حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری
حضرت سلمہ بن اَکوع ؓ کی بہادری
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ فرماتے ہیں کہ ہم صلحِ حدیبیہ کے زمانے میں حضور ﷺ کے ساتھ مدینہ آئے۔ پھر میں اور حضور ﷺ کے غلام حضرت رَباح ؓ دونوں حضور ﷺ کے اُونٹوں کو لے کر باہر نکلے اور میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ کا گھوڑا لے کر نکلا تاکہ اس کو بھی ان اُونٹوں کے ساتھ چرا لائوں اور پانی پلا لائوں۔ ابھی صبح ہو چکی تھی لیکن کچھ اندھیرا باقی تھا کہ عبد الرحمن بن عیینہ نے حضور ﷺ کے اُونٹوں کو (کافروں کے مجمع کے ساتھ) لوٹ لیا اور اُونٹوں کے چرواہے کو قتل کر دیا، اور اپنے گھوڑے سوار ساتھیوں سمیت ان اونٹوں کو ہانک کر لے گیا۔ میں نے کہا: اے رَباح! تم اس گھوڑے پر بیٹھ جائو اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ کو یہ گھوڑا جا کر دے دو، اور حضور ﷺ کو بتا دو کہ ان کے اُونٹو ں کو لوٹ کر لے گئے ہیں۔
میں نے ایک پہاڑی پر چڑھ کر مدینہ کی طرف منہ کیا اور تین مرتبہ زور سے یہ آواز لگائی: یَاصَبَاحَاہْ! (اے لوگو! دشمن نے لوٹ لیا ہے، مدد کے لیے آئو)۔ پھر میں اپنی تلوار اور تیر لے کر ان کافروں کا پیچھا کرنے لگا اور تیر چلا کر اُن کے سواری کے جانوروں کو مارنے لگا۔ اور مجھے ان پر تیر چلانے کا موقع اس وقت ملتا جب گھنے درخت آجاتے۔ جب کوئی سوار میری طرف واپس ہوتا تو میں کسی درخت کی آڑ میں بیٹھ جاتا اور تیر چلاتا۔ چناںچہ جو سوار بھی میری طرف واپس آیا میں نے اس کے جانور کو ضرور زخمی کیا۔ میں اُن کو تیر مارتا جاتا تھا اور یہ شعر پڑھتا جاتا تھا:
أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ
وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعِ
میں اکوع کا بیٹا (سلمہ)ہوں۔ آج کا دن کمینوں (کی ہلاکت) کا دن ہے۔
پھر میں ان میں سے کسی ایک کے قریب ہوجاتا اور وہ سواری پر ہوتا تو میں اسے تیر مارتا۔ وہ تیر اس آدمی کو لگ جاتا اور میں اس کے کندھے کو تیر سے چھید دیتا اور میں اس سے کہتا :
خُذْھَا وَأَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ
وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعِ
اس تیر کو لے ۔میں اکوع کا بیٹا ہوں ۔آج کا دن کمینوں اور کنجوسوں (کی ہلاکت) کا دن ہے۔
پھر جب میں درختوں کی اوٹ میں ہوتا تو میں تیروں سے اُن کو بھون ڈالتا۔ جب کہیں تنگ گھاٹیاں آتیں تو میں پہاڑ پر چڑھ کر اُن پر پتھر برساتا۔ میرا اُن کے ساتھ یہی رویہ رہا۔ میں اُن کا پیچھا کرتا رہا اور رَجزیہ اَشعار پڑھتا رہا، یہاں تک کہ حضور ﷺ کے تمام اُونٹ میں نے اُن سے چھڑا لیے اور وہ اُونٹ میرے پیچھے رہ گئے۔ پھر میں اُن پر تیر چلاتا رہا یہاں تک کہ وہ تیس سے زیادہ برچھے اور تیس سے زیادہ چادریں چھوڑ گئے، اس طرح وہ اپنا بوجھ ہلکا کرنا چاہتے تھے۔ مجھے اُن سے جو چیز ملتی تو میںنشانی کے طور پر اس پر کوئی نہ کوئی پتھر رکھ دیتا اور حضور ﷺ کے راستہ پر اُن کو جمع کرتا جاتا۔ یہاں تک کہ جب دھوپ پھیل گئی یا چاشت کا وقت ہو گیا تو کافر اس وقت تنگ گھاٹی میں تھے کہ عیینہ بن بدر فزاری ان کافروں کی مدد کے لیے آدمی لے کر آیا۔ پھر میں ایک پہاڑ پر چڑھ گیا اور اُن سے اونچا ہوگیا تو عیینہ نے کہا: یہ آدمی کون دکھائی دے رہا ہے؟ انھوں نے کہا: ہمیں ساری تکلیف اس (نو عمر بچے) کے ہاتھوں اُٹھانی پڑی ہے۔ اس نے صبح سے اب تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا ہے اور اس نے ہماری ہر چیز لے لی ہے اور ساری چیزیں اپنے پیچھے رکھ آیا ہے۔
