جو ہمارے بزرگ اور ہمارے دینی اُمور کے ذمہ دار ہیں ۔ ہانی نے حضورﷺ سے کہا : اے قریشی بھائی! میں نے آپ کی بات سنی ہے اور آپ کی بات کو میں سچا مانتا ہوں اور میرا خیال یہ ہے کہ آپ کی ہمارے ساتھ یہ پہلی مجلس ہے، اس سے پہلے کبھی ملاقات نہیں ہوئی اور آیندہ کی کوئی خبر نہیں، اور ہم نے ابھی تک آپ کے معاملہ میں غور نہیں کیا اور آپ کی دعوت کے انجام کے بارے میں سوچا نہیں، اور ابھی سے ہم اپنے دین کو چھوڑ کر آپ کے دین کو اختیار کرلیں تو اس فیصلہ میں غلطی کا امکان ہے، اور یہ کم عقل ہونے اور انجام میں غور نہ کرنے کی نشانی ہے، جلدی کے فیصلے میں غلطی ہوجایا کرتی ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے پیچھے بڑا خاندان ہے جن کے بغیر ہم کوئی معاہدہ کرنا پسند نہیں کرتے ہیں۔ فی الحال آپ بھی واپس تشریف لے جائیں اور ہم بھی واپس جاتے ہیں، آپ بھی غور کریں اور ہم بھی غور کرتے ہیں۔
اور ہانی نے بھی یہ بات مناسب سمجھی کہ گفتگو میں مثنی بن حارثہ بھی شریک ہوجائیں ۔ چناںچہ انھوں نے کہا :یہ مثنی بن حارثہ ہمارے بزرگ اور ہمارے جنگی اُمورکے ذمہ دار ہیں۔ اس پر مثنی نے حضورﷺ سے کہا کہ میں نے آپ کی بات سنی اور اے قریشی بھائی! مجھے آپ کی بات اچھی لگی اور آپ کا کلام مجھے پسند آیا، لیکن میری طرف سے بھی وہی جواب ہے جو ہانی بن قبیصہ نے جواب دیا ہے۔ ہم دو ملکوں کی سرحدوں کے درمیان رہتے ہیں: ایک یمامہ ہے اور دوسرا سماوہ ہے۔ تو ان سے حضورﷺ نے فرمایا :یہ کون سے دو ملکوں کی سرحدیں ہیں؟ مثنی نے کہا :ایک طرف تو ملکِ عرب کی سرزمین اور اونچے ٹیلے اور پہاڑ ہیں، اور دوسری طرف فارس کی سر زمین اور کسریٰ کی نہریں ہیں۔ اورہمیں وہاں رہنے کی اجازت کسریٰ نے اس شرط پر دی ہے کہ ہم وہاںکوئی نئی چیز نہ چلائیںاور نہ کسی نئی تحریک چلانے والے کو وہاں رہنے دیں۔اور بہت ممکن ہے کہ آپ جس چیز کی دعوت دے رہے ہیں وہ بادشاہوں کو ناپسند ہو۔ سرزمینِ عرب کے آس پاس کے علاقے کا دستور یہ ہے کہ خطاوار کی خطا معاف کردی جاتی ہے اور اس کا عذر قبول کرلیا جاتاہے ،اور سر زمینِ فارس کے آس پاس کے علاقہ کا دستور یہ ہے کہ نہ خطا وار کی خطا معاف کی جاتی ہے اور نہ اس کا عذر قبول کیا جاتا ہے۔ اس لیے اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کو اپنے علاقہ میں لے جائیں اور عربوں کے مقابلہ میں ہم آپ کی مدد کریں تو ہم اس کی ذمہ داری لے سکتے ہیں (لیکن اہلِ فارس کے مقابلہ میں کوئی ذمہ داری نہیں لے سکتے ہیں) ۔
حضورﷺ نے فرمایا :جب تم نے سچی بات صاف صاف کہہ دی تو یہ تم نے برا جواب نہیں دیا، لیکن بات یہ ہے کہ اللہ کے دین کو لے کر وہی کھڑا ہوسکتا ہے جو دین کی ہر جانب سے حفاظت کرے۔ پھر حضورﷺحضرت ابوبکر کا ہاتھ پکڑکر کھڑے ہوگئے۔ اس کے بعد ہم اوس و خزرج کی مجلس میں پہنچے ۔ ہمارے اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے ہی وہ حضورﷺ سے (اِسلام پر ) بیعت ہوگئے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ یہ اَوس وخزرج والےؓبڑے سچے اور بڑے صابر تھے۔1
