صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا
اللہ کے راستہ میں پیچھے رہ جانے اور اس میں کوتاہی کرنے پر عتاب
حضرت کعب بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں غزوۂ تبوک کے علاوہ اور کسی غزوہ میں حضورﷺ (کے ساتھ جانے) سے پیچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوئہ بدر میں بھی پیچھے رہ گیا تھا، لیکن اس غزوہ سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کسی پر عتاب نہیں فرمایا، کیوںکہ حضور ﷺ تو صرف ابو سفیان کے تجارتی قافلہ کا مقابلہ کرنے (اور اس سے مالِ تجارت لے لینے) کے ارادہ سے نکلے تھے (جنگ کرنے کا اِرادہ ہی نہیں تھا)۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا دشمن سے اچانک مقابلہ کرا دیا، پہلے سے جنگ کا کوئی اِرادہ اور پروگرام نہیں تھا۔ اور میں عَقَبہ کی اس رات کو حضور ﷺ کے ساتھ تھا جس رات حضور ﷺ سے ہم نے اِسلام پر چلنے کا پختہ عہد کیا تھا، اور مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ عَقَبہ کی یہ رات مجھے نہ ملتی اور اس کے بدلے میں غزوۂ بدر میں شریک ہوجاتا اگرچہ لوگوں میں غزوۂ بدر کی شہرت اس رات سے زیادہ ہے۔ اور ( غزوۂ تبوک میں) میرا قصہ (یعنی میرے شریک نہ ہونے کا قصہ) یہ ہے کہ تبوک سے پہلے کسی لڑائی میں میں اتنا قوی اور مال دار نہیں تھا جتنا کہ تبوک سے پیچھے رہ جانے کے وقت تھا۔ اللہ کی قسم! اس سے پہلے کبھی میرے پاس دو اُونٹنیاں ہونے کی نوبت نہیں آئی اور اس غزوہ میں میرے پاس دو اُونٹنیاں تھیں۔
اور حضورِ اَکرم ﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جس طرف کی لڑائی کا ارادہ ہوتا تھا اس کا اظہار نہ فرماتے بلکہ ہمیشہ دوسری طرف کے حالات وغیرہ معلوم کرتے تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ دوسری طرف جانا چاہتے ہیں۔ مگر اس لڑائی میں چوں کہ گرمی بھی شدید تھی اور سفر بھی دور کا تھا اور راستہ میں بیابان اور جنگل پڑتے تھے اور دشمن کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی اس لیے آپ نے صاف اعلان فرما دیا (کہ تبوک جانا ہے) تاکہ لوگ اس سفر کی پوری تیاری کرلیں، اور جہاں کا آپ کا اِرادہ تھا وہ آپ نے صاف بتا دیا۔ اور حضور ﷺ کے ساتھ مسلمانوں کی تعداد بھی بہت تھی کہ رجسٹر میں اُن کا نام لکھنا دشوار تھا (اور مجمع کی کثرت کی وجہ سے) کوئی شخص چھپنا چاہتا کہ میں نہ جائوں اور کسی کو پتہ نہ چلے تو یہ دشوار نہیں تھا، اور وہ یہ سمجھتا کہ یہ معاملہ اس وقت تک پوشیدہ رہے گا جب تک اس کے بارے میں اللہ کی طرف سے وحی نہ نازل ہو جائے۔
آپ اس غزوہ میں اس وقت تشریف لے گئے جب کہ پھل بالکل پک رہے تھے اور سایہ میں بیٹھنا ہر ایک کو اچھا لگ رہا تھا۔ حضور ﷺ اور آپ کے ساتھ مسلمان تیاری کر رہے تھے۔ میں صبح جاتا تاکہ مسلمانوں کے ساتھ میں بھی تیاری کرلوں، لیکن جب واپس آتا تو کسی قسم کی تیاری کی نوبت نہ آتی۔ اور میں اپنے دل میں یہ خیال کرتا کہ مجھے قدرت ووسعت حاصل ہے (جب اِرادہ کروں گا تیار ہو کر نکل جائوں گا)۔ میرا معاملہ یوں ہی لمبا ہوتا رہا اور تیاری میں دیر ہوتی رہی۔ لوگ خوب زور شور سے تیاری کرتے رہے، اور آخر حضور ﷺ مسلمانوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوگئے اور میری ابھی کچھ بھی تیاری نہیں ہوئی تھی۔
میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں ایک دو دن میں تیار ہوجائوں گا اور اس لشکر سے جا ملوں گا۔ چناںچہ لشکر کی روانگی کے بعد میں صبح تیار ہونے گیا، لیکن واپس آیا تو کسی قسم کی تیاری نہیں ہوئی تھی۔ پھر میں اگلی صبح تیار ہونے گیا، لیکن واپس آیاتو کوئی تیاری نہیں ہوئی تھی۔ میرے ساتھ ایسے ہی ہوتا رہا اور مسلمان بہت تیزی سے اس غزوہ میں چلے اور آخر غزوہ میں شریک ہونے کا وقت میرے ہاتھ سے نکل گیا۔ اور میں نے اِرادہ بھی کیا کہ روانہ ہو جائوں اور لشکر سے جا ملوں اور کاش! میں ایسا کر لیتا، لیکن ایسا کرنا میرے مقدر میں نہیں تھا۔ حضور ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد جب میں باہر نکل کر لوگوں میں گھومتا پھرتا تو اس بات سے بڑا دکھ ہوتا کہ مجھے صرف وہی لوگ نظر آتے جن پر نفاق کا دھبّہ لگا ہوا ہوتا یا جن کمزوروں کو اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا ہوا تھا۔ تبوک پہنچنے تک حضور ﷺ نے میرا تذکرہ نہ فرمایا۔ تبوک میں پہنچنے کے بعد آپ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: کعب کا کیا ہوا؟ بنو سَلِمہ کے ایک آدمی نے کہا: یارسول اللہ! مال وجمال کی اَکڑ نے اسے روک لیا۔ حضرت معاذبن جبل ؓ نے کہا: تم نے غلط بات کہی۔ یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! ہم جہاں تک سمجھتے ہیں وہ بھلا آدمی ہے۔ حضور ﷺ خاموش ہوگئے۔
جب مجھے یہ خبر ملی کہ حضور ﷺ واپس تشریف لا رہے ہیں تو مجھے رنج و غم سوار ہو ا اور بڑا فکر ہوا۔ دل میں جھوٹے جھوٹے عذر آتے تھے اور میں کہتا تھا کہ کل کو کون سا عذر بیان کر کے میں حضور ﷺ کے غصہ سے جان بچا لوں۔ اور اس بارے میں میں نے اپنے گھر انے کے ہر سمجھ دار آدمی سے مشورہ لیا۔ جب مجھے یہ کہا گیا کہ حضور ﷺ بس آنے ہی والے ہیں تو اِدھر اُدھر کے سب غلط خیال چھٹ گئے اور میں نے سمجھ لیا کہ جھوٹ بول کر میں اپنی جان نہیں بچا سکتا ہوں، اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ حضور ﷺ کی خدمت میں سچی بات عرض کروں گا۔ چناںچہ آپ تشریف لے آئے۔ جب آپ سفر سے واپس تشریف لایا کرتے تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے اور دو رکعت نماز ادا فرماتے، پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھ جاتے۔ چناںچہ حسبِ معمول نماز سے فارغ ہو کر آپ جب مسجد میں بیٹھ گئے تو اس غزوہ سے پیچھے رہ جانے والے لوگ آپ کی خدمت میں آئے اور قسمیں کھا کر اپنے عذربیان کرنے لگے۔ اُن کی تعداد اَسّی سے زیادہ تھی۔ حضور ﷺ نے اُن کے ظاہرِ حال کو قبول فرما لیا اور اُن کو بیعت فرمایا اور اُن کے لیے اِستغفار کیا اور اُن کے باطن کو اللہ کے سپرد کیا۔
چناںچہ میں بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔جب میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے ناراضگی کے انداز میں تبسم فرمایا، پھر فرمایا: آئو۔چناںچہ میں چل کر آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: تم پیچھے کیوں رہ گئے؟ کیا تم نے سواریاں نہیں خرید رکھی تھیں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اللہ کی قسم! اگر میں دنیا والوں میں سے کسی اور کے پاس اس وقت ہوتا تو میں اس کے غصہ سے معقول عذر کے ساتھ جان بچا لیتا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے زور دار بات کرنے کا سلیقہ عطا فرما رکھا ہے۔ لیکن اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ اگر آج میں آپ سے غلط بیانی کر کے آپ کو راضی کر لوں تو اللہ تعالیٰ (آپ کو اصل حقیقت بتا کر) عنقریب مجھ سے ناراض کر دیں گے۔ اور اگر میں آپ سے سچ بول دوں گا تو اگرچہ آپ اس وقت مجھ سے ناراض ہو جائیں گے، لیکن مجھے اللہ سے اُمید ہے کہ وہ مجھے معاف کر دیں گے۔ اللہ کی قسم! مجھے کوئی عذر نہیں تھا۔ اور اللہ کی قسم! میں اس دفعہ جو آپ سے پیچھے رہ گیا اس وقت میں جتنا قوی اور مال دار تھا اس سے پہلے کبھی اتنا نہیں تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اس آدمی نے سچ کہا ہے۔ اور آپ نے فرمایا: اچھا، اُٹھ جائو تمہارا فیصلہ اب اللہ تعالیٰ ہی خود کریں گے۔
چناںچہ میں وہاں سے اُٹھا تو ( میرے قبیلہ) بنو سَلِمہ کے بہت سے لوگ ایک دم اٹھے اور میرے پیچھے ہو لیے۔ اور انھوں نے مجھ سے کہا: ہمیں تو نہیں معلوم کہ تم نے اس سے پہلے گناہ کیا ہو، اور تم سے اِتنا نہیں ہوسکا کہ جیسے اور پیچھے رہ جانے والوں نے عذر پیش کیے تم بھی حضور ﷺ کے سامنے عذر پیش کر دیتے، تو حضور ﷺ کا تمہارے لیے اِستغفار فرمانا تمہارے گناہ کے لیے کافی ہوجاتا۔ اللہ کی قسم! وہ لوگ مجھے ملامت کرتے رہے یہاں تک کہ میرا اِرادہ ہوگیا کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں واپس جا کر اپنی پہلی بات کی تکذیب کر دوں۔ لیکن میں نے اُن سے پوچھا: کیا ایسا معاملہ میرے علاوہ کسی اور کے ساتھ بھی پیش آیا ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں! اور دو آدمیوں کے ساتھ بھی پیش آیا ہے۔ انھوں نے بھی وہی بات کہی ہے جو تم نے کہی ہے، اور اُن سے بھی وہی کہا گیا ہے جو تم سے کہا گیا ہے۔ میں نے پوچھا: وہ دونوں کون ہیں؟ انھوں نے کہا: مُرَارہ بن ربیع عَمْرِی اور ہلال بن اُمیّہ واقفی ؓ۔ چناںچہ انھوں نے میرے سامنے ایسے دو نیک آدمیوں کا نام لیا جو غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، وہ دونوں میرے شریکِ حال ہیں۔ جب اُن لوگوں نے ان دونوں کا میرے سامنے نام لیا تو میں وہاں سے چلا گیا۔ حضور ﷺ نے ساتھ نہ جانے والوں میں سے ہم تینوں سے بات کرنے سے مسلمانوں کو روک دیا۔ چناںچہ لوگوں نے ہم سے بولنا چھوڑ دیا اور سارے لوگ ہمارے لیے بدل گئے یہاں تک کہ مجھے زمین بدلی ہوئی نظر آنے لگی کہ یہ وہ زمین نہیں ہے جسے میں پہلے سے پہچانتا ہوں۔
ہم نے پچاس دن اسی حال میں گزارے۔ میرے دونوں ساتھی تو عاجزبن کر گھر بیٹھ گئے اور وہ روتے رہتے تھے۔ میں ان سب میں جوان اور زیادہ طاقت ور تھا اس لیے میں باہر آتا تھا اور مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا تھا اور بازاروں میں چلتا پھر تا تھا اور کوئی مجھ سے بات نہیں کرتا تھا۔ میں حضور ﷺ کی خدمت میں آکر آپ کو سلام کرتا۔ آپ نماز کے بعد اپنی جگہ بیٹھے ہوئے ہوتے تھے اور میں دل میں کہتا تھا کہ میرے سلام کے جواب میں حضور ﷺ کے ہونٹ ہلے ہیں یا نہیں۔ پھر میں آپ کے قریب ہی نماز پڑھنے لگ جاتا اور نظر چُرا کر آپ کو دیکھتا رہتا (کہ آپ بھی مجھے دیکھتے ہیں یا نہیں)۔ جب میں نماز میں مشغول ہوجاتا تو آپ مجھے دیکھنے لگ جاتے، اور جب میں آپ کی طرف متوجہ ہوتا تو دوسری طرف منہ پھیر لیتے۔ جب لوگوں کو اس طرح اِعراض کر تے ہوئے بہت عرصہ گزر گیا تو (تنگ آکر ایک دن) میں چلا اور حضرت ابو قتادہ (ؓ) کے باغ کی دیوار پر چڑھ گیا۔ وہ میرے چچا زاد بھائی تھے اور مجھے ان سے سب سے زیادہ محبت تھی۔ میں نے اُن کو سلام کیا۔ اللہ کی قسم! انھوں نے میرے سلام کا جواب نہ دیا۔ میں نے کہا: اے ابو قتادہ! میں تمہیں اللہ کاواسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں؟ وہ خاموش رہے۔ میں نے اُن کو دوبارہ اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا وہ پھر خاموش رہے۔ جب میں نے اُن سے تیسری مرتبہ پوچھا تو انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ یہ سنتے ہی میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور وہاں سے لوٹ آیا یہاں تک کہ پھر دیوار پر (واپسی کے لیے) چڑھا۔
اسی دوران میں ایک دن مدینہ کے بازار میں جا رہا تھا کہ ایک نبطیکو جو ملکِ شام سے مدینہ غلہ بیچنے آیا تھا، یہ کہتے ہوئے سنا کہ کون مجھے کعب بن مالک کا پتہ بتائے گا؟ لوگ میری طرف اشارہ کرنے لگے۔ وہ میرے پاس آیا اور غسّان کے بادشاہ کا خط مجھے دیا جو ایک ریشمی کپڑے میں لپٹا ہوا تھا۔ اس میں لکھا ہوا تھا:
اَما بعد! مجھے معلوم ہوا کہ تمہارے آقا نے تم پر ظلم کر رکھا ہے، اللہ تمہیں ذلت کی جگہ نہ رکھے اور تمہیں ضائع نہ کرے، تم ہمارے پاس آجائو ہم تمہارا ہر طرح خیال کریں گے۔
جب میں نے خط پڑھا تو میں نے کہا کہ یہ ایک اور مصیبت آگئی (کہ مجھے اِسلام سے ہٹانے کی تدبیریں ہونے لگیں)۔ میں نے اس خط کو لے جا کر ایک تنّور میں پھونک دیا۔ پچاس میں سے چالیس دن اسی حال میں گزرے کہ حضور ﷺ کا قاصد میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے کہا: رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے الگ ہو جائو۔ میں نے کہا: اسے طلاق دے دوں یا کچھ اور کروں؟ اس نے کہا: نہیں (طلاق نہ دو) بلکہ اس سے الگ رہو اس کے قریب نہ جائو۔ حضور ﷺ نے میرے دونوں ساتھیوں کے پاس یہی پیغام بھیجا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تُو اپنے میکے چلی جا جب تک اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ نہ فرمائیں وہیں رہنا۔
حضرت ہلال بن اُمیّہ کی بیوی نے حضور ﷺ کی خدمت میں آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! ہلال بن اُمیّہ بالکل بوڑھے شخص ہیں، اُن کا کوئی خادم بھی نہیں ہے (اگر میں انہیں چھوڑکر چلی گئی تو) وہ ہلاک ہوجائیں گے۔ کیا آپ اسے ناگوار سمجھتے ہیں کہ میں ان کی خدمت کرتی رہوں؟ آپ نے فرمایا:نہیں، بس وہ تمہارے قریب نہ آئیں۔ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! اس کی طرف تو انھیں میلان بھی نہیں۔ جس روز سے یہ واقعہ پیش آیا ہے آج تک اُن کا وقت روتے ہی گزر رہا ہے۔ مجھ سے بھی میرے خاندان کے بعض لوگوں نے کہا کہ جیسے ہلال بن اُمیّہ نے اپنی بیوی کی خدمت کی اِجازت حضور ﷺ سے لے لی ہے تم بھی اپنی بیوی کے بارے میں اجازت لے لو۔ میں نے کہا: نہیں، میں حضور ﷺ سے اس کی اِجازت نہیں لوں گا۔ کیا پتہ میں اس کی اجازت لوں تو حضور ﷺ کیا فرما دیں۔ اور میں جوان آدمی ہوں (میں اپنے کام خود کر سکتا ہوں)۔ اس حال میں دس دن اور گزرے، ہم سے بات چیت چھٹے ہوئے پورے پچاس دن ہوگئے۔
پچاسویں دن کی صبح کی نماز پڑھ کر میں اپنے ایک گھر کی چھت پر بیٹھا ہوا تھا اور میرا وہ حال تھا جس کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے زندگی دو بھر ہو رہی تھی اور کشادگی کے باوجود زمین مجھ پر تنگ ہوچکی تھی کہ اتنے میں، میں نے ایک پکارنے والے کی آواز کو سنا جو سَلْع پہاڑی پر چڑھ کر اُونچی آواز سے کہہ رہا تھا: اے کعب! تمہیں خوش خبری ہو! میں ایک دم سجدہ میں گر گیا اور سمجھ گیا کہ کشادگی آگئی۔ حضور ﷺ نے فجر کی نماز پڑھ کر لوگوں میں ہماری توبہ کے قبول ہونے کا اعلان فرمایا۔
لوگ ہمیں خوش خبری دینے کے لیے چل پڑے اور بہت سے لوگوں نے میرے دونوں ساتھیوں کو جا کر خوش خبری دی۔ ایک آدمی گھوڑا دوڑاتا ہوا میرے پاس آیا ( یہ حضرت زُبیر بن عوّام ؓ تھے)۔ قبیلہ اَسلم کے ایک آدمی نے تیزی سے دوڑ کر پہاڑی سے آواز دی اور آواز گھوڑے سے پہلے پہنچ گئی ( یہ حضرت حمزہ بن عمرو اَسلمی ؓ تھے)۔ اور جس آدمی کی میں نے آواز سنی تھی جب وہ مجھے خوش خبری دینے آیا تو میں نے اسے اپنے دونوں کپڑے اُتار کر (خوش خبری دینے کی خوشی میں دے دیے)۔ اور اللہ کی قسم! اس وقت میرے پاس ان کے علاوہ اور کوئی کپڑے نہیں تھے۔ چناںچہ میں نے کسی سے دو کپڑے مانگے اور انھیں پہن کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضری کے لیے چل پڑا۔ راستہ میں لوگ مجھے فوج در فوج ملتے اور توبہ قبول ہونے کی مبارک باد دیتے اور کہتے کہ تمہیں مبارک ہو! اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی۔ جب میں مسجد میں پہنچا تو حضور ﷺ وہاں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے اِرد گرد لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے دیکھ کر حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ میری طرف لپکے۔ انھوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔ اللہ کی قسم! مہاجرین میں سے ان کے علاوہ اور کوئی بھی میری طرف کھڑے ہوکر نہیں آیا اور حضرت طلحہ کا یہ انداز میں کبھی بھول نہیں سکتا ۔
جب حضور ﷺ کو میں نے سلام کیا اور خوشی سے آپ کا چہرہ چمک رہا تھا تو آپ نے فرمایا کہ جب سے تم پیدا ہوئے ہو اس وقت سے لے کر اب تک جو سب سے بہترین دن تمہارے لیے آیا ہے میں تمہیں اس کی خوش خبری دیتا ہوں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟ آپ نے فرمایا: نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ جب حضور ﷺ خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ چمکنے لگ جاتا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ گویا چاند کا ٹکڑا ہے، اور آپ کے چہرے سے ہی ہمیں آپ کی خوشی کا پتہ چل جاتا تھا۔ جب میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری توبہ کی تکمیل یہ ہے کہ میری ساری جائیداد اللہ اور اس کے رسول کے نام پر صدقہ ہے، اس میں سے اپنے پاس کچھ نہیں رکھوں گا۔ آپ نے فرمایا: نہیں اپنے پاس بھی کچھ رکھ لو، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ میں نے کہا: میرا جو حصہ خیبر میں ہے میں وہ اپنے پاس رکھ لیتا ہوں۔ اور میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے مجھے سچ بولنے کی وجہ سے نجات دی ہے، لہٰذا میری توبہ کی تکمیل یہ ہے کہ میں عہد کرتا ہوں کہ جب تک زندہ رہوں گا ہمیشہ سچ بولوں گا۔