عیینہ نے کہا کہ اگر اس کا خیال یہ نہ ہوتا کہ اس کے پیچھے کمک (آرہی) ہے تو تمہارا پیچھا چھوڑ جاتا۔ تم میں سے کچھ آدمی کھڑے ہو کر اس کے پاس چلے جائیں۔ چناںچہ چار آدمی کھڑے ہوئے اور پہاڑ پر چڑھنے لگے۔ جب وہ اتنے قریب آگئے کہ میری آواز اُن تک پہنچ سکتی تھی تو میں نے اُن سے کہا: کیا تم مجھے جانتے ہو؟ انھوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں ابنِ اکوع ہوں۔ اور اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد ﷺ کو عزّت عطا فرمائی! تم میں سے کوئی بھی مجھے بھاگ کر نہیں پکڑ سکتا اور میں بھاگوں تو تم میں سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا ہے۔ ان میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میرا یہی گمان ہے۔ میں اپنی جگہ ایسے ہی بیٹھا رہایہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ کے سوار درختوں کے بیچ میں سے چلے آرہے ہیں اور اُن میں سب سے آگے حضرت اَخرم اَسدی ؓ تھے، اُن کے پیچھے حضور ﷺ کے شہ سوار حضرت ابو قتادہ ؓ اور اُن کے پیچھے حضرت مقداد بن اسود کندی ؓ تھے۔ وہ (چاروں) مشرک پشت پھیر کر بھاگ گئے اور میں نے پہاڑ سے نیچے اُتر کر حضرت اَخرم کے گھوڑے کی لگام پکڑلی اور میں نے اُن سے کہا: ان لوگوں سے بچ کر رہو۔ مجھے خطرہ ہے کہ یہ تمہارے ٹکڑے کر دیں گے اس لیے ذرا انتظار کر لو، یہاں تک کہ حضورﷺ اور آپ کے صحابہ آجائیں۔
حضرت اَخرم نے کہا: اے سلمہ! اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور تمہیں یقین ہے کہ جنت حق ہے اور دوزخ کی آگ حق ہے تو میرے اور شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ بنو۔ میں نے اُن کے گھوڑے کی لگام چھوڑ دی اور وہ عبد الرحمن بن عیینہ پر حملہ آور ہوئے۔ عبد الرحمن نے مڑ کر حملہ کیا دونوں نے ایک دوسرے کو نیزے مارے۔ حضرت اخرم نے عبد الرحمن کے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں تو عبد الرحمن نے (گھوڑے سے گرتے ہوئے) حضرت اَخرم کو نیزہ مار کر شہید کر دیا اور حضرت اَخرم کے گھوڑے پر جا بیٹھا اتنے میں حضرت ابو قتادہ ؓ عبدالرحمن کے پاس پہنچ گئے۔ دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ نیزے کے دو دو ہاتھ کیے۔ عبدالرحمن نے حضرت ابو قتادہ کے گھوڑے کے پائوں کاٹ ڈالے۔ حضرت ابو قتادہ نے عبد الرحمن کو قتل کر دیا اور حضرت اَخرم کا گھوڑا اس سے لے کر خود اس پر بیٹھ گئے۔ پھر میں ان مشرکوں کے پیچھے دوڑنے لگا۔ (دوڑتے دوڑتے اتنا آگے نکل گیا )کہ حضور ﷺ کے صحابہ کے چلنے سے اُڑنے والا گرد و غبار مجھے نظر نہیں آرہا تھا۔ اور وہ لوگ سورج ڈوبنے سے پہلے ایک گھاٹی میں داخل ہوئے جس میں پانی تھا، اس پانی کو ذوقرد کہا جاتا تھا۔
ان مشرکوں نے اس پانی میں سے پینا چاہا کہ اتنے میں انھوں نے مجھے اپنے پیچھے دوڑتے ہوئے دیکھ لیا، اس لیے وہ اس پانی کو چھوڑ کر ذی بئرگھاٹی پر چڑھ گئے اور سورج ڈوب گیا۔ میں ایک آدمی کے قریب پہنچ گیا اور اس کو میں نے تیر مارا اور ساتھ یہ رَجزیہ شعر پڑھا:
خُذْھَا وَأَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ
وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعِ
اس آدمی نے کہا: ہائے اکوع کی ماں کا صبح سویرے اپنے بچے کو گم کرنا۔ میں نے کہا: ہاں،او اپنی جان کے دشمن! یہ وہی آدمی تھا جسے میں نے صبح تیر مارا تھا اور اب اسے ہی دوسرا مارا تھا اور دونوں تیر اس میں پیوست ہو گئے تھے۔ اسی دوران ان مشرکوں نے دو گھوڑے پیچھے چھوڑ دیے۔ میں ان دونوں کو ہانکتا ہوا حضور ﷺ کی خدمت میں لے آیا۔ آپ اس وقت ذِی قرد پانی پر تشریف فرما تھے جہاں سے میں نے ان مشرکوں کو بھگایا تھا۔ اور حضور ﷺ کے ساتھ پانچ سو صحابہ تھے۔ اور جو اُونٹ میں چھوڑ گیا تھا حضرت بلال اُن میں سے ایک کو ذبح کر کے اُن کی کلیجی اور کوہان حضور ﷺ کے لیے بھون رہے تھے۔
