صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا
اللہ کے راستہ میں نکل کر دعاؤں کا اہتمام کرنا
حضرت محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ جب حضور ﷺ مدینہ کے ارادے سے اللہ کی طرف سے ہجرت کرتے ہوئے مکہ سے چل پڑے تو آپ نے یہ دعا مانگی کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں کہ جس نے مجھے پیدا فرمایا حالاں کہ میں کچھ بھی نہیں تھا۔ اے اللہ! دنیا کی گھبراہٹ اور زمانے کے شرور اور دن رات آنے والے مصائب پر میری مدد فرما۔ اے اللہ! اس سفر میں تو میرا ساتھی ہو جا، اور میرے گھر میں تو میرا خلیفہ بن جا۔ اور جو تونے مجھے دیا ہے اس میں برکت نصیب فرما۔ مجھے اپنے سامنے تواضع کرنے والا بنا دے اور عمدہ ونیک اَخلاق پر تو مجھے جما دے اور مجھے اپنا محبوب بنالے اور مجھے عام لوگوں کے سپرد نہ فرما۔ اے کمزوروں کے ربّ! تو میرا بھی ربّ ہے۔ میں تیرے اس کریم چہرے کے طفیل جس سے سارے آسمان اور زمین روشن ہوگئے اور جس سے اندھیرے چھٹ گئے اور جس سے پہلوں کے کام درست ہوگئے ہیں، اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تو مجھ پر غصہ ہو یا تو مجھ سے ناراض ہو۔ اور تیری نعمت کے زائل ہونے اور تیری ناگہانی سزا سے اور تیری عطا کردہ عافیت کے چلے جانے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اور میں جتنے اعمال کر سکتا ہوں ان میں سے میرے نزدیک سب سے بہتر تجھے راضی کرنا اور منانا ہے۔ گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکیوں کے کرنے کی قوت تجھ سے ہی ملتی ہے۔ 2