جب سے میں نے حضور ﷺ کے سامنے سچ بولا ہے اس وقت سے لے کر اب تک میرے علم کے مطابق کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ایسا بہترین انعام کیا ہو جیسا بہترین مجھ پر کیا ہے۔ اور جب سے میں نے حضور ﷺ سے سچ بولنے کا عہد کیا ہے اس دن سے لے کر آج تک میں نے کبھی جھوٹ بولنے کا ارادہ بھی نہیں کیا، اور مجھے اُمید ہے کہ آیندہ بھی اللہ تعالیٰ مجھے جھوٹ سے بچائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اس موقع پر یہ آیتیں نازل فرمائیں: {لَقَدْ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُھٰجِرِیْنَ وَالْاَ نْصَارِ} سے لے کر {وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَO}تک۔ 1
’’اللہ مہربان ہوا نبی پر اور مہاجرین اور اَنصار پر ‘‘سے لے کر ’’اور رہو ساتھ سچوں کے‘‘ تک۔
اللہ کی قسم! ہدایتِ اسلام کی نعمت کے بعد میرے نزدیک اللہ کی سب سے بڑی نعمت مجھے یہ نصیب ہوئی کہ میں نے حضور ﷺ کے سامنے سچ بولا اور جھوٹ نہیں بولا۔اگر میں جھوٹ بول دیتا تو میں بھی دوسرے جھوٹ بولنے والوں کی طرح ہلاک ہوجاتا، کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے وحی اُترتے وقت جھوٹ بولنے والوں کے متعلق بڑے سخت کلمات ارشاد فرمائے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ لَکُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْھِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْھُمْ} سے لے کر {فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَO}تک ۔2
اب قسمیں کھائیں گے اللہ کی تمہارے سامنے جب تم پھر کر جائو گے ان کی طرف تاکہ تم ان سے درگزر کرو۔ سو تم در گزر کرو ان سے، بے شک وہ لوگ پلید ہیں، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، بدلہ ہے ان کے کاموں کا۔ وہ لوگ قسمیںکھائیں گے تمہارے سامنے تاکہ تم اُن سے راضی ہو جائو۔ سو اگر تم راضی ہوگئے اُن سے تو اللہ راضی نہیں ہوتا نافرمان لوگوں سے۔
حضرت کعب ؓ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے حضور ﷺ کے سامنے جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے جھوٹے اَعذار بیان کیے اور حضور ﷺ نے انھیں قبول کر لیا اور اُن کو بیعت بھی فرمایا اور حضور ﷺ نے ان کے لیے استغفار بھی فرمایا۔ حضور ﷺ نے ہم تینوں کا معاملہ ان لوگوں سے مؤخر فرما دیا یہاں تک کہ اس بارے میں اللہ ہی نے فیصلہ فرمایا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے : {وَعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا}3 اس سے مراد ہم تینوں کا غزوہ سے پیچھے رہ جانا نہیں ہے ،بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جن لوگوں نے حضور ﷺ کے سامنے قسمیں کھائیں اور آپ کے سامنے جھوٹے عذر رکھے اور حضور ﷺ نے اُن کو قبول فرمالیا، اُن کا فیصلہ تو اسی وقت ہو گیا۔ اور ہم تینوں کے معاملہ کو حضور ﷺ نے مؤخر فرما دیا اور ہمارا فیصلہ بعد میں ہوا۔ 1