حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری
اللہ کے راستہ میں جانے کے لیے قرض لینا
حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے آکر کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو گھوڑو ں کے بارے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خیر رکھ دی گئی ہے۔ اللہ کے بھروسے پر خرید و اور اللہ کے بھروسے پر قرض لو۔ کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم اللہ کے بھروسے پر کیسے خریدیں اور اللہ کے بھروسے پر کیسے اُدھار لیں؟ آپ نے فرمایا: تم قرض دینے والے سے یہ کہو کہ ہمیں قرض ابھی دے دو، جب مالِ غنیمت میں سے ہمارا حصہ ہمیں ملے گا تو ہم اس وقت قرض ادا کر دیں گے۔ اور بیچنے والے سے یہ کہو کہ چیز ہمیں ابھی بیچ دو، جب اللہ تعالیٰ ہمیں فتح اور مالِ غنیمت دے دے گا ہم اس وقت قیمت ادا کر دیں گے۔ اور جب تک تمہارا جہاد سر سبز وشاداب رہے گا تم خیر پر رہو گے۔ اور آخر زمانے میں لوگ جہاد میں شک کرنے لگ جائیں گے تو اُن کے زمانے میں تم جہاد بھی کرنا اور پھر غزوہ میں اپنی جان بھی پیش کر دینا، کیوںکہ غزوہ میں جانا اس دن بھی سر سبز ہوگا (اس پر آج کی طرح اللہ کی مدد بھی آئے گی اور مال غنیمت بھی ملے گا)۔ 1