صاحبِ بِدَایہ نے اس حدیث میں یہ مضمون بھی بیان کیا ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے دین کو لے کر وہی کھڑا ہوسکتا ہے جو دین کی ہر جانب سے حفاظت کرے۔ پھر آپ نے فرمایا: تم مجھے ذرا یہ بتاؤ کہ تھوڑے ہی عرصہ میں اللہ پاک تمہیں ان کا ملک اور مال دے دے اور ان کی بیٹیوں کو تمہارا بچھونا بنادے یعنی وہ تمہاری بیویاں یا باندیاں بن جائیں۔ کیا تم اس کے لیے اللہ کی تسبیح وتقدیس بیان کرنے کے لیے تیار ہو؟ نعمان بن شریک نے حضورﷺ سے کہا: اے قریشی! آپ کی یہ بات ہمیں منظور ہے۔ پھر آپ نے یہ آیتیں تلاوت فرمائیں: { اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًاO وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا O}2
جن کاترجمہ یہ ہے: ہم نے تجھ کو بھیجا بتانے والا اور خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا اور بلانے والا اللہ کی طرف اس کے حکم سے اور چمکتا ہوا چراغ۔
پھر حضورﷺ حضرت ابوبکرؓ کا ہاتھ پکڑ کر کھڑے ہوگئے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد حضورﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے علی! زمانۂ جاہلیت میں عرب کے اَخلاق کیا ہیں۔ یہ کتنے بلند ہیں۔ ان اخلاق کی وجہ سے دنیاوی زندگی میںایک دوسرے کی حفاظت کرلیتے ہیں۔ حضرت علی نے فرمایا: پھر ہم اَوس و خزرج کی مجلس میں پہنچے۔ ہمارے اٹھنے سے پہلے ہی وہ حضورﷺسے بیعت ہوگئے۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ وہ اَوس و خزرج بڑے سچے اور بڑے صابر تھے ۔ اَنسابِ عرب کے بارے میں حضرت ابوبکرکی اتنی زیادہ معلومات سے حضورﷺ بڑے خوش ہوئے۔ اس کے کچھ عرصہ کے بعد حضورﷺ نے اپنے صحابۂ ؓ کے پاس آکر فرمایا کہ اللہ کی بہت ہی حمد بیان کرو، کیوں کہ آج بنو ربیعہ نے اہلِ فارس پر کامیابی حاصل کرلی ہے، ان کے بادشاہوں کو قتل کردیا ہے ، ان کے لشکر کو بالکل تباہ کردیا ہے اور ان کی یہ ساری مدد میری وجہ سے ہوئی ہے ۔ 1
دوسری روایت میں یہ تفصیل بھی ہے کہ جب بنو ربیعہ کی فارس والوں سے جنگ ہوئی اور فرات کے قریب قُراقِر مقام پر دونوں فوجوں کا مقابلہ ہوا تو بنو ربیعہ نے محمدﷺ کے نام کو اپنا شعار اور خاص نشانی بنالیا ،جس کی وجہ سے فارس کے خلاف اللہ نے اُن کی مدد فرمائی اور بنو ربیعہ اس جنگ کے بعد اِسلام میں داخل ہوگئے۔2
