صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا

جہاد چھوڑ کر کھیتی باڑی میں مشغول ہوجانے والوں کو دھمکی اور وعید

حضرت یزید بن ابی حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓکو یہ خبر ملی کہ حضرت عبداللہ بن حُر عَنسِی ؓ نے ملکِ شام میں کھیتی کا کام شروع کردیا ہے۔ تو حضرت عمر نے اُن سے وہ زمین لے لی اور دوسروں کو دے دی اور فرمایا: جو ذلت اور خواری ان بڑے لوگوں کی گردن میں پڑی ہوئی تھی تم نے جا کر وہ اپنی گردن میں ڈال لی۔ 3 حضرت یحییٰ بن عمرو شیبا نی فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کے پاس سے یمن کے کچھ آدمی گزرے اور انھوں نے ان سے پوچھا کہ آپ اس آدمی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ جو مسلمان ہوا اور اس کا اِسلام بہت اچھا ثابت ہوا، پھر اس نے ہجرت کی اور اس کی ہجرت بھی بڑی عمدہ ہوئی، پھر اس نے بہترین طریقہ سے جہاد کیا، پھر یمن اپنے والدین کے پاس آکر اُن کی خدمت میں اور اُن کے ساتھ حسنِ سلوک میں لگ گیا؟ حضرت عبد ا للہ بن عمرو ؓ نے فرمایا: تم اس کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ انھوں نے کہا: ہمارا خیال ہے کہ یہ اُلٹے پائوں پھر گیا ہے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ تو جنت میں جائے گا۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اُلٹے پائوں پھرنے والا کون ہے؟ یہ وہ آدمی ہے کہ جو مسلمان ہوا اور اس کا اِسلام بہت اچھا ثابت ہوا، اور اس نے ہجرت کی اور اس کی ہجرت بڑی عمدہ ہوئی، پھر اس نے بہترین طریقہ سے جہاد کیا، پھر اس نے نبطی کافر سے زمین لینے کا ارادہ کیا اور وہ نبطی کافر زمین کا جتنا خراج دیا کرتا تھا اور اِسلامی فوج کے لیے جتنا ماہانہ خرچہ دیا کرتا تھا اس نے وہ زمین بھی لے لی اور یہ خراج اور خرچہ بھی اپنے ذمہ لے لیا، اور پھر اس زمین کو آباد کرنے میں لگ گیا اور جہاد فی سبیل اللہ چھوڑ دیا۔ یہ آدمی اُلٹے پائوں پھرنے والا ہے۔1