89. Al-Fajrالفجر
The Dawn · Meccan · 30 ayahs · 1 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَ الْفَجْرِۙ﴿1﴾
قسم ہے فجر کیوَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ﴿2﴾
اور دس (متبرک) راتوں کیوَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ﴿3﴾
اور جفت کی اور طاق کیوَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ﴿4﴾
اور رات کی جب وہ چلنے لگے۔هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ﴿5﴾
یقیناً اس میں قسم ہے صاحب فہم کے لئے۔اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ﴿6﴾
کیا آپ کو خبر نہیں کہ آپ کا پروردگار نے کیا معاملہ قوم عاد کے ساتھ کیااِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ﴿7﴾
یعنی قوم ارم ستون جیسے قد والیالَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ﴿8﴾
جس کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ﴿9﴾
اور قوم ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادیوں میں پتھروں کو تراشتے تھے۔وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ﴿10﴾
اور فرعون میخوں والے کے ساتھ (کیا کیا)۔الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ﴿11﴾
جن (سب) نے شہروں میں سر اٹھا رکھا تھافَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ﴿12﴾
اور ان میں بہت ابتری پھیلا دی تھیفَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ﴿13﴾
سو آپ کے پروردگار نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ﴿14﴾
بیشک آپ کا پروردگار تاک میں ہے۔فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ﴿15﴾
لیکن انسان ! اسے اس کا پروردگار جب آزماتا ہے یعنی اسے انعام اکرام دیتا ہے تو کہتا ہے میرے پروردگار نے میری قدر بڑھا دی۔وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ﴿16﴾
اور جب وہ اسے (اس طرح) آزماتا ہے کہ اس کی روزی اس پر تنگ کردیتا ہے تو کہتا ہے میرے پروردگار نے مجھے بےقدر کردیا۔كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ﴿17﴾
یہ بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ تم لوگ یتیم کی قدر نہیں کرتے ہووَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ﴿18﴾
اور دوسروں کو بھی مسکین کے کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتے ہووَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ﴿19﴾
اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہووَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ﴿20﴾
اور مال سے بہت ہی زیادہ محبت رکھتے ہو۔كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ﴿21﴾
یہ بات ہرگز نہیں (کہ عذاب نہ ہوگا) جس وقت زمین کو توڑ توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گاوَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ﴿22﴾
اور آپ کا پروردگار اور فرشتے آئیں گےوَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ﴿23﴾
اور جہنم کو اس روز لایا جائے گا اس روزانسان کو سمجھ آئے گی اور اب سمجھ آنے کا موقع کہاں رہا۔یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ﴿24﴾
اور کہے گا کہ کاش ! میں اپنے زندگی کے لئے کوئی عمل پہلے بھیج چکا ہوتا۔فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ﴿25﴾
غرض اس روز نہ تو اللہ کے عذاب کی طرح کوئی عذاب دینے والا نکلے گاوَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ﴿26﴾
اور نہ اس کے جکڑنے کے برابر کوئی جکڑنے والا نکلے گا۔یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ﴿27﴾
اے اطمینان والی روحارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ﴿28﴾
تو اپنے پروردگار کی طرف چل خوش ہوتی ہوئی اور خوش کرتی ہوئیفَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ﴿29﴾
پھر تو میرے (خاص) بندوں میں شامل ہوجاوَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ع﴿30﴾
اور میری جنت میں جا داخل ہو۔