51. Adh-Dhaariyatالذاريات
The Winnowing Winds · Meccan · 60 ayahs · 3 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ﴿1﴾
قسم ہے اڑانے والی ہواؤں کیفَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ﴿2﴾
پھر بوجھ اٹھانے والے بادلوں کیفَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ﴿3﴾
پھر نرمی سے چلنے والی کشتیوں کیفَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ﴿4﴾
پھر چیزیں تقسیم کرنے والے فرشتوں کیاِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ﴿5﴾
کہ تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ بالکل برحق ہےوَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ﴿6﴾
اور جزا ضرور ہی ہونے والی ہے۔وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ﴿7﴾
قسم ہے آسمان کی جس میں راستے ہیںاِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ﴿8﴾
کہ تم مختلف گفتگوؤں میں (پڑے) ہو۔یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ﴿9﴾
اس سے پھرتا وہی ہے جسے پھرنا ہی ہوتا ہے۔قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ﴿10﴾
غارت ہوں اٹکل پچو باتیں بنانے والےالَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ﴿11﴾
جو کہ غفلت (جہالت) میں بھولے پڑے ہیں۔یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ﴿12﴾
پوچھتے ہیں کہ روز جزا کب ہوگا ؟یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ﴿13﴾
یہ دن (وہ ہوگا) جب وہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گےذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ﴿14﴾
اپنی سزا کا مزہ چکھو یہی ہے جس کی جلدی مچایا کرتے تھے۔اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ﴿15﴾
بیشک پرہیزگار لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہوں گےاٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ﴿16﴾
لے رہے ہوں گے جو ان کے پروردگار نے انہیں عطا کیا ہوگا بیشک یہ لوگ اس کے قبل نیکوکار تھے۔كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ﴿17﴾
رات کو بہت کم سوتے تھے۔وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ﴿18﴾
اور اخیر شب میں استغفار کیا کرتے تھے۔وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ﴿19﴾
اور ان کے مال میں حق رہتا تھا سوالی اور غیر سوالی (سب) کا۔وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ﴿20﴾
اور زمین میں (بہت سی) نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لئےوَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ﴿21﴾
اور خود تمہاری ذات میں بھی کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟۔وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ﴿22﴾
اور آسمان میں تمہارا رزق بھی ہے اور وہ بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔۔فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ع﴿23﴾
سو قسم ہے آسمانوں اور زمین کے پروردگار کی کہ وہ برحق ہے (اسی طرح) جیسے کہ تم بات چیت کررہے ہو۔هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ﴿24﴾
کیا آپ تک ابراہیم ؑ کے معزز مہمانوں کی حکایت پہنچی ہے ؟۔اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ﴿25﴾
جبکہ وہ ان کے پاس آئے پھر (ان کو) سلام کیا (انہوں نے بھی) کہا سلام (یہ) انجان لوگ (تھے) ۔فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ﴿26﴾
پھر آپ اپنے گھر کی طرف چلے اور ایک فربہ بچھڑا لے آئےفَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘﴿27﴾
پھر اسے ان کے پاس لاکر رکھا (اور) کہا کہ آپ کھاتے کیوں نہیں ؟۔فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ﴿28﴾
پھر آپ ان سے دل میں خائف ہوئے وہ بولے آپ ڈرئیے نہیں اور ان کو ایک بڑے عالم لڑکے کی بشارت دی۔فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ﴿29﴾
اتنے میں ان کی بیوی بولتی پکارتی ہوئی آئیں پھر ماتھے ہاتھ مار کر بولیں کہ بڑھیا بانجھ (کے اولاد) ۔قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ﴿30﴾
وہ بولے کہ آپ کے پروردگار نے ایسا ہی فرمایا ہے اور کچھ شک نہیں کہ وہ بڑا حکمت والا ہے بڑا علم والا ہے۔قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ﴿31﴾
(ابراہیم ؑ نے) کہا (اچھا) تمہیں کیا بڑی مہم درپیش ہے (اے آسمانی) قاصدو۔۔قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ﴿32﴾