میں نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے اجازت دیں تو میں آپ کے صحابہ میں سے سو آدمی چن کر لے جائوں اور جا کر رات کے اندھیرے میں ان کا فروں پر حملہ کر دوں؟ اس طرح ( وہ سب ختم ہو جائیں گے) اور اُن کی خبر دینے والا بھی کوئی باقی نہ رہے گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے سَلَمہ! کیا تم ایسا کر گزرو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزّت عطا فرمائی ہے! اس پر آپ اتنے زور سے ہنسے کہ آگ کی روشنی میں آپ کے دانت مجھے نظر آنے لگے۔ پھر آپ نے فرمایا: اس وقت تو ان کافروں کی قبیلہ بنو غَطَفان کے علاقے میں مہمانی تیار کی جارہی ہے۔ چناںچہ غَطَفان کے آدمی نے آکر بتایا کہ ان کا فلاں غَطَفانی آدمی پر گزر ہوا۔ اس نے اُن کے لیے اونٹ ذبح کیا، لیکن جب وہ لوگ اس کی کھال اُتار رہے تھے تو انھوں نے غبار اُڑتے ہوئے دیکھا، وہ اس اُونٹ کو اسی حال میں چھوڑ کر وہاں سے بھاگ گئے۔
اگلے دن صبح کو حضور ﷺ نے فرمایا: ہمارے سواروں میں سب سے بہترین حضرت ابو قتادہ ہیں، اور ہمارے پیادوں میں سب سے بہترین حضرت سلمہ ہیں۔ چناںچہ حضور ﷺ نے (مجھے مالِ غنیمت میں سے) سوار کا حصہ بھی دیا اور پیدل چلنے والے کا بھی۔ اور مدینہ واپس جاتے ہوئے حضور ﷺ نے مجھے عَضْبَااُونٹنی پر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ جب ہمارے اور مدینہ کے درمیان اتنا فاصلہ رہ گیا جو سورج نکلنے سے لے کر چاشت تک کے وقت میں طے ہوسکے تو اَنصار کے ایک تیز دوڑنے والے ساتھی جن سے کوئی آگے نہیں نکل سکتا تھا، انھوں نے دوڑنے کے مقابلہ کی دعوت دی اور بلند آواز سے کہا: ہے کوئی دوڑ میں مقابلہ کرنے والا؟ ہے کوئی آدمی جو مدینہ تک میرے ساتھ دوڑ لگائے؟ اور یہ اعلان انھوں نے کئی بار کیا۔ میں حضور ﷺ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اس آدمی سے کہا: کیا تم کسی کریم آدمی کا اِکرام نہیں کرتے ہو؟ کیا تم شریف آدمی سے ڈرتے نہیں ہو؟ اس آدمی نے کہا: رسول اللہﷺ کے علاوہ نہ میں کسی کا اِکرام کرتا ہوں اور نہ میں کسی سے ڈرتا ہوں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ قربان ہوں! آپ مجھے اجازت دیں، میں اس آدمی سے دوڑمیں مقابلہ کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو ٹھیک ہے۔
میں نے اس آدمی سے کہا: میں تمہارے مقابلہ کے لیے آرہا ہوں۔ وہ آدمی کود کر اپنی سواری سے نیچے آگیا۔ میں نے بھی پائوں موڑ کر اُونٹنی سے نیچے چھلانگ لگا دی۔ (اور ہم دونوں نے دوڑنا شروع کر دیا) شروع میں ایک دو دوڑوں تک میں نے اپنے آپ کو روکے رکھا یعنی زیادہ تیز نہیں دوڑا (جس سے وہ مجھ سے آگے نکلتا جا رہا تھا) پھر میں تیزی سے دوڑا اور اس تک جا پہنچا اور اس کے دونوں کندھوں کے درمیان میں نے اپنے دونوں ہاتھ مارے اور میں نے اس سے کہا: اللہ کی قسم! میں تم سے آگے نکل گیا ہوں۔ راوی کو شک ہے کہ یہی الفاظ کہے تھے، یا ان جیسے الفاظ کہے تھے۔ اس پر وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا: اب میرا یہی خیال ہے۔ پھر ہم دونوں دوڑتے رہے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے۔ امام مسلم کی روایت میں یہ مضمون بھی ہے کہ میں اس سے پہلے مدینہ پہنچا۔ اس کے بعد ہم لوگ مدینہ تین دن ہی ٹھہرے تھے کہ غزوئہ خیبر کے لیے روانہ ہوگئے۔ 1