7. Al-A'raafالأعراف

The Heights · Meccan · 206 ayahs · 24 rukus · محترمہ رفعت اعجاز

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. الٓمّٓصٓۚ﴿1﴾

    الۗمّۗصۗ
  2. كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ﴿2﴾

    (اے محمد ﷺ !) یہ کتاب جو آپ پر نازل ہوئی ہے۔ اس سے آپ کو تنگدل نہیں ہونا چاہئے۔ یہ نازل اس لیے ہوئی ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ڈر سنائو اور یہ ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے۔
  3. اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ﴿3﴾

    لوگو ! یہ کتاب تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو۔ اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو۔ اور تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔
  4. وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ﴿4﴾

    اور کتنی ہی بستیاں ہم نے تباہ کر ڈالیں۔ جن پر ہمارا عذاب یا تو رات کو آتا تھا جبکہ وہ سو رہے ہوتے یا دن کو جب وہ دوپہر کو آرام کر رہے ہوتے۔
  5. فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ﴿5﴾

    تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ ہائے ہم اپنے اوپر ظلم کرتے رہے۔
  6. فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ﴿6﴾

    تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے پوچھ گچھ کریں گے اور پیغمبروں کو بھی پوچھیں گے۔
  7. فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ﴿7﴾

    پھر اپنے علم سے حالات بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے۔
  8. وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿8﴾

    اس روز اعمال کا تلنا برحق ہے تو جن لوگوں کے اعمال کے وزن بھاری ہوں گے وہ تو نجات پانے والے ہیں۔
  9. وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ﴿9﴾

    اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنا نقصان کیا اس لیے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے۔
  10. وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ع﴿10﴾

    اور ہم نے ہی زمین میں تمہارا ٹھکانا بنایا اور اس میں تمہارے لیے رہن سہن کے تمام بندوبست کئے مگر تم کم ہی شکر کرتے ہو۔
  11. وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ﴿11﴾

    اور ہم نے ہی تم کو شروع میں مٹی سے پیدا کیا پھر تمہاری شکل و صورت بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو۔ تو سب نے سجدہ کیا لیکن۔ ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔
  12. قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ﴿12﴾

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب میں نے تجھے حکم دیا تو کس بات نے تمہیں سجدہ کرنے سے باز رکھا ؟ اس نے کہا کہ ”میں اس سے بہتر ہوں مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے بنایا ہے۔
  13. قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ﴿13﴾

    فرمایا تو بہشت سے نکل جا۔ تو اس لائق نہیں کہ یہاں تکبر کرے پس نکل جا تو ذلیل ہے۔
  14. قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ﴿14﴾

    اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔ (14)۔
  15. قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ﴿15﴾

    فرمایا اچھا تم کو مہلت دی جاتی ہے
  16. قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ﴿16﴾

    پھر شیطان نے کہا کہ مجھے تو تو نے دھتکارہی دیا ہے۔ میں بھی تیرے سیدھے رستے پر ان کو گمراہ کرنے کے لیے بیٹھوں گا۔
  17. ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ﴿17﴾

    پھر ان کے آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے (غرض ہر طرف سے آئوں گا اور ان کی راہ ماروں گا) اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا۔
  18. قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ﴿18﴾

    اللہ نے فرمایا نکل جا یہاں سے پاجی مردود جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں ان کو اور تجھ کو جہنم میں ڈال کر جہنم کو بھر دوں گا
  19. وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴿19﴾

    اور ہم نے آدم سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو۔ جہاں سے چاہو جو چاہو کھائو پیو، مگر اس درخت کے پاس نہ جانا۔ ورنہ گناہگار ہوجاؤ گے۔
  20. فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ﴿20﴾

    تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا۔ تاکہ ان کے پردے والی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے رب نے اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو۔
  21. وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ﴿21﴾

    اور ان سے قسم کھا کر کہا کہ میں تو تمہارا خیرخواہ ہوں۔
  22. فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ﴿22﴾

    غرض شیطان مردود نے ان کو دھوکہ دے کر گناہ کی طرف کھینچ ہی لیا۔ جب انہوں نے اس درخت کے پھل کو کھالیا تو ان کی پردہ کی چیزیں کھل گئیں۔ اور وہ بہشت کے درختوں کے پتوں سے اپنے پوشیدہ جسم کو چھپانے لگے۔ تب ان کے رب نے پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت کے پاس جانے سے منع نہیں کیا تھا اور بتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے ؟
  23. قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴿23﴾

    دونوں عرض کرنے لگے کہ اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا۔ اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔
  24. قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ﴿24﴾

    (اللہ نے) فرمایا تم سب بہشت سے اتر جاؤ۔ اب سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ اور تمہارے لیے ایک خاص وقت تک زمین پر ٹھکانا اور زندگی کا سامان کردیا گیا ہے۔
  25. قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ع﴿25﴾

    (اللہ نے) فرمایا : اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے قیامت کے دن زندہ کرکے نکالے جاؤ گے۔
  26. یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ﴿26﴾

    اے بنی آدم ! ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور تمہارے بدن کو زینت دے اور جو پرہیزگاری کا لباس ہے وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں۔
  27. یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿27﴾

    اے بنی آدم ! دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو بہکا کر بہشت سے نکلوا دیا تھا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیے تھے تاکہ ان کا پوشیدہ جسم ان کو کھول کر دکھا دے۔ وہ اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہتے ہیں۔ جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطانوں کو انہی لوگوں کا رفیق بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔
  28. وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿28﴾

    اور جب کوئی بےحیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور اللہ نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو کہ اللہ بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بھلا تم اللہ کے لیے ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔
  29. قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ﴿29﴾

    کہہ دو کہ میرے رب نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا قبلہ کی طرف رخ کیا کرو۔ خاص اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو پہلے پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے۔
  30. فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ﴿30﴾

    ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔
  31. یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ع﴿31﴾

    اے بنی آدم ! ہرمسجد میں (نماز) کے وقت اپنے آپ کو سجایا کرو۔ کھائو اور پیو مگر بےجا نہ اڑائو کیونکہ اللہ فضول خرچ لوگوں کو دوست نہیں رکھتا۔
  32. قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ﴿32﴾

    پو چھو کہ زینت اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں۔ اور قیامت کے دن خاص انہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح اللہ رب العزت اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔
  33. قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿33﴾

    کہہ دو کہ میرے رب نے تو ظاہر و پوشیدہ بےحیائی کی باتوں، گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے۔ اور اس کو بھی کہ تم کسی کو اللہ کا شریک بنائو جس کے لیے اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی اور یہ بھی کہ اللہ کے بارے ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں۔
  34. وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ﴿34﴾

    اور ہر گروہ کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ آجاتا ہے تو (اس گروہ کی گرفت کے لیے) نہ ایک گھڑی مؤخرہو سکتی ہے نہ جلدی۔
  35. یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴿35﴾

    اے بنی آدم ! ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کرتے رہے ہیں کہ جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں تو ان پر ایمان لایا کرو کہ جو شخص ان پر ایمان لاکر اللہ سے ڈرتا رہے گا وہ اپنی حالت درست رکھے گا۔ تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہونگے۔
  36. وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿36﴾

    اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے اکڑ بیٹھے تو وہی دوزخ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔
  37. فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ﴿37﴾

    تو اس سے زیادہ ظالم کون ہے، جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے ان کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا ہی رہے گا۔ یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے جان نکالنے آئیں گے۔ تو کہیں گے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے وہ اب کہاں ہیں ؟ وہ کہیں گے معلوم نہیں کہ وہ ہم سے کہاں غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ بیشک وہ کافر تھے
  38. قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ﴿38﴾

    تو اللہ فرمائے گا کہ جنوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں انہی کے ساتھ تم بھی جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ جب ایک جماعت وہاں جا داخل ہوگی تو اپنی ہم مذہب جماعت پر لعنت کرے گی۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہوجائیں گے تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ ”اے اللہ ! انہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا۔ تو ان کو جہنم کی آگ کا دگنا عذاب دے۔ اللہ فرمائے گا کہ ’ تم سب کو دگنا عذاب دیا جائے گا مگر تم نہیں جانتے۔
  39. وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ع﴿39﴾

    اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ بھی برتری نہ ملی تو جو عمل تم کیا کرتے تھے اس کے بدلے میں عذاب کے مزے چکھو۔
  40. اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ﴿40﴾

    جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے گزر جائے (یہ ناممکن ہے) اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔
  41. لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ﴿41﴾

    ایسے لوگوں کے لیے نیچے بچھونا بھی جہنم کی آگ کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی اسی کا۔ اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔
  42. وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿42﴾

    اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور ہم (اعمال کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ جنت کے وارث ہیں اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے
  43. وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿43﴾

    اور جو کینے ان کے سینوں میں ہوں گے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ ان کے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں یہاں کا راستہ دکھایا اور اگر اللہ ہم کو راستہ نہ دکھاتا تو ہم راستہ نہ پاسکتے۔ بیشک ہمارے اللہ کے رسول حق بات لیکر آئے تھے اور اس روز منا دی کردی جائے گی کہ تم ان اعمال کے صلہ میں جو دنیا میں کرتے تھے اس بہشت کے مالک بنا دیے گئے ہو۔
  44. وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ﴿44﴾

    اور اہل جنت اہل دوزخ کو پکار کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچا پا لیا۔ بھلا تم نے بھی اس وعدے کو سچا پایا جو تم سے کیا گیا تھا ؟ وہ کہیں گے ہاں ! تو اس وقت ان میں سے ایک پکارے گا کہ اللہ کی لعنت ان ظالموں پر۔
  45. الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ﴿45﴾

    جو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے اور آخرت سے انکار کرتے تھے۔
  46. وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ﴿46﴾

    ان دونوں (جنت اور دوزخ) کے درمیان اعراف نام ایک دیوار ہوگی اور اعراف (بلندی) پر کچھ آدمی ہوں گے جو سب کو ان کی صورتوں سے پہچان لیں گے، وہ اہل جنت کو پکار کر کہیں گے تم پر سلامتی ہو۔ یہ لوگ (اعراف والے) ابھی بہشت میں داخل تو نہیں ہوئے ہوں گے مگر امیدوار ہوں گے۔
  47. وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ع﴿47﴾

    اور جب ان کی نگاہیں پلٹ کر دوزخیوں کی طرف جائیں گی تو عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب ! ہم کو ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کرنا۔
  48. وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ﴿48﴾

    اور اہل اعراف کافر لوگوں کو جنہیں وہ ان کی شکلوں سے پہچانتے ہوں گے پکار کر کہیں گے کہ آج نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کچھ کام آئی اور نہ تمہارا تکبر ہی فائدہ مند ہوا۔
  49. اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ﴿49﴾

    ) پھر مؤمنوں کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے کہ) کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اللہ اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہ کرے گا ؟ تو مومنو ! تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔ تمہیں کچھ خوف نہیں اور نہ تم کو کچھ رنج اور نہ فکر ہوگا۔
  50. وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ﴿50﴾

    اور وہ دوزخی جنتیوں سے گڑگڑا کر کہیں گے کہ تھوڑا سا پانی ہماری طرف بہا دو یا وہ رزق جو اللہ نے تمہیں دیا ہے ہمیں بھی اس میں سے دے دو۔ وہ جواب دیں گے کہ ”اللہ نے جنت کا رزق اور پانی کافروں پر حرام کردیا ہے۔
  51. الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ﴿51﴾

    جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے، اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے۔
  52. وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿52﴾

    اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو علم و دانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کردیا گیا ہے اور وہ مومنین کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
  53. هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ع﴿53﴾

    کیا یہ لوگ اس کے واقع ہوجانے کے منتظر ہیں ؟ جس دن وہ واقع ہوجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہوں گے وہ بول اٹھیں گے کہ بیشک ہمارے رب کے رسول حق لیکر آئے تھے بھلا آج کوئی ہمارے سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں ؟ یا ہم دنیا میں پھر بھیج دیے جائیں کہ جو برے عمل ہم پہلے کرتے تھے وہ نہ کریں بلکہ ان کے سوا اور نیک عمل کریں۔ بیشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افترا کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا۔
  54. اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ﴿54﴾

    کچھ شک نہیں کہ تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج، چاند اور ستاروں کو پیدا کیا۔ سب اس کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے، اور حکم بھی اسی کا ہے۔ اللہ رب العالمین بڑی برکت والا ہے۔
  55. اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ﴿55﴾

    لوگو ! اپنے رب سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
  56. وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿56﴾

    اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا، اور اللہ سے ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے دعائیں مانگتے رہنا۔ بیشک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔
  57. وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ﴿57﴾

    اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت یعنی مینہ سے پہلے ہوائوں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری ہوائوں کو اٹھا لاتی ہیں تو ہم ان کو ایک مری ہوئی (خشک) بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں پھر بادل سے بارش کردیتے ہیں، پھر بارش سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو زمین سے زندہ کرکے باہر نکالیں گے، یہ آیات اس لیے بیان کی جاتی ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔
  58. وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ع﴿58﴾

    جو زمین پاکیزہ ہے اس میں سے سبزہ بھی اللہ کے حکم سے نفیس ہی نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں جو کچھ نکلتا ہے ناقص ہوتا ہے، ایسے ہم آیتوں کو شکرگزار لوگوں کے لیے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔
  59. لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿59﴾

    ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔
  60. قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿60﴾

    تو ان کی قوم کے سردار کہنے لگے ہم تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔
  61. قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿61﴾

    تو انہوں نے کہا اے میری قوم ! مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے کیونکہ میں رب العالمین کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔
  62. اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿62﴾

    میں تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے ایسی باتیں معلوم ہیں جن سے تم بیخبر ہو۔
  63. اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴿63﴾

    کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک بندے کے ذریعے تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی، وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
  64. فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ع﴿64﴾

    پس ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا تو ہم نے نوح کو ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہونے والوں کو تو بچالیا مگر جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو غرق کردیا۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ لوگ اندھے تھے۔
  65. وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ﴿65﴾

    اور اسی طرح قوم عاد کی طرف انکے بھائی ہود کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں کیا تم ڈرتے نہیں ؟۔
  66. قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ﴿66﴾

    تو انکی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق لگتے ہو۔ اور ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔
  67. قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿67﴾

    انہوں نے کہا کہ اے میری قوم ! مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ میں تو رب العالمین کے طرف سے بھیجا گیا پیغمبر ہوں۔
  68. اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ﴿68﴾

    میں تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں اور میں امین (اور تمہارا) خیر خواہ ہوں۔
  69. اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴿69﴾

    کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک بندے کے ذریعے تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی، تاکہ وہ تمہیں ڈرائے۔ اور یاد کرو جب اس نے تم کو نوح کے بعد سردار بنایا اور تم کو پھیلادیا، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ نجات پاسکو۔
  70. قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿70﴾

    وہ کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم اکیلے اللہ کی عبادت کریں اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے۔ ان کو چھوردیں ؟ اگر تم سچے ہو تو جس سے تم ہم کو ڈراتے ہو اسے لے آؤ۔
  71. قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ﴿71﴾

    ہو دنے کہا کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب نازل ہونا ضروری ہوچکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے اپنی طرف سے رکھ لیے ہیں۔ جن کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔
  72. فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ع﴿72﴾

    پھر ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے ان کو بچالیا اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان لانے والے نہ تھے
  73. وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿73﴾

    قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا تو صالح نے کہا کہ اے میری قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تمہارے پاس رب کی طرف سے ایک دلیل آچکی ہے یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی ہے تو اسے آزاد چھوڑدو کہ اللہ کی زمین پر چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا، ورنہ دردناک عذاب تمہیں پکڑے گا۔
  74. وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ﴿74﴾

    اور یاد تو کرو جب اس نے تم کو قوم عاد کے بعد سردار بنایا اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین میں محل بناتے ہو۔ اور پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو، پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔
  75. قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ﴿75﴾

    تو ان کی قوم کے مغرور سردار غریب لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلاتم یقین کرتے ہو کہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجے گئے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ! جو چیز وہ دے کر بھیجے گئے ہیں ہم اس پر بلا شبہ ایمان رکھتے ہیں۔
  76. قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ﴿76﴾

    تو مغرور سردار کہنے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم تو اس کو نہیں مانتے۔
  77. فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ﴿77﴾

    آخر انہوں نے اونٹنی کی کونچوں کو کاٹ ڈالا اور اپنے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور کہنے لگے کہ صالح جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تم اللہ کے پیغمبر ہو تو ہم پر لے آؤ۔
  78. فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ﴿78﴾

    تو ان کو زلزلے نے آپکڑا اور پھر اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔
  79. فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ﴿79﴾

    پھر صالح ان سے نہ امید ہو کر پھرے اور بولے کہ اے میری قوم ! میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچادیا اور تمہاری خیر خواہی کی، مگر تم ایسے ہو کہ خیر خواہوں کو پسند ہی نہیں کرتے۔
  80. وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ﴿80﴾

    اور اسی طرح جب ہم نے لوط کو پیغمبر بنا کر بھیجا تو اس وقت اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے پہلے اہل دنیا میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا۔
  81. اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ﴿81﴾

    تم نفسانی خواہش پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو۔
  82. وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ﴿82﴾

    تو ان سے اس کا کوئی جواب نہ بن پڑا اور یوں بولے کہ ان (لوگوں یعنی لوط اور ان کے گھر والوں) کو اپنے گاؤں سے نکال دو کہ یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں۔
  83. فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ﴿83﴾

    تو ہم نے ان کو اور ان کے گھروالوں کو بچالیا مگر ان کی بیوی نہ بچی کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں تھی۔
  84. وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ع﴿84﴾

    اور ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا سو دیکھ لو کہ گناہگاروں کا کیسا انجام ہوا ؟
  85. وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ﴿85﴾

    اور اہل مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا تو انہوں نے کہا اے میری قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تمہارے رب کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ماپ اور تول پورا کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم ایمان والے ہو تو سمجھ لو یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے۔
  86. وَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ﴿86﴾

    اور ہر راستہ پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص ایمان لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور اللہ کی راہ سے روکتے ہو۔ اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو اور اس وقت کو یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو اللہ نے تم کو بڑی جماعت بنا دیا اور دیکھ لو خرابی کرنے والوں کا کیا انجام ہوا ؟
  87. وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ﴿87﴾

    اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی تو صبر کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کردے، اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
  88. قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫﴿88﴾

    ترجمہ ـ: تو ان کی قوم کے سردار اور بڑے لوگ کہنے لگے کہ اے شعیب ! یا تو ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو اپنے شہر سے نکال دیں گے یا تم ہمارا مذہب قبول کرلو۔ انہوں نے کہا کہ خواہ ہم تمہارے دین سے بیزار ہوں تب بھی۔
  89. قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ﴿89﴾

    اگر اس کے بعد کہ اللہ ہمیں نجات دے چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو گویا ہم نے اللہ پر جھوٹا بہتان باندھا اور ہمیں قطعاً لائق نہیں کہ ہم دوبارہ کفر کی طرف لوٹ جائیں ہاں ! اللہ جو ہمارا رب ہے اگر وہ چاہے (تو پھر ہم مجبور ہیں) ہمارے رب کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے ہمارا بھروسہ اللہ ہی پر ہے۔ اے رب ! ہماری قوم اور ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کر دے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
  90. وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ﴿90﴾

    اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے کہ بھائیو ! اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو گویا خسارے میں پڑگئے۔
  91. فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ﴿91﴾

    تو ان کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔
  92. الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ﴿92﴾

    یہ لوگ جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا تھا ایسے برباد ہوئے گویا وہ ان میں کبھی آباد نہ ہوئے تھے غرض جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے۔
  93. فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ع﴿93﴾

    تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا بھائیو ! میں نے تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچادئیے ہیں اور تمہاری خیر خواہی کی تھی، تو میں کافروں پر عذاب نازل ہونے سے رنج و غم کیوں کروں۔
  94. وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ﴿94﴾

    اور ہم نے کسی شہر میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے لوگوں کو (جو ایمان نہ لائے) دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں۔
  95. ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿95﴾

    پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ مال و اولاد میں زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اسی طرح کا دکھ اور رنج ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے۔ تو ہم نے ان کو اچانک پکڑلیا، جبکہ وہ اپنے حال میں بیخبر تھے۔
  96. وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿96﴾

    اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکات کے دروازے کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا سو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑلیا۔
  97. اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ﴿97﴾

    کیا بستی (مکہ) والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ بیخبر سو رہے ہوں۔
  98. اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ﴿98﴾

    اور شہر والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آنازل ہو اور وہ کھیل رہے ہوں۔
  99. اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ع﴿99﴾

    کیا یہ لوگ اللہ کی تدبیر کا ڈر نہیں رکھتے۔ سن لو کہ اللہ کی تدبیر سے وہی لوگ بےخوف ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہوں۔
  100. اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ﴿100﴾

    جو لوگ ان بستیوں کے ہلاک ہونے کے بعد زمین کے وارث ہوئے کیا انہیں یہ رہنمائی نہیں ملی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے بدلے ان پر (بھی) مصیبت ڈال سکتے ہیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر (بھی) کرسکتے ہیں کہ وہ سن ہی نہ سکیں۔
  101. تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ﴿101﴾

    یہ بستیاں ہیں جن کے حالات ہم آپ کو سناتے ہیں اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لیکر آئے مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ جس چیز کو پہلے جھٹلا چکے ہوں اسے مان لیں۔ اسی طرح اللہ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔
  102. وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ﴿102﴾

    اور ہم نے ان میں سے بہتوں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا اور ان میں بہتوں کو دیکھا تو بد کار ہی دیکھا۔
  103. ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ﴿103﴾

    پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا سو دیکھ لو خرابی کرنے والوں کا انجام کیا ہوا۔
  104. وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿104﴾

    اور موسیٰ نے کہا کہ اے فرعون ! میں یقینا رب العالمین کا پیغمبر ہوں۔
  105. حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿105﴾

    ) میرے شایان شان یہی ہے کہ میں جو کہوں سچ کہوں۔ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی دلیل (معجزات) لیکر آیا ہوں سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دیجیے۔
  106. قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿106﴾

    فرعون نے کہا اگر نشانی لیکر آئے ہو، اگر سچے ہو تولاؤ دکھاؤ۔
  107. فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ﴿107﴾

    موسیٰ نے اپنی لاٹھی زمین پر ڈالی تو وہ سچ مچ کا اژدھا بن گیا
  108. وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ع﴿108﴾

    اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے لیے چمکدار دکھائی دینے لگا۔
  109. قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ﴿109﴾

    تو قوم فرعون کے سردار کہنے لگے کہ یہ بہت بڑا جادوگر ہے۔
  110. یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ﴿110﴾

    اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ بھلا تمہارا کیا خیال ہے ؟
  111. قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ﴿111﴾

    پھر انہوں نے فرعون سے کہا کہ فی الحال اسے اور اس کے بھائی کے معاملے کو موقوف رکھیے اور شہروں میں نقیب بھیج دیجیے۔
  112. یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ﴿112﴾

    کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں۔
  113. وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ﴿113﴾

    چناچہ ایسا ہی کیا گیا اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں انعام دیا جائے۔
  114. قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ﴿114﴾

    فرعون نے کہا ہاں ! ضرور اور تم مقربوں میں شامل کرلیے جاؤ گے۔
  115. قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ﴿115﴾

    جب دونوں فریق مقررہ دن پر جمع ہوئے تو جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ ! یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں۔
  116. قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ﴿116﴾

    موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو جب انہوں نے جادو کی چیزیں ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا (اور لا ٹھیوں اور رسیوں سے سانپ بنا بنا کر) انہیں ڈرادیا اور بڑا جادو دکھایا۔
  117. وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ﴿117﴾

    اور (اس وقت) ہم نے موسیٰ پر وحی بھیجی کہ تم اپنی لاٹھی ڈال دو۔ تو وہ (فوراً سانپ بن کر) جادوگروں کے بنائے ہوئے جھوٹے شعبدے کو ایک ایک کرکے نگلنے لگا۔
  118. فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ﴿118﴾

    پھر سچ ثابت ہوگیا اور جو کچھ فرعونی کرتے تھے جھوٹ ثابت ہوگیا۔
  119. فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ﴿119﴾

    فرعون اور اس کے ساتھی مغلوب ہوئے اور ذلیل ہو کر لوٹ گئے۔
  120. وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ﴿120﴾

    جادو گر یہ کیفیت دیکھ کر سجدے میں گر پڑے۔ (120)
  121. قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿121﴾

    اور کہنے لگے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے۔
  122. رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ﴿122﴾

    ) (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔
  123. قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ﴿123﴾

    فرعون نے کہا کہ اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آؤ بیشک یہ فریب ہے جو تم سب نے مل کر شہر میں کیا ہے۔ تاکہ شہر والوں کو یہاں سے نکال دو۔ سو عنقریب تمہیں اس کا انجام پتہ چل جائیگا۔
  124. لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ﴿124﴾

    پہلے میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاوں کاٹ دوں گا پھر تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا۔
  125. قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ﴿125﴾

    وہ بولے کہ ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
  126. وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ع﴿126﴾

    اور اس کے سوا تجھے ہماری کونسی بات بری لگی ہے جب ہمارے پاس ہمارے رب کی نشانیاں آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ اے ہمارے رب ہم پر صبر اور استقامت کے دروازے کھول دے ہم مریں تو مسلمان ہی مریں۔
  127. وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ﴿127﴾

    فرعونی سردار کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیں گے تاکہ وہ ملک میں خرابی کریں، آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دستبردار ہوجائیں وہ بولے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے بیشک ہم ان پر غالب ہیں۔
  128. قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ﴿128﴾

    موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ زمین تو اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا تا ہے اور آخر تو بھلا ڈرنے والوں کا ہی ہے۔
  129. قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿129﴾

    وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہمیں تکلیفیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر ڈالے اور اس کی جگہ تمہیں خلیفہ بنادے اور پھر دیکھے کہ تم کیا عمل کرتے ہو۔
  130. وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ﴿130﴾

    اور ہم نے فرعونیوں کو قحط اور پھلوں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں۔
  131. فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿131﴾

    تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں اور جب سختی پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے رفیقوں کو بد شگونی بتاتے۔ دیکھو ! ان کی بد شگونی اللہ کے ہاں لکھ دی گئی مگر ان میں اکثر نہیں جانتے۔
  132. وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ﴿132﴾

    اور کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس خواہ کوئی بھی نشانی لاؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو، مگر ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
  133. فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ﴿133﴾

    تو ہم نے ان پر طوفان، ٹڈیاں، جوئیں اور مینڈک و خون (یعنی) کتنی ہی کھلی نشانیاں بھیجیں مگر وہ تکبر ہی کرتے رہے اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔
  134. وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ﴿134﴾

    اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو۔ جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب کو ٹال دو گے تو ہم تم پر بھی ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ روانہ کردیں گے۔
  135. فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ﴿135﴾

    پھر ہم ایک مدت تک ان سے عذاب کو دور کردیتے تو پھر عہد کو توڑڈالتے۔
  136. فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ﴿136﴾

    تو ہم نے ان سے بدلہ لیکر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے۔
  137. وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ﴿137﴾

    اور جو لوگ کمزورس مجھے جاتے تو ان کو زمین شام کے مشرق و مغرب کا وارث کردیا جس میں ہم نے برکت دی تھی اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے اللہ کا کیا ہوا مبارک وعدہ پورا ہوا۔ فرعون اور قوم فرعون جو محل بناتے اور انگور کے باغ جو چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا۔
  138. وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ﴿138﴾

    اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جاپہنچے جو اپنے بتوں کی عبادت کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ بنی اسرائیل کہنے لگے کہ موسیٰ جیسے ان کے لوگوں کے معبود ہیں ہمارے لیے بھی ایسا ہی ایک معبود بنادو۔ موسیٰ نے کہا بلاشبہ تم بڑے جاہل لوگ ہو۔
  139. اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿139﴾

    بیشک جس کام میں یہ لوگ پھنسے ہوئے ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں بےہودہ ہے۔
  140. قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ﴿140﴾

    اور (یہ بھی کہا کہ) بھلا میں اللہ کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ؟ حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے۔
  141. وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ع﴿141﴾

    اور (ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں کے ہاتھ سے نجات بخشی، وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے، تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے سخت آزمائش تھی۔
  142. وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ﴿142﴾

    اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا وعدہ مقرر کیا، پھر اسے دس مزید راتوں سے مکمل کیا تو اس کے رب کی چالیس راتوں کی میعاد پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے (کوہ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔ ان کی اصلاح کرتے رہنا اور شریروں کے رستے نہ چلنا
  143. وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿143﴾

    جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور پر) پہنچے اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے رب العزت ! مجھے جلوہ دکھا میں تیرا دیدار بھی کروں۔ اللہ نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں ! پہاڑ کی طرف دیکھو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے جب اللہ رب العزت نے پہاڑ پر تجلی کی تو وہ ریزہ ریزہ ہوگیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور میں توبہ کرتا ہوں۔ اور ایمان لانے والوں میں سب سے اول ہوں۔
  144. قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ﴿144﴾

    (اللہ نے) فرمایا : موسیٰ ! میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں میں ممتاز کیا ہے تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور میرا شکر بجالاؤ۔
  145. وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ﴿145﴾

    اور ہم نے تورات کی تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز کی تفصیل لکھ دی، تو (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو ان میں درج ہیں اور بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا۔
  146. سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ﴿146﴾

    جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں انکو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اسے اپنا راستہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے اپنا راستہ بنا لیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے۔
  147. وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ع﴿147﴾

    اور جن لوگوں ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور یہ جیسے عمل کرتے رہے ان کو ویسا ہی بدلہ ملے گا۔
  148. وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ﴿148﴾

    اور اس کی قوم نے موسیٰ کے طور پر جانے کے بعد اپنے زیورات کا ایک بچھڑا بنا لیا وہ ایک جسم تھا کہ جس میں سے گائے کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات کرسکتا ہے۔ نہ ان کو رستہ دکھا سکتا ہے، اس کر انہوں نے معبود بنالیا اور اپنے حق میں ظلم کیا۔
  149. وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴿149﴾

    اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے۔
  150. وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴿150﴾

    اور موسیٰ جب اپنی قوم میں نہایت غصے میں اور افسوس کی حالت میں واپس آئے تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بڑی بری نیابت کی۔ کیا تم نے اپنے رب کا حکم ، (یعنی میرا اپنے پاس آنا جلد چاہا) اور (غصہ میں) تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی کو بالوں سے پکڑکر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی ! لوگ مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل ہی کر ڈالیں تو آپ ایسا کام نہ کریں کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملائیں۔
  151. قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ع﴿151﴾

    تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے رب ! مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
  152. اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ﴿152﴾

    (اللہ نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا تھا ان پر اللہ کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت نصیب ہوگی اور ہم افتراپردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔
  153. وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿153﴾

    اور جنہوں نے برے کام کیے، پھر توبہ کرلی اور اس کے بعد ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ آپ کا رب بخشنے والا مہر بان ہے۔
  154. وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ﴿154﴾

    اور جب موسیٰ کا غصہ اتر گیا تو اس نے تختیاں اٹھا لیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کیلئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ہدایت اور رحمت تھی۔
  155. وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ﴿155﴾

    اور موسیٰ نے اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب کرکے کوہ طور پر حاضر کیے۔ جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا کہ اے رب العزت ! اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھے پہلے ہی ہلاک کردیتا۔ کیا تو اس کام کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کر دے گا یہ تو تیری آزمائش ہے اس سے تو جسے چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے ہدایت بخش دے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، تو ہمارے گناہ بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔
  156. وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ﴿156﴾

    اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی ہم تیری طرف رجوع کرچکے۔ فرمایا کہ یہ میرا عذاب ہے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے، زکوٰۃ دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔
  157. اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ع﴿157﴾

    وہ نبی امی (محمد ﷺ کی پیروی کرتے ہیں، جن کے بارے میں وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق اتارتے ہیں اور جن لوگوں نے ان کی حمایت کی اور انہیں مدد دی اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی، وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔
  158. قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ﴿158﴾

    (اے محمد ﷺ !) فرما دیں کہ لوگو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا (اس کا رسول) ہوں جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ لہٰذا اللہ اور اس کے رسول امی پر ایمان لاؤجو اللہ اور اس کے کلام پر ایمان رکھتا ہے ان کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔
  159. وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ﴿159﴾

    اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔
  160. وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿160﴾

    اور ہم نے ان کو (بنی اسرائیل کے) بارہ قبیلوں کو اور بارہ ہی جماعتیں بنا دیا اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان کے سروں پر بادل کا سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلویٰ اتارتے رہے۔ اور ان سے کہا کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھائو۔ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ جو نقصان کیا اپنا ہی کیا۔
  161. وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ﴿161﴾

    اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں رہنا شروع کر دو (سکونت اختیار کرلو) اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا پینا اور حِطَّۃٌ (ہمیں بخش دے) کہنا اور سجدہ کرتے ہوئے (سر کو جھکاتے ہوئے) داخل ہونا۔ تو ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور بھی زیادہ دیں گے۔
  162. فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ع﴿162﴾

    مگر ان میں جو ظالم تھے انہوں نے اس بات کو بدل دیا جو ان سے کہی گئی تھی۔ تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ وہ ظلم کرتے تھے۔
  163. وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ﴿163﴾

    اور ان سے اس گائوں کا حال تو پوچھو جو لب دریا واقع تھا۔ جب لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے بڑھنے لگے۔ اس وقت کہ ان کے ہفتہ کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اس طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈال رکھا تھا۔
  164. وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ﴿164﴾

    اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے۔ تو انہوں نے کہا، اس لیے کہ تمہارے رب کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں۔
  165. فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ﴿165﴾

    انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کیونکہ وہ نافرمانی کرتے جا رہے تھے۔
  166. فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ﴿166﴾

    غرض جن برے اعمال سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ سرکشی کرتے ہوئے وہی کام کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندرہو جاؤ۔
  167. وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿167﴾

    اور (اس وقت کو یاد کرو) جب آپ کے رب نے یہود کو آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے لوگوں کو مسلط رکھے گا جو ان کو بڑی سخت تکلیفیں دیتے رہے گے۔ بیشک آپ کا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔ اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔
  168. وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿168﴾

    اور ہم نے ان کو گروہ گروہ بنا کر (ملک میں) پھیلا دیا۔ بعض ان میں سے نیک ہیں اور بعض دوسری طرح کے (بدکار) اور ہم آسائشوں اور تکلیفوں سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ ہماری طرف رجوع کریں۔
  169. فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿169﴾

    پھر ان کے بعد برے لوگ ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے یہ لوگ اس ادنیٰ زندگی کا سامان لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں معاف کردیا جائے گا۔ اور اگر ان کے پاس ایسا ہی سامان پھر آئے تو وہ اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا تھا کہ اللہ پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے اور جو کچھ اس کتاب میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں۔
  170. وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ﴿170﴾

    اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں۔ اور نماز قائم کرتے ہیں ان کو ہم اجر دیں گے کہ ہم نیک لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔
  171. وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ع﴿171﴾

    اور جب ہم نے ان کے سروں پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر ابھی گرنے والا ہے (تو ہم نے کہا کہ) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو اور جو اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم بچ جاؤ۔
  172. وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ﴿172﴾

    اور جب آپ کے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے انکی اولاد نکالی تو ان سے خوداپنے اوپر گواہ بناکر اقرار لیا (اور پوچھا) کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا رب ہے) یہ اقرار اس لیے لیا تھا کہ قیامت کے دن کبھی ایسے نہ کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔
  173. اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ﴿173﴾

    یا یہ نہ کہو کہ شرک تو پہلے بڑوں نے کیا تھا اور ہم تو ان کی اولاد تھے تو کیا جو کام مشرک کرتے رہے اسکے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے۔
  174. وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿174﴾

    اور اسی طرح ہم اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ رجوع کریں۔
  175. وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ﴿175﴾

    اور ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دیں جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں، پس وہ ان کو چھوڑ نکلا، پھر اس کے پیچھے شیطان لگ گیا اور وہ گمراہوں میں ہوگیا۔
  176. وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ﴿176﴾

    اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے (ان کے درجے) بلند کردیتے، مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا۔ تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر سختی کرو تو زبان نکالے رہے اور جب چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ تو ان سے یہ قصہ بیان کرو تاکہ وہ فکر کریں۔
  177. سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ﴿177﴾

    جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان کیا تو اپنا ہی کیا۔
  178. مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴿178﴾

    جس کو اللہ ہدایت دے وہی راہ پانے والا ہے اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
  179. وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ﴿179﴾

    اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں۔ ان کے دل ہیں مگر سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے کان ہیں مگر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ بالکل جانوروں کی طرح ہیں۔ بلکہ ان سے بھی بڑھے ہوئے یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
  180. وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿180﴾

    اور اللہ کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو۔ اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں۔ ان کو چھوڑ دو ، وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کی سزا پائیں گے۔
  181. وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ع﴿181﴾

    اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ گروہ ہے جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔
  182. وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ﴿182﴾

    اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو آہستہ آہستہ اس طریقہ سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم بھی نہ ہوگا۔
  183. وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ﴿183﴾

    اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔
  184. اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ﴿184﴾

    کیا انہوں نے غور نہیں کیا ؟ کہ ان کے ساتھی (محمد ﷺ کو کسی طرح کا بھی جنون نہیں ہے وہ تو کھلم کھلا ڈرانے والے ہیں۔
  185. اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ﴿185﴾

    کیا انہوں نے آسمان و زمین کی بادشاہت میں اور جو چیزیں اللہ نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی اور اس بات پر خیال نہیں کیا ؟ کہ عجب نہیں ان کی موت کا وقت قریب پہنچ گیا ہو۔ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے۔
  186. مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ﴿186﴾

    جس شخص کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ ان گمراہوں کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں۔
  187. یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿187﴾

    یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب آئے گی ؟ فرما دیں کہ اس کا علم تو میرے رب کو ہی ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کر دے گا اور وہ آسمان و زمین پر ایک بھاری حادثہ ہوگا۔ اور اچانک تم پر آجائے گی۔ یہ آپ سے اسطرح پوچھتے ہیں کہ آپ اس سے بخوبی واقف ہیں۔ کہو کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔
  188. قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ع﴿188﴾

    فرما دیں کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے۔ اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا۔ اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی میں تو مومنوں کو ڈر انے اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔
  189. هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ﴿189﴾

    وہی تو ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی بنائی تاکہ اس کے ہاں سکون حاصل کرے۔ پھر جب کسی مرد نے اپنی بیوی سے صحبت کی تو اسے ہلکا سا حمل ہوگیا جس کے ساتھ وہ چلتی پھرتی رہی، پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں اپنے پروردگار سے دعا کرنے لگے کہ : اگر تو ہمیں تندرست بچہ عطا کرے تو ہم یقینا شکر کرنے والوں سے ہوں گے۔
  190. فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ﴿190﴾

    جب اس نے ان کو صحیح سالم بچہ دے دیا ہے تو وہ اس میں اس کے لیے شریک بنانے لگے مگر اللہ ان کے شریک بنانے سے بلندو برتر ہے۔
  191. اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ﴿191﴾

    کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کیے جاتے ہیں۔
  192. وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ﴿192﴾

    نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں۔
  193. وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ﴿193﴾

    اور اگر تم ان کو سیدھے راستے کی طرف بلائو تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے تم ان کو بلائو یا خاموش رہو۔
  194. اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿194﴾

    (مشرکو !) جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں اچھا تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہیے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں۔
  195. اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ﴿195﴾

    بھلا ان کے پائوں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں ؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلا لو اور میرا کچھ بگاڑ لو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو۔
  196. اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ﴿196﴾

    میرا مددگار تو اللہ ہی ہے جس نے سچی کتاب نازل کی اور نیک لوگوں کا وہی مددگار ہے۔
  197. وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ﴿197﴾

    اور جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔
  198. وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ﴿198﴾

    اور اگر تم ان کو سیدھے رستہ کی طرف بلائو تو سن نہ سکیں اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ بظاہر آنکھیں کھولے تمہاری طرف دیکھتے ہیں مگر وہ دیکھتے کچھ نہیں۔
  199. خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ﴿199﴾

    (اے نبی ﷺ !) درگزر کرو اور معروف کام کرنے کا حکم دو۔ اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرو۔
  200. وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿200﴾

    اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی قسم کا وسوسہ پیدا ہو تو اللہ سے پناہ مانگو بیشک وہ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
  201. اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ﴿201﴾

    جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور صحیح صورت حال دیکھنے لگتے ہیں۔
  202. وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ﴿202﴾

    اور ان (شیطانوں) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچتے جاتے ہیں پھر اس میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے۔
  203. وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿203﴾

    اور جب تم ان کے پاس کچھ دنوں کے لیے کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے اپنی طرف سے منتخب کیوں نہ کرلی۔ کہہ دو کہ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ (قرآن) تمہارے رب کی طرف سے دانش اور بصیرت اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
  204. وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴿204﴾

    اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو۔ اور خاموش رہا کرو۔ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
  205. وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ﴿205﴾

    اور اپنے رب کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح و شام یاد کرتے رہو اور دیکھنا غافل نہ ہونا۔
  206. اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩۩ع﴿206﴾

    جو لوگ تمہارے رب کے پاس ہیں۔ وہ اس کی عبادت سے اکڑتے نہیں اور اس پاک ذات کو یاد کرتے ہیں اور اس کے آگے سجدے کرتے رہتے ہیں۔