عبادات
نماز
ان فرائض میں سب سے پہلا فرض نماز ہے۔یہ نماز کیا ہے؟ دن میں پانچ وقت زبان اور عمل سے انہی چیزوں کا اعادہ جن پر تم ایمان لائے ہو۔ تم صبح اٹھے اور سب سے پہلے پاک صاف ہوکر اپنے خدا کے سامنے حاضر ہوگئے۔ اس کے سامنے کھڑے ہوکر، بیٹھ کر، جھک کر، زمین پر سر ٹیک کر اپنی بندگی کا اقرار کیا،اس سے مدد مانگی، اس سے ہدایت طلب کی، اس سے اطاعت کا عہد تازہ کیا،اس کی خوشنودی چاہنے اور اس کے غضب سے بچنے کی خواہش کا بار بار اعادہ کیا، اس کی کتاب کا سبق دہرایا، اس کے رسول کی سچائی پر گواہی دی اور اس دن کو بھی یاد کرلیا جب تم اس کی عدالت میں اپنے اعمال کی جواب دہی کے حاضر ہوگے۔ اس طرح تمہارا دن شروع ہوا۔ چند گھنٹے تم اپنے کاموں میں لگے رہے، پھر ظہر کے وقت مؤذن نے تم کو یاد دلایا کہ آؤ چند منٹ کے لیے اس سبق کو پھر دہرالو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کو بھول کر تم خدا سے غافل ہوجاؤ۔ تم اٹھے اور ایمان تازہ کرکے پھر دنیا کی اور اس کے کاموں کی طرف پلٹ آئے۔ چند گھنٹوں کے بعد عصر کے وقت تمہاری طلبی ہوئی اور تو نے پھر ایمان تازہ کرلیا۔ اس کے بعد مغرب ہوئی اور رات شروع ہوئی، صبح کو تم نے دن کا آغاز جس عبادت کے ساتھ کیا تھا رات کا آغاز بھی اسی سے کیا، تاکہ رات کو بھی تم اس سبق کو نہ بھولنے پاؤ اور اسے بھول کر بھٹک نہ جاؤ۔ چند گھنٹوں کے بعدعشاء ہوئی اور سونے کا وقت آگیا۔ اب آخری بار تم کو ایمان کی ساری تعلیم یاد کرادی گئی، کیونکہ یہ سکون کاوقت ہے، دن کے ہنگامے میں اگر تم کو پوری توجہ کا موقع نہ ملا ہو تو اس وقت اطمینان کے ساتھ توجہ کرسکتے ہو۔
دیکھو! یہ وہ چیزہے جو ہر روز دن میں پانچ وقت تمہارے اسلام کی بنیاد کو مضبوط کرتی رہتی ہے، یہ بار بار تم کو اس بڑی عبادت کے لیے تیار کرتی ہے جس کا مفہوم ہم نے ابھی چند سطور پہلے تم کو سمجھا دیا ہے۔ یہ ان تمام عقیدوں کو تازہ کرتی رہتی ہے جن پر تمہارے نفس کی پاکیزگی ، روح کی ترقی، اخلاق کی درستی اور عمل کی اصلاح موقوف ہے۔ غور کرو! وضو میں تو اس طریقہ کی کیوں پیروی کرتے ہو جو رسول اللہ نے بتایا ہے، اور نماز میں وہ سب چیزیں کیوں پڑھتے ہو جو آپ نے تعلیم کی ہیں؟ اسی لیے نا کہ تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو فرض سمجھتے ہو۔ قرآن کو تم قصداً غلط کیوں نہیں پڑھتے؟ اسی لیے نا کہ تمہیں اس کے کلام الہی ٰہونے کا یقین ہے۔ نماز میں جو چیزیں خاموشی کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں، اگر تم ان کو نہ پڑھو یا ان کی جگہ اور کچھ پڑھ دو تو تمہیں کس کا خوف ہے؟ کوئی انسان تو سننے والا نہیں۔ ظاہر ہے کہ تم یہی سمجھتے ہو کہ خاموشی کے ساتھ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں اسے بھی خدا سن رہا ہے، اور ہماری کسی ڈھکی چھپی حرکت سے بھی وہ بے خبر نہیں۔ جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا وہاں کون سی چیز تمہیں نماز کے لیے اٹھاتی ہے؟وہ یہی اعتقاد تو ہے کہ خدا تم کو دیکھ رہا ہے۔ نماز کے وقت ضروری سے ضروری کام چھڑا کر کون سی چیز تمہیں نماز کی طرف لے جاتی ہے؟ وہ یہی احساس تو ہے کہ نماز خدا نے فرض کی ہے۔ جاڑے میں صبح کے وقت ، اور گرمی میں دوپہر کے وقت اور روزانہ شام کی دلچسپ تفریحوں میں مغرب کے وقت کون سی چیز تم کو نماز پڑھنے پر مجبور کردیتی ہے؟ وہ فرض شناسی نہیں تو اور کیا ہے۔ پھر نماز پڑھنے یا نماز میں جان بوجھ کر غلطی کرنے سے تم کیوں ڈرتے ہو؟اسی لیے نا کہ تم کو خدا کا خوف ہے اور تم جانتے ہو کہ ایک دن اس کی عدالت میں حاضر ہونا ہے۔ اب بتاؤ کہ نماز سے بہتر اور کون سی ٹریننگ ہوسکتی ہے جو تم کو پورا اور سچا مسلمان بنانے والی ہو؟ مسلمان کے لیے اس سے اچھی تربیت کیا ہوسکتی ہے کہ وہ ہر روز کئی کئی مرتبہ خدا کی یاد اور اس کے خوف اور اس کے حاضر و ناظر ہونے کے یقین اور عدالتِ الہیٰ میں پیش ہونے کے اعتقاد کو تازہ کرتا رہے اور روزانہ کئی بار لازمی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے اور صبح سے لے کر رات تک ہر چند گھنٹوں کے بعد اس کو فرض بجالانے کی مشق کرائی جاتی رہے ، ایسے شخص سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ جب وہ نماز سے فارغ ہوکر دنیا کے کاموں میں مشغول ہوگا تو وہاں بھی وہ خدا سے ڈرے گا اور اس کے قانون کی پیروی کرے گا اور ہر گناہ کے موقع پر اس کو یاد آجائے گا کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔ اگر کوئی اتنی اعلیٰ درجہ کی ٹریننگ کے بعد بھی خدا سے بے خوف ہو اور اس کے احکام کی خلاف ورزی نہ چھوڑے تو یہ نماز کا قصور نہیں، بلکہ خود اس شخص کے نفس کی خرابی ہے۔
پھر دیکھو! اللہ تعالیٰ نے نماز کو باجماعت پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے اور خاص طور پر ہفتہ میں ایک مرتبہ جمعہ کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا فرض کردیا ہے، یہ مسلمانوں میں اتحاد اور برابری پیدا کرنے والی چیز ہے، ان کو ملا کر ایک مضبوط جتھا بناتی ہے۔ جب وہ سب مل کر ایک ہی خدا کی عبادت کرتے ہیں، ایک ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں تو آپ سے آپ ان کے دل ایک دوسرے سے جڑجاتے ہیں اور ان میں یہ احساس پیدا ہوجاتا ہے کہ ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ پھر یہی چیز ان میں ایک سردار کی اطاعت کا مادہ پیدا کرتی ہے اور ان کو باضابطگی کا سبق سکھاتی ہے۔ اسی سے ان میں آپس میں ہمدردی پیدا ہوجاتی ہے۔ مساوات اور یگانگت پیدا ہوتی ہے۔ امیر اور غریب، بڑے اور چھوٹے، اعلیٰ عہدہ دار اور ادنی ٰچپراسی سب ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ کوئی اونچ ذات ہوتا ہے نہ نیچ ذات۔
یہ ان بے شمار فائدوں میں سے چند فائدے ہیں جو تمہاری نماز سے خدا کو نہیں، بلکہ خود تمہیں کو حاصل ہوتے ہیں۔ خدا نے تمہارے فائدے کے لیے اس چیز کو فرض کیا ہے، اور نہ پڑھنے پر اس کی ناراضی اس لیے نہیں ہے کہ تم نے اس کا کوئی نقصان کیا ، بلکہ اس لیے ہے کہ تم نے خود اپنے آپ کو نقصان پہنچایا ہے، بلکہ دست طاقت نماز کے ذریعہ سے خدا تم کو دے رہا ہے اور تم اس کو لینے سے جی چراتے ہو، کس قدر شرم کا مقام ہے کہ تم زبان سے تو خدا کی خدائی اور رسول کی اطاعت اور آخرت کی باز پرس کا اقرار کرو اور تمہارا عمل یہ ہو کہ خدا اور رسول نے سب سے بڑا فرض جو تم پر عائد کیا ہے اس کو ادا نہ کرو۔تمہارا یہ عمل دو حال سے خالی نہیں ہوسکتا۔یا تم کو نماز کے فرض ہونے سے انکار ہے تو تم قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کو جھٹلاتے ہو اور پھر ان دونوں پر ایمان لانے کا دعویٰ جھوٹا کرتے ہو۔ اور اگر تم اسے فرض مان کر پھر ادا نہیں کرتے تو تم سخت ناقابل اعتبار آدمی ہو۔ تم پر دنیا کے کسی معاملہ میں بھی بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔ جب تم خدا کی ڈیوٹی میں چوری کرسکتے ہو تو کوئی کیا امید کرسکتا ہے کہ انسانوں کی ڈیوٹی میں چوری نہ کروگے۔