صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
حضرت عائشہ ؓ کا مال خرچ کرنا
حضرت امام مالک ؓ نے ’’مُوطّأ‘‘ میں نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ ؓ نے روزہ رکھا ہواتھا۔ ان سے ایک مسکین نے سوال کیا۔ ان کے گھر میں صرف ایک روٹی تھی۔ انھوں نے اپنی باندی سے کہا: یہ روٹی اس مسکین کو دے دو۔ باندی نے ان سے کہا: (اس روٹی کے علاوہ) آپ کی افطاری کے لیے اور کچھ نہیں ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا: (کوئی بات نہیں) تم پھر بھی اسے یہ روٹی دے دو۔ چناںچہ باندی کہتی ہے کہ میں نے اس مسکین کو وہ روٹی دے دی۔ جب شام ہوئی تو ایک ایسے گھر والے نے، یا ایک ایسے آدمی نے جو کہ ہمیں ہدیہ نہیں دیا کرتا تھا ہمیں ایک (پکی ہوئی) بکری اور اس کے ساتھ بہت سی روٹیاں ہدیہ میں بھیجیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے مجھے بلا کر فرمایا: اس میں سے کھائو، یہ تمہاری (روٹی کی) ٹکیہ سے بہتر ہے۔1
امام مالک ؓ کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک مسکین نے حضور ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ ؓ سے کھانا مانگا۔ حضرت عائشہ ؓ کے سامنے انگور رکھے ہوئے تھے۔ انھوں نے ایک آدمی سے کہا: انگور کا ایک دانہ لے کر اسے دے دو۔ وہ حضرت عائشہ کی طرف ( یا اس دانے کی طرف) تعجب سے دیکھنے لگا تو حضرت عائشہ ؓ نے کہا: کیا تمہیں تعجب ہو رہا ہے؟ اس دانے میں تمہیں کتنے ذرّے نظر آرہے ہیں؟ (یہ فرما کر انھوں نے اس آیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے:
{فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ o}2
سوجو شخص دنیا میں ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ وہاں اس کو دیکھ لے گا۔