صحابۂ کرام ؓ کا اپنے وطن کو چھوڑنا
حضرت واثلہ بن اسقع ؓ کی ہجرت
حضرت واثلہ بن اسقع ؓ فرماتے ہیں کہ میں اپنے گھر سے اِسلام کے ارادے سے چلا، پھر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نماز میںتھے، میں بھی آخری صف میں کھڑا ہوگیا اور میں نے ان مسلمانوں کی طرح نماز پڑھی۔ جب حضور ﷺ نماز سے فارغ ہوکر آخری صف میں میرے پاس تشریف لائے توفرمایا: تم کس کام کے لیے آئے ہو؟ میں نے کہا: مسلمان ہونے کے لیے۔ آپ نے فرمایا: یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کہ کیا تم ہجرت کرو گے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: کون سی ہجرت کروگے ہجرتِ بادی یا ہجرتِ باتی؟ میں نے عرض کیا: کون سی ہجرت بہترہے؟ آپ نے فرمایا: ہجرتِ باتی۔ پھر آپ نے فرمایاکہ ہجرتِ باتی یہ ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ(یہاںمدینہ میں) ہی رہنے لگ جاؤ،اور ہجرتِ بادی یہ ہے کہ تم اپنے گاؤں واپس چلے جاؤ۔ اور آپ نے فرمایا: تمہیں ہر حال میں اِطاعت کرنی ہوگی، تنگی میں بھی اورآسانی میں بھی، دل چاہے یا نہ چاہے، اور چاہے تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے (پھربھی تم اِطاعت کروگے)۔ میں نے کہا: بہت اچھا (ضرور کروں گا)۔
پھر آپ نے (بیعت فرمانے کے لیے) اپنا دست ِمبارک بڑھایا اورمیں نے بھی اپنا ہاتھ بڑھایا۔ جب آپ نے دیکھا کہ میں اپنے لیے کسی قسم کی رعایت طلب نہیں کررہا ہوں تو آپ نے خود فرمایا: جہاں تک تم سے ہوسکے۔ میںنے کہا: جہاں تک مجھ سے ہوسکے۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا (اور بیعت فرمالیا)۔1