ایمان مفصل

انسانی زندگی پر عقیدۂ توحید کا اثر

اب ہم تمہیں بتائیں گے کہ لاالہ الا اللہ کے اقرار سے انسان کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے، اور اس کو نہ ماننے والا دنیا اور آخرت میں کیوں نامراد ہوجاتا ہے۔ 1. اس کلمہ پر ایمان رکھنے والا کبھی تنگ نظر نہیں ہوسکتا۔ وہ ایسے خدا کا قائل ہوتا ہے جو زمیں و آسمان کا خالق، مشرق و مغرب مالک اور تمام جہان کا پالنے پوسنے والا ہے۔ اس ایمان کے بعد ساری کائنات میں کوئی چیز بھی اس کو غیر نظر نہیں آتی ، وہ سب کو اپنی ذات کی طرح ایک ہی مالک کی ملکیت اور ایک بادشاہ کی رعیت سمجھتا ہے۔ اس کی ہمدردی اور محبت و خدمت کسی دائرے کی پابند نہیں رہتی۔ اس کی نظر ویسی ہی غیر محدود ہوجاتی ہے جیسی خود اللہ تعالیٰ کی بادشاہی غیر محدود ہے۔ یہ بات کسی ایسے شخص کو ویسی ہی غیر محدود ہوجاتی ہے جیسی خود اللہ تعالیٰ کی بادشاہی غیر محدود ہے۔ یہ بات کسی ایسے شخص کو حاصل نہیں ہوسکتی جو بہت سے چھوٹے چھوٹے خداؤں کا قائل ہو، یا خدا میں انسان کی محدود اور ناقص صفات مانتا ہو یا سرے سے خدا کا قائل ہی نہ ہو۔ 2. یہ کلمہ انسان میں انتہا درجہ کی خودداری اور عزت نفس پیدا کردیتا ہے۔ اس پر اعتقاد رکھنے والا جانتا ہے کہ صرف ایک خدا تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ اس کے سوا کوئی نفع پہنچانے والا نہیں، کوئی مارنے اور جلانے والا نہیں، کوئی صاحب اختیار اور بااثر نہیں۔ یہ علم اور یقیناس کو خدا کے سوا تمام قوتوں سے بے نیاز اور بے خوف کردیتا ہے، اس کی گردن کسی مخلوق کے آگے نہیں جھکتی، اس کا ہاتھ کسی کے آگے نہیں پھیلتا، اس کے دل میں کسی کی بزرگی کا سکہ نہیں بیٹھتا۔ یہ صفت سوائے عقیدۂ توحید کے اور کسی عقیدہ سے پیدا نہیں ہوسکتی۔ شرک اور کفر اور دہریت کی لازمی خاصیت یہ ہے کہ انسان مخلوقات کے آگے جھکے، ان کو نفع اور نقصان کا مالک سمجھے، ان سے خوف کھائے اور ان ہی سے امیدیں وابستہ رکھے۔ 3. خودداری کے ساتھ یہ کلمہ انسان میں انکساری بھی پیدا کرتا ہے، اس کا قائل کبھی مغرور اور متکبر نہیں ہوسکتا، اپنی قوت اور دولت اور قابلیت کا گھمنڈ اس کے دل میں سما ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے خدا ہی کا دیا ہوا ہے۔ اور خدا جس طرح دینے پر قادر ہے اسی طرح چھین لینے پر قادر ہے۔ اس کے مقابلہ میں عقیدۂ الحاد کے ساتھ جب انسان کو کسی قسم کا دنیوی کمال حاصل ہوتا ہے تو وہ متکبر ہوجاتا ہے، کیونکہ وہ اپنے کمال کو محض اپنی قابلیت کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ اسی طرح شرک اور کفر کے استھ بھی غرور پیدا ہونا لازمی ہے۔ کیونکہ مشرک اور کافر اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ خداؤں اور دیوتاؤں سے اس کا کوئی خاص تعلق ہے جو دوسروں کو نصیب نہیں۔ 4. اس کلمہ پر اعتقاد رکھنے والا اچھی طرح جانتا ہے کہ نفس کی پاکیزگی اور ایک نیک عمل کے سوا اس کے لیے نجات اور فلاح کا کوئی ذریعہ نہیں، کیونکہ وہ ایک ایسے خدا پر اعتقاد رکھتا ہے جو بے نیاز ہے، کسی سے کوئی رشتہ نہیں رکھتا۔اس کے مقابلے میں مشرکین اور کفار ہمیشہ جھوٹی توقعات پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان میں سے کوئی سمجھتا ہے کہ خدا کا بیٹا ہمارے لیے کفارہ بن گیا ہے کوئی خیال کرتا ہے کہ ہم خدا کے چہیتے ہیں اور ہمیں سزا مل ہی نہیں سکتی۔ کسی کا گمان یہ ہے کہ ہم اپنے بزرگوں سے خدا کے ہاں سفارش کرالیں گے۔ کوئی اپنے دیوتاؤں کو نذر و نیاز دے کر سمجھ لیتا ہے کہ اب اسے دنیا میں سب کچھ کرنے کا لائسنس مل گیا ہے۔ اس قسم کے جھوٹے اعتقادات ان لوگوں کو ہمیشہ گناہوں اور بدکاریوں کے چکر میں پھنسائے رکھتے ہیں اور وہ ان کے بھروسے پر نفس کی پاکیزگی اور عمل کی نیکی سے غافل ہوجاتے ہیں۔ رہے دہریے تو وہ سرے سے یہ اعتقاد ہی نہیں رکھتے کہ کوئی بالاتر ہستی ان سے بھلے یا برے کاموں کی بازپرس کرنے والی بھی ہے۔ اس لیے وہ دنیا میں اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں۔ ان کے نفس کی خواہش ان کی خدا ہوتی ہے اور وہ اس کے بندے ہوتے ہیں۔ 5. اس کلمہ کا قائل کسی حال میں مایوس اور دل شکستہ نہیں ہوتا، وہ ایک ایسے خدا پر ایمان رکھتا ہے جو زمین و آسمان کے سارے خزانوں کا مالک ہے، جس کا فضل و کرم بے حد و حساب ہے اور جس کی قوتیں بے پایاں ہیں۔ یہ ایمان اس کے دل کو غیر معمولی تسکین بخشتا ہے۔ اس کو اطمینان سے بھر دیتا ہے اور ہمیشہ امیدوں سے لبریز رکھتا ہے، چاہے وہ تمام دنیا کے دروازوں سے ٹھکرادیا جائے، سارے اسباب کا رشتہ ٹوٹ جائے اور وسائل و ذرا‏ئع ایک ایک کرکے اس کا ساتھ چھوڑدیں۔ پھر بھی ایک خدا کا سہارا کسی حال میں اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا اور اسی کے بل بوتے پر وہ نئی امیدوں کے ساتھ کوشش پر کوشش کیے چلا جاتا ہے۔ یہ اطمینان قلب عقیدۂ توحید کے سوااور کسی عقیدے سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ مشرکین اور کفار اور دہریے چھوٹے دل کے ہوتے ہیں، ان کا بھروسہ محدود طاقتوں پر ہوتا ہے، اس لیے مشکلات میں بہت جلد مایوسی ان کو گھیر لیتی ہے اور اکثر ایسی حالتوں میں وہ خودکشی تک کر گزرتے ہیں۔ 6. اس کلمہ کا اعتقاد انسان میں عزم اور حوصلہ اور صبر و توکل کی زبردست طاقت پیدا کردیتا ہے۔ وہ جب خدا کی خوشنودی کے لیے دنیا میں بڑے کام انجام دینے کے لیے اٹھتا ہے تو اس کے دل میں یہ یقین ہوتا ہے کہ میری پشت پر زمین و آسمان کے بادشاہ کی قوت ہے۔ یہ خیال اس میں پہاڑ کی سی مضبوطی پیدا کرتا ہے اور دنیا کی ساری مشکلات اور مصیبتیں اور مخالف طاقتیں مل کر بھی اس کو اپنے عزم سے نہیں ہٹاسکتیں۔ 7. یہ کلمہ انسان کو بہادر بنادیتا ہے۔ دیکھو! آدمی کو بزدل بنانے والی دراصل دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک تو جان اور مال اور بال بچوں کی محبت، دوسرے یہ خیال کہ خدا کے سوا کوئی اور مارنے والا ہے، اور یہ کہ آدمی اپنی تدبیر سے موت کو ٹال سکتا ہے۔ لاالہ الا اللہ کا اعتقاد ان دونوں چیزوں کو دل سے نکال دیتا ہے۔ پہلی چیز تو اس لیے نکل جاتی ہے کہ اس کا قائل اپنی جان و مال اور ہر چیز کا مالک خدا ہی کو سمجھتا ہے اور اس کی خوشنودی کے لیے سب کچھ قربان کرنے پر تیار ہوجاتا ہے۔ رہی دوسری چیز تو وہ اس وجہ سے باقی نہیں رہتی کہ لا الہ الا اللہ کہنے والے کے نزدیک جان لینے کی قدرت کسی انسان یا حیوان یا توپ یا تلوار یا لکڑی یا پتھر میں نہیں ہے، اس کا اختیار صرف خدا کو ہے اور اس نے موت کا جو وقت مقرر کردیا ہے اس سے پہلے دنیا کی تمام قوتیں مل کر بھی چاہیں تو کسی کی جان نہیں لے سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ پر ایمان رکھنے والے سے زیادہ بہادر دنیا میں کوئی نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلہ میں تلواروں کی باڑھ اور گولیوں کی بوچھاڑ اور فوجوں کی یورش سب ناکام رہ جاتی ہیں۔ جب وہ خدا کی راہ میں لڑنے کے لیے بڑھتا ہے تو اپنے سے دس گنی طاقت کا بھی منہ پھیر دیتا ہے۔ مشرکین اور کفار اور دہریے یہ قوت کہاں سے لائیں گے؟ ان کو تو جان سب سے زیادہ پیاری ہوتی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ موت دشمن کے لانے سے آتی ہے اور ان کے بھاگنے سے بھاگ سکتی ہے۔ 8. لا الہ الا اللہ کا اعتقاد انسان میں قناعت اور بے نیازی کی شان پیدا کردیتا ہے۔ حرض و ہوس اور شک و حسد کے رکیک جذبات اس کے دل سے نکال دیتا ہے۔ کامیابی حاصل کرنے کے ناجائز اور ذلیل طریقے اختیار کرنے کا خیال تک اس کے ذہن میں نہیں آنے دیتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے، جس کو چاہے زیادہ دے جس کو چاہے کم دے۔ عزت اور طاقت اور ناموری اور حکومت سب کچھ خدا کے اختیار میں ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں کے لحاظ سے جس کو جس قدر چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ہمارا کام صرف اپنی حد تک جائز کوشش کرنا ہے۔ کامیابی اور ناکامی خدا کے فضل پر موقوف ہے۔ وہ اگر دینا چاہے تو دنیا کی کوئی قوت اسے روک نہیں سکتی، اور نہ دینا چاہے تو کوئی طاقت دلوانہیں سکتی۔ اس کے مقابلے میں مشرکین اور کفار اور دہریے اپنی کامیابی اور ناکامی کو اپنی کوشش اور دنیوی طاقتوں کی مدد یا مخالفت پر موقوف سمجھتے ہیں، اس لیے ان پر حرص اور ہوس مسلط رہتی ہے۔ کامیابی حاصل کرنے کے لیے رشوت، خوشامد، سازش اور ہر قسم کے بدترین ذرائع اختیار کرنے میں انہیں باک نہیں ہوتا۔ دوسروں کی کامیابی پر رشک و حسد میں جلے مرتے ہیں اور ان کو نیچا دکھانے کی کوئی بری سے بری تدبیر بھی نہیں چھوڑتے۔ 9. سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ کا اعتقاد انسان کو خدا کے قانون کا پابند بناتاہے۔ اس کلمہ پر ایمان لانے والا یقین رکھتا ہے کہ خدا پر چھپی اور کھلی چیز سے باخبر ہے۔ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، اگر ہم رات کے اندھیرے میں اور تنہائی کے گوشے میں بھی کوئی گناہ کریں تو خدا کو اس کا علم ہوجاتا ہے۔ اگر ہمارے دل کی گہرائی میں بھی کوئی برا ارادہ پیدا ہو تو خدا تک اس کی خبر پہنچ جاتی ہے۔ ہم سب سے چھپاسکتے ہیں ، مگر خدا سے نہیں چھپا سکتے۔ سب سے بھاگ سکتے ہیں، مگر خدا کی سلطنت سے نہیں نکل سکتے۔ سب سے بچ سکتے ہیں، مگر خدا کی پکڑ سے بچنا غیر ممکن ہے۔ یہ یقین جتنا مضبوط ہوگا اتنا ہی زیادہ انسان اپنے خدا کے احکام کا مطیع ہوگا۔ جس چیز کو خدا نے حرام کیا ہے وہ اس کے پاس بھی نہ پھٹکے گا اور جس چیز کا اس نے حکم دیا ہے وہ اس کو تنہائی اور تاریکی میں بھی بجالائے گا ۔ کیوں کہ اس کے ساتھ ایک ایسی پولیس لگی ہوتی ہے جو کسی حال میں اس کا پیچھانہیں چھوڑتی اور اس کو ایسی عدالت کا کھٹکا لگا رہتا ہے جس کے وارنٹ سے وہ کہیں بھاگ نہیں سکتا۔یہی وجہ ہے کہ مسلم ہونے کے لیے سب سے پہلی اور ضروری شرط لا الہ الا اللہ پر ایمان لانا ہے۔ مسلم کے معنی جیسا کہ تم کو ابتدا میں بتایا جاچکا ہے خدا کے فرماں بردار بندے کے ہیں۔ اور خدا کا فرماں بردار ہونا ممکن ہی نہیں جب تک کہ انسان اس بات پر یقین نہ لائے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں یہ ایمان باللہ سب سے اہم اور بنیادی چیز ہے۔ یہ اسلام کا مرکز ہے، اس کی جڑ ہے، اس کی قوت کا منبع ہے، اس کے سوا اسلام کے جتنے اعتقادات اور احکام اور قوانین ہیں سب اسی بنیاد پر قائم ہیں اور ان سب کو اسی مرکز سے قوت پہنچتی ہے۔ اس کو ہٹادینے کے بعد اسلام کوئی چیز نہیں رہتا۔