صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا
جہاد کو چھوڑ کر گھر بار اور کاروبارمیں لگ جانے والوں کو دھمکی
حضرت ابو عمران ؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ قسطنطنیہ میں تھے اور مصر والوں کے امیر حضرت عُقْبہ بن عامر ؓ تھے اور شام والوں کے امیر حضرت فضالہ بن عبید ؓ تھے۔ چناںچہ (قسطنطنیہ) شہر سے رومیوں کی ایک بہت بڑی فوج باہر نکلی، ہم اُن کے سامنے صف بنا کر کھڑے ہو گئے۔ ایک مسلمان نے رومیوں پر اس زور سے حملہ کیا کہ وہ اُن میں گھس گیا اور پھر ان میں سے نکل کر ہمارے پاس واپس آگیا۔ یہ دیکھ کر لوگ چِلّائے اور ( قرآن مجید کی آیت {وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ}2 کو سامنے رکھ کر ) کہنے لگے : سبحان اللہ! اس آدمی نے اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈال دیا۔ اس پر حضور ﷺ کے صحابی حضرت ابو ایوب اَنصاری ؓ کھڑے ہوکر فرمانے لگے: اے لوگو! تم اس آیت کا مطلب یہ سمجھتے ہو (کہ دشمنوں میں گھس جانا ہلاکت ہے)؟ یہ آیت تو ہم اَنصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔اور اس کی صورت یہ ہوئی کہ جب ا للہ تعالیٰ نے اپنے دین کو عزّت عطا فرما دی اور اس کے مدد گاروں کی تعداد بہت ہوگئی تو ہم لوگوں نے حضور ﷺ سے چھپ کر آپس میں یہ کہا کہ ہماری زمینیں خراب ہوگئیں، اب ہمیں کچھ عرصہ مسلسل (مدینہ میں) ٹھہر کر اپنی خراب شدہ زمینوں کو ٹھیک کرلینا چاہیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ہمارے اس اِرادے پر رد فرماتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی:
{وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ}3
اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور نہ ڈالو اپنی جان ہلاکت میں ۔
اس لیے ہلاکت تو اس میں تھی کہ ہم زمینوں میں ٹھہر کر انھیں ٹھیک کرنا چاہتے تھے۔ چناںچہ ہمیں اللہ کے راستے میں نکلنے اور غزوہ میں جانے کا حکم دیا گیا اور حضرت ابو ایوب ؓ اللہ کے راستہ میں غزوہ فرماتے رہے یہاں تک کہ اسی راستہ میں اُن کا انتقال ہوا۔ 1
حضرت ابو عمران ؓ فرماتے ہیں کہ ہم قسطنطنیہ شہر دشمن سے لڑنے گئے اور جماعت کے امیر حضرت عبد الرحمن بن خالد بن ولید تھے اور رومی لشکر شہر کی دیوار سے کمر لگائے ہوئے کھڑا تھا۔ ایک مسلمان نے دشمن پر زور سے حملہ کیا۔ لوگوں نے اس سے کہا: رُک جائو، رُک جائو۔ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ یہ آدمی اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے۔ اس پر حضرت ابو ایوب ؓ نے فرمایا: یہ آیت تو ہم اَنصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی مدد فرمائی اور اِسلام کو غالب فرما دیا تو ہم نے آپس میں کہا: آئو! ہم اپنی زمینوں میں ٹھہر کر انھیں ٹھیک کر لیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ}۔2 تو ہمارا اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب یہ تھا کہ ہم زمینوں میں ٹھہر کر انھیں ٹھیک کرنے میں لگ جاتے اور جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیتے۔ حضرت ابو عمران فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب ؓ (زندگی بھر) اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ قسطنطنیہ میں دفن ہوئے۔ 3
حضرت ابو عمران ؓ فرماتے ہیں کہ مہاجرین میں سے ایک صاحب نے قسطنطنیہ میں دشمن کی صف پر ایسا زور دار حملہ کیا کہ اسے چیر کر پار چلے گئے اور ہمارے ساتھ حضرت ابو ایوب اَنصاری ؓ بھی تھے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اس آدمی نے تو اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈال دیا۔ اس پر حضرت ابو ایوب نے فرمایا: ہم اس آیت کو (تم لوگوں سے) زیادہ جانتے ہیں، کیوں کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ہم حضور ﷺ کے ساتھ رہے، ہم آپ کے ساتھ تمام لڑائیوں میں شریک ہوئے اور ہم نے آپ کی بھر پور نصرت کی۔ جب اِسلام پھیل گیا اور غالب ہوگیا تو اسلامی محبت کے اِظہار کے لیے ہم اَنصار جمع ہوئے اور ہم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے نبی کریم ﷺ کی صحبت میں رہنے اور آپ کی نصرت کرنے کی دولت سے نوازا یہاں تک کہ اِسلام پھیل گیا اور اِسلام والے زیادہ ہوگئے۔ اور ہم نے آپ کو اپنے خاندان، اہل وعیال، مال واولاد سب سے آگے رکھا۔ اور اب لڑائیوں کا سلسلہ بھی بند ہوگیا ہے اب ہم اپنے اہل وعیال میں واپس جاتے ہیں اور اُن میں رہا کریں گے (اور ہم اللہ کے راستہ میں باہر کچھ عرصہ نہیں جائیں گے)۔ چناںچہ ہمارے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:
{وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ}1
لہٰذا گھر بار، کاروبار، مال واولاد میں ٹھہر جانے اور جہاد چھوڑ دینے میں ہلاکت تھی۔2