حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری

حضرت قتادہ بن نعمان ؓ کی بہادری

حضرت قتادہ بن نعمان ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کو ہدیہ میں ایک کمان ملی، آپ نے وہ کمان اُحد کے دن مجھے دے دی۔ میں اس کمان کو لے کر حضور ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر خوب تیر چلاتا رہایہاں تک کہ اس کا سِرا ٹوٹ گیا۔ میں برابر حضور ﷺ کے چہرے کے سامنے کھڑا رہا اور میں اپنے چہرے پر تیروں کو لیتا رہا۔ جب بھی کوئی تیر آپ کے چہرے کی طرف مڑجاتا تو میں اپنے سر کو گھما کر تیر کے سامنے لے آتا اور حضور ﷺ کے چہرے کو بچا لیتا (چوں کہ میری کمان ٹوٹ چکی تھی اس لیے )میں تیر تو چلا نہیں سکتا تھا۔ پھر آخر میں مجھے ایک تیر ایسا لگا جس سے میری آنکھ کا ڈیلا ہاتھ پر آگرا۔ میں اسے ہتھیلی پر رکھے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب آپ نے آنکھ کا ڈیلا میری ہتھیلی میں دیکھا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ نے یہ دعا دی: اے اللہ! قتادہ نے اپنے چہرے کے ذریعہ آپ کے نبی کے چہرہ کو بچایا ہے، لہٰذا تو اس کی اس آنکھ کو زیادہ خوب صورت اور زیادہ تیز بنا دے۔ چناںچہ اُن کی وہ آنکھ دوسری سے زیادہ خوب صورت اور زیادہ تیز نظر والی ہوگئی۔ 2 دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں غزوۂ اُحد کے دن حضورﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے چہرہ سے حضور ﷺ کے چہرہ کی حفاظت کرتا رہا۔ اور حضرت ابو دُجانہ سماک بن خرشہ ؓ اپنی پشت سے حضور ﷺ کی پشت مبارک کی حفاظت کرتے رہے حتیٰ کہ اُن کی پشت تیروں سے بھر گئی اور یہ بھی غزوۂ اُحد کے دن ہوا تھا ۔ 1