صحابۂ کرام ؓ کا اپنے وطن کو چھوڑنا

حضرت عبد اللہ بن جحش ؓ کی ہجرت

حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن جحش ؓ (مکہ سے) ہجرت کرنے والوں میں سب سے آخری آدمی تھے۔ (صحیح یہ ہے کہ یہ قصہ حضرت عبداللہ بن جحش ؓ کا نہیں ہے، بلکہ ان کے بھائی حضرت عبد بن جحش ؓ کا ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے) یہ نابینا ہو چکے تھے۔ جب انھوں نے ہجرت کا پختہ اِرادہ کر لیا تو اُن کی بیوی جو ابو سفیان بن حرب بن اُمیّہ کی بیٹی تھی، اس کو یہ بات ناگوار گزری۔ اور انھوں نے حضر ت عبد اللہ بن جحش کو یہ مشورہ دیا کہ وہ حضور ﷺ کے علاوہ کسی اور کے پاس ہجرت کرکے جائیں (لیکن انھوںنے یہ مشورہ قبول نہ کیا)۔ اور وہ اپنے بال بچوں اور مال کو لے کر قریش سے چھپ کر ہجرت کر کے مدینہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ (ان کی ہجرت سے ان کے سسر ابو سفیان بن حرب کو بڑا غصہ آیا) اور ابوسفیان نے فوراً جا کر ان کے مکان کو بیچ ڈالا جو مکہ میں تھا۔ اس کے بعد ابو جہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، عباس بن عبدالمطّلب اور حُوَیْطِب بن عبدالعزّیٰ اس مکان کے پاس سے گزرے۔ اس مکان میں اس وقت نمک وغیرہ لگا کر کھالیں رکھیں ہوئی تھیں (تاکہ اُن کی بدبو ختم ہو جائے) یہ دیکھ کر عتبہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس نے یہ شعر پڑھا: وَکُلُّ دَارٍ وَّإِنْ طَالَتْ سَلَامَتُھَا یَوْمًا سَتُدْرِکُھَا النَّـکْبَائُ وَالْحَوْبُ ہر گھر کو ایک نہ ایک دن ویران اور فنا ہونا ہے چاہے کتنا ہی لمبا عرصہ وہ صحیح سالم رہے۔ ابوجہل نے حضرت عباس کی طرف متوجہ ہوکر کہا: ہمارے لیے یہ ساری مصیبتیں (اے بنوہاشم!) تم نے کھڑی کی ہیں۔ جب حضورﷺ فتحِ مکہ کے دن مکہ میںداخل ہوئے تو حضرت ابو احمد (عبد بن جحش ) کھڑے ہو کر اپنے گھر کا مطالبہ کرنے لگے۔ حضور ﷺ نے حضرت عثمان بن عفان ؓکو فرمایا۔ وہ کھڑے ہوکر حضرت ابواحمد کو ایک طرف لے گئے (اور انھیں آخرت میں لینے کی ترغیب دی)۔چناںچہ حضرت ابو احمدنے اپنے گھر کا مطالبہ چھوڑ دیا۔ حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ فتحِ مکہ کے دن ا پنے ہاتھ کا سہارا لیے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت ابو احمد (مکہ سے اِظہارِ محبت کے لیے)یہ اَشعارپڑھ رہے تھے: حَبَّذَا مَکَّـۃُ مِنْ وَّادِيْ بِھَا أَمْشِيْ بِلاَ ھَادِيْ مکہ کی وادی کتنی پیاری ہے جس میں میںرہبر کے بغیرچل پھر لیتا ہوں۔ بِھَا یَکْثُرُ عُوَّادِيْ بِھَا تُرْکَزُ أَوْتَادِيْ بصورتِ بیماری میری عیادت کرنے والے بھی بہت ہیں۔ اس میں میری عظمت کے بہت سے کھونٹے گڑے ہوئے ہیں۔1 ابنِ اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت ابو سلمہ ؓ کے بعد مہاجرین میں سے سب سے پہلے حضرت عامر بن ربیعہ اور حضرت عبداللہ بن جحش ؓ مدینہ آئے۔ حضرت عبداللہ اپنے بال بچوں اور اپنے بھائی حضرت عبد ابو احمد کو بھی ساتھ لائے۔ حضرت ابواحمد نابینا تھے، لیکن مکہ میں اوپر نیچے (ہرجگہ) بغیر رہبرکے چل پھر لیتے تھے اور وہ شاعر بھی تھے۔ حضرت فارِعہ بنتِ ابی سفیان بن حرب اُن کے نکاح میں تھیں۔ حضرت اُمیمہ بنتِ عبدالمطّلب بن ہاشم ؓ اُن کی والدہ تھیں۔ خاندانِ بنو جحش کے گھر کو (ہجرت کرجانے کی وجہ سے) تالا لگ گیا تھا۔ عتبہ اس گھر کے پاس سے گزرا، اس کے بعد راوی نے پچھلے قصہ جیسا قصہ بیان کیا ہے۔2 لہٰذا بظاہر یا تو اس حدیث میں ابو احمد کا ذکر رہ گیا ہے یا لفظ عبداللہ غلطی سے لکھا گیا ہے اورصحیح عبد بن جحش ہے، کیوں کہ عبد بن جحش تو نابینا تھے اُن کے بھائی حضرت عبداللہ بن جحش نابینا نہیں تھے۔ اور ان ہی حضرت ابو احمد بن جحش نے اپنے خاندان کی ہجرت کے بارے میں مندرجہ ذیل اَشعار کہے ہیں: 3 وَلَمَّا رَأَتْنِيْ اُمُّ أَحْمَدَ غَادِیًا بِذِمَّۃِ مَنْ أَخْشَی بِغَیْبٍ وَّأَرْھَبٗ اور جب (میری بیوی) اُمّ احمد نے دیکھا کہ میں اس ذات کے بھروسے پر (ہجرت کرکے ) جانے والا ہوں جس سے میں دیکھے بغیر ڈرتا ہوں۔ تَقُوْلُ فَإمَّا کُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَیَمِّمْ بِنَا الْبُلْدَانَ وَلْتَنَأَ یَثْرِبٗ تو کہنے لگی: اگر تمہیں ہجرت ہی کرنی ہے تو ہمیں کسی اور شہر میںلے جاؤ اور یثرِب دور ہی رہے (وہاں نہ جاؤ)۔ فَقُلْتُ لَھَا مَا یَثْرِبُ بِمَظِنَّۃٍ وَمَا یَشَائُ الرَّحْمٰنُ فَالْعَبْدُ یَرْکَبٗ میں نے اس سے کہا: یثرِب کوئی بری جگہ تو نہیں ہے، اور رحمن جو چاہتا ہے بندہ وہی کرتا ہے۔ إِلَی اللّٰہِ وَجْھِيْ وَالرَّسُوْلِ وَمَنْ یُّقِمْ إِلَی اللّٰہِ یَوْمًا وَّجْھَہٗ لَایُخَیَّبٗ میرا رخ اللہ اوررسولﷺ کی طرف ہے۔ اور جوایک دن بھی اپنا رخ اللہ کی طرف کرے گا وہ کبھی محروم نہیں رہے گا۔ فَکَمْ قَدْ تَرَکْنَا مِنْ حَمِیْمٍ مُّنَاصِحٍ وَنَاصِحَۃٍ تَبْکِيْ بِدَمْعٍ وَّتَنْدُبٗ ہم نے کتنے پکے اور خیر خواہ دوست چھوڑ دیے، اور کتنی خیر خواہ نصیحت کرنے والی عورتیں آنسو بہاتی نوحہ کرتی چھوڑدیں۔ تَرٰی أَنَّ وَتْرًا نَأْیُنَا عَنْ بِلَادِنَا وَنَحْنُ نَرٰی أَنَّ الرَّغَائِبَ نَطْلُبٗ وہ خیر خواہ عورتیں یہ سمجھتی ہیںکہ وطن سے دوری ہماری ہلاکت کا سبب ہے، اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے اجر والے مرغوب اعمال کو تلاش کرنے جا رہے ہیں۔ دَعَوْتُ بَنِيْ غَنْمٍ لِحَقْنِ دِمَائِھِمْ وَلِلْحَقِّ لَمَّا لَاحَ لِلنَّاسِ مَلْحَبٗ جب لوگوں کے لیے حق کا صاف راستہ ظاہر ہوگیا تو میں نے بنو غنم کو اُن کے اپنے خون کی حفاظت کی اور حق کی دعوت دی۔ أَجَابُوْا بِحَمْدِ اللّٰہِ لَمَّا دَعَاھُمْ إلَی الْحَقِّ دَاعٍ وَّالنَّجَاحِ فَأَوْعَبُوْا جب اُن کو دعوت دینے والے نے حق اور کامیابی کی دعو ت دی توالحمد للہ! وہ سب مان گئے، اور پھر وہ سب کے سب غزوہ کے لیے نکل پڑے۔ وَکُنَّا وَأَصْحَابًا لَّنَا فَارَقُوا الْھُدٰی کَفَوْجَیْنِ أَمَّا مِنْھُمَا فَمُوَفَّقٌ أَعَانُوْا عَلَیْنَا بِالسِّلَاحِ وَأَجْلَبُوْا عَلَی الْحَقِّ مَھْدِيٌّ وَفَوْجٌ مُّعَذَّبٗ ہمارے چند ساتھیوں نے ہدایت کو چھوڑ دیا اور انھوں نے اکھٹے ہوکر ہتھیاروں سے ہم پر حملہ کر دیا۔ ہماری اور اُن کی مثال دو فوجوں جیسی ہے، جس میںسے ایک فوج کو حق کی توفیق ملی ہوئی ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہے، اور دوسری فوج پر اللہ کا عذاب نازل ہوا ہے۔ طَغَوْا وَتَمَنَّوْا کَذْبَۃً وَّأَزَلَّھُمْ عَنِ الْحَقِّ إِبْلِیْسُ فَخَابُوْا وَخُیِّبُوْا انھوں نے سرکشی اختیار کی اور غلط باتوں کی تمنا کی، اور ابلیس نے اُن کو حق سے پھسلا دیا۔ چناںچہ وہ ناکام ہوئے اور محروم کردیے گئے۔ وَرُعْنَا إِلٰی قَوْلِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ فَطَابَ وُلَاۃُ الْحَقِّ مِنَّا وَطُیِّبُوْا اور ہم نے حضرت نبی کریم محمد ﷺ کی بات کی طرف رجوع کیا (اوراسے مان لیا)، اور ہم میں سے جو حق کے مدد گار بنے وہ خود بھی بڑے عمدہ ہیں اور ان کو (اللہ کی طرف سے) پاکیزہ بنایا گیا ہے۔ نَمُتُّ بِأَرْحَامٍ إِلَیْھِمْ قَرِیْبَۃٍ وَلاَ قُرْبَ بِالْأَرْحَامِ إِذْ لَا تُقَرَّبٗ ہم قریب کی رشتہ داریوں کو واسطہ بناکر ان کے قریب ہونا چاہتے ہیں ،اور جب رشتہ داریوں کا لحاظ نہ رکھا جائے تو ان سے قرب حاصل نہیں ہوتاہے۔ فَأَيُّ ابْنِ أُخْتٍ بَعْدَنَا یَاْمََنَنَّکُمْ وَأَیَّۃُ صِھْرٍ بَعْدَ صِھْرِيَ تُرْقَبُ لہٰذا ہمارے بعد کون سا بھانجا تم سے بچ سکے گا اور میری دامادی کے بعد کون سی دامادی کا خیال رکھا جاسکے گا۔ سَتَعْلَمُ یَوْمًا أَیُّنَا إِذْ تَزَایَلُوْا وزُیِّلَ أَمْرُ النَّاسِ لِلْحَقِّ أَصْوَبٗ جس دن لوگ الگ الگ ہوجائیں گے (مؤمن ایک طرف اور کافر ایک طرف) اور لوگوں کی بات کو الگ الگ کردیا جائے گا، (ہرایک کے حق پر یا باطل پرہونے کو واضح کر دیا جائے گا) اس دن تم جان لوگے کہ ہم میں سے کون حق کو صحیح طور سے اختیارکرنے والا ہے۔