صحابہ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
اپنے ہاتھ سے مسکین کو دینا
حضرت عثمان ؓ کہتے ہیں: حضرت حارثہ بن نعمان ؓ کی بینائی جاچکی تھی۔ انھوں نے اپنی نماز کی جگہ سے لے کر اپنے کمرے کے دروازے تک ایک رسّی باندھ رکھی تھی۔ جب دروازے پر کوئی مسکین آتا تو اپنے ٹوکرے میں سے کچھ لیتے اور رسّی کو پکڑ کر (دروازے تک جاتے اور) خود اپنے ہاتھ سے اس مسکین کو دیتے۔ گھر والے ان سے کہتے: آپ کی جگہ ہم جاکر مسکین کو دے آتے ہیں۔ وہ فرماتے: میںنے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سناہے کہ مسکین کو اپنے ہاتھ سے دینا بری موت سے بچاتا ہے۔3
حضرت عمرو لیثی ؓ کہتے ہیں: ہم حضرت واثلہ بن اسقع ؓ کے پاس تھے، ان کے پاس ایک مانگنے والا آیا۔ انھوں نے روٹی کا ایک ٹکڑا لیا، اس پر ایک پیسہ رکھا اور خود جاکر روٹی کا وہ ٹکڑا اس کے ہاتھ پر رکھا۔ میں نے ان سے کہا: اے ابو الاسقع! کیا آپ کے گھر میں کوئی ایسا آدمی نہیں ہے جو آپ کی جگہ یہ کام کر دے؟ انھوں نے کہا: آدمی تو ہے، لیکن جب کوئی آدمی مسکین کو صدقہ دینے کے لیے چل کر جائے تو اس کے ہر قدم کے بدلہ میں ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔ اور جب جا کر وہ چیز اس مسکین کے ہاتھ میں رکھ دے تو ہر قدم کے بدلہ میں دس گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔1
حضرت نافع ؓ کہتے ہیں: حضرت ابنِ عمر ؓ روزانہ رات کو اپنے گھر والوں کو جمع کرتے اور سب ان کے بڑے پیالے میں سے کھاتے۔ (کھانے کے دوران) بعض دفعہ وہ کسی مسکین کی آواز سنتے تو اپنے حصہ کا گوشت اور روٹی جا کر اسے دے دیتے۔ جتنی دیر میں وہ مسکین کو دے کر واپس آتے اتنی دیر میں گھروالے پیالہ ختم کرچکے ہوتے۔ اگر مجھے اس پیالہ میں کچھ مل جاتا تو ان کو بھی مل جاتا۔ پھر اسی حال میں حضرت ابنِ عمرصبح روزہ رکھ لیتے۔2