حضرت علیؓ نے ایک دن انصار کی فضیلت اور ان کے پرانا ہونے اور اسلام میں سبقت لے جانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جو انصار سے محبت نہ کرے اور ان کے حقوق کو نہ پہچانے وہ مؤمن نہیں ہے۔ انھوں نے اِسلام کی ایسے دیکھ بھال کی جیسے گھوڑے کے بچھیرے کی کی جاتی ہے۔ وہ اپنے ہتھیاروں کی مہارت اور اپنی گفتگو کی طاقت اور اپنے دلوں کی سخاوت کی وجہ سے اسلام کی دیکھ بھال کے لیے کافی ہوگئے۔ حضورﷺ حج کے موسم میں قبائل کے پاس تشریف لے جاکر اُن کو دعوت دیا کرتے تھے ،لیکن اُن میں سے کوئی بھی آپ کی بات کو نہ مانتا اور آپ کی دعوت کو قبول نہ کرتا ۔ آپ مجِنّہ اور عکاظ اور منیٰ کے بازاروں میں ان قبائل کے پاس تشریف لے جاتے اور ہر سال جاکر اُن کو دعوت دیا کرتے ۔ آپ ان کے پاس اتنی بار گئے کہ قبائل والے لوگ (آپ کی استقامت سے حیران ہوکر)کہنے لگ گئے کہ کیا اب تک وہ وقت نہیں آیا کہ آپ ہم لوگوں سے ناامید ہوجائیں ؟ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انصار کے اس قبیلہ کو نواز نے کا ارادہ فرمایا۔
چناں چہ آپ نے ان انصار پر اسلام کو پیش فرمایا جسے انھوں نے جلدی سے قبول کرلیا۔ اور انھوں نے آپ کو (مدینہ میں) اپنے پاس ٹھہرا لیا، اور آپ کے ساتھ نصرت اور غم خواری کا معاملہ کیا ۔ فَجَزَاہُمُ اللّٰہُ خَیْرًا۔ہم مہاجرین اُن کے پاس گئے تو انھوں نے ہمیں اپنے ساتھ گھروں میں ٹھہرایا اور کوئی بھی ہمیں دوسرے کے پاس بھیجنے کو تیار نہ ہوتا حتی کے بعض دفعہ ہمیں اپنا مہمان بنانے کے لیے قرعہ اندازی کیا کرتے۔ پھر انھوں نے خوشی خوشی اپنے اَموال کا ہمیں اپنے سے بھی زیادہ حق دار بنادیا اور اپنے نبیصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کو قربان کردیا ۔ 1
حضرت اُمِّ سعد بنتِ سعد بن الربیع ؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ جب تک مکہ میں رہے قبائل کو اللہ عزّوجل کی دعوت دیتے رہے جس کی وجہ سے آپ کو تکلیفیں پہنچائی جاتی رہیں اور برا بھلا کہا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انصار کے اس قبیلہ کو (نصرتِ اِسلام کی) شرافت سے نوازنے کا ارادہ کیا۔ چناں چہ آپ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس پہنچے جو عقبہ کے پاس بیٹھے ہوئے (منیٰ میں) اپنا سر مونڈ رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے (حضرت اُمِّ سعدؓ سے) پوچھا کہ وہ کون لوگ تھے؟ انھوں نے بتایا کہ وہ چھ یا سات آدمی تھے جن میں بنی نجار کے تین آدمی تھے: اَسعد بن زُرارہ اور عفراء کے دو بیٹے، انھوں نے باقی حضرات کا نام مجھے نہیں بتایا۔ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ نے اُن کے پاس بیٹھ کر ان کو اللہ عزّوجل کی دعوت دی اور ان کو قرآن پڑھ کر سنایا ۔ چناں چہ ان لوگوںنے اللہ اور رسول کی بات کو مان لیا اور وہ اگلے سال بھی (حج پر) آئے۔ یہ (بیعت) عقبہ اُولیٰ کہلاتی ہے۔ اس کے بعد (بیعت) عقبہ ثانیہ ہوئی ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت اُمّ ِسعدسے پوچھا کہ حضورﷺ مکہ میں کتنا عرصہ رہے؟ انھوں نے کہا: کیا تم نے ابوصِرمہ قیس بن ابی انسؓ کا کلام نہیں سنا؟ میں نے کہا: مجھے معلوم نہیں ہے کہ انھوں نے کیا کہا ہے؟ چناں چہ انھوں نے مجھے اُن کا یہ شعر پڑھ کر سنایا:
ثَوٰی فِيْ قُرَیْشٍ بِضْعَ عَشَرَۃَ حِجَّۃً
یُذَکِّرُ لَوْ لَاقٰی صَدِیْقًا مُّوَاتِیَا
آپ نے قریش میں دس سال سے زیادہ قیام فرمایا اور اس سارے عرصہ میں نصیحت اور تبلیغ فرماتے رہے (اور آپ یہ چاہتے تھے کہ ) کوئی موافقت کرنے والا دوست آپ کو مل جائے۔
اور بھی کئی شعر پڑھے جن کا تذکرہ حضرت ابنِ عباس ؓ کی حدیث میں بابِ نصرت میں عنقریب آئے گا۔1
حضرت عقیل بن ابی طالبؓ اور حضرت زُہری فرماتے ہیں: جب مشرکین نے حضورﷺ کے ساتھ بہت زیادہ سختی کا معاملہ شروع کیا تو آپ نے اپنے چچا عباس بن عبدالمطّلبؓ سے فرمایا: اے میرے چچا! اللہ عزّوجل اپنے دین کی مدد ایسی قوم کے ذریعہ سے کریں گے جن کو قریش کی جابرانہ مخالفت معمولی بات معلوم ہوگی اور جو اللہ کے ہاں عزت کے طلب گار ہوں گے۔ آپ مجھے بازارِ عکاظ لے چلیں اورمجھے عرب کے قبائل کی قیام گاہیں دکھائیں، تاکہ میں اُن کواللہ عزّوجل کی دعوت دوں اور اس بات کی دعوت دوں کہ وہ میری حفاظت کریں اور مجھے اپنے ہاں لے جاکر رکھیں تاکہ میں اللہ عزّوجل کی طرف سے اللہ کے پیغام کو انسانوں تک پہنچاسکوں۔ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت عباس نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! آپ عکاظ چلیں میں بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں،آپ کو قبائل کی قیام گاہیں دکھاؤں گا۔ چناںچہ حضورﷺ نے قبیلہ ثقیف سے ابتدا فرمائی اور پھر اس سال حج میں قبائل کو تلاش کرکے دعوت دیتے رہے۔
پھر جب اگلا سال ہوا جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کھلّم کھلا دعوت دینے کا حکم دیا تو اَوس اور خزرج کے چھ آدمیوں سے آپ کی ملاقات ہوئی جن کے نام یہ ہیں: اَسعد بن زُرارہ اور ابو الہیثم بن التَیِّہان اور عبداللہ بن رواحہ اور سعد بن ربیع اور نعمان بن حارثہ اور عبادہ بن صامت۔ حضورﷺ کی اُن سے ملاقات منیٰ کے دنوں میں جمرۂ عَقَبہ کے پاس رات کے وقت ہوئی۔ آپ ان کے پاس بیٹھے، اور ان کو اللہ عزّوجل کی اور اس کی عبادت کرنے کی اور اس کے اس دین کی مدد کرنے کی دعوت دی جو دین دے کر اللہ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا ہے۔ انھوں نے درخواست کی کہ حضورﷺ (آسمان سے آنے والی) وحی کو اُن پر پیش فرمائیں۔ چناں چہ آپ نے سورۂ ابراہیم {وَاِذْ قَالَ اِبْرَاہِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ہٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا}سے لے کر آخر تک پڑھ کر سنائی ۔ جب انھوں نے قرآن سنا تو اُن کے دل نرم پڑ گئے اور اللہ کے سامنے عاجزی کرنے لگے اور (حضورﷺ کی دعوت کو) قبول کرلیا ۔
جب حضورﷺ کی اور ان کی گفتگو ہورہی تھی تو حضرت عباس بن عبدالمطّلبؓ پاس سے گزرے تو انھوں نے حضورﷺ کی آواز کو پہچان لیا اور فرمایا: اے میرے بھتیجے! یہ تمہارے پاس کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: اے میرے چچا! یہ یثرب کے رہنے والے اَوس و خزرج کے لوگ ہیں۔ اُن کو بھی میں نے اسی بات کی دعوت دی جس کی دعوت ان سے پہلے دوسرے قبیلوں کو دے چکا ہوں ۔ انھوں نے میری دعوت کو قبول کرکے میری تصدیق کی اور یہ کہا کہ وہ مجھے اپنے علاقہ میں لے جائیں گے۔ چناں چہ حضرت عباس بن عبدالمطّلب اپنی سواری سے نیچے اُترے اور اپنی سواری کی ٹانگیں باندھ دیں۔ پھر ان سے کہا: اے جماعتِ اَوس و خزرج! یہ میرا بھتیجا ہے اور یہ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔ اگر تم نے ان کی تصدیق کی ہے اور تم ان پر ایمان لے آئے ہو اور ان کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہو تو میں تم سے اپنے دلی اطمینان کے لیے یہ عہد لینا چاہتا ہوں کہ تم ان کو لے جاکر وہاں بے یار ومددگار نہیں چھوڑوگے اور ان کو دھوکا نہیں دوگے، کیوں کہ تمہارے پڑوسی یہودی ہیں اور یہودی ان کے دشمن ہیں، اور مجھے خطرہ ہے کہ وہ ان کے خلاف تدبیر یں کریں گے ۔
حضرت عباس نے جب حضرت سعد اور اُن کے ساتھیوں کے بارے میں عدمِ اطمینان کا اظہار کیا تو یہ بات حضرت اَسعد بن زُرارہ پر بڑی گراں گزری، اس لیے انھوں نے کہا :یا رسول اللہ !آپ ہمیں حضرت عباس کو ایسا جواب دینے کی اجازت دیں جس میں ایسی کوئی بات نہیں ہوگی جس سے آپ کو غصہ آئے یا آپ کو ناگوار گزرے ،بلکہ ایسا جواب دیں گے جس میں آپ کی دعوت کو قبول کرنے کی تصدیق ہوگی اور آپ پر ایمان کا اظہار ہوگا۔ آپ نے فرمایا: اچھا! تم حضرت عباس کو ضرور جواب دو، مجھے تم پر پورا اطمینان ہے۔ حضرت اَسعد بن زُرارہ نے حضورﷺ کی طرف چہرہ کرکے کہا :یا رسول اللہ ! ہر دعوت کا ایک راستہ ہوتا ہے کسی کا راستہ نرم ہوتا ہے اور کسی کا سخت۔ آج آپ نے ایسی دعوت دی ہے جو نئی بھی ہے اور لوگوں کے لیے سخت اور کٹھن بھی ہے۔ آپ نے ہمیں اس بات کی دعوت دی ہے کہ ہم اپنا دین چھوڑ کر آپ کے دین کی اتباع کرلیں اور یہ بڑا مشکل کام اور سخت گھاٹی ہے، لیکن ہم نے آپ کی اِس بات کو قبول کرلیا۔ اور آپ نے ہمیں اس بات کی دعوت دی ہے کہ لوگوں سے ہمارے دُور اور قریب کے جتنے رشتے ہیں اور ان سے جس طرح کے تعلقات ہیں ان سب کو ہم ختم کردیں (یعنی دین کے معاملہ میں صرف آپ کی مانیں اور کسی کی نہ مانیں) یہ بھی بڑا مشکل کام اور سخت گھاٹی ہے، لیکن ہم نے اسے بھی قبول کرلیا۔ ہمارا مضبوط جتھا ہے۔ جہاں ہم رہتے ہیں وہاں ہماری بڑی عزت ہے اور وہاں ہماری سب چیزیں محفوظ ہیں۔ کوئی اس بات کو سوچ بھی نہیں سکتا ہے کہ ہمارا سردار باہر کا ایسا آدمی بن جائے جس کو اس کی قوم نے تنہا اور اس کے چچوں نے بے یار ومددگار چھوڑدیا ہو۔ اور آپ نے ہم کو دعوت دی (کہ آپ کو ہم اپنا سردار بنالیں) یہ بھی بڑا مشکل کام اور سخت گھاٹی ہے ،لیکن ہم نے آپ کی اس بات کو بھی قبول کرلیا۔ لوگوں کویہ تمام کام ناپسند ہیں۔ ان کاموں کو صرف وہی پسند کرے گا جس کی ہدایت کا اللہ نے فیصلہ کرلیا ہواور جواُن کاموں کے انجام میں خیر چاہتا ہو۔ ہم نے آپ کے ان تمام کاموں کو دل و جان سے قبول کرلیا ہے اور انھیں قبول کرنے کا زبان سے اِقرار کررہے ہیں اور ان کے پورا کرنے میں اپنی ساری طاقت خرچ کریں گے۔ اور آپ جو کچھ لائے ہیں اس پر ہم ایمان لارہے ہیں اور اس معرفت ِخداوندی کی ہم تصدیق کررہے ہیں جو ہمارے دلوں میں پیوست ہوگئی ہے۔ ان تمام باتوں پر ہم آپ سے بیعت ہوتے ہیں، اور ہم اپنے ربّ اور آپ کے ربّ سے بیعت ہوتے ہیں ۔ اللہ (کی مدد) کا ہاتھ ہمارے ہاتھوں کے اوپر ہے، اور آپ کے خون کی حفاظت کے لیے ہم اپنے خون بہادیں گے، اور آپ کی جان کو بچانے کے لیے اپنی جانیں قربان کردیں گے، اور ان تمام چیزوں سے ہم آپ کی حفاظت کریں گے جن سے ہم اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کر تے ہیں۔ اگر ہم اپنے اس عہد کو پورا کریں گے تو اللہ کے لیے پورا کریں گے، اور اگر ہم اس عہد کی خلاف ورزی کریں گے تو یہ اللہ سے غداری ہوگی جو ہماری انتہائی بدنصیبی ہوگی۔ یا رسول اللہ! یہ ہماری تمام گزارشات سچی ہیں اور (ان گزارشات کو پورا کرنے کے لیے) ہم اللہ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔
اس کے بعد حضرت اَسعدنے حضرت عباس بن عبدالمطّلب کی طرف چہرہ کرکے کہا: اے وہ شخص جو اپنی بات کہہ کر ہمارے اور نبی کریم ﷺ کے درمیان آگیا ہے! اللہ ہی جانتا ہے کہ آپ کا ان باتوں سے کیا مقصد ہے؟ آپ نے یہ کہا ہے کہ یہ آپ کے بھتیجے ہیں اور تمام لوگوں سے زیادہ آپ کے محبوب ہیں، تو ہم نے بھی ان کی وجہ سے اپنے قریب اور دور کے تمام رشتہ داروں سے تعلقات توڑ لیے ہیں ۔اور ہم اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے ان کو اپنے پاس سے بھیجا ہے، یہ جھوٹے نہیں ہیں ،اور جو کلام یہ لائے ہیں وہ انسانوں کے کلام سے ملتا جلتا نہیں ہے۔ باقی آپ نے جو یہ کہا ہے کہ آپ ان کے بارے میں ہم سے تب مطمئن ہوں گے جب آپ ہم سے پختہ عہد لے لیں گے، تو حضورﷺ کے لیے ہم سے جو بھی کوئی پختہ عہد لینا چاہیں ہمیں اس سے انکار نہیں ہے۔ لہٰذا آپ جو عہد لینا چاہتے ہیں لے لیں۔اور پھر حضورﷺکی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا: یارسول اللہ! اپنی ذات کے لیے آپ جو عہد ہم سے لینا چاہیںلے لیں اور اپنے ربّ کے لیے جو شرطیں ہم پر لگانا چاہیں لگالیں۔ آگے حدیث میں ان حضرات کے بیعت ہونے کا پورا قصہ مذکور ہے۔ 1