ایمان مفصل
خدا کے فرشتوں پر ایمان
ایمان باللہ کے بعد دوسری چیز جس پر آنحضرتﷺ نے ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہے، وہ فرشتوں کی ہستی ہے۔ اور بڑا فائدہ اس تعلیم کایہ ہے کہ اس سے توحید کا اعتقاد شرک کے تمام خطروں سے پاک ہوجاتا ہے۔
اوپر تم کو بتایا جاچکا ہے کہ مشرکین نے خدائی میں دو قسم کی مخلوقات کو شریک کیا ہے۔ ایک قسم ان مخلوقات کی ہے جو جسمانی وجود رکھتی ہیں اور نظر آتی ہیں۔ مثلاًسورج اور چاند اور تارے، آگ اور پانی اور بزرگ انسان وغیرہ۔دوسری قسم ان مخلوقات کی ہے جن کا وجود جسمانی نہیں ہے، بلکہ وہ نظروں سے اوجھل ہیں اور پس پردہ کائنات کا انتظام کررہی ہیں مثلاً کوئی ہوا چلانے والی اور کوئی پانی برسانے والی اور کوئی روشنی بہم پہنچانے والی۔ ان میں سے پہلی قسم کی چیزیں تو انسان کی آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔ اس لیے ان کی خدائی کی نفی خود لا الہ الا اللہ کے الفاظ ہی سے ہوجاتی ہے۔ لیکن دوسری قسم کی مخلوقات پوشیدہ اور پراسرار ہیں۔ مشرکین زیادہ تر انہی کے گرویدہ ہیں، انہی کو دیوتا اور خدا اور خدا کی اولاد سمجھتے ہیں۔ انہی کی فرضی مورتیں بنا کر نذر و نیاز چڑھاتے ہیں۔ لہذا توحید الہٰی کو شرک کے اس دوسرے شعبے سے پاک کرنے کے لیے ایک مستقبل عقیدہ بیان کیا گیا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ پوشیدہ نورانی ہستیاں جن کو تم دیوتا اور خدا اور اولاد ِخدا کہتے ہو دراصل یہ خدا کے فرشتے ہیں، ان کا خدائی میں کوئی دخل نہیں۔ یہ سب خدا کے تابع فرمان ہیں اور اس قدر مطیع ہیں کہ حکم الہٰی سے بال برابر بھی سرتابی نہیں کرسکتے۔ خدا ان کے ذریعہ سے اپنی سلطنت کی تدبیر کرتا ہے اور یہ ٹھیک ٹھیک اس کے فرمان بجالاتے ہیں ان کو خود اپنے اختیار سے کچھ کرنے کی قدرت نہیں، یہ اپنی طاقت سے خدا کے حضور میں کوئی تجویز پیش نہیں کرسکتے۔ ان کی اتنی مجال بھی نہیں کہ اس کے سامنے کسی کی سفارش کریں۔ ان کی عبادت کرنا اور ان سے مدد مانگنا تو انسان کے لیے ذلت ہے۔ کیونکہ روزِ اوّل میں اللہ تعالیٰ نے ان سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرایا تھا اور ان سے بڑھ کر آدم علیہ السلام کو علم عطا کیا تھا۔ اور ان کو چھوڑ کرآدم علیہ السلام کو زمین کی خلافت عطا کی تھی۔ پس جو انسان خود ان فرشتوں کا مسجود ہے اس کے اس سے بڑھ کر کیا ذلت ہوسکتی ہے کہ وہ الٹا ان کے آگے سجدہ کرے اور ان سے بھیک مانگے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف تو ہم کو فرشتوں کی پرستش کرنے اور خدائی میں ان کو شریک ٹھیرانے سے روک دیا۔دوسری طرف آپ نے ہمیں یہ بتایا کہ فرشتے خدا کی برگزیدہ مخلوق ہیں، گناہوں سے پاک ہیں، ان کی فطرت ایسی ہے کہ ہمیں یہ بتایا کہ فرشتے خدا کی برگزیدہ مخلوق ہیں، گناہوں سے پاک ہیں، ان کی فطرت ایسی ہے کہ وہ خدا کے احکام کی نافرمانی کرہی نہیں سکتے، وہ ہمیشہ خدا کی بندگی و عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔ انہی میں سے ایک برگزیدہ فرشتے کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں پر وحی بھیجتا ہے جن کا نام جبریل ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبریل علیہ السلام ہی کے ذریعہ سے قرآن کی آیتیں نازل ہوئی تھیں، انہی فرشتوں میں وہ فرشتے بھی ہیں جو ہر وقت تمہارے ساتھ لگے ہوئے ہیں، تمہاری ہر اچھی اور بری حرکت کو ہر وقت دیکھتے رہتے ہیں ۔ تمہاری ہر اچھی بری بات کو ہر وقت سنتے ہیں اور نوٹ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس ہر شخص کی زندگی کا ریکارڈ محفوظ رہتا ہے۔ مرنے کے بعد جب تم خدا کے سامنے حاضر ہوگے تو یہ تمہارا نامۂ اعمال پیش کردیں گے اور تم دیکھوگے کہ عمر بھر تم نے چھپے اور کھلے جو بھی نیکیاں اور بدیاں کی تھیں وہ سب اس میں موجود ہیں۔
فرشتوں کی حقیقت ہم کو نہیں بتائی گئی ، صرف ان کی صفات بتائی گئی ہیں اور ان کی ہستی پر یقین رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہمارے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں وہ کیسے ہیں اور کیسے نہیں۔ لہذا اپنی عقل سے ان کی ذات کے متعلق کوئی بات تراش لینا جہالت ہے اور ان کے وجود سے انکار کرنا کفر ہے۔ کیونکہ انکار کرنے کے لیے کسی کے پاس کوئی دلیل نہیں اور انکار کے معنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ جھوٹا قرار دینے کے ہیں۔ ہم ان کے وجود پر صرف اس لیے ایمان لاتے ہیں کہ خدا کے سچے رسول نے ہم کو ان کی خبر دی ہے۔