صحابۂ کرام ؓ کا اپنے وطن کو چھوڑنا

حضرت ضَمْرہ بن ابو العیص یا ابن العیص ؓ کی ہجرت

حضرت سعید بن جُبَیر فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْْرُ اُولِی الضَّرَرِ}1 برابر نہیں بیٹھ رہنے والے مسلمان جن کو کوئی عذر نہیں اوروہ مسلمان جو لڑنے والے ہیں اللہ کی راہ میں اپنے مال سے اور جان سے۔ مکہ کے مسکین مسلمانوں نے اس آیت سے یہ سمجھا کہ اُن کو مکہ میں رہنے کی اجازت ہے (گو جہاد میں جانا افضل ہے)۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: {اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْ اَنْفُسِہِمْ}1 وہ لوگ کہ جن کی جان نکالتے ہیں فرشتے، اس حالت میں کہ وہ برا کررہے ہیں اپنا، کہتے ہیں اُن سے فرشتے: تم کس حال میں تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم تھے بے بس اس ملک میں۔ کہتے ہیں فرشتے: کیانہ تھی زمین اللہ کی کشادہ، جو چلے جاتے وطن چھوڑ کر وہاں؟ سوایسوں کا ٹھکانا ہے دوزخ، اوروہ بہت بری جگہ پہنچے۔ اس پر ان مسکین مسلمانوں نے کہا کہ اس آیت نے تو ہلا کر رکھ دیا۔ (اس آیت سے یہ معلوم ہوتاہے کہ ہجرت کرناضروری ہے) پھر یہ آیت نازل ہوئی: {اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّلَا یَہْتَدُوْنَ سَبِیْلًا O}2 مگرجوہیں بے بس مردوں اور عورتوں اوربچوں میں سے، جو نہیں کرسکتے کوئی تدبیر اورنہ جانتے ہیںکہیںکا راستہ۔ (اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو مسلمان معذورہیںاُن پر ہجرت فرض نہیں ہے اور مکہ میں رہنے کی اُن کو اجازت ہے) حضرت ضَمْرہ بن العِیْصؓ قبیلہ بنو لیث کے تھے اور یہ نابینا تھے اور مال دار بھی تھے۔ اس آیت کے نازل ہونے پر انھوں نے کہا: اگرچہ میری نگاہ چلی گئی ہے، لیکن ہجرت کے لیے میں تدبیر کرسکتا ہوںکیوں کہ میرے پاس مال اور غلام ہیں، لہٰذا مجھے سواری پر بٹھادو۔ چناںچہ انھیں سواری پر بٹھایا گیا۔ وہ بیمار تھے، آہستہ آہستہ روانہ ہوئے اورتنعیم پہنچ کر اُن کا اِنتقال ہوگیا۔ چناںچہ مسجدِ تنعیم کے پاس اُن کو دفن کیا گیا۔ توخاص اُن ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {وَمَن یَّخْرُجْ مِنْ م بَیْْتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ}3 اور جو کوئی نکلے اپنے گھرسے ہجرت کرکے اللہ اور رسول کی طرف، پھر آپکڑے اس کو موت، تومقرر ہوچکا اس کاثو اب اللہ کے ہاں، اور ہے اللہ بخشنے والامہربان۔1 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ضَمْرہ بن جندب ؓ اپنے گھر سے جب ہجرت کے لیے چلنے لگے تو اپنے گھروالوںسے کہا کہ مجھے سواری پر بٹھا دو اور مشرکین کی زمین سے نکال کر حضور ﷺ کی طرف روانہ کر دو۔ چناںچہ یہ روانہ ہوئے، لیکن حضور ﷺ تک پہنچنے سے پہلے ہی راستہ میںاُن کا انتقال ہوگیا جس پر یہ آیت نازل ہوئی: {وَمَنْ یَّخْرُجْ مِنْم بَیْْتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا O} 2