ایمان مفصل
خدا کے رسولوں پر ایمان
یہ بات تم کو پچھلے باب میں بتائی جاچکی ہے کہ خدا کے رسول دنیا کی تمام قوموں کے پاس آئے تھے اور ان سب نے اسی اسلام کی تعلیم دی تھی جس کی تعلیم دینے کے لیے آخر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔اس لحاظ سے خدا کے تمام رسول ایک ہی گروہ کے لوگ تھے، اگر کوئی شخص ان میں سے کسی ایک کو بھی جھوٹا قرار دے تو گویا اس نے سب کو جھٹلایا، اور کسی ایک کی بھی تصدیق کرے تو آپ سے آپ اس کے لیے لازم ہوجاتا ہے کہ سب کی تصدیق کرے، فرض کرو کر دس آدمی ایک ہی بات کہتے ہیں، جب تم نے ایک کو سچا تسلیم کیا تو خود بخود تم نے باقی نوکو سچا تسلیم کرلیا۔ اگر تم ایک کو جھوٹا کہوگے تو اس معنی یہ ہیں کہ تم نے خود اس بات ہی کو جھوٹ قرار دے دیا جسے وہ بیان کررہا ہے اور اس سے دسوں کی تکذیب لازم آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں تمام رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ جو شخص کسی رسول پر ایمان نہ لائے گا وہ کافر ہوگا خواہ وہ باقی رسولوں کو مانتا ہو۔
روایات میں آیا ہے کہ دنیا کی مختلف قوموں میں جو نبی بھیجے گئے ہیں، ان کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔ اگر تم خیال کرو کہ دنیا کب سے آباد ہے اور اس میں کتنی قومیں گزر چکی ہیں تو یہ تعداد کچھ بھی زیادہ معلوم نہ ہوگی۔ان سوا لاکھ نبیوں میں سے جن کے نام ہم کو قرآن میں بتائے گئے ہیں، ان پر تو صراحت کے ساتھ ایمان لانا ضروری ہے، باقی تمام کے متعلق ہم کو صرف یہ عقیدہ رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے کہ جو لوگ بھی خدا کی طرف سے اس کے بندوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے تھے وہ سب سچے تھے۔ہندوستان ، چین، ایران، مصر، افریقہ، یورپ اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں جو نبی آئے ہوں گے ہم ان سب پر ایمان لاتے ہیں، مگر ہم کسی خاص شخص کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ نبی تھا اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ نبی نہ تھا۔اس لیے کہ ہمیں اس کے متعلق کچھ بتایا نہیں گیا۔ البتہ مختلف مذاہب کے پیرو جن لوکوں کو اپنا پیشوا مانتے ہیں ، ان کے خلاف کچھ کہنا ہمارے لیے جائز نہیں۔ بہت ممکن ہے کہ درحقیقت وہ نبی ہوں اور بعد میں ان کے پیروؤں نے ان کے مذہب کو بگاڑ دیا ہو، جس طرح حضرت موسیٰ اور عیسی ٰ کے پیروؤں نے بگاڑا، لہذا ہم جو کچھ بھی اظہار رائے کریں گے، ان کے مذہب اور ان کی رسموں کے متعلق کریں گے، مگر پیشواؤں کے حق میں خاموش رہیں گے تاکہ بغیر جانے بوجھے ہم سے کسی رسول کی شان میں گستاخی نہ ہوجائے۔
پچھلے رسولوں میں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں اس لحاظ سے تو کوئی فرق نہیں کہ آپ کی طرح وہ بھی سچے تھے، خدا کے بھیجے ہوئے تھے۔ اسلام کا سیدھا راستہ بتانے والے تھے۔ اور ہمیں سب پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے، مگر اس ساری حیثیتوں میں یکساں ہونے کے باوجود آپ میں اور دوسرے پیغمبروں میں تین باتوں کا فرق بھی ہے۔
ایک یہ کہ پچھلے انبیاء خاص قوموں میں خاص زمانوں کے لیے آئے تھے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام دنیا کے لیے اور ہمیشہ کے لیے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ جیسا کہ ہم پچھلے باب میں تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں۔
دوسرے یہ کہ پچھلے انبیاء کی تعلمات یا تو بالکل دنیا سے ناپید ہوچکی ہیں، یا کسی قدر باقی بھی رہ گئی ہیں تو اپنی خالص صورت میں محفوظ نہیں رہی ہیں۔ اسی طرح ان کے ٹھیک ٹھیک حالات زندگی بھی آج دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ بلکہ ان پر بکثرت افسانوں کے ردے چڑھ گئے ہیں۔ اس وجہ سے اگر کوئی ان کی پیروی کرنا چاہے بھی تو نہیں کرسکتا۔ بخلاف اس کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم، آپ کی سیرت پاک، آپ کی زبانی ہدایت، آپ کے عملی طریقے، آپ کے اخلاق و عادات ، خصائل، غرض ہر چیز دنیا میں بالکل محفوظ ہے۔ اس لیے درحقیقت تمام پیغمبروں میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ایک زندہ پیغمبر ہیں۔ اور صرف آپ ہی کی پیروی کرنا ممکن ہے۔
تیسرے یہ کہ پچھلے انبیاء کے ذریعہ سے اسلام کی جو تعلیم دی گئی تھی وہ مکمل نہیں تھی، ہر نبی کے بعد دوسرا نبی آکر اس کے احکام اور قوانین اور ہدایات میں ترمیم و اضافہ کرتا رہا اور اصلاح و ترقی کا سلسلہ برابر جاری تھا۔ اسی لیے ان نبیوں کی تعلیمات کو ان کا زمانہ گزر جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے محفوظ بھی نہیں رکھا۔ کیونکہ ہر کامل تعلیم کے بعد پچھلی ناقص تعلیم کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ آخر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اسلام کی ایسی تعلیم دی گئی ہو جو ہر حیثیت سے مکمل تھی۔ اس کے تمام انبیاء کی شریعتیں آپ سے آپ منسوخ ہوگئیں۔ کیونکہ کامل کو چھوڑ کر ناقص کی پیروی کرنا عقل کے خلاف ہے ۔ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے گا اس نے گویا تمام نبیوں کی پیروی کی، اس لیے کہ تمام نبیوں کی تعلیم میں جو کچھ بھلائی تھی وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں موجود ہے۔ اور جو شخص آپ کی پیروی چھوڑ کر کسی پچھلے نبی کی پیروی کرے گا وہ بہت سی بھلائیوں سے محروم رہ جائے گا۔ اس لیے کہ جو بھلائیاں بعد میں آئی ہیں وہ اس پرانی تعلیم میں نہ تھیں۔
ان وجودہ سے تمام دنیا کے انسانوں پر لازم ہوگیا ہے کہ وہ صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں۔ مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تین حیثیتوں سے ایمان لائے:
ایک یہ کہ آپ خدا کے سچے پیغمبر ہیں۔
دوسرے یہ کہ آپ کی ہدایت بالکل کامل ہے، اس میں کوئی نقص نہیں اور وہ ہر غلطی سے پاک ہے۔
تیسرے یہ کہ آپ خدا کے آخری پیغمبر ہیں۔ آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی کسی قوم میں آنے والا نہیں ہے، نہ کوئی ایسا شخص آنے والا ہے جس پر ایمان لانا مسلمان ہونے کے لیے شرط ہو، جس کو نہ ماننے سے کوئی شخص کافر ہوجائے۔