وہ بولے کہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیںلِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ﴿33﴾
تاکہ ہم ان پر کھنگر کے پتھر برسائیںمُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ﴿34﴾
جن پر آپ کے پروردگار کے پاس نشان خاص بھی پڑے ہوئے ہیں حد سے نکل جانے والوں کے لئےفَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ﴿35﴾
تو ہم نے جتنے اہل ایمان تھے ان کو وہاں سے الگ کردیافَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ﴿36﴾
سو ہم نے وہاں بجز مسلمانوں کے ایک گھر کے (کوئی گھر مسلمانوں کا) نہ پایا۔وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ﴿37﴾
اور ہم نے اس (واقعہ) میں ایک نشانی ان لوگوں کے لئے رہنے دی جو عذاب دردناک سے ڈرتے رہتے ہیں۔وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ﴿38﴾
اور موسیٰ ؑ (کے قصہ) میں بھی (نشانی ہے) جب کہ ہم نے انہیں فرعون کے پاس بھیجا ایک کھلی ہوئی دلیل دے کر۔فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ﴿39﴾
لیکن اس نے اپنی قوت (کے زعم) میں سرتابی کی اور کہنے لگا یہ ساحر یا مجنون ہیں۔فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ﴿40﴾
سو ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پکڑ کر سمندر میں پھینک دیا اور وہ تھا ہی قابل ملامت۔وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ﴿41﴾
اور عاد (کے قصہ میں بھی عبرت ہے) جب کہ ہم نے ان پر نامبارک آندھی بھیجیمَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ﴿42﴾
جس چیز پر بھی گزرتی تھی اسے ایسا کر چھوڑتی تھی جیسے کوئی چیز گل کر ریزہ ریزہ ہوجائے۔وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ﴿43﴾
اور ثمود (کے قصہ میں بھی عبرت ہے) جبکہ ان لوگوں سے کہا گیا کہ کچھ دن اور چین کرلوفَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ﴿44﴾
پر انہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی سو انہیں عذاب نے آلیا اس حال میں کہ وہ دیکھ رہے تھے۔فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ﴿45﴾
سو نہ تو وہ کھڑے ہی ہو سکے اور نہ (ہم سے) بدلہ ہی لے سکےوَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ع﴿46﴾
اور (ان سے) بہت پہلے قوم نوح (کا بھی یہی حال ہوچکا تھا) وہ بڑے نافرمان لوگ تھےوَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ﴿47﴾
اور ہم نے آسمان کو دست قدرت سے بنایا اور ہم وسیع القدرت ہیں۔وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ﴿48﴾
اور زمین کو ہم نے فرش بنایا۔ سو ہم کیسے اچھے بچھانے والے ہیںوَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ﴿49﴾
اور ہم نے ہر چیز کو دو دو قسم کی بنایا تاکہ تم سمجھو۔فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ﴿50﴾
بس تم اللہ ہی کی طرف دوڑو میں تمہارے لئے اللہ کی طرف سے کھلا ڈرانے والا ہوں۔وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ﴿51﴾
اور اللہ کے ساتھ کوئی اور معبودمت قرار دو میں تمہارے لئے اس کی طرف سے کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ﴿52﴾
اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے ساحر یا مجنون نہ کہا ہواَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ﴿53﴾
کیا اس بات کی ایک دوسرت جو ریت کرتے آئے ہیں ؟ نہیں بلکہ یہ لوگ (سب کے سب) ہوئے ہی سرکش ہیں۔فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘﴿54﴾
تو آپ ان کی طرف التفات نہ کیجئے کیونکہ آپ پر کوئی الزام نہیںوَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿55﴾
اور (انہیں) سمجھاتے رہئے کیونکہ سمجھانا نفع دیتا ہے ایمان والوں کو۔وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ﴿56﴾
اور میں نے تو جنات اور انسان کو پیدا ہی اسی غرض سے کیا ہے کہ میری عبادت کیا کریں۔مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ﴿57﴾
میں ان سے نہ روزی چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کھلایا کریںاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ﴿58﴾
اللہ تو خود ہی سب کو روزی پہنچانے والا ہے۔ قوت والا ہے مضبوط ہے۔فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ﴿59﴾
سو جو یہ ظالم لوگ ہیں ان کی بھی باری ہے جیسے ان کے ہم مشربوں کی باری تھی سو یہ لوگ مجھ سے جلدی۔فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ع﴿60﴾
نہ کریں غرض ان کافروں کے لئے اس دن کے آنے سے بڑی خرابی ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے