صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا
اللہ کے راستہ میں نکل کر ذکر کرنا
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ جب مسلمان مکہ میں (فاتحانہ) داخل ہوگئے تو صبح تک فتح کی یہ رات مسلمانوں نے تکبیر و تہلیل اور بیت اللہ کے طواف میں گزاری، تو حضرت ابو سفیان ؓ نے حضرت ہند ؓ سے کہا: کیا تم دیکھ رہی ہو یہ سب اللہ کی طرف سے ہے؟ حضرت ہند نے کہا: ہاں! یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ پھر صبح کو حضرت ابو سفیان حضور ﷺ کی خدمت میں گئے تو حضور ﷺ نے فرمایا: تم نے ہند سے کہا تھا کہ کیا تم دیکھ رہی ہو یہ سب اللہ کی طرف سے ہے؟ تو ہند نے جواب میں کہا تھا: ہاں! یہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ حضرت ابو سفیان نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کی ابو سفیان قسم کھایا کرتا ہے! میری یہ بات ہند کے علاوہ اور کسی نے نہیں سنی تھی۔ 1
حضرت ابو موسیٰ اَشعری ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ نے غزوۂ خیبر پورا فرما لیا یا جب آپ غزوۂ خیبر کے لیے جانے لگے تو راستہ میں لوگ ایک وادی میں پہنچ کر زور زور سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ اورلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ پڑھنے لگے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا: (اے مسلمانو!) اپنی جانوں پر نرمی کرو ( انھیں خواہ مخواہ مشقت میں نہ ڈالو) تم کسی بہرے یا غائب اور غیر موجود خدا کو نہیں پکار رہے ہو، بلکہ تم ایسی ذات کو پکار رہے ہو جو سننے والی اور تم سے بہت قریب ہے اور وہ (ہر وقت) تمہارے ساتھ ہے۔ میں حضور ﷺ کی سواری کے پیچھے بیٹھا ہوا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ پڑھ رہا تھا۔ حضور ﷺ نے جب مجھے یہ پڑھتے ہوئے سنا تو مجھ سے فرمایا: اے عبد اللہ بن قیس! میں نے کہا: لبیک یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: میں تمہیں جنت کے خزانے کا کلمہ نہ بتا دوں؟ میں نے کہا: ضرور بتائیں یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے فرمایا:و ہ کلمہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ ہے۔ 2
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم اُوپر چڑھتے تھے تو اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہتے تھے، اور جب ہم نیچے اُترتے تھے تو سُبْحَانَ اللّٰہِ کہتے تھے۔ ’’بخاری‘‘ میں حضرت جابر ؓ کی دوسری روایت یہ ہے کہ جب ہم اُوپر چڑھتے تھے تو اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہتے تھے، اور جب ہم نیچے اُترتے تھے تو سُبْحَانَ اللّٰہِ کہتے تھے۔ 3
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ میں جانے والے لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک تو وہ جو اللہ کے راستہ میں نکل کر اللہ کا ذکر بہت کرتے ہیں، اور اللہ کا دھیان خوب رکھتے ہیں، اور چلنے میں فساد نہیں مچاتے ہیں، اور اپنے ساتھیوں کی مالی مدد اور ہمدردی کرتے ہیں، اور اپنا مرغوب اور عمدہ مال خرچ کرتے ہیں اور اُن کو جتنی دنیا ملتی ہے اس سے زیادہ وہ اس مال پر خوش ہوتے ہیں جسے وہ خرچ کرتے ہیں، اور یہ لوگ جب لڑائی کے میدان میں ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے اس بات پر شرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو پتہ چلے کہ اُن لوگوں کے دلوں میں شک ہے یا انھوں نے مسلمانوں کی مدد چھوڑ دی، اور جب انہیں مالِ غنیمت میں خیانت کرنے کا موقع ملتا ہے تو اپنے دلوں کو اور اپنے اعمال کو خیا نت سے پاک رکھتے ہیں تو نہ تو شیطان انھیں فتنہ میں مبتلا کرسکا اور نہ اُن کے دل میں فتنہ کا وسوسہ ہی ڈال سکا۔ ایسے لوگوں کی وجہ سے اللہ اپنے دین کو عزّت عطا فرماتے ہیں اور اپنے دشمن کو ذلیل کرتے ہیں۔
اور دوسرے لوگ وہ ہیں جو غزوہ میں تو نکلے لیکن نہ اللہ کا ذکر زیادہ کرتے ہیں، اور نہ انھیں اللہ کا دھیان ہے، اور نہ وہ فساد مچانے سے بچتے ہیں، اور مال خرچ کرنا پڑجائے تو بڑی ناگواری سے خرچ کرتے ہیں، اور جو مال خرچ کرتے بھی ہیں اسے اپنے اوپر تاوان سمجھتے ہیں اور ایسی باتیں اُن سے شیطان کہتا ہے۔ اور یہ لوگ جب لڑائی کے میدان میں ہوتے ہیں تو سب سے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں اور مدد نہ کرنے والوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ کر پناہ لیتے ہیں اور وہاں سے دیکھتے ہیں کہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ جب اللہ مسلمانوں کو فتح دے دیتے ہیں تو یہ سب سے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں (اور اپنے فرضی کارنامے بیان کرنے لگ جاتے ہیں)، اور انھیں جب مالِ غنیمت میں خیا نت کرنے کا موقع ملتا ہے تو بڑی جرأت سے اللہ کے مالِ غنیمت میں خیانت کرتے ہیں اور شیطان اُن سے یہ کہتا ہے کہ یہ تو مالِ غنیمت ہے۔ جب آسودہ حال ہوتے ہیں تو اِترانے لگ جاتے ہیں، اور جب انھیں کوئی رکاوٹ پیش آتی ہے تو شیطان انھیں (مخلوق کے سامنے اپنی حاجتیں) پیش کرنے کے فتنہ میں ڈال دیتا ہے۔ ان لوگوں کو مسلمانوں کے ثواب میں سے کچھ نہیں ملے گا۔ ہاں! اُن کے جسم مسلمانوں کے جسموں کے ساتھ ہیں، اور ان ہی کے ساتھ چل رہے ہیں لیکن اُن کی نیتیں اور ان کے عمل مسلمانوں سے مختلف ہیں۔ قیامت کے دن اُن کو اللہ تعالیٰ اِکٹھا فرمائیں گے اور پھر ان دو طرح کے لوگوں کو الگ الگ کردیں گے۔1