عبادات
عبادت کا مفہوم
پچھلے باب میں تو کو بتایا گیا ہے ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ امور پر ایمان لانے کی تعلیم دی ہے:
1. خدائے وحدہ لاشریک پر:
2. خدا کے فرشتوں پر
3. خداکی کتابوں پر، اور بالخصوص قرآن مجید پر،
4. خدا کے رسولوں پر اور بالخصوص اس کے آخری نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر،
5. آخرت کی زندگی پر،
یہ اسلام کی بنیاد ہے۔ جب تم ان پانچ چیزوں پر ایمان لے آئے تو مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہوگئے لیکن ابھی پورے مسلم نہیں ہوئے۔پورا مسلم انسان اس وقت ہوتا ہے جب وہ ان احکام کی اطاعت کرے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی طرف سے دئے ہیں۔ کیوں کہ ایمان لانے کے ساتھ ہی اطاعت تم پر لازم ہوجاتی ہے اور اطاعت ہی کا نام اسلام ہے۔
دیکھو! تو نے اقرار کیا کہ خدا ہی تمہارا خدا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمہارا آقا اور تم اس کے غلام ہو۔ وہ تمہارا فرماں روا ہے اور تم اس کے فرماں بردار۔ اب اگر اس کو آقا اور فرماں روا مان کر تم نے نافرمانی کی تو تم خود اپنے اقرار کے بموجب باغی اور مجرم ہوئے۔ پھر تم نے اقرار کیا کہ قرآن مجید خدا کی کتاب ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن مجید میں جو کچھ ہے تم نے تسلیم کرلیا کہ وہ خدا ہی کا فرمان ہے۔ اب تم پر لازم آگیا کہ اس کی ہربات کو مانو اور ہر حکم پر سر جھکادو۔پھر تم نے یہ بھی اقرار کیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول ہیں۔ یہ دراصل اس بات کا اقرار ہے کہ آنحضرت جس چیز کا حکم دیتے ہیں اور جس چیز سے روکتے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہے۔اب اس اقرار کے بعد آنحضرت کی اطاعت تم پر فرض ہوگئی۔ لہذا تم پورے “مسلم” اسی وقت ہوگئے جب تمہارا عمل تمہارے ایمان کے مطابق ہو، ورنہ جس قدر تمہارے ایمان اور تمہارے عمل میں فرق رہے گا اتنا ہی تمہارا ایمان ناقص رہے گا۔
آؤ اب ہم تمہیں بتائيں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا کیا طریقہ سکھایا ہے۔ کن چیزوں پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور کن چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلی چیز وہ عبادات ہیں جو تم پر فرض کی گئی ہیں۔
عبادت کا مفہوم
عبادت کے معنی دراصل بندگی کے ہیں۔ تم عبد(بندہ)ہو، اللہ تمہارا معبود ہے۔ عبد اپنے معبود کی اطاعت میں جو کچھ کرے، عبادت ہے۔ مثلاً تم لوگوں سے باتیں کرتے ہو، ان باتوں کے دوران میں اگر تم نے جھوٹ سے، غیبت سے فحش گوئی سے اس لیے پرہیز کیا کہ خدا نے ان چیزوں سے منع کیا ہے، اور ہمیشہ سچائی، انصاف، نیکی اور پاکیزگی کی باتیں کیں، اس لیے کہ خداان کو پسند کرتا ہے تو تمہاری یہ سب باتیں عبادت ہوں گی، خو اہ وہ سب دنیا کے معاملات ہی میں کیوں نہ ہوں۔تم لوگوں سے لین دین کرتے ہو، بازار میں خرید و فروخت کرتے ہو، اپنے گھر میں ماں باپ اور بھائی بہنوں کے ساتھ رہتے سہتے ہو، اپنے دوستوں اور عزیزوں سے ملتے جلتے ہو، اگر اپنی زندگی کے ان سارے معاملات میں تم نے خدا کے احکام کو اور اس کے قوانین کو ملحوظ رکھا، ہر ایک کے حقوق ادا کیے، یہ سمجھ کر کہ خدا نے اس کا حکم دیا ہے اور کسی کی کوئی حق تلفی نہ کی،یہ سمجھ کر کہ خدا نے اس سے روکا ہے، تو گویا تمہاری یہ ساری زندگی خدا کی عبادت ہی میں گزری۔ تم نے کسی غریب کی مدد کی، کسی بھوکے کو کھانا کھلایا، کسی بیمار کی خدمت کی اور ان سب کاموں میں تم نے اپنے کسی ذاتی فائدے یا عزت یا ناموری کو نہیں، بلکہ خدا کی خوشنودی کو پیش نظر رکھا تو یہ سب کچھ عبادت میں شمار ہوگا۔ تم نے تجارت یا صنعت یا مزدوری کی اور اس میں خدا کا خوف کرکے پوری دیانت اور ایمانداری سے کام کیا، حلال کی روٹی کمائی اور حرام سے بچے، تو یہ روٹی کمانا بھی خدا کی عبادت میں لکھا جائے گا، حالانکہ تم نے اپنی روزی کمانے کے لیے یہ کام کیے تھے۔ غرض یہ کہ دنیا کی زندگی میں ہر وقت ہر معاملہ میں خدا سے خوف کرنا، اس کی خوشنودی کو پیش نظر رکھنا، اس کے قانون کی پیروی کرنا، ہر ایسے فائدے کو ٹھکرادینا جو اس کی نافرمانی سے حاصل ہوتا ہو،اور ہر ایسے نقصان کو انگیز کرلینا جو اس کی فرماں برداری میں پہنچے یا پہنچنے کا خوف ہو، یہ خدا کی عبادت ہے۔ اس طریقہ کی زندگی سراسر عبادت ہی عبادت ہے۔ حتی کہ ایسی زندگی میں کھانا ، پینا، چلنا پھرنا، سونا ،جاگنا، بات چیت کرنا سب کچھ داخل عبادت ہے۔
یہ عبادت کا اصلی مفہوم ہے۔ اور اسلام کا اصلی مقصد مسلمان کو ایسا ہی عبادت گزار بندہ بنانا ہے۔اس غرض کے لیے اسلام میں چند ایسی عبادتیں فرض کی گئی ہیں جو انسان کو اس بڑی عبادت کے لیے تیار کرتی ہیں۔ گویا یوں سمجھو کہ یہ خاص عبادتیں اس بڑی عبادت کے لیے ٹریننگ کورس کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جو شخص یہ ٹریننگ اچھی طرح لے گا وہ اس بڑی اور اصلی عبادت کو اتنی ہی اچھی طرح ادا کرسکے گا۔اسی لیے ان خاص عبادتوں کو فرض عین قرار دیا گیا ہے اور انھیں ارکان دین یعنی “دین کے ستون ” کہا گیا ہے۔ جس طرح ایک عمارت چند ستونوں پر قائم ہوتی ہے اسی طرح اسلامی زندگی کی عمارت بھی ان ستونوں پر قائم ہے، ان کو توڑوگے تو اسلام کی عمارت کو گرادوگے۔