صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا

اللہ کے راستہ میں نکل کر نماز پڑھنا

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جنگ ِبدر کے دن حضرت مقداد ؓ کے علاوہ ہم میں اور کوئی بھی سواری پر سوار نہیں تھا اور میں نے اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ ہم میں سے ہر آدمی سویا ہوا تھا۔ بس حضورِ اکرم ﷺ جاگ رہے تھے۔ آپ ایک درخت کے نیچے نماز پڑھتے رہے اور روتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ 1 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ مقام ِ عُسْفان پر حضورِ اکرمﷺ کے ساتھ تھے اور مشرکین کا لشکر ہمارے سامنے آیا اور اُن کے سپہ سالار حضرت خالد بن ولید ؓ تھے۔ مشرکین کا یہ لشکر ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا۔ حضورﷺ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی۔ مشرکین نے آپس میں بات کی کہ مسلمان تو ابھی ایسی غفلت اور بے خبری کی حالت میں تھے کہ ہم اُن پر حملہ کرسکتے تھے، تو اس موقع سے ہم فائدہ اٹھا لیتے تو اچھا تھا۔ پھر کہنے لگے کہ اب اُن کی ایسی نماز کا وقت آنے والا ہے جو انھیں اپنی اولاد اور اپنی جان سے زیادہ محبوب ہے۔ حضرت ابنِ عباس فرماتے ہیں کہ (کافر عصر کی نماز میں مسلمانوں پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا ہی رہے تھے کہ) ظہر اور عصر کے درمیان حضرت جبرائیل ؑ یہ آیات لے کر نازل ہوگئے جن میں نمازِ خوف کا ذکر ہے: {وَاِذَا کُنْتَ فِیْھِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوۃَ}2 جب تو ان میں موجود ہو پھر نماز میں کھڑا کرے۔1 اور امام مسلم نے حضرت جابر ؓ سے یہ روایت اس طرح نقل کی ہے کہ مشرکین نے آپس میں کہا کہ عنقریب ایسی نماز آنے والی ہے جو مسلمانوں کو اپنی اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ 2 حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضور ﷺ کے ساتھ مقام ِ نخل کی جانب غزوۂ ذات الرقاع کے لیے نکلے۔ ایک مسلمان نے کسی مشرک کی بیوی کو قتل کر دیا (یا اسے قید کر لیا)۔ جب حضور ﷺ وہاں سے واپس آرہے تھے اس عورت کا شوہر آیا جو کہ کہیں گیا ہوا تھا۔ جب اسے بیوی کے قتل ہونے کی خبر ملی تو اس نے قسم کھائی کہ جب تک وہ محمد (ﷺ) کے صحابہ کا خون نہیں بہا لے گا اس وقت تک وہ چین سے نہیں بیٹھے گا۔ چناںچہ وہ حضور ﷺ کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ آپ نے راستہ میں ایک جگہ پڑائو ڈالا۔ آپ نے فرمایا: آج رات ہمارا پہرہ کون دے گا؟ ایک مہاجری اور ایک اَنصاری نے اپنے آپ کو پہرہ کے لیے پیش کیا اور انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم (پہرہ دیں گے)۔ آپ نے فرمایا کہ تم دونوں اس وادی کی گھاٹی کے سرے پر چلے جائو۔ یہ دونوں حضرت عماربن یاسر اور حضرت عبّاد بن بِشرؓ تھے۔ چناںچہ یہ دونوں گھاٹی کے سرے پر پہنچے تو اَنصاری نے مہاجری سے کہا: ہم دونوں باری باری پہرہ دیتے ہیں، ایک پہرہ دے اور دوسرا سو جائے۔ اب تم بتائو کہ میں کب پہرہ دوں، شروع رات میں یا آخر رات میں؟ مہاجری نے کہا: نہیں، تم شروع رات میں پہرہ دو۔ چناںچہ مہاجری لیٹ کر سو گئے اور اَنصاری کھڑے ہوکرنماز پڑھنے لگے۔ چناںچہ وہ آدمی آیا (جس کی بیوی قتل ہوئی تھی)۔ جب اس نے دور سے ایک آدمی کھڑا ہوا دیکھا تو وہ یہ سمجھا کہ یہ (مسلمانوں کے) لشکر کا جاسوس ہے۔ چناںچہ اس نے ایک تیر مارا جو اِن اَنصاری کو آکر لگا۔ اَنصاری نے وہ تیر نکال کر پھینک دیا اور نماز میں کھڑے رہے۔ اس نے دوسرا تیر مارا وہ بھی آکر ان کو لگا، انھوں نے اسے بھی نکال کر پھینک دیا اور نماز میں کھڑے رہے۔ اس آدمی نے تیسرا تیر مارا وہ بھی آکر ان کو لگا، انھوں نے اسے بھی نکال کر پھینک دیا۔ اور پھررکوع اور سجدہ کر کے (نماز پوری کی اور) اپنے ساتھی کو جگایا اور اس سے کہا: اُٹھ بیٹھو، میں تو زخمی ہوگیا ہوں۔ وہ مہاجری جلدی سے اُٹھے۔ اس آدمی نے جب (ایک کی جگہ) دو کو دیکھا تو سمجھ گیا کہ ان دونوں حضرات کو اس کا پتہ چل گیا ہے۔ چناںچہ وہ تو بھاگ گیا۔جب مہاجری نے اَنصاری کے جسم میں سے کئی جگہ خون بہتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے کہا: سبحان اللہ! جب اس نے آپ کو پہلا تیر مارا تو آپ نے مجھے اس وقت کیوں نہیں اُٹھایا؟ اَنصاری نے کہاکہ میں ایک سورت پڑھ رہا تھا تو میرا دل نہ چاہا کہ اسے ختم کرنے سے پہلے چھوڑ دوں، لیکن جب اس نے لگاتار مجھے تیر مارے تو میں نے نماز ختم کر کے آپ کو بتا دیا۔ اور اللہ کی قسم! جس جگہ کے پہرے کا حضور ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا اگر اس جگہ کے پہرے کے رہ جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں جان دے دیتا اور سورت کو بیچ میں نہ چھوڑتا۔1 امام بیہقی نے ’’دلائل النّبوۃ‘‘ میں اس روایت میں یہ ذکر کیا ہے کہ حضرت عمار بن یاسر ؓ سو گئے اور حضرت عبّاد بن بِشر ؓکھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے۔ اور حضرت عبّاد نے کہا کہ میں سورتِ کہف نماز میں پڑھ رہا تھا، میرا دل نہ چاہا کہ اسے ختم کرنے سے پہلے رکوع کرلوں۔ حضرت عبداللہ بن اُنیس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ خالد بن سفیان بن نبیح ہُذَلی مجھ پر چڑھائی کرنے کے لیے لوگوں کو جمع کر رہا ہے۔ اس وقت وہ عُرَنَہمقام پر ہے، تم جاکر اسے قتل کردو۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ مجھے اس کا حلیہ بتادیںتاکہ میں اسے پہچان لوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جب تم اسے دیکھو گے تو تمہیں اپنے جسم میں کپکپی محسوس ہوگی۔ چناںچہ میں گلے میں اپنی تلوار لٹکا کر چل پڑا۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو وہ اپنی بیویوں کے ساتھ عُرَنَہ مقام پر تھا اور اپنی بیویوں کے لیے ٹھہرنے کی جگہ تلاش کر رہا تھا اور عصرکا وقت ہوچکا تھا۔ جب میں نے اسے دیکھا تو جیسے حضور ﷺ نے بتایا تھا واقعی مجھے اپنے جسم میں کپکپی محسوس ہوئی۔ میں اس کی طرف چل پڑا اور مجھے یہ ڈر لگا کہ کہیں ایسے نہ ہو کہ اسے قتل کرنے کی کوشش میں کچھ دیر لگ جائے اور نمازِ عصر جاتی رہے۔ چناںچہ میں نے نماز شروع کر دی۔ میں اس کی طرف چلتا بھی جا رہا تھا اور اشارے سے رکوع سجدہ بھی کرتا جا رہا تھا۔ میں جب اس کے پاس پہنچا تو اس نے کہا: یہ آدمی کون ہے؟ میں نے کہا: میں عرب کا ایک آدمی ہوں، جس نے یہ سنا ہے کہ تم لوگوں کو اس آدمی پر (یعنی حضورﷺ پر) چڑھائی کرنے کے لیے جمع کر رہے ہو، اس وجہ سے تمہارے پاس آیا ہوں۔ اس نے کہا: ہاں! میں اسی میں لگا ہوا ہوں۔ چناںچہ میں تھوڑی دیر اس کے ساتھ چلا۔ جب مجھے اس پر پوری طرح قابو حاصل ہو گیا تو میں نے تلوار کا وار کر کے اسے قتل کر دیا۔ پھر میں وہاں سے چل پڑا اور اس کی ہو دہ نشین عورتیں اس پر جھکی ہوئی تھیں۔ جب میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا: یہ چہرہ کامیاب ہوگیا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اسے قتل کر آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا : تم ٹھیک کہتے ہو۔ پھر حضور ﷺ میرے ساتھ کھڑے ہوئے اور مجھے اپنے گھر لے گئے اور مجھے ایک لاٹھی دے کر فرمایا: اے عبداللہ بن اُنیس! اسے اپنے پاس سنبھال کر رکھنا۔ میں لاٹھی لے کر لوگوں کے پاس باہر آیا۔ لوگوں نے پوچھا: یہ لاٹھی کیا ہے ؟ میں نے کہا: یہ لاٹھی حضور ﷺ نے مجھے دی ہے، اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں اسے سنبھال کر رکھوں۔ لوگوں نے کہا کہ تم واپس جا کر کیوں نہیں حضور ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھ لیتے۔ چناںچہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں واپس گیا اور میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے یہ لاٹھی کیوں دی ہے ؟ آپ نے فرمایا: یہ قیامت کے دن میرے اور تمہارے درمیان نشانی ہوگی، کیوںکہ اس دن لاٹھی والے لوگ بہت کم ہوں گے (یا نیک اعمال کا سہارا لینے والے بہت کم ہوں گے)۔ چناںچہ حضرت عبد اللہ نے اس لاٹھی کو اپنی تلوار کے ساتھ باندھ لیا اور وہ لاٹھی زندگی بھر اُن کے ساتھ رہی۔ جب اُن کے انتقال کا وقت آیا تو اُن کی وصیت کے مطابق وہ لاٹھی اُن کے کفن میں رکھ دی گئی اور اسے بھی اُن کے ساتھ دفن کیا گیا ۔ 1 حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جب جنگِ یر موک کے دن دونوں لشکر ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو (رومی سپہ سالار) قُبُقْلار نے ایک عربی آدمی کو (جاسوسی کے لیے) بھیجا۔ اس حدیث کے آخر میں یہ ہے کہ قُبُقْلار نے اس (جاسوس) سے پوچھا : وہاں کیا دیکھ کر آئے ہو؟ اس نے کہا کہ وہ مسلمان رات میں عبادت گزارہیں اور دن میں شہ سوار ہیں۔ 1 حضرت ابو اسحاق سے ایک لمبی حدیث مروی ہے جس میں یہ ہے کہ ہِرَقْل نے (اپنے لوگوں کو) کہا: پھر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ ہمیشہ شکست کھاتے ہو؟ تو اُن کے بڑے سرداروں میں سے ایک بوڑھے نے کہا کہ ہم اس وجہ سے شکست کھا جاتے ہیں کہ وہ (مسلمان) رات کو عبادت کرتے ہیں اور دن کو روزہ رکھتے ہیں۔ 2 اور یہ احادیث تائیداتِ غیبیہ کے اَسباب کے باب میں آیندہ اِن شاء اللہ آئیں گی۔ اور صفحہ ۳۴۲پر عورتوں کی بیعت کے باب میں ابنِ مندہ کی بیان کردہ حضرت ہند بنتِ عتبہ ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ حضرت ہند نے (اپنے خاوند ابو سفیان سے) کہا کہ میں محمد (ﷺ) سے بیعت ہونا چاہتی ہوں۔ حضرت ابو سفیان نے کہا کہ میں نے تو اب تک یہ دیکھا ہے کہ تم ہمیشہ سے (محمد ؑکی بات کا) اِنکار کرتی رہی ہو۔ انھوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! (تمہاری یہ بات ٹھیک ہے) لیکن اللہ کی قسم! آج رات سے پہلے میں نے اس مسجد میں اللہ تعالیٰ کی اتنی عبادت ہوتے ہوئے نہیں دیکھی۔ اللہ کی قسم! مسلمانوں نے ساری رات نماز پڑھتے ہوئے قیام اور رکوع اور سجدے میں گزاری۔