عبادات

روزہ

دوسرا فرض روزہ ہے۔ یہ روزہ کیا ہے؟ جس سبق کو نماز روزانہ پانچ وقت یاد دلاتی ہے اسے روزہ سال میں ایک مرتبہ پورے ایک مہینہ تک ہر وقت یاد دلاتا رہتا ہے۔رمضان آیا اور صبح سے لے کر شام تک تمہارا کھانا پینا بند ہوا۔ سحری کے وقت تم کھاپی رہے تھے یکایک اڈان ہوئی اور تم نے فوراً ہاتھ روک لیا۔ اب کیسی ہی مرغوب غذا سامنے آئے، کیسی ہی بھوک پیاس ہو، کتنا ہی دل چاہے، تم شام تک کچھ نہیں کھاتے، یہی نہیں کہ لوگوں کے سامنے نہیں کھاتے، نہیں، تنہائی میں بھی جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا، ایک قطرہ پانی پینا یا ایک دانہ نگل جانا بھی تمہارے لیے ناممکن ہوتا ہے۔ پھر یہ ساری رکاوٹ ایک خاص وقت تک رہتی ہے۔ ادھر مشرب کی اذان ہوئی اور تم افطار کے لیے لپکے، اب رات پھر بے خوف و خطر تم جب اور جو چیز چاہتے ہو کھاتے ہو۔ غور کرو! یہ کیا چیز ہے؟ اس کی تہہ میں خدا کا خوف ہے۔ اس کے حاضر و ناظر ہونے کا یقین ہے۔آخرت کی زندگی اور خدا کی عدالت پر ایمان ہے۔ قرآن اور رسول کی سخت اطاعت ہے۔ فرض کا زبردست احساس ہے۔ صبر اور مصائب کے مقابلہ کی مشق ہے۔خدا کی خوشنودی کے مقابلہ میں خواہشات نفس کو روکنے اور دبانے کی طاقت ہے۔ ہر سال رمضان کا مہینہ آتا ہے تاکہ پورے تیس دن تک روزے تمہاری تربیت کریں اور تمہارے اندر یہ تمام اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں تاکہ تم پورے اور پکے مسلمان بنو، اور یہ اوصاف تمہیں اس عبات کے قابل بنائیں جو ایک مسلمان کو اپنی زندگی میں ہر وقت بجا لانی چاہیے۔ پھر دیکھو! اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کے لیے روزہ ایک ہی مہینہ میں فرض کیا تاکہ سب مل کر روزہ رکھیں، علیحدہ علیحدہ نہ رکھیں۔ اس کے بے شمار دوسرے فائدے بھی ہیں۔ ساری اسلامی آبادی میں پورا ایک مہینہ پاکیزگی کا مہینہ ہوتا ہے،ساری فضا پر ایمان اور خوف خدا اور اطاعت احکام اور پاکیزگئ اخلاق اور حسن عمل چھاجاتا ہے۔ اس فضاء میں برائیاں دب جاتی ہیں اور نیکیاں ابھرتی ہیں۔ اچھے لوگ نیک کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ برے لوگ بدی کے کام کرتے ہوئے شرماتے ہیں۔امیروں میں غریبوں کی امداد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ خدا کی راہ میں مال صرف کیا جاتا ہے۔ سارے مسلمان ایک حال میں ہوتے ہیں، اور یہ ایک حال میں ہونا ان کے اندر یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ ہم سب ایک جماعت ہیں۔ ان میں برادری، ہمدردی اور باہمی اتحاد پیدا کرنے کے لیے یہ ایک کارگر نسخہ ہے۔ یہ سب ہمارے فائدے کے لیے ہیں۔ ہمیں بھوکا رکھنے سے خدا کا کوئی فائدہ نہیں، اس نے ہمارے بھلائی ہی کے لیے رمضان کے روزے ہم پر فرض کیے ہیں۔ اس فرض کو جو لوگ بغیر کسی معقول وجہ کے ادا نہیں کرتے وہ اپنے اوپر خود ظلم کرتے ہیں، اور سب سے زیادہ شرمناک طریقہ ان کا ہے جو رمضان میں علانیہ کھاتے پیتے ہیں۔ وہ گویا اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی جماعت سے نہیں ہیں۔ ہم کو اسلام کے احکام کی کوئی پروا نہیں ہے اور ہم ایسے بے باک ہیں کہ جس کو خدا مانتے ہیں اس کی اطاعت سے بھی کھلم کھلا منہ موڑجاتے ہیں۔ بتاؤ، جن لوگوں کے لیے اپنی جماعت الگ ہونا ایک آسان بات ہو، جن کو اپنے خالق و رازق کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے ذرا بھی شرم نہ آئے، اور جو اپنے دین کے سب سے بڑے پیشوا کے مقرر کیے ہوئے قانون کو علانیہ توڑدیں، ان سے کوئی شخص کس وفاداری ، کس نیک چلنی اور امانت داری،کس فرض شناسی اور پابندی قانون کی امید کرسکتا ہے۔