9. At-Tawbaالتوبة
The Repentance · Medinan · 129 ayahs · 16 rukus · محترمہ رفعت اعجاز
بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ﴿1﴾
(اے اہل اسلام ! اب) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری اور (جنگ کی تیاری ہے)۔فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ﴿2﴾
(تو مشرکو !) تم زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہ کرسکو گے اور یہ بھی کہ اللہ کفار کو رسوا کرنے والا ہے۔وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ﴿3﴾
اور حج اکبر کے دن اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اللہ مشرکوں سے بالکل الگ ہے اور اس کا رسول بھی۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اگر نہ مانو اور (اللہ سے) مقابلہ چاہو تو جان لو کہ تم اللہ کو تھکا نہ سکو گے اور (اے پیغمبر ﷺ !) کفار کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ﴿4﴾
البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور انہوں نے اسے پورا کرنے میں کوئی کمی نہ کی ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو مقررہ مدت تک ان سے عہد پورا کرو کہ اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿5﴾
جب عزت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پائو قتل کر دو اور پکڑ لو اور گھیر لو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کرلیں نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ د۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿6﴾
اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچا دو ، اس لیے کہ یہ علم نہیں رکھتےكَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ﴿7﴾
بھلا مشرکوں کے لیے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے عہد کس طرح قائم رہ سکتا ہے۔ ہاں ! جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد حرام کے پاس عہد کیا ہے اگر وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہو، بیشک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ﴿8﴾
بھلا ان سے عہد کیونکر پورا کیا جائے جب ان کا یہ حال ہے کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا یہ منہ سے تو تمہیں خوش کردیتے ہیں لیکن ان کے دل ان باتوں کو قبول نہیں کرتے اور ان میں اکثر نافرمان ہیں۔اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿9﴾
انہوں نے اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت کے بدلے بیچ دیا اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ جو کام بھی کرتے ہیں برے ہیں۔لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ﴿10﴾
یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا لحاظ رکھتے ہیں اور نہ عہد کا اور یہ لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ﴿11﴾
اگر یہ توبہ کرلیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور سمجھنے والے لوگوں کے لیے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ﴿12﴾
اور اگر وہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں عیب نکالنے لگیں تو ان کفر کے سرداروں سے لڑو اور ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں، عجب نہیں کہ یہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں۔اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿13﴾
بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور اللہ کے رسول کو جلاوطن کرنے کا پکا ارادہ کرلیا اور انہوں نے عہد شکنی کی ابتدا کی۔ کیا تم ایسے لوگوں سے ڈرتے ہو ؟ حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ﴿14﴾
ان سے خوب لڑو اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومنین کے دلوں کو ٹھنڈا کرے گا۔وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ﴿15﴾
اور ان کے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رجوع (توبہ کی توفیق عطا) کرے گا۔ اور اللہ سب کچھ جانتا ہے حکمت والا ہے۔اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿16﴾
کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیے جاؤ گے، حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے جہاد کیا اور نہ ہی اللہ اور اسکے رسول اور مومنین کے سوا کسی کو دوست بنایا ہے جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ﴿17﴾
مشرکوں کا کام نہیں کہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں۔ جب کہ وہ اپنے اوپر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بیکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ﴿18﴾
اللہ کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے امید ہے یہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں۔اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ﴿19﴾
کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا اس شخص کے کام کے برابر سمجھا ہے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے ؟ یہ لوگ اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہوسکتے۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ﴿20﴾
جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے رہے اللہ کے ہاں ان کے بڑے درجے ہیں اور وہی مراد پانے والے ہیں۔یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ﴿21﴾
ان کا رب ان کو اپنی رحمت اور رضا مندی کی خوشخبری دیتا ہے اور ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کی نعمتیں ہمیشہ کی ہیں۔خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ﴿22﴾
اور وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کچھ شک نہیں کہ اللہ کے ہاں بڑا ثواب ہےیٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴿23﴾
اے ایمان والو ! اگر تمہارے باپ اور بھائی ایمان کے بجائے کفر پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رکھو۔ اور جو ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں۔قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ع﴿24﴾
کہہ دو اگر تمہارے باپ، بیٹے، بھائی، بیویاں، خاندان کے لوگ اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور مکانات جن کو تم پسند کرتے ہو اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (عذاب) بھیجے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ﴿25﴾
اللہ نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے اور جنگ ِ حنین کے دن جب تم اپنی جماعت کی کثرت پر خوش ہوئے تو وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین باوجود اپنی فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ﴿26﴾
پھر اللہ نے اپنے پیغمبر پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور تمہاری مدد کے لیے فرشتوں کے لشکر جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے آسمان سے اتارے اور کفار کو عذاب دیا اور کفر کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿27﴾
پھر اس کے بعد اللہ جس کو چاہے تو بہ نصیب کرے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہےیٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ﴿28﴾
مومنو ! مشرک تو ناپاک ہیں تو اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ جانے پائیں اور اگر تمہیں مفلسی کا خوف ہو تو اللہ چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکمت والا ہے۔قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ع﴿29﴾
جو اہل کتاب اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں۔ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ﴿30﴾
اور یہود کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں۔ پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کیا کرتے تھے یہ بھی انہی کی ریس کرنے لگے ہیں۔ اللہ ان کو ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ﴿31﴾
انہوں نے اپنے مشائخ اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا رب بنا لیا ہے، حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اللہ واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ ان لوگوں کے شریک بنانے سے پاک ہے۔یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ﴿32﴾
یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے پھونک مار کر بھجادیں۔ اور اللہ اپنی روشنی (نور) پورا کیے بغیر نہ رہے گا۔ اگرچہ کفار کو برا ہی لگے۔هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ﴿33﴾
وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس دین کو دنیا کے تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ کفار ناخوش ہوں۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ﴿34﴾
مومنو ! اہل کتاب کے بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو اس دن کے دردناک عذاب کی خبر سنا دو۔یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ﴿35﴾
جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں خوب گرم کیا جائے گا اور پھر اس سے (ان بخیلوں) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی اور کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو۔اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ﴿36﴾
اللہ کے نزدیک مہینے گنتی میں بارہ ہیں اس روز سے کہ اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ اللہ کی کتاب میں ایک سال کے بارہ مہینے لکھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے چار مہینے حرمت کے ہیں یہی دین کا سیدھا راستہ ہے۔ تو ان مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔ اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو۔ جیسے وہ تم سے مل کر لڑتے ہیں۔ اور جان لو کہ اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ع﴿37﴾
(امن کے) کسی مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کردینا کفر میں اضافہ کرتا ہے، اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اس کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام، تاکہ اللہ کے حرام کردہ مہینوں کی گنتی پوری کرلیں اور جو اللہ نے منع کیا ہے اس کو جائز کرلیں۔ ان کے برے اعمال ان کو اچھے دکھائی دیتے ہیں اور اللہ کفار کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ﴿38﴾
مومنو ! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو تم زمین پر گرے جاتے ہو۔ ، یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے کیا تم آخرت کی نعمتوں کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔ دنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کے مقابلہ میں بہت ہی کم ہیں۔اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿39﴾
اگر تم نہ نکلو گے تو اللہ تم کو بڑا دردناک عذاب دے گا۔ اور تمہاری جگہ دوسرے لوگ پیدا کر دے گا اور تم اس کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکو گے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿40﴾
اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو اللہ ان کا مددگار ہے۔ وہ وقت تم کو یاد ہوگا جب ان کو کفار نے گھر سے نکال دیا تھا اس وقت دو ہی لوگ تھے (سیدنا ابوبکر ؓ اور دوسرے خود رسول اللہ ﷺ دونوں غارِ (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہ آتے تھے کفار کی بات کو پست کردیا اور بات تو اصل میں اللہ ہی کی بلند ہے اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿41﴾
تم ہلکے پھلکے ہو یا بوجھل جہاد کے لیے نکلو۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرو اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے۔ اگر تم جانتے ہو تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ع﴿42﴾
اگر دنیوی فائدہ قریب نظر آتا اور سفر بھی ہلکا ہوتا تو (وہ شوق سے) تمہارے ساتھ چل پڑتے مگر سفر ان کو لمبا دکھائی دیا تو بہانے کرنے لگے اور اللہ کی قسمیں کھانے لگے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو آپ کے ساتھ ضرور نکل پڑتے یہ ایسے بہانوں سے اپنے آپ کو وبال میں ڈال رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ﴿43﴾
اللہ آپ کو معاف کرے اس سے پہلے کہ جھوٹے اور سچے لوگ آپ پر ظاہر ہوجاتے آپ نے ان کو پیچھے رہنے کی اجازت کیوں دے دی ؟۔لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ﴿44﴾
جو لوگ اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو آپ سے اجازت نہیں مانگتے کہ پیچھے رہ جائیں بلکہ چاہتے ہیں کہ اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کریں اور اللہ پرہیزگاروں سے واقف ہے۔اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ﴿45﴾
اجازت وہی لوگ مانگتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور انکے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہو رہے ہیں۔وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ﴿46﴾
اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے تو اسکے لیے کچھ تیاری بھی کرتے لیکن اللہ نے ان کا نکلنا ہی پسند نہیں کیا اس لیے انہیں سست بنا دیا اور انکو کہہ دیا گیا کہ بیٹھے رہنے والے معذوروں کے ساتھ تم بھی بیٹھے رہو۔لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ﴿47﴾
اگر وہ تم میں شامل ہو کر نکل بھی کھڑے ہوتے تو تمہارے حق میں شرارت کرتے اور تم میں پھوٹ ڈلوانے کے لیے دوڑے دوڑے پھرتے اور تم میں ان کے جاسوس بھی ہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ﴿48﴾
یہ پہلے بھی فساد کرتے رہے ہیں اور بہت سی باتوں میں آپ لیے الٹ پھیر کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ حق آپہنچا اور اللہ کا حکم غالب ہوا اور وہ برا مانتے ہی رہ گئے۔وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ﴿49﴾
اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے تو اجازت ہی دیں اور آفت میں نہ ڈالیں۔ دیکھو یہ آفت میں پڑگئے ہیں اور دوزخ سب کفار کو گھیرے ہوئے ہے۔اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ﴿50﴾
(اے پیغمبر !) اگر تمہیں آسائش ملتی ہے تو ان کو برا لگتا ہے اور اگر کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنا کام پہلے ہی درست کرلیا تھا اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں۔قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ﴿51﴾
فرما دیں کہ ہمیں کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہو۔ وہی ہمارا کارساز ہے اور مومنوں کو اللہ پر ہی بھروسہ رکھنا چاہیے۔قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ﴿52﴾
فرما دیں کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہو اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ یا تو خود تمہارے اوپر عذاب نازل کرے یا ہمارے ہاتھوں عذاب دلوائے تو تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں۔قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ﴿53﴾
فرما دیں کہ تم مال خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ تم نافرمان لوگ ہو۔وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ﴿54﴾
اور ان سے ان کے نفقات قبول نہ کرنے کی وجہ صرف یہ کہ وہ اللہ اور اسکے رسول کے نافرمان لوگ ہیں۔ اگر وہ نماز کے لیے آتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر آتے ہیں اگر خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے کرتے ہیں۔فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ﴿55﴾
آپ کو ان کے مال اور اولاد تعجب میں نہ ڈالیں اللہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے اور جب ان کی جان نکلے تو اس وقت بھی وہ کافر ہی ہوں۔وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ﴿56﴾
اور اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم ہی میں سے ہیں، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں اصل میں یہ ڈرپوک لوگ ہیں۔لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ﴿57﴾
اگر ان کو کوئی بچائو کی جگہ (قلعہ) غار یا زمین کے اندر گھسنے کی جگہ مل جائے تو یہ رسیاں تڑاتے ہوئے بھاگ جائیں۔وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ﴿58﴾
اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں کہ زکوٰۃ تقسیم کرنے کی وجہ سے تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں اگر انکو اس میں سے خاطر خواہ مل جائے تو خوش رہیں اور اگر اس قدر نہ ملے تو فوراً خفا ہوجائیں۔وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ع﴿59﴾
اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو اللہ اور اسکے رسول نے ان کو دیا تھا اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے اللہ اپنے فضل سے اور اسکے پیغمبر اپنی مہربانی سے ہمیں پھر دے دینگے اور ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھتے ہیں (تو ان کے حق میں بہتر ہوتا)۔اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ﴿60﴾
صدقات زکوٰۃ (اور خیرات) تو مفلسوں، محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہو، غلاموں کے آزاد کرانے، قرض داروں کے قرض ادا کرنے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کی مدد میں بھی یہ مال خرچ کرنا چاہیے یہ اللہ کی طرف سے فرض ہے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿61﴾
اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو تکلیف دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص وہ کانوں کا کچا ہے۔ ان سے کہہ دو کہ وہ کانوں کا کچا ہونا ہی ہے تو تمہاری بھلائی کے لیے ہے وہ اللہ کا اور مومنوں کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے اور جو لوگ رسول اللہ کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے بہت بڑا عذاب تیار ہے۔یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ﴿62﴾
مومنو ! یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کردیں، حالانکہ اگر یہ دل سے مومن ہوتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو راضی کرنا بہت ضروری ہے۔اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ﴿63﴾
کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا یہ بڑی رسوائی ہے۔یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ﴿64﴾
منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (مسلمانوں) پر کہیں کوئی ایسی سورت نہ اتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو مسلمانوں پر ظاہر کر دے کہہ دو کہ ہنسی کیے جاؤ۔ جس بات سے تم ڈرتے ہو اللہ اس کو ضرور ظاہر کر دے گا۔وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ﴿65﴾
اور اگر تم ان سے اس بارے میں دریافت کرو تو ضرور کہیں گے کہ ہم تو یونہی بات چیت اور ہنسی مذاق کرتے تھے کہو کہ کیا تم اللہ اس کے رسول اور اللہ کی آیتوں سے ہنسی مذاق کرتے تھے۔لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ع﴿66﴾
بہانے مت بنائو تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دیں گے کیونکہ وہ گناہ کرتے ہیں۔اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ﴿67﴾
منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کی طرح ہیں کہ برے کام کرنے کو کہتے نیک کاموں سے منع کرتے اور خرچ کرنے سے ہاتھ بند کیے رکھتے ہیں۔ انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے ان کو بھلا دیا بیشک منافق نافرمان ہیں۔وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ﴿68﴾
اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے جہنم کی آگ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ جلتے رہیں گے وہی ان کے لائق ہے اور اللہ نے ان پر لعنت کردی ہے اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب تیار ہے۔كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴿69﴾
تم (منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو، جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ وہ تم سے بہت طاقتور اور مال و اولاد میں کہیں زیادہ تھے تو وہ اپنے حصے کا مزہ لوٹ چکے سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصہ سے فائدہ اٹھا چکے ہیں اسی طرح تم نے اپنے حصہ سے فائدہ اٹھا لیا اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا و آخرت میں ضائع ہوگئے اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿70﴾
کیا ان لوگوں کو ان لوگوں کے حالات کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے، یعنی قوم نوح، عاد اور ثمود کی قوم اور ابراہیم کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے لے کر آئے اور اللہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿71﴾
اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور بری بات سے منع کرتے ہیں۔ نماز کو قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلتے ہیں۔ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا۔ بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے۔وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ع﴿72﴾
اللہ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغات کا وعدہ دیا ہے کہ ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ ان میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اور بہترین باغات میں نفیس مکانات کا وعدہ کیا ہے اور اللہ کی رضامندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے یہی بڑی کامیابی ہے۔یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿73﴾
اے نبی ! کفار اور منافقین کا پوری طرح مقابلہ کرو اور ان سے سختی سے پیش آئو، آخرکار انکا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ﴿74﴾
یہ لوگ اللہ کی قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی، حالانکہ انہوں نے ضرور وہ کافرانہ بات کی ہے۔ وہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے اور انہوں نے وہ کچھ کرنے کا ارادہ کیا جو وہ کر نہ سکے اور یہ سب اس چیز کا بدلہ تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کردیا۔ اب اگر یہ اپنی اس روش سے باز آجائیں تو یہ ان کے لیے بہتر ہے اور اگر یہ باز نہ آئے تو اللہ ان کو بڑا دردناک عذاب دے گا۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور زمین میں کوئی نہیں جو ان کا حمایتی یا مددگار ہو۔وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿75﴾
اور ان میں بعض ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنی مہربانی سے مال عطا کرے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیکوکاروں میں سے ہوجائیں گے۔فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ﴿76﴾
لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کو مال دیا تو اس میں بخل کرنے لگے اور اپنے عہد سے پھرگئے۔فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ﴿77﴾
تو اللہ نے اس کی سزا یہ دی کہ ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس دن تک کے لیے کہ جب وہ اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے یہ اس لیے کہ جو وعدہ انہوں نے اللہ سے کیا تھا اس سے پھرگئے اور اس وجہ سے بھی کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ﴿78﴾
کیا ان کو معلوم نہیں کہ اللہ ان کے بھیدوں اور مشوروں سے واقف ہے اور یہ بھی کہ وہ غیب کی باتیں جاننے والا ہے۔اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿79﴾
جو مال دار مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور جو غریب صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے ہیں اور تھوڑی سی کمائی میں سے خیرات بھی کرتے ہیں خرچ بھی کرتے ہیں ان پر منافق لوگ ہنسی مذاق کرتے ہیں جبکہ اللہ ان پر ہنستا ہے اور ان کے لیے تکلیف دہ عذاب تیار ہے۔اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ع﴿80﴾
آپ ان کے لئے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں (اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا) اگر آپ ان کے لئے ستر مرتبہ بھی دعائے مغفرت کریں تو اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا۔ وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے اور ایسے فاسق لوگوں کو اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ﴿81﴾
جو لوگ (غزوئہ تبوک سے) پیچھے رہ گئے وہ اللہ کے رسول کی مرضی کے خلاف بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے اور اس کام کو پسند نہ کیا کہ اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کریں اور دوسروں کو بھی کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا، ان سے کہہ دو کہ دوزخ کی آگ ! اس سے کہیں زیادہ گرم ہوگی کاش ! یہ (اس بات کو) سمجھتے۔فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿82﴾
انہیں چاہیے کہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اس کا بدلہ یہی ہےفَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ﴿83﴾
پھر اگر اللہ آپ کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لے جائے اور وہ آپ سے نکلنے کی اجازت مانگیں تو کہہ دینا کہ تم ہرگز میرے ساتھ نہیں چلو گے اور نہ میرے مددگار بن کر دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ پیچھے بیٹھ رہنے میں خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ﴿84﴾
اور (اے پیغمبر ﷺ !) ان میں سے کوئی مرجائے تو اس کے جنازے پر نماز نہ پڑھنا اور اس کی قبر پر کھڑے نہ ہونا یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرتے رہے اور اسی حالت میں مرگئے۔وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ﴿85﴾
انکے مال اور اولاد آپکو تعجب میں نہ ڈال دیں (ان چیزوں سے) اللہ یہ چاہتا ہے کہ ان کو دنیا میں عذاب کرے اور جب ان کی جان نکلے تو اس وقت بھی یہ کافر ہی ہوں۔وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ﴿86﴾
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ اللہ پر ایمان لائو اور اسکے رسول کے ساتھ ملکر لڑائی کرو تو ان کے دولت مند لوگ آپ سے پیچھے رہ جانے کی اجازت طلب کرتے ہیں کہ جو بیٹھنے والے ہیں ہم بھی انکے ساتھ رہیں گے۔رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ﴿87﴾
یہ اس بات سے خوش ہیں کہ یہ پیچھے رہنے والی عورتوں کیساتھ رہ جائیں انکے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے تو یہ سمجھتے ہی نہیں۔لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿88﴾
لیکن پیغمبر اور جو لوگ ان کے ساتھ اسلام لائے سب اپنے مالوں اور جانوں سے لڑے انہی لوگوں کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی مراد پانے والے ہیں۔اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ع﴿89﴾
اللہ نے ان کے لیے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿90﴾
اور صحرائی لوگوں میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے کہ انہیں بھی اجازت دی جائے اور جنہوں نے اللہ اور اسکے رسول کے ساتھ جھوٹ بولا وہ گھر میں بیٹھ رہے تو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے ہیں ان کو دردناک عذاب ملے گا۔لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ﴿91﴾
نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے نہ بیماروں پر اور نہ ان پر کہ جن کے پاس جہاد میں شریک ہونے کے لیے رقم موجود نہیں جبکہ دل سے وہ اللہ اور اسکے رسول کے ساتھ مخلص ہوں۔ نیکوکاروں پر کوئی الزام نہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ﴿92﴾
اور نہ ان (بےسرو سامان لوگوں) پر الزام ہے کہ جو آپ کے پاس سواری لینے کے لیے آئے اور آپ نے کہا کہ میرے پاس تمہارے لیے سواری کا بندوبست نہیں۔ تو وہ لوٹ گئے اور اس دکھ سے کہ انکے پاس خرچ موجود نہ تھا۔ انکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿93﴾
الزام تو ان لوگوں پر ہے جو دولت مند ہیں اور پھر آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں (اس بات سے) خوش ہیں (کہ پیچھے رہ جانیوالی عورتوں) کے ساتھ گھروں میں بیٹھ رہیں اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے، پس وہ سمجھتے ہی نہیںیَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿94﴾
جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔ تم کہنا کہ عذر مت کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے اللہ نے ہم کو تمہارے سب حالات بتا دیے ہیں، ابھی اللہ اور اس کا رسول ﷺ تمہارے عملوں کو اور دیکھیں گے، پھر تم غائب و حاضر کے جاننے والے اللہ وحدہٗ لاشریک کی طرف لوٹائے جاؤگے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا۔سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿95﴾
جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ تو تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو سو تم ان سے التفات نہ کرنا یہ ناپاک ہیں اور ان کے اعمال کے بدلے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ﴿96﴾
یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہوجاؤ لیکن اگر تم ان سے خوش ہوجاؤ گے تو اللہ نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتااَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ﴿97﴾
دیہاتی لوگ کفر اور منافقت میں بہت سخت ہیں اور اس قابل نہیں کہ وہ ان حدود کو جان سکیں جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کی ہیں اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿98﴾
اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں۔ انہی پر بری مصیبت واقع ہو اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہےوَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ع﴿99﴾
اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو اللہ کی قربت اور پیغمبر کی دعائوں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ سنو ! بیشک یہ ان کے لیے نزدیکی کا ذریعہ ہے اللہ ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہےوَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ﴿100﴾
مہاجرین اور انصار میں سے جن لوگوں نے ایمان لانے میں سبقت کی اور جنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی اللہ ان سے خوش ہے اور وہ اللہ سے خوش ہیں۔ اور اللہ نے ان کے لیے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ﴿101﴾
اور تمہارے گردونواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینہ کے لوگ نفاق پر اڑ رہے ہیں۔ آپ ان کو نہیں جانتے ہمیں ان کا علم ہے۔ عنقریب ہم ان کو دہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿102﴾
کچھ اور لوگ ہیں جو اپنے گناہوں کا صاف اقرار کرتے ہیں انہوں نے اچھے برے عملوں کو ملاجلا دیا تھا۔ امید ہے کہ اللہ ان کو معاف کر دے کیونکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿103﴾
ان کے مال میں سے زکوٰۃ قبول کرلو کہ اس صدقہ سے آپ ان کے ظاہر و باطن کو پاک کرتے ہیں اور ان (کے نفسوں) کا تزکیہ کرتے ہیں اور ان کے حق میں دعائے خیریں کرتے ہیں کیونکہ آپ کی دعا ان کے لیے تسکین کا باعث ہے۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ﴿104﴾
کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات و خیرات لیتا ہے اور بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ﴿105﴾
اور ان سے کہہ دو کہ عمل کیے جاؤ اللہ اس کا رسول ﷺ اور مومن سب تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے اور تم غائب و حاضر کے جاننے والے اللہ واحد کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تم کو بتا دے گا۔وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ﴿106﴾
اور کچھ اور لوگ ہیں کہ ان کا معاملہ اللہ کے حکم آنے تک رکا ہوا ہے خواہ وہ ان کو عذاب دے یا ان کو معاف کر دے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ﴿107﴾
اور ان میں سے ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنائی ہے کہ ضرر پہنچائیں، کفر کریں اور مؤمنوں میں تفرقہ ڈالیں اور جو لوگ اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے پہلے جنگ کرچکے ہیں ان کے لیے گھات کی جگہ بنائیں اور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصد تو صرف بھلائی تھا مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ﴿108﴾
تم اس مسجد میں جاکر کبھی کھڑے بھی نہ ہونا، البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے (اس قابل ہے کہ اس میں جایا کرو اور نماز پڑھایا کرو۔) اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے۔اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ﴿109﴾
بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی ہو وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی ہو کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ع﴿110﴾
یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں بےچینی کا سبب بنی رہے گی اور ان کو پریشان رکھے گی۔ مگر یہ کہ ان کے دل پاش پاش ہوجائیں اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ﴿111﴾
اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں اور اس کے بدلے میں ان کے لیے بہشت تیار کی ہے۔ یہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں۔ یہ تورات، انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ وعدے کا پورا کرنے والا کون ہے ؟ تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو اور یہی بڑی کامیابی ہے۔اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿112﴾
توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک کاموں کا حکم دینے والے، بری باتوں سے منع کرنے والے اور اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے یہی مومن لوگ ہیں اور (اے پیغمبر ! ﷺ مؤمنوں کو بہشت کی خوشخبری سنا دومَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ﴿113﴾
نبی اور مسلمانوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا مانگیں جبکہ ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔ بیشک ایسے لوگ ان کے قرابتدار ہی کیوں نہ ہوں۔وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ﴿114﴾
اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کی وجہ سے تھا جو وہ اس سے کرچکے تھے لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل مزاج تھے۔وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴿115﴾
اور اللہ ایسا نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے جب تک ان کو وہ چیز نہ بتا دے جس سے وہ پرہیز کریں۔ بیشک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ﴿116﴾
اللہ ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔ وہی زندگی بخشتا ہے، وہی موت دیتا ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مددگار اور دوست نہیں ہے۔لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ﴿117﴾
بیشک اللہ نے مہربانی کی پیغمبر پر مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھرجانے کو تھے۔ مشکل گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے پھر اللہ نے ان پر مہربانی کی بیشک وہ ان پر نہایت مہربان اور شفقت کرنے والا ہے۔وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿118﴾
اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا یہاں تک کہ جب زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں بھی ان پر دوبھر ہوگئیں (ناک میں دم آگیا) اور انہوں نے یقین کرلیا کہ ان کے لیے کوئی پناہ نہیں پھر اللہ نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں۔ بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ﴿119﴾
اے اہل ایمان ! اللہ سے ڈرتے رہو اور راست بازوں کے ساتھ رہو۔مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ﴿120﴾
اہل مدینہ کو اور اردگرد رہنے والے دیہاتیوں کو نہیں چاہیے تھا کہ اللہ کے پیغمبر سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں یہ اس لیے کہ انہیں اللہ کی راہ میں تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی، محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لیے نیک عمل لکھا جاتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿121﴾
اور اسی طرح وہ جو خرچ کرتے ہیں تھوڑا یا بہت یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ان کے لیے اعمال صالحہ میں لکھ لیا جاتا ہے۔ تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دے۔وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠ع﴿122﴾
اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا علم سیکھتے اور اس میں سمجھ پیدا کرتے، اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو ان کو ڈر سناتے تاکہ وہ بچے رہتے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ﴿123﴾
اے ایمان والو ! اپنے نزدیک رہنے والے کفار سے جنگ کرو اور چاہیے کہ وہ تم میں سختی (قوت جنگ) معلوم کریں اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں (ڈرنے والوں) کے ساتھ ہےوَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ﴿124﴾
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو بعض منافق مذاقاً کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کردیا ہے ؟ سو جو ایمان والے ہیں ان کا تو ایمان زیادہ ہوا اور وہ خوش ہوتے ہیں۔وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ﴿125﴾
اور جن کے دلوں میں مرض ہے اس سورت نے ان کے لیے گندگی پر گندگی بڑھا دی اور وہ مرے بھی تو کافر ہی مرے۔اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ﴿126﴾
کیا یہ دیکھتے نہیں کہ یہ ہر سال ایک دو بار بلا میں پھنسا دیے جاتے ہیں۔ پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ نصیحت پکڑتے ہیں۔وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ﴿127﴾
اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ بھلا تمہیں کوئی دیکھتا ہے پھر چل دیتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر رکھا ہے کیونکہ یہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے۔لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ﴿128﴾
لوگو تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے خواہش مند ہیں۔ مؤمنوں پر نہایت شفقت کرنے والے اور مہربان ہیںفَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ۖۗ٘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠ع﴿129﴾
پھر اگر یہ لوگ پھرجائیں اور نہ مانیں تو کہہ دو کہ اللہ مجھے کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