حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری
مجاہد فی سبیل اللہ کو رخصت کرنے کے لیے ساتھ جانا اور اسے الوداع کہنا
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ نے صحابہ ؓ کو (کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لیے) بھیجا تو (اُن کو رخصت کرنے کے لیے) حضور ﷺ اُن کے ساتھ چل کر بقیعِ غرقد تک گئے۔ پھر آپ نے فرمایا: اللہ کا نام لے کر جائو۔ (اور یہ دعا دی) اے اللہ! ان کی مدد فرما۔ 2
حضرت محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ بن یزید ؓ کو کھانے کے لیے بلایا گیا۔ جب وہ آئے تو انھوں نے کہا کہ حضور ﷺ جب کسی لشکر کو روانہ فرماتے تو یہ فرماتے:
أَسْتَوْدِعُ اللّٰہَ دِیْنَکُمْ وَأَمَانَتَکُمْ وَخَوَاتِیْمَ أَعْمَالِکُمْ۔
میں تمہارے دین کو اور تمہاری امانتوں اور تمہارے اعمال کے خاتمہ کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔1
حضرت حسن بصری حضرت اُسامہ ؓ کے لشکر کو روانہ کرنے کی حدیث کو بیان کرتے ہیں، جس میں یہ مضمون بھی ہے کہ پھر حضرت ابو بکر ؓ باہر تشریف لائے اور اس لشکر کے پاس گئے اور ان کو روانہ فرمایا اور اُن کو اس طرح رخصت کیا کہ حضرت ابو بکر خود پیدل چل رہے تھے اور حضرت اُسامہ سوار تھے اور حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ حضرت ابو بکر کی سواری کی لگام پکڑ کر چل رہے تھے۔ تو حضرت اُسامہ نے اُن سے عرض کیا: اے خلیفۂ رسول اللہ! یا تو آپ بھی سوار ہو جائیں ورنہ میں بھی سواری سے نیچے اُتر آتا ہوں۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: اللہ کی قسم! نہ تم اُترو گے، اور اللہ کی قسم! نہ میں سوار ہوں گا۔ اس میں میرا کیا حرج ہے کہ میں تھوڑی دیر اپنے پائوں اللہ کے راستہ میں غبار آلود کر لوں، کیوںکہ غازی جو قدم بھی اُٹھاتا ہے اس کے لیے ہر قدم پر سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے سات سو درجے بلند کر دیے جاتے ہیں اور اس کے سات سو گناہ مٹا ئے جاتے ہیں۔ جب حضرت ابو بکر اُن کو رخصت کر کے واپس آنے لگے تو انھوں نے حضرت اُسامہ سے کہا: اگر تم مناسب سمجھو تو حضرت عمر ؓ کو میری مدد کے لیے یہاں چھوڑ جائو۔ چناںچہ حضرت اُسامہ نے حضرت عمر کو مدینہ حضرت ابو بکر کے پاس رہ جانے کی اجازت دے دی۔ 2
حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے ملکِ شام (چار) لشکر بھیجے۔ ان میں سے ایک لشکر کے حضرت یزید بن ابی سفیان ؓ امیر تھے۔ حضرت ابو بکر حضرت یزید بن ابی سفیان کو رخصت کرنے کے لیے اُن کے ساتھ پیدل چلنے لگے۔ حضرت یزید نے حضرت ابو بکر سے کہا: یا تو آپ بھی سوار ہو جائیں یا پھر میں بھی سواری سے نیچے اُترتا ہوں۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: تمہیں نیچے اُترنے کی اجازت نہیں اور میں خود سوار نہیں ہوں گا، کیوںکہ میرے جو قدم اللہ کے راستہ میں پڑ رہے ہیں مجھے ان پر اللہ سے ثواب کی امید ہے۔ آگے حدیث اور بھی ہے۔1
حضرت جابر رُعینی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ ایک لشکر کو رخصت کرنے کے لیے اس کے ساتھ پیدل گئے اور فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کے راستہ میں ہمارے پائوں غبار آلود ہوئے۔ حضرت ابو بکر سے کسی نے پوچھا: ہمارے پائوں (اللہ کے راستہ میں) کیسے غبار آلود ہو گئے ہم تو ان کو رخصت کرنے آئے ہیں؟ (اللہ کے راستہ میں تو نہیں نکلے) حضرت ابو بکر نے فرمایا: ہم نے ان کو تیار کیا اور ان کو (یہاں تک) رخصت کرنے آئے اور ان کے لیے دعا کی ( لہٰذا ہمارے یہ قدم بھی اللہ کے راستہ میں ہیں)۔ 2
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں ایک غزوہ میں گیا تو حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ ہمیں رخصت کرنے کے لیے ہمارے ساتھ گئے۔ جب ہمیں رخصت کر کے واپس جانے لگے تو فرمایا: آپ دونوں کو دینے کے لیے اس وقت میرے پاس کچھ ہے نہیں، لیکن میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کسی چیز کو اللہ کے سپرد کر دیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتے ہیں، اس لیے میں آپ لوگوں کے دین کو اور امانت کو اور آپ لوگوں کے اَعمال کے خاتمہ کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔3