حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری
حضرت ابو دُجانہ سِماک بن خرشہ انصاری ؓ کی بہادری
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے غزوۂ اُحد کے دن ایک تلوار لے کر فرمایا کہ یہ تلوار کون لے گا؟ کچھ لوگ تلوار لے کر اسے دیکھنے لگے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: (دیکھنے کے لیے نہیں دینا چاہتا ہوں بلکہ) تلوار لے کر کون اس کا حق ادا کرے گا؟ یہ سن کر لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ حضرت ابو دُجانہ سِماک بن خرشہ ؓ نے کہا کہ میں اسے لے کر اس کا حق ادا کروں گا۔ چناںچہ (انھوں نے وہ تلوار لی) اور اس سے مشرکوں کے سر پھاڑنے لگے۔ 2
حضرت زُبیر بن عوّام ؓ فرماتے ہیں کہ غزوۂ اُحد کے دن حضورِ اَقدس ﷺ نے لوگوں کے سامنے ایک تلوار پیش کی اور فرمایا: اس تلوار کو لے کر کون اس کا حق ادا کرے گا؟ حضرت ابو دُجانہ سِماک بن خرشہ ؓ نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اسے لے کر اس کا حق ادا کروں گا۔ اس کا حق کیا ہے؟ حضور ﷺ نے اُن کو وہ تلوار دے دی۔ وہ(تلوار لے کر) نکلے تو میں بھی اُن کے پیچھے ہو لیا۔ چناںچہ وہ جس چیز کے پاس سے گزرتے اسے پھاڑ دیتے اور اسے ہلاک کر دیتے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے دامن میں چند (کافر) عورتوں کے پاس پہنچے۔ ان عورتوں کے ساتھ ہند بھی تھی جو (اپنے مردوں کو لڑائی پر اُبھارنے کے لیے) یہ اَشعار پڑھ رہی تھی:
نَحْنُ بَنَاتُ طَارِقٖ
نَمْشِيْ عَلَی النَّمَارِقٖ
ہم طارق کی بیٹیا ں ہیں ،ہم گدّوں پر چلتی ہیں۔
وَالْمِسْکُ فِي الْمَفَارِقٖ
إِن تُقْبِلُوْا نُعَانِقٖ
اور (ہمارے سروں کی) مانگوں میں مشک کی خوش بو لگی ہوئی ہے۔ اگر تم (میدانِ جنگ میں) آگے بڑھو گے تو ہم تمہیں گلے لگائیں گی۔
أَوْ تُدْ بِرُوْا نُفَارِقٖ
فِرَاقَ غَیْرِ وَامِقٖ
اور اگر تم (میدانِ جنگ سے) پیٹھ پھیرو گے تو پھر ہم تمہیں ایسے چھوڑ جائیں گی جیسے محبت نہ کرنے والا چھوڑجاتا ہے کہ پھر واپس نہیں آتا ۔
حضرت ابو دُجانہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ہند پر حملہ کرنا چاہا تو اس نے (اپنی مدد کے لیے) میدان کی طرف زور سے آواز لگائی، تو کسی نے اس کا جواب نہ دیا تو میں اسے چھوڑکر پیچھے ہٹ گیا۔ حضرت زُبیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو دُجانہ سے کہا: میں آپ کے سارے کام دیکھتا رہاہوں اور مجھے آپ کے سارے کام پسند آئے ہیں، لیکن مجھے یہ پسند نہیں آیا کہ آپ نے اس عورت کو قتل نہیں کیا۔ حضرت ابو دُجانہ نے کہا: اس عورت نے (اپنی مدد کے لیے) آواز لگائی تھی، لیکن کوئی اس کی مدد کے لیے نہیں آیا۔ تو مجھے یہ اچھا نہ لگا کہ میں حضور ﷺ کی تلوار سے ایسی عورت کو قتل کروں جس کا کوئی مدد کرنے والا نہ ہو۔ 1
حضرت زُبیر ؓ فرماتے ہیں کہ حضورِ اَقدس ﷺ نے غزوۂ اُحد کے دن ایک تلوار پیش کی اور فرمایا کہ اس تلوار کو لے کر کون اس کا حق ادا کرے گا؟ میں نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یارسول اللہ! میں۔ آپ نے مجھ سے اِعراض فرما لیا اور پھر فرمایا: اس تلوار کو لے کر کون اس کا حق ادا کرے گا؟ میں نے پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں۔ آپ نے پھر مجھ سے اِعراض فرما لیا اور پھر فرمایا: اس تلوار کو لے کر کون اس کا حق ادا کرے گا؟ اس پر ابو دُجانہ سماک بن خرشہ ؓ نے کھڑے ہو کر کہا: یا رسول اللہ! میں اسے لے کر اس کا حق ادا کروں گا، لیکن اس کا حق کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: اس کا حق یہ ہے کہ تم اس سے کسی مسلمان کو قتل نہ کرو اور تم اسے لے کر کسی کافر سے (پیٹھ پھیر کر) نہ بھاگو۔ چناںچہ حضور ﷺ نے وہ تلوار اُن کو دے دی اور حضرت ابو دُجانہ جب لڑائی کا ارادہ کر لیتے تو (سرخ) پٹی بطور نشانی کے باندھ لیتے۔ حضرت زُبیر فرماتے ہیں کہ میں نے یہ کہا کہ میں آج ابو دُجانہ کو ضرور دیکھوں گا کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ چناںچہ ( میں نے دیکھا کہ) جو چیز بھی اُن کے سامنے آتی وہ اسے پھاڑ دیتے اور اسے رسوا کر دیتے۔ آگے مضمون پچھلی حدیث جیسا ہے۔ 1
حضرت زُبیر ؓ فرماتے ہیں کہ جب میں نے حضور ﷺ سے تلوار مانگی اور آپ نے مجھے نہ دی اور حضرت ابو دُجانہ ؓکو دے دی، تو مجھے اس پر بڑا غصہ آیا اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ حضور ﷺ کی پھو پھی حضرت صفیہ ؓ کا بیٹا ہوںاور (حضور ﷺ کے قبیلہ) قریش میں سے ہوں اور میں نے ابو دُجانہ سے پہلے کھڑے ہو کر حضور ﷺ سے تلوار مانگی تھی پھر آپ نے ابو دُجانہ کووہ تلوار دے دی اور مجھے ایسے ہی چھوڑدیا ہے۔ اللہ کی قسم! میں بھی ضرور دیکھوں گا کہ ابو دُجانہ (تلوار لے کر) کیا کرتے ہیں۔ چناںچہ میں اُن کے پیچھے ہو لیا۔ انھوں نے اپنی سرخ پٹی نکال کر اپنے سر پر باندھ لی۔ اس پر اَنصار نے کہا کہ ابو دُجانہ نے موت کی پٹی نکالی ہے۔ اور حضرت ابو دُجانہ جب بھی سرخ پٹی باندھا کرتے تو اَنصار یوں ہی کہا کرتے تھے۔
چناںچہ وہ یہ اَشعار پڑھتے ہوئے میدان میں نکلے:
أَنَا الَّذِيْ عَاھَدَنِيْ خَلِیْلِيْ
وَنَحْنُ بِالسَّفْحِ لَدَی النَّخِیْلٖ
جب ہم پہاڑکے دامن میں کھجور کے درختوں کے پاس تھے تو مجھ ہی سے میرے خلیل نے یہ عہد لیا تھا۔
أَن لاَّ أَقُوْمَ الدَّھْرَ فِي الْکَیُّوْلٖ
أَضْرِبُ یُّسَیْفِ اللّٰہِ وَالرَّسُوْلٖ
کہ میں زندگی میں کبھی بھی میدانِ جنگ کی آخری صف میں کھڑا نہیں ہوں گا، اور اب میںاللہ اور رسول کی تلوار سے (کافروں کو) خوب ماروں گا۔
جو کافر اُن کو ملتا وہ اس تلوار سے اسے قتل کر دیتے۔ مشرکوں میں ایک آدمی تھا جس کا کام ہی یہ تھا کہ وہ(تلاش کر کے) ہمارے ہر زخمی کو مار دیتا تھا۔ حضرت ابو دُجانہ اور یہ مشرک ایک دوسرے کے قریب آنے لگے۔ میں نے اللہ سے دعا کی کہ اللہ! دونوں کی آپس میں مڈ بھیڑ کرادے۔ چناںچہ دونوں کا آمنا سامنا ہو گیا اور دونوں نے ایک دوسرے پر تلوار کے وار کیے۔ اس مشرک نے حضرت ابو دُجانہ پر تلوار کا وار کیا جسے انھوں نے اپنی ڈھال پر روکا اور اپنا بچائو کر لیا اور اس کی تلوار ڈھال میں گڑ گئی اور نکل نہ سکی۔ پھر حضرت ابو دُجانہ نے تلوار کا وار کرکے اسے قتل کر دیا۔ پھر میں نے دیکھا کر حضرت ابو دُجانہ نے ہند بنتِ عتبہ کے سر کے اوپر تلوار اٹھا رکھی ہے لیکن پھر تلوار اس سے ہٹالی (اور اسے قتل نہ کیا)۔ حضرت زُبیر فرماتے ہیں کہ (میں نے حضرت ابو دُجانہ کی بہادری کے یہ کارنامے دیکھے تو) میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں (کہ کون اس تلوار کا زیادہ حق دار تھا )۔1
موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں یہ ہے کہ حضور ﷺ نے جب اس تلوار کو لوگوں کے سامنے پیش کیا تو حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے وہ تلوار مانگی۔ حضور ﷺ نے ان سے اِعراض فرمالیا۔ پھر حضرت زُبیر ؓ نے وہ تلوار مانگی حضور ﷺ نے ان سے بھی اِعراض فرمالیا ۔ تو ان دونوں حضرات نے اسے محسوس کیا۔ حضور ﷺ نے تیسری مرتبہ اسی تلوار کو پیش کیا تو حضرت ابو دُجانہ ؓ نے حضور ﷺ سے وہ تلوار مانگی۔ حضور ﷺ نے اُن کو تلوار دے دی۔ انھوں نے تلوار لے کر واقعی اس کا حق ادا کر دیا۔ حضرت کعب بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں بھی مسلمانوں کے ساتھ اس جنگ میں گیا تھا۔ جب میں نے دیکھا کہ مشرکوں نے مسلمانوں کو قتل کرکے اُن کے ناک، کان کاٹ ڈالے ہیں تو میں کھڑا ہو گیا۔ اور کچھ دیر کے بعد آگے بڑھا تو میں نے ایک مشرک کو ہتھیار لگائے ہوئے دیکھا کہ وہ مسلمانوں کے پاس سے گزر تے ہوئے کہہ رہا ہے: اے مسلمانو! جیسے بکریاں (ذبح ہونے کے لیے) اِکٹھی ہو جاتی ہیں تم بھی (قتل ہونے کے لیے) اِکٹھے ہو جائو۔
ادھر ایک مسلمان ہتھیار لگائے ہوئے اس کافر کا انتظار کر رہا تھا۔ پھر میں وہاں سے چلا اور اس مسلمان کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور دیکھ کر اس کافر اوراس مسلمان کا اندازہ لگانے لگا تو یہی نظر آیا کہ کافر کے ہتھیار اور اس کی لڑائی کے لیے تیاری زیادہ ہے۔ میں دونوں کو دیکھتا رہا یہاں تک کہ دونوں کا آمنا سامنا ہوگیا اور مسلمان نے اس کافر کے کندھے پر اس زور سے تلوار ماری جو اسے چیرتی ہوئی اس کے سرین تک چلی گئی اور وہ کافر دو ٹکڑے ہوگیا۔ پھر مسلمان نے اپنے چہرے سے (نقاب) ہٹا کر کہا: اے کعب! تم نے کیا دیکھا؟ میں ابو دُجانہ ہوں۔1