8. Al-Anfaalالأنفال
The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs · 10 rukus · محترمہ رفعت اعجاز
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿1﴾
(اے نبی ﷺ !) مجاہد لوگ آپ سے انفال (مال زائد) کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ کیا حکم ہے ؟) کہہ دیں کہ مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ تو اللہ سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلو۔اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ﴿2﴾
مومن تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ (آیات) ان کا ایمان زیادہ کردیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ﴿3﴾
اور وہ نماز پڑھتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ﴿4﴾
یہی سچے مومن ہیں۔ اور ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے، بخشش اور عزت کی روزی ہے۔كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ﴿5﴾
(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیے تھا) جس طرح آپ کے رب نے آپ کو تدبیر کے ساتھ آپ کے گھر سے نکالا اور اس وقت مومنوں کی ایک جماعت ناخوش تھی۔یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ﴿6﴾
وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہونے بعد آپ سے جھگڑ پڑے گویا موت کی طرف دھکیلے جا رہے ہوں اور موت کو دیکھ رہے ہوں۔وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ﴿7﴾
اور جب اللہ نے تم سے وعدہ کیا تھا (ابو سفیان اور ابوجہل) کے دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارے لیے (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بےشان و شوکت، یعنی بےہتھیار ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ چاہتا تھا کہ اپنے حکم سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر رکھ دے۔لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ﴿8﴾
تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کر دے گومجرموں کو ناگوار ہی ہو۔اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ﴿9﴾
جب تم اپنے رب سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی اور فرمایا کہ میں ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کروں گا۔وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ع﴿10﴾
اور اس مدد کو اللہ نے صرف بشارت بنایا تھا تاکہ تمہارے دل مطمئن ہوجائیں اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ﴿11﴾
جب اس نے تمہارا خوف دور کرنے کے لیے اپنی طرف سے تم پر غنودگی طاری کردی اور تم پر آسمان سے پانی برسا دیا تاکہ تم کو (اس سے نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کر دے اور اس لیے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس طرح تمہارے پائوں جمائے رکھے۔اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ﴿12﴾
جب تمہارا رب فرشتوں کو حکم دے رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں، میں ابھی کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔ تم ان کی گردنیں اڑا دو اور ان کی پورپور کاٹ دو۔ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿13﴾
یہ سزا اس لیے دی گئی کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ کا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ﴿14﴾
یہ مزہ تو یہاں چکھو اور جان لو کہ کافروں کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب بھی تیار ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ﴿15﴾
اے ایمان والو ! جب میدان جنگ میں کفار سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرناوَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿16﴾
اور جو شخص جنگ کے روز حکمت عملی سے دشمن کو مارے یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے وہ ٹھیک ہے لیکن جو ان سے پیٹھ پھیرے گا تو سمجھو کہ وہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہوگیا اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿17﴾
تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا ہے۔ اور (اے نبی ﷺ !) جس وقت آپ نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ آپ نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اچھی طرح آزما لے، بیشک اللہ سنتا جانتا ہے۔ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ﴿18﴾
بات یہ ہے کچھ شک نہیں کہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠﴿19﴾
کافرو ! اگر تم فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی، دیکھو ! اگر تم اپنے کاموں سے باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اگر پھر پہلے سے کام کرو گے تو ہم بھی ایسا ہی کریں گے اور تمہاری جماعت چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو تمہارے کام نہ آسکے گی۔ اور اللہ تو یقینامومنوں کے ساتھ ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖع﴿20﴾
اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے مت پھرو۔وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ﴿21﴾
اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے (اللہ کا حکم) سن لیا مگر حقیقت میں سنتے نہیں۔اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ﴿22﴾
کچھ شک نہیں کہ اللہ کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتروہ بہرے، گونگے لوگ ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے۔وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ﴿23﴾
اور اگر اللہ ان میں نیکی کا مادہ دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق دیتا اور (اگر بغیر صلاحیت کے) ان کو سنا دیتا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ جاتے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ﴿24﴾
مومنو ! اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو جب کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں جو تم کو (ہمیشگی کی) زندگی بخشتا ہے اور جان لو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے سامنے جمع کیے جاؤ گے۔وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿25﴾
اور بچو اس فتنہ سے جس کی مصیبت صرف ظالموں تک محدود نہ رہے گی اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿26﴾
یاد کرو وہ وقت کہ جب تم تعداد میں بہت کم تھے۔ اور زمین میں تمہیں کمزور سمجھا جاتا تھا، تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک کر نہ لے جائیں، پھر اللہ نے تمہیں پناہ کی جگہ دے دی اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے، تمہیں اچھا رزق پہنچایا، تاکہ تم شکر گزار بنو۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿27﴾
اے ایمان والو ! جانتے بوجھتے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت نہ کرو۔وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ع﴿28﴾
اور جان رکھو ! کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں تمہارے لیے آزمائش ہیں اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ﴿29﴾
اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ (حق و باطل میں فرق کرنیوالی) قوت امتیازعطا کر دے گا۔ اور تمہاری برائیوں کو تم سے دور کر دے گا اور تمہارے قصور معاف کر دے گا۔ اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ﴿30﴾
اور (اے نبی ﷺ ! اس وقت کو یاد کرو) جب کافر تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کردیں، جان سے مار دیں یا وطن سے نکال دیں۔ ادھر تو وہ چال چل رہے تھے اور ادھر اللہ چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ﴿31﴾
اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ کلام ہم نے سن لیا ہے۔ اگر ہم چاہئیں تو ایسا ہی کلام ہم بھی کہہ دیں اور یہ ہے ہی کیا صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ﴿32﴾
اور جب انہوں نے کہا کہ اے اللہ ! اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی تکلیف دہ عذاب بھیج دے۔وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ﴿33﴾
اور اللہ ایسا نہ تھا کہ جب تک آپ ان میں تھے انہیں عذاب دیتا اور نہ ایسا تھا کہ وہ بخشش مانگیں اور انہیں عذاب دے۔وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿34﴾
اور اب ان کے لیے کونسی وجہ ہے کہ انہیں عذاب نہ دے جبکہ وہ مسجد حرام میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں۔ اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں ہیں۔ اس کے متولی تو صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ﴿35﴾
اور ان لوگوں کی نماز خانہ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو۔اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ﴿36﴾
جو لوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ خرچ کرنا ان کے لیے افسوس کا باعث ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے۔لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ع﴿37﴾
تاکہ اللہ پاک سے ناپاک کو علیحدہ کر دے اور ناپاک کو ایک دوسرے پر رکھ کر ڈھیر بنا دے، پھر اس ڈھیر کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ﴿38﴾
(اے پیغمبر ﷺ !) کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے کاموں سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ معاف کردیا جائے گا اور اگر پھر وہی کام کرنے لگیں گے تو پہلے لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہوچکا ہے ان کے ساتھ بھی کیا جائے گا۔وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿39﴾
اور ان لوگوں سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ کفر کا فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ ہی کا ہوجائے اور اگر باز آجائیں تو اللہ ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ﴿40﴾
اور اگر نہ مانیں تو جان لو کہ اللہ تمہارا حمایتی ہے وہ خوب حمایتی اور خوب مددگار ہے۔وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿41﴾
اور خوب جان لو کہ جو کچھ تمہیں مال غنیمت کے طور پر حاصل ہوا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کے لیے ہے۔ اور (رسول کے) قرابت داروں کے لیے یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اور اگر تم اللہ اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جس کو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا۔ فیصلہ کے دن دونوں جماعتوں میں مقابلہ ہوا اور اللہ ہر شے پر پوری قدرت رکھنے والا ہےاِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ﴿42﴾
جس وقت تم (میدان جنگ کے) قریب کے کنارے پر تھے اور وہ (کافر) پرلے کنارے پر تھے۔ اور قافلہ تم سے نیچے اتر گیا تھا۔ اور اگر تم آپس میں وعدہ کرتے تو تم دونوں وقت مقررہ سے خلاف کر بیٹھتے مگر اللہ کو منظور تھا کہ جو کام ہونے والا ہے اسے کر ہی ڈالے تاکہ جسے مرنا ہے یقین جان کر مرے اور جسے جینا ہے حق جان کر ہی جیے اور کچھ شک نہیں کہ اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿43﴾
اس وقت اللہ نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا۔ اگر بہت کرکے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور جو کام درپیش تھا اس میں جھگڑنے لگتے لیکن اللہ نے تمہیں بچا لیا بیشک وہ سینوں کی باتوں سے واقف ہے۔وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ع﴿44﴾
اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کرکے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کرکے دکھاتا تھا تاکہ اللہ کو جو کام کرنا منظور تھا اسے کر ڈالے اور سب کاموں کا رجوع اللہ کی طرف ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ﴿45﴾
اے ایمان والو ! جب کفار کی کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ﴿46﴾
اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ ایسا کرو گے تو تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا جاتی رہے گی (کمزور ہوجاؤ گے) اور صبر سے کام لو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ﴿47﴾
اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اتراتے ہوئے (حق کا مقابلہ کرنے کے لیے) اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور جو اعمال یہ کرتے ہیں اللہ ان پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ع﴿48﴾
اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان پر آراستہ کر دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں تم پر کوئی غالب نہ ہوگا، اور میں تمہارا رفیق ہوں، لیکن جب دونوں فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہوئیں تو شیطان الٹے پاؤں چلا گیا اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے، مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے اور اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿49﴾
اس وقت منافق اور کافر جن کے دلوں میں مرض تھا کہنے لگے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے تو اللہ غالب حکمت والا ہے۔وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ﴿50﴾
اور کاش آپ اس حالت کو دیکھ سکتے جب فرشتے کافروں کی جان نکالتے، ان کے چہروں اور پیٹھوں پر ضربیں لگاتے تھے اور کہتے تھے اب آگ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ﴿51﴾
یہ ان اعمال کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں اور یہ جان رکھو کہ اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿52﴾
جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں سے کفر کیا تو اللہ نے ان کے گناہوں کی سزا میں ان کو پکڑ لیا بیشک اللہ زبردست اور سخت عذاب دینے والا ہے۔ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ﴿53﴾
یہ اس لیے کہ جو نعمت اللہ کسی قوم کو دیا کرتا ہے جب تک وہ خود اپنے دلوں کی حالت نہ بدل ڈالیں اللہ اسے بدلا نہیں کرتا۔ اس لیے کہ اللہ سنتا جانتا ہے۔كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ﴿54﴾
جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا۔ انہوں نے اپنے رب کی آیتوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر ڈالا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا اور وہ سب ظالم تھے۔اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ﴿55﴾
سب جانداروں میں بدتر وہ ہیں اللہ کے ہاں جو منکر ہوئے وہ ایمان نہیں لاتے۔اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ﴿56﴾
جن لوگوں سے آپ نے صلح کا عہد کیا ہے، پھر وہ ہر بار عہد کو توڑ ڈالتے ہیں اور اللہ سے نہیں ڈرتے۔فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ﴿57﴾
اگر آپ ان کو لڑائی میں پائیں تو انہیں ایسی سزا دیں کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہوں وہ ان کو دیکھ کر بھاگ جائیں عجب نہیں کہ ان کو اس سے عبرت ہو۔وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ع﴿58﴾
اور اگر آپ کو کسی قوم سے دغابازی کا خوف ہو تو ان کا عہد انہیں کی طرف پھینک دیں۔ اور برابر کا جواب دیں کچھ شک نہیں کہ اللہ دغا بازوں کو دوست نہیں رکھتا۔وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ﴿59﴾
اور کافر یہ خیال نہ کریں کہ وہ بھاگ نکلے ہیں وہ اپنی چالوں سے (ہم کو ہرگز) عاجز نہیں کرسکتے۔وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ﴿60﴾
اور جہاں تک ہو سکے (فوج کی جمعیت کے) زور سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے مقابلہ کے لیے تیار رہو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں، تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور اللہ جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی اور تم جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائے گا اور تم پر ظلم نہ کیا جائے گا۔وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿61﴾
اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی صلح کی طرف مائل ہوجاؤ۔ اور اللہ پر بھروسہ رکھو کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ﴿62﴾
اور اگر یہ چاہیں کہ تم کو فریب دیں تو اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ وہی تو ہے جس نے تم کو اپنی مدد سے اور مسلمانوں کی جمعیت سے تقویت بخشی۔وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿63﴾
اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی اور اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی انکے دلوں میں الفت پیدا نہ کرسکتے مگر اللہ ہی نے الفت ڈال دی بیشک وہ زبردست اور حکمت والا ہے۔یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ع﴿64﴾
اے نبی ! اللہ آپ کو اور مومنو کو جو تمہاری پیروی کرنیوالے ہیں کافی ہےیٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ﴿65﴾
اے نبی ! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو ، اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو کفار پر غالب رہیں گے اور اگر سو ایسے ہوں گے تو ہزار پر غالب رہیں گے اس لیے کہ کافر ایسے لوگ ہیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتے۔اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ﴿66﴾
اب اللہ نے تم پر سے بوجھ ہلکا کردیا اور معلوم کرلیا کہ ابھی تم میں کسی قدر کمزوری ہے، پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے اور اگر ایک ہزار ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کا مددگار ہے۔مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿67﴾
پیغمبر کی شان کے خلاف ہے کہ اس کے قبضہ میں قیدی رہیں جب تک کفار کو قتل کرکے زمین میں کثرت سے خون نہ بہا دے تم لوگ دنیا کے مال کے طلب گار ہو۔ اور اللہ آخرت کی بھلائی چاہتا ہے۔ اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴿68﴾
اگر اللہ کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو فدیہ تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا۔فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ع﴿69﴾
تو جو مال غنیمت تمہیں ملا ہے اسے کھائو کہ تمہارے لیے حلال (اور) پاکیزہ ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿70﴾
اے پیغمبر ! جو قیدی تمہارے ہاتھ میں گرفتار ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر اللہ تمہارے دلوں میں نیکی معلوم کرے گا تو جو مال تم سے چھن گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عطا کرے گا۔ اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ﴿71﴾
اور اگر یہ لوگ تم سے دغا کرنا چاہیں گے تو یہ پہلے ہی الل ہے دغا کرچکے ہیں، تو اس نے ان کو تمہارے قبضہ میں کردیا اور اللہ دانا حکمت والا ہے۔اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿72﴾
جو لوگ ایمان لائے اور (وطن سے) ہجرت کر گئے اور اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے لڑے، وہ اور جنہوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں تمہیں ان کی رفاقت سے کوئی سرورکار نہیں اور اگر وہ تم سے دین کے معاملات میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم ہے۔ مگر ان لوگوں کے مقابلہ میں کہ تم میں اور ان میں صلح کا عہد ہو مدد نہیں کرنی چاہیے اور اللہ تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ﴿73﴾
اور جو لوگ کافر ہیں وہ بھی ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ تو مومنو ! اگر تم یہ کام نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہوجائے گا۔ اور بڑا فساد مچے گا۔وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ﴿74﴾
اور جو لوگ ایمان لائے اور (وطن سے) ہجرت کر گئے اور اللہ کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی، یہی لوگ سچے مومن ہیں ان کے لیے اللہ کے پاس عزت کی روزی ہے۔وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ع﴿75﴾
اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں اور رشتہ دار اللہ کے حکم کی رو سے وراثت میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