نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا
حضور ﷺ کا دو آدمیوں کو دعوت دینا
حضرت معاویہؓ فرماتے ہیں: حضرت ابوسفیانؓ اپنی بیوی ہندہ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا کر اپنے کھیت کی طرف چلے ۔ میں بھی دونوں کے آگے آگے چل رہا تھا اور میں نو عمر لڑکا اپنی گدھی پر سوار تھا کہ اتنے میں حضورﷺہمارے پاس پہنچے۔ ابوسفیان نے کہا: اے معاویہ !نیچے اتر جاؤ تاکہ محمد سوار ہوجائیں۔ چناں چہ میں گدھی سے اُتر گیا اور اس پر حضورﷺ سوارہوگئے۔ آپ ہمارے آگے آگے کچھ دیر چلے پھر ہماری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے ابوسفیان بن حرب! اے ہند بنت عتبہ ! اللہ کی قسم! تم ضرور مروگے، پھر تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا، پھر نیکو کار جنت میں جائے گا اور بدکار دوزخ میں۔اور میں تم کو بالکل صحیح اور حق بات بتارہا ہوں۔اور تم دونوں ہی سب سے پہلے (اللہ کے عذاب ) سے ڈرائے گئے ہو۔ پھر حضورﷺ نے {حٰمٓO تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} سے لے کر {قَالَتَا اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ O}1 تک آیات تلاوت فرمائیں۔ تو ان سے ابوسفیان نے کہا :اے محمد! کیا آپ اپنی بات کہہ کر فارغ ہوگئے؟ آپ نے فرمایا :جی ہاں ۔اورحضورﷺ گدھی سے نیچے اتر آئے اور میں اس پر سوار ہوگیا۔ حضرت ہند نے حضرت ابوسفیان کی طرف متوجہ ہوکر کہا: کیا اس جادوگر کے لیے تم نے میرے بیٹے کو گدھی سے اتارا تھا؟ ابوسفیان نے کہا :نہیں، اللہ کی قسم ! وہ جادوگر اور جھوٹے آدمی نہیں ہیں۔ 2
حضرت یزید بن رُومان کہتے ہیں:حضرت عثمان بن عفان اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ دونوں حضرت زبیر بن العوّامؓ کے پیچھے پیچھے چلے اور دونوں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضورﷺ نے دونوں پر اِسلام کو پیش فرمایا اور قرآن پڑھ کر سنایا اور دونوں کو اِسلام کے حقوق بتائے اور ان دونوں سے اللہ کی طرف سے اِکرام و اِعزاز ملنے کا وعدہ فرمایا۔ چناں چہ وہ دونوں ایمان لے آئے اور دونوں نے تصدیق کی۔ حضرت عثمان نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ابھی ملکِ شام سے چلا آرہا ہوں۔ (اس سفر میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا کہ) ہم لوگ معان اور زَرقاء کے درمیان ٹھہرے ہوئے تھے اور ہماری حالت سونے والوں جیسی تھی کہ اچانک کسی پکارنے والے نے بلند آواز سے پکار کر کہا : اے سونے والو! اٹھو، کیوں کہ مکہ میں احمد (ﷺ) کا ظہورہوگیا ہے۔ چناں چہ ہم مکہ میں آئے تو آتے ہی آپ کی خبر ہم نے سنی۔ اور حضرت عثمان شروع زمانہ میں ہی حضورﷺ کے دارِ اَرقم میں تشریف لے جانے سے پہلے مسلمان ہوگئے تھے۔3
حضرت عمار بن یاسر ؓ فرماتے ہیں: دارِ اَرقم کے دروازے پر حضرت صُہَیب بن سنانؓ سے میری ملاقات ہوئی اور اس وقت حضورﷺ دارِاَرقم میں تشریف فرما تھے۔ میں نے حضرت صُہَیب سے کہا: کس ارادے سے آئے ہو؟ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کس ارادے سے آئے ہو؟ میں نے کہا : اس ارادے سے آیا ہوں کہ محمدﷺ کی خدمت میں جاکر اُن کی باتیں سنوں۔ انھوں نے کہا: میرا بھی یہی ارادہ ہے۔ چناں چہ ہم دونوں حضور ﷺکی خدمت میںحاضر ہوئے۔ آپ نے ہم پر اِسلام پیش فرمایا، ہم دونوں مسلمان ہوگئے۔ پھر اس دن شام تک ہم وہیں ٹھہرے ، پھر وہاں سے ہم چھپ کر نکلے۔ حضرت عمار اور حضرت صُہَیب تیس سے کچھ زیادہ مسلمانوں کے بعد مسلمان ہوئے۔ 1
حضرت خُبَیب بن عبدالرحمن کہتے ہیں: حضرت اَسعد بن زُرارہ اور ذکوان بن عبدِ قیس ؓ مدینہ سے مکہ عتبہ بن ربیعہ سے اپنا کوئی فیصلہ کروانے کے لیے چلے۔ وہاں آکر دونوں نے نبی اکرمﷺ کے بارے میں کچھ سنا۔ وہ دونوں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے ان دونوں پر اِسلام پیش فرمایا اور اُن کو قرآن پڑھ کر سنایا، وہ دونوں مسلمان ہوگئے اور عتبہ بن ربیعہ کے قریب بھی نہ گئے اور ویسے ہی مدینہ کو واپس چلے گئے اور یہ دونوں سب سے پہلے مدینہ میں اسلام کو لے کر پہنچے ۔ 2