ایمان مفصل
خدا کی کتابوں پر ایمان
تیسری چیز جس پر ایمان لانے کی تعلیم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہم کو دی گئی ہے، وہ اللہ کی کتابیں ہیں جو اس نے اپنی نبیوں پر نازل کیں۔
اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل فرمایا ہے، اسی طرح آپ سے پہلے جو رسول گزرے تھے، ان کے پاس بھی اپنی کتابیں بھیجی تھیں۔ ان میں سے بعض کتابوں کے نام ہم کو بتائے گئے ہیں۔ مثلاً صحفِ ابراہیم جو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اترے، تورات ؔ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی ، زبور جو حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس بھیجی گئی ، اور انجیل جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دی گئی۔ ان کے سوا دوسری مذہبی کتابیں جو رسولوں کے پاس آئی تھیں ان کے نام ہم کو نہیں بتائے گئے۔ اس لیے کسی اورمذہبی کتاب کے متعلق ہم یقین کےساتھ نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے ہے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے ہے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ البتہ ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو کتابیں بھی خدا کی طرف سے آئی تھیں وہ سب برحق تھیں۔
جن کتابوں کے نام ہم کو بتائے گئے ہیں ان میں صحف ابراہیم تو اب دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ رہیں تورات اور زبور اور انجیل تو وہ البتہ یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس موجود ہیں، مگر قرآن شریف میں ہم کو بتایا گیا ہے کہ ان سب کتابوں میں لوگوں نے خدا کے کلام کو بدل ڈالا ہے اور اپنی طرف سے بہت سی باتیں ان کے اندر ملادی ہیں۔ خود عیسائی اور یہودی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اصل کتابیں ان کے پاس نہیں ہیں، صرف ان کے ترجمے باقی رہ گئے ہیں، جن میں صدیوں سے ترمیم ہوتی رہی ہے اب تک ہوتی چلی جارہی ہے۔ پھر ان کتابوں کے پڑھنے سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو خدا کی طرف سے نہیں ہوسکتیں۔ اس لیے جو کتابیں موجود ہیں وہ ٹھیک ٹھیک خدا کی کتابیں نہیں ہیں، ان میں خدا کا کلام اور انسان کے کلام کون سا۔ لہذا پچھلی کتابوں پر ایمان کا جو حکم ہو کو دیا گیا ہے وہ صرف اس حیثیت سے ہے کہ خدا نے قرآن سے پہلے بھی دنیا کی ہر قوم کے پاس اپنے احکام اپنے نبیوں کے ذریعہ سے بھیجے تھے۔ اور وہ سب اسی ایک خدا کے احکام تھے جس کی طرف سے قران آیا ہے اور قرآن کوئی نئی اور انوکھی کتاب نہیں ہے، بلکہ اسی کتاب نہیں ہے، بلکہ اسی تعلیم کو زندہ کرنے کے لیے بھیجی گئی ہے جس کو پہلے زمانہ کے لوگوں نے پایا اور کھودیا، یا بدل ڈالا، یا انسانی کلاموں سے خلط ملط کردیا۔
قرآن شریف خدا کی سب سے آخری کتاب ہے۔ اس میں اور پچھلی کتابوں میں کئی حیثیتوں سے فرق ہے:
1. پہلے جو کتابیں آئی تھیں ان میں سے اکثر کے اصلی نسخے دنیا سے گم ہوگئے اور ان کے صرف ترجمے رہ گئے ہیں۔لیکن قرآن جن الفاظ میں اترا تھا، ٹھیک ٹھیک انہی الفاظ میں موجود ہے، اس کے ایک حرف، بلکہ ایک شوشہ میں بھی تغیر نہیں ہوا۔
2. پچھلی کتابوں میں لوگوں نے کلام ِ الٰہی کے ساتھ اپنا کلام ملادیاہے۔ ایک ہی کتاب میں کلام ِ الہٰی بھی ہے، قومی تاریخ بھی ہے، بزرگوں کے حالات بھی ہیں، تفسیر بھی ہے، فقیہوں کے نکالے ہوئے شرعی مسئلے بھی ہیں اور یہ سب چیزیں اس طرح گڈمڈ ہیں کہ خدا کے کلام کو ان میں سے الگ چھانٹ لینا ممکن نہیں ہے۔مگر قرآن میں خالص کلامِ الہیٰ ہمیں ملتا ہے۔ اور اس کے اندر کسی دوسرے کے کلام کی ذرّہ برابر بھی آمیزش نہیں ہے۔ تفسیر، حدیث، فقہ، سیرت رسول، سیرت صحابہ اور تاریخ اسلام پر مسلمانوں نے جو کچھ بھی لکھا ہے وہ سب قرآن سے بالکل الگ دوسری کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ قرآن میں ان کا ایک لفظ بھی ملنے نہیں پایا ہے ۔
3. جتنی مذہبی کتابیں دنیاکی مختلف قوموں کے پاس ہیں، ان میں سے ایک کے متعلق بھی تاریخی سند سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ وہ جس نبی کی طرف منسوب ہے، واقعی اسی نبی کی ہے۔ بلکہ بعض مذہبی کتابیں ایسی بھی ہیں جن کے متعلق سرے سے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کس زمانہ میں کس نبی پر اتری تھیں۔مگر قرآن کے متعلق اتنی زبردست تاریخی شہادتیں موجود ہیں کہ کوئی شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت میں شک کرہی نہیں سکتا۔ اس کی آیتوں تک کے متعلق یہ معلوم ہے کہ کون سی آیت کب اور کہاں نازل ہوئی۔
4. پچھلی کتابیں جن زبانوں میں نازل ہوئی تھیں وہ ایک مدت سے مردہ ہوچکی ہیں۔ اب دنیا میں کہیں بھی ان کے بولنے والے باقی نہیں رہے اور ان کے سمجھنے والے بھی بہت کم پائے جاتے ہیں۔ ایسی کتابیں اگر اصلی اور صحیح حالت میں موجود بھی ہوں تو ان کے احکام کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا اور ان کی پیروی کرنا ممکن نہیں، لیکن قرآن جس زبان مین ہے وہ ایک زندہ زبان ہے، دنیامیں کروڑوں آدمی آج بھی اس کو بولتے ہیں اور کروڑوں آدمی اسے جانتے اور سمجھتے ہیں۔ اس کی تعلیم کا سلسلہ دنیا میں ہر جگہ جارہی ہے۔ ہر شخص اس کو سیکھ سکتا ہے اور جو اس کے سیکھنے کی فرصت نہیں رکھتا اس کو ہر جگہ ایسے لوگ مل سکتے ہیں جو قرآن کے معنی اسے سمجھانے کی قابلیت رکھتے ہوں۔
5. جتنی مذہبی کتابیں دنیا کی مختلف قوموں کے پاس ہیں، ان میں سے ہر کتاب میں کسی خاص قوم کو مخاطب کیا گیا ہے اور ہر کتاب میں ایسے احکام پائے جاتے ہیں جو معلوم ہوتا ہے کہ صرف ایک خاص زمانے کے حالات اور ضروریات کے لیے تھے، مگر اب نہ ان کی ضرورت ہے اور نہ اس پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے یہ بات خود بخود ظاہر ہوجاتی ہے کہ یہ سب کتابیں الگ الگ قوموں کے لیے مخصوص تھیں، ان میں سے کوئی کتاب بھی تمام دنیا کے لیے نہ آئی تھی۔ پھر جن قوموں کے لیے یہ کتابیں آئی تھیں، ان کے لیے بھی یہ ہمیشہ کے واسطے نہ تھیں، بلکہ کسی خاص زمانے کے لیے تھیں۔ اب قرآن کو دیکھو، اس کتاب میں ہر جگہ انسان کو مخاطب کیا گیا ہے اس کے کسی ایک فقرے سے بھی یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ وہ خاص کسی قوم کے لیے ہے۔ نیز اس کتاب میں جتنے احکام دیے گئے ہیں وہ سب ایسے ہیں جن پر ہر زمانے میں ہر جگہ عمل کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ قرآن ساری دنیا کے لیے ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے۔
6. پچھلی کتابوں میں سے ہر ایک میں نیکی اور صداقت کی باتیں بیان کی گئی تھیں، اخلاق اور راست بازی کے اصول سکھائے گئے تھے، خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے طریقےبتائے گئے تھے۔ لیکن کوئی ایک کتاب بھی ایسی نہ تھی جس میں ساری خوبیوں کو ایک جگہ جمع کردیا گیا ہو اور کوئی چیز چھوڑی نہ گئی ہو۔ یہ بات صرف قرآن میں ہے کہ جتنی خوبیاں پچھلی کتابوں میں الگ الگ تھیں وہ سب اس میں جمع کردی گئی ہیں۔ اور جو خوبیاں پچھلی کتابوں سے چھوٹ گئی تھیں وہ بھی اس کتاب میں آگئی ہیں۔
تمام مذہبی کتابوں میں انسان کے دخل درمعقولات سے ایسی باتیں مل گئی ہیں جو حقیقت کے خلاف ہیں، عقل کے خلاف ہیں، ظلم اور بے انصافی پر مبنی ہیں، انسان کے عقیدے اور عمل دونوں کو خراب کرتی ہیں۔ حتّٰی کہ بہت سی کتابوں میں فحش اور بداخلاقی کی باتیں بھی پائی جاتی ہیں۔ قرآن ان سب چیزوں سے پاک ہے۔ اس میں کوئی بات بھی ایسی نہیں جو عقل کے خلاف ہو، یا جس کو دلیل یا تجربے سے غلط ثابت کیا جاسکتا ہو۔اس کے کسی حکم میں بے انصافی نہیں ہے۔ اس کی کوئی بات انسان کو گمراہی میں ڈالنے والی نہیں ہے۔ اس میں فحش اور بداخلاقی کا نام و نشان تک نہیں ہے، اوّل سے لے کر آخر تک سارا قرآن اعلیٰ درجہ کی حکمت و دانائی اور عدل و انصاف کی تعلیم اور راہ راست کی ہدایت اور بہترین احکام اور قوانین سے بھرا ہوا ہے۔
یہی خصوصیات ہیں جن کی بنا پر تمام دنیا کی قوموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ قرآن پر ایمان لائیں اور تمام کتابوں کو چھوڑ کر صرف اسی ایک کتاب کی پیروی کریں، کیونکہ انسان کو خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے جس قدر ہدایات کی ضرورت ہے وہ سب اس میں کے کم و کاست بیان کردی گئی ہیں۔ یہ کتاب آجانے کے بعد کسی دوسری کتاب کی حاجت باقی نہیں رہی۔
جب تم کو معلوم ہوگیا کہ قرآن اور دوسری کتابوں میں کیا فرق ہے تو یہ بات تم خود سمجھ سکتے ہو کہ دوسری کتابوں پر ایمان اور قرآن پر ایمان میں کیا فرق ہونا چاہیے۔ پچھلی کتابوں پر ایمان صرف تصدیق کی حد تک ہے یعنی وہ سب خدا کی طرف سے تھیں اور سچی تھیں اور اسی غرض کے لیے آئی تھیں جس کو پورا کرنے کے لیےقرآن آیا ہے۔ اور قرآن پر ایمان اس حیثیت سے ہے کہ یہ خدا کا خالص کلام ہے، سراسر حق ہے، اس کا ہر لفظ محفوظ ہے، اس کی ہر بات سچی ہے، اس کے ہر حکم کی پیروی فرض ہے اور وہ ہر بات رد کردینے کے قابل ہے جو قرآن کے خلاف ہو